واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


افغانستان میں آٹھ سال۔امریکہ نڈھال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-11-09, 05:00 PM   #1
افغانستان میں آٹھ سال۔امریکہ نڈھال
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 04-11-09, 05:00 PM

اکتوبر 2009ء افغانستا ن پر امریکی یلغار کی آٹھویں برسی تھی۔ ان آٹھ سالوں میں کیا کھویا کیا پایا یہ ایک لمبی رام کہانی ہے۔البتہ اس عرصہ میں متاثر ہونے والے صرف امریکی یا افغانی نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک کسی نہ کسی حد تک شامل ہیں، اور متاثرین میں سرفہرست پاکستان ہے۔

اس لئے نفع و نقصان کا جائزہ لیتے وقت صرف امریکہ اور افغانستان کو مد نظر رکھنے سے جائزہ مکمل نہیں ہوگا۔ امریکہ کو اس جنگ میں خسارہ ہی خسارہ ہوا ۔معاشی طور پروہ دیوالیہ ہو گیا،اس کی عسکری برتری کے دعوے خاک میں مل گئے، جدید جنگی سازو سامان ناکام ہو گیا، افغانستان میں امن و انصاف قائم کرنے، ترقی کی نئی راہیں دریافت کرنے اور منشیات کو ختم کرنے کے جن بلند بانگ دعووں کے ساتھ وہ آیا تھا ان میں سے ایک بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ دوسروں کو امن و امان دینا تو درکنار خود امریکی فوجی خوف کے باعث نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ اور امریکہ بھاگنے کے لئے بے تاب ہے لیکن عراق کے بعد افغانستان سے اتنی بری شکست برداشت کرنے کی تاب نہیں ۔

الغرض خسارہ ہی خسارہ ہے سوائے اس کے کہ سمندر پار ہونے کی وجہ سے اس کے اپنے بازار ، اپنے عسکری مراکز اور اپنے تعلیمی ادارے بم دھماکوں اور خود کش حملوں سے محفوظ ہیں۔

امریکہ کے حقیقی حریف طالبان کو تو اس جنگ نے فائدہ ہی فائدہ دیا ہے۔ ان کے حوصلے مزید بڑھے ہیں، ایک عالمی طاقت کو شکست دینے کا سہرا ان کے سر سجنے والا ہے، ان کو دنیا سے مٹانے والے خود اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، اور ان کے خلاف جارحیت کے لئے آنے والے اپنے دفاع تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

جس وقت اس حملے کی تیاریاں ہو رہی تھیں، تو ماہرین اور اہل تجربہ نے بار بار متنبہ کیا تھا کہ یہ سرزمین اور یہاں کے لوگ غلامی کے خوگر نہ ہونے کی وجہ سے بیرونی طاقتوں کے لئے ”زود ہضم“ نہیں ہیں۔یہاں حکمرانی کے خواب دیکھنا یا طاقت کے نشے میں ان کے ساتھ زور آزمائی کرنا ’آبیل مجھے مار ‘ کے سوا کچھ نہیں۔ برطانیہ اس سے پہلے یہاں سے نامراد لوٹ چکا تھا، لیکن وہ ماضی کو فراموش کر کے آ گیا اور اب ۔۔۔۔

اس کے بعد روس نے گرم پانیوں تک پہنچنے کا ارادہ کیا، اپنے عالمی طاقت ہونے کا زعم اسے بھی بہت تھا، پورے لاؤ لشکر کے ساتھ چل نکلا اک کٹھن راستے کی جانب۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کا غرور خاک میں ملا، اس کی ساری طاقت کو زمین نگل گئی، آسمان اچک کر لے گیا، ہوا میں تحلیل ہو گئی یا ریت کا گھروندا ثابت ہوئی۔

دنیا پر راج کرنے والا ملک ان گنت ٹکڑوں میں بٹ گیا اور بے شمار آزاد ریاستوں نے جنم لیا۔ آج دنیا کے نقشے پر آزاد ریاستوں کے طور پر پہچانی جانے والی وسطی ایشیا کی ریاستی افغان مجاہدین کی جوانمردی ہی کی مرہون منت ہیں۔ اس تلخ تجربے کے پیش نظر روس نے بطور خاص بار بار متنبہ کیا کہ جناب،” بھڑوں کے چھتے کو پتھر مت ماریں“ لیکن گیدڑ کی موت آئی ہوئی تھی اس لئے شہر کا رخ تو کرنا ہی تھا۔

ستمبر 2001ءکے واقعے کو بنیاد بنا کر اکتوبر 2001ءکو امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا، خیال تھا کہ کم از کم مالی و جانی نقصان کے ساتھ طالبان پر قابو پا لیا جائے ، اس لئے انہوں نے زمینی حملے کے بجائے فضائی حملے کو ترجیح دی۔
سب سے پہلے قابل شہر پر حملہ کیا جہاں بجلی کا سارا نظام تھا، پھر ایئر پورٹ، کندھار اور جلال آباد پر حملہ کیا۔ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والے یہ حملہ 12 نومبر 2009ءکو قابل سے طالبان حکومت کے سقوط کے بعد ختم ہوئے۔ ان پینتیس دنوں میں ظلم و بربریت کی وہ مثالیں قائم ہوئیں کہ چنگیز خان اور ہلاکو خان کی نسلیں شرما گئیں۔یہ حملہ اتنی بلندی اور اتنے خطرناک ہتھیاروں سے کیا گیا کہ طالبان کے پاس ان کا مقابلہ کرنے کی قوت بالکل نہیں تھی۔

نہتے عوام کو نشانہ بنایا گیا اور ہنستے بستے شہروں کو تورا بورا بنا دیا گیا۔ جب ان کی نظر میں کوئی افغانی سر اٹھانے کے قابل نہ رہا تو انہوں نے اپنی فتح کا اعلان کیا اور زمینی فوجیں لے کر افغانستان میں آگئے۔

طالبان حکومت کے خاتمے اور بون معاہدہ کے نتیجے میں حامد کرزئی کی حکومت وجود میں آئی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا خیال تھا کہ اب افغانستان سے خانہ جنگی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگیا، امریکہ اپنے عزائم میں کامیاب ہو گیا لیکن یہ سارے خواب تھے اور خواب کی قسمت ہی بکھرنا ہے۔

طالبان کو اپنی قوت کا اندازہ تھا اس لئے انہوں نے گوریلا جنگ کا انتخاب کیا، امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف حملے شروع ہو گئے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزاحمت میں شدت آتی گئی۔ پھر چشم فلک وہ منظر دیکھا کہ بدر و حنین کی یاد تازہ ہو گئی، نہتے طالبان، جن کے پاس نہ تو B-52طیارے تھے، نہ ڈیزی کٹر بم تھے اور نہ ہی مواصلات کا جدید نظام تھا۔ لیکن ہمت اور حوصلہ تھا، جرات و جوانمردی تھی ۔

اب جنگ تھی حوصلوں کی، پختہ ارادوں کی، اپنے موقف کی سچائی پر یقین کی، جن کے مقابلے میں کوئی ہتھیار کارگر نہیں ہو سکتا چاہے وہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو۔ امریکہ بوکھلا گیا اور اس نے ایک بار پھر مست ہاتھی کی طرح کبھی جنازے پر اور کبھی شادی کی تقریبات پر حملے شروع کر دیئے۔ نہتے لوگوں کو خاک اور خون میں نہلانا شروع کر دیا لیکن طالبان کی طرف سے حملوں میں شدت آتی گئی۔

اب جب کہ آٹھ سال مکمل ہو گئے ہیں، امریکہ اپنے تمام وسائل اور تما م اتحادیوں کے تعاون کے باوجود ناکام ہو چکا ہے،اندرونی اور بیرونی طور پر نقصانات کا حجم بڑھتا جا رہا ہے اور اسے اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ اس جنگ کو طول دینا سراسر اس کے لئے خسارے کا سودا اور تباہی کا سامان ہے تو اس نے باعزت واپسی کے لئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اس سلسلے میں ایک طرف طالبان سے مذاکرات کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ سی آئی نے طالبان سے رابطہ کر لیا ہے۔ پاکستان اور سعودیہ سے مذاکرات میں معاونت کی درخواست بھی کی ہے۔

اور دوسری جانب وہ جاتے جاتے پاکستان کو دہشت گردی کا ایک تحفہ بھی دیئے جا رہا ہے۔ ہر طرف دہشت گردی، خود کش حملے، بلیک واٹر کی آزادنہ نکل و حرکت اور ایٹمی قوت کے لئے خطرات کی صورت میں۔ لیکن ہم تا حال اسی کی دوستی کا دم بھرتے ہیں اور اسے دشمن ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اب دستبرداری کا بہت اہم وقت ہے، اگر پاکستان چاہے تو اپنا راستہ جدا کر کے اک نئے سفر کا آغاز کر سکتا ہے، ڈرون حملوں، خود کش حملوں، دھماکوں اور اس طرح کی تمام لعنتوں سے چھٹکارا حاصل کر کے امن کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ احساس کون دلائے ۔۔۔امریکہ بھاگ رہا ہے اور ہم چمٹ رہے ہیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


Last edited by راجہ اکرام; 04-11-09 at 05:06 PM..

 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 337
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (05-11-09), یاسر عمران مرزا (05-11-09), wajee (05-11-09), احمدنواز (16-11-09), عامرشہزاد (06-11-09)
پرانا 05-11-09, 06:30 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,076
شکریہ: 5,188
5,037 مراسلہ میں 11,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بڑی بات ہے اتنے ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کر دیا اور پھر بھی ڈر کر بھاگ رہیں ہیں۔ اور رہی ہماری بات تو ہم تو ہیں ہیں شروع سے غدار
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
احمدنواز (16-11-09)
پرانا 05-11-09, 08:18 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ تعالی سب کچھ عطا فرمائے، بس خوش فہمی نہ دے۔

طالبان ، ایرانی طرز کا اسلامی نظام پاکستان اور افغانستان میں‌چاہتے ہیں۔ کہ ملاء کی حکومت ہو لیکن ملاء سپریم کونسل ایک بادشاہ یا صدر کا انتخاب کرے۔ جس کا سر بوقت ضرورت کاٹ دیا جائے۔

ان کی ساری شجاعت، "اختلاف کی سزا موت" کی بزدلی میں‌چھپی ہوئی ہے۔ اب ان کو اپنی ہی سیاست کا مزا چکھنا پڑ رہا ہے۔ یعنی جہنمی موت یہاں بھی اور آخرت میں‌بھی جہنم۔ ساری دنیا ان پر تھو تھو کررہی ہے۔

جو لوگ طالبان کے گن گاتے ہیں ، صرف اور صرف قاتلوں کے ساتھی ہیں۔ ان طالبان قاتلوں کے جو پاکستان کے معصوم عوام کے قاتل ہیں۔۔ اپنے ہی بھائیوں‌کے قتل عام پر جو لوگ فخر کرتے ہیں وہ قابل مذمت اور قابل لعنت ہیں۔

افغانی اور ایرانی طرز کا طرز حکومت، ہندوستان میں بہت عرصے رائج رہا، اس کو طالبان "اسلامی نظام" کہتے ہیں۔ جس کا نہ کوئی سر ہے اور نہ ہی کوئی پیر۔ یہ ظلم کی ایک داستان ہے۔ اس طالبانی ظلم کی قیمت مسلمانوں نے لاکھوں جانیں دے کر اور لاکھوں عزتوں کی قربانی دے کر ادا کی۔

یہ کہنا کہ کسمپرسی میں‌غاروں میں‌زندگی گذارنا، ترقی کی علامت ہے ، انتہائی درجہ کی جاہلیت ہے۔ طالبان ، ہمیشہ کی طرح ایک گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں ۔ جس میں ان کو شکست فاش ہوچکی ہے۔ اب یہ صرف اور صرف معصوم لوگوں کو بازاروں میں قتل کرکے اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ کسی مسلح فوج سے لڑنے کی نہ ان میں طاقت ہے اور نہ ہی حوصلہ۔

طالبان کا جو یار ہے ، غدار ہے غدار ہے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے ایک پراپیگنڈہ مہم چلائی ہوئی ہے۔

پاکستان اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ تمام لاکھوں افراد جو ووٹ دینے جاتے ہیں ، اس اسلامی جمہوریت کے دفاع میں اپنی حکومت اور فوج کے ساتھ ہیں۔ اس میں چند غدار اور قابل مذمت لوگ ایسے بھی ہیں جو پاکستان کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں اور پاکستان کی فوج کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہتے ہیں۔

پاکستانی صرف اور صرف اپنی فوج اور اپنی حکومت کے ساتھ ہیں۔ پاکستانی ان تالی بانوں کو پہچان گئے ہیں جو لاکھوں عورتوں کی عزت "اسلامی نظام " کے نام پر لوٹ چکے ہیں۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 05-11-09 at 08:25 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
احمدنواز (16-11-09)
پرانا 05-11-09, 09:38 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,076
شکریہ: 5,188
5,037 مراسلہ میں 11,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق بھائی ایران جیسا نظام تو پوری دنیا میں ہو جانا چاہیے مجھے تو ایران کا قانون بہت پسند ہے ۔ایک ایران ہی تو ہے جو ابھی امریکہ کی آنکھوں میں ڈال کر باتیں کر رہا ہے۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
احمدنواز (16-11-09), راجہ اکرام (05-11-09)
پرانا 05-11-09, 09:41 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن یہاں بات تو افغانستان سے امریکی کی ’’رخصتی‘‘ کا ذکر ہے
ذرا اس بارے میں بھی عرض کریں کہ ان ’’طالبان‘‘ سے مذاکرات کر کے امریکہ ان کو مضبوط تو نہیں کر رہا۔۔۔۔ یا چونکہ یہ امریکہ کر رہا ہے اس لئے یہ عین عقلمندی ہے سراسر فلاح انسانیت ہے۔

اقتباس:
طالبان کا جو یار ہے ، غدار ہے غدار ہے۔
آپ ہی اپنی اداؤں پے ذرا غور کریں
ہم عرض کریں گےتو شکایت ہوگی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
احمدنواز (16-11-09)
پرانا 05-11-09, 09:44 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وقاص بھائی
ایرانی نظام چونکہ امریکہ کو پسند نہیں اس لئے وہ خلاف اسلام ہے۔ جس دن امریکہ اور ایران کی دوستی ہو گئی اس دن ایران کا نظام سب سے بہترین نظام کہلائے گا۔

سپریم کونسل کا حق صرف امریکہ کے پاس اور سپریم لیڈر صرف امریکی صدر ہونا چاہیے۔ اگر کوئی اور اس جگہ بیٹھتا ہے تو وہ اسلام، انسانیت، اخلاق غرض ہر اصول کو پامال کرتا ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
احمدنواز (16-11-09)
پرانا 05-11-09, 09:54 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,076
شکریہ: 5,188
5,037 مراسلہ میں 11,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یار ہم سب بھی کیسے مسلمان ہے موضوع سے ہٹ کر بات ہے لیکن پھر بھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں جب اسلامی قانون نافذ ہورہا تھا تو سنی کہہ رہے تھے ہمارا قانون نافذ ہو گا ، الحدیث والے کہہ رہے تھے کہ ہمارا ، دیوبند کہہ رہیں تھے کہ ہمارا جبکہ شعیہ بھائی کہہ رہے تھے کہ ہمارا اور ہمارا ہمارا میں اسلامی قانون تو نافذ نہیں ہو سکا لیکن سب عیسائی قانون پر کیسے خاموش اور مانتے ہیں یعنی کے ہم سب صرف نام کے مسلمان اور اندر سے عیسائی ہے ۔ تو آج ہم صرف عیسائی ہی ہیں نہ کہ مسلمان۔

رہی ایران کی بات تو ایران ہمیشہ سے میرا پسندیدہ ملک ہے۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (05-11-09), راجہ اکرام (06-11-09)
پرانا 06-11-09, 10:25 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وقاص بھائی بات آپ کی سچ ہے اگرچہ بات ہے رسوائی کی۔
لیکن آئین پاکستان قرارداد مقاصد کے ساتھ ہمارے پاس ایک ایسی دستاویز ہے جس پر تمام مکاتب متفق ہیں اور تقریبا ہر پاکستانی کی تمنا ہے کہ وہ نافذ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس کا نفاذ بھی روشن خیالوں سے برداشت نہیں ہوتا۔۔


ہمارا موضوع امریکہ کا افغانستان سے جان چھڑانے کا پروگرام ہے۔ اس سلسلے میں آپ اپنے خیالات کا اظہار فرمائیے۔
و السلام
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-11-09, 10:33 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,076
شکریہ: 5,188
5,037 مراسلہ میں 11,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امریکہ ہم سے ڈبل پالیسی کھیل رہا ہے کہ ادھر ہمیں آپس میں لڑوا کر ادھر ان سے مذاکرات کر رہا ہے ۔ واہ واہ اور ہم نکھٹو ۔ چلو کچھ تو ہے ہم۔
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (06-11-09)
پرانا 07-12-09, 10:29 AM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اب نئی پالیسی کے ساتھ نئے فوجی دستے آ رہے ہیں، لگتا ہے امریکہ کے سر پر طاقت کا جو بھوت سوار ہے وہ ابھی اترا نہیں

دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوششیں, پاکستان, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, آج, امریکہ, حال, خون, خلاف, خان, دریافت, درخواست, راستہ, سفر, سودا, شہر, طالبان, عراق, عسکری, غلامی, غرور, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سقوط ڈھاکہ کے چند سر بستہ راز: امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی تحریروں میں حیدر 1971 اور مشرقی پاکستان 23 14-02-10 05:10 AM
بھارت افغانستان گٹھ جوڑ اور ہماری بے حسی!,,,,مختار احمد بٹ راجہ اکرام سیاست 0 10-01-10 02:50 PM
ورڈپریس ڈاٹ کوم / ورڈپریس ڈاٹ آرجی / ورڈپریس ڈاٹ پی کے ؟ ان تینوں میں کیافرق ہے عبیداللہ عبید اردو پریس (http://wordpress.pk) 10 14-06-09 07:44 PM
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان ابن آدم پاکستانی نغمے 0 28-04-09 02:14 PM
پاکستان کے کوئلے کے ساٹھ کھرب ڈالر کے ذخائر لٹنے کا خطرہ وجدان خبریں 0 27-02-08 04:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger