واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


القاعدہ، طالبان اور پاکستان...جرگہ…سلیم صافی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-05-11, 08:51 AM   #1
القاعدہ، طالبان اور پاکستان...جرگہ…سلیم صافی
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 24-05-11, 08:51 AM

مقصدڈرانا یا دھمکانا نہیں، سمجھنا اور سمجھانا ہے کیونکہ آج بھی نہ سمجھے اور آج بھی نہ سدھرے تو خاکم بدہن پورے پاکستان کو وزیرستان بننے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ پاکستان کے اندر اگر سازشی نظریات کی بھرمار ہے، یہاں اگر ریٹائرڈ جرنیل، سیاسی و مذہبی رہنما اور اپنے آپ کو امریکہ مخالف ثابت کرنے والے صحافی یا اینکرز غلط بیانی سے کام لے کر کبھی القاعدہ کے وجود سے انکار کررہے ہیں، کبھی پاکستانی طالبان سے متعلق افسانے تراش لیتے ہیں تو نتیجے میں قوم کنفیوز تو ہوسکتی ہے لیکن حقیقت مٹ نہیں سکتی اور حقیقت یہ ہے کہ القاعدہ اور پاکستان میں موجود اس کے حامی جن کو ہم پاکستانی طالبان کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس وقت ایک ایسی قوت ہیں جو پاکستان کو ہلاسکتے ہیں۔ میریٹ بم دھماکے، جی ایچ کیو پر حملہ اور اب تازہ ترین پی این ایس مہران کی کارروائی صرف ٹریلرکے زمرے میں آتے ہیں۔ اس مسئلے کا اگرجامع اور ہمہ گیر حل نہ نکالا گیا تو یہ لوگ پورے پاکستان کو لرزانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ القاعدہ ایک نظریاتی اور قربانی دینے پر آمادہ لوگوں پر مشتمل عالمی تنظیم ہے ۔ اپنے منتخب کردہ راستے کو وہ عالم اسلام کی سربلندی اور کفر کی تباہی کا واحد راستہ سمجھتے ہیں ۔ پاکستان میں اس کا اثرورسوخ دنیا کے کسی بھی ملک بشمول افغانستان سے اس لئے زیادہ ہے کہ مقامی آبادی میں بھی ان جیسی سوچ رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ امریکہ القاعدہ کا دشمن اور ٹارگٹ نمبر ون ہے اور پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات عروج پر ہیں، اس لئے یہاں ان کو ہم نظر اور ہم فکر لوگوں کی دامے درمے سخنے مگر غیرمعمولی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کی جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیمیں اب القاعدہ کے فرنچائزز کی حیثیت اختیار کرگئی ہیں اور یہ تنظیمیں چونکہ ملک کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی ہیں، اس لئے القاعدہ بھی اب پاکستان کے ہر علاقے میں اثرورسوخ رکھتی ہے ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو القاعدہ قبائلی علاقوں سے زیادہ ہمارے بڑے شہروں میں اپنی جڑیں پھیلاچکی ہے۔ القاعدہ کے کارکن اور اس کے پاکستانی وابستگان غیرمعمولی طور پر تربیت یافتہ ہیں۔ وہ پیسے کے لئے لڑرہے ہیں اور نہ کسی دنیاوی شہرت کے لئے ۔ مجھ کو یا آپ کو ان سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن وہ اس راستے کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے ہاں انتقام کا عنصر بھی در آیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ریاست اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے استعمال کرنے کے بعد ان سے بے وفائی کی ہے۔ وہ اپنے موقف کو دوسروں تک پہنچانے اور ان کے ذہنوں میں بٹھانے کے لئے ہر قسم کی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہیں ۔ وہ مختلف ملکوں، مسالک اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے ہیں لیکن چند مشترکات کی بنیاد پر وہ سب اکٹھے اور یکسو ہیں ۔شاید امریکہ اور مغرب میں القاعدہ کی کارروائیوں کی صلاحیت کمزور ہوگئی ہے لیکن پاکستان میں ان کی یہ صلاحیت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو ڈنڈے اور طاقت کی بجائے اس مسئلے کا سیاسی، سفارتی اور مفاہمتی حل تجویز کرتے ہیں۔کسی اور کو اس رائے سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن تشخیص تو صحیح ہونی چاہئے۔ اس وقت جو لوگ خوف سے یا پھر اپنے آپ کو جعلی طور پر امریکہ مخالف ثابت کرکے عوام کی ہمدردی سمیٹنے کے شوق میں کنفیوژن پھیلارہے ہیں،شاید یہ سمجھ رہے ہوں کہ اس طرح وہ اسلام اور پاکستان کی بڑی خدمت کررہے ہیں لیکن میرے نزدیک وہ اسلام اور پاکستان ہی نہیں بلکہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف بھی ظلم عظیم کے مرتکب ہورہے ہیں۔ انکار نہیں صحیح تشخیص کے نتیجے میں حل کا راستہ نکلے گا اور صحیح تشخیص کے لئے ضروری ہے کہ القاعدہ اور طالبان کی حقیقت سے قوم کو آگاہ کیا جائے اور یہ بات اپنی حکومت اور عوام کو سمجھائی جائے کہ یہ لوگ کیوں اور کیسے یہ سب کچھ کررہے ہیں؟
اس وقت سیاست اور صحافت کے میدانوں میں جو عسکریت پسندی سے متعلق لوگ بات کررہے ہیں، ان کو تین گروپوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ پہلا گروپ بعض سابق فوجی افسران، مذہبی سیاست دانوں اور ان کے ہمنوا دائیں بازو کے دانشوروں کا ہے جو حقیقت جانتے ہیں لیکن بعض مصلحتوں یا پھر اس خوف سے کہ خود ان کا نام بھی گناہ گاروں کی صف میں لکھ دیا جائے گا، سچ نہیں بول رہے ۔ ان کو ڈر ہے کہ سچ بولنے سے مقبولیت کم ہوگی۔ اسی طرح اس گروپ کے جو کالم نگار یا اینکرز ہیں، وہ قارئین اور ناظرین کی تعداد میں اضافے کی خاطر آئیں بائیں شائیں سے کام لے رہے ہیں ۔ دوسرا گروپ لبرل اور بائیں بازو کے سیاستدانوں اور دانشوروں پر مشتمل ہے ۔ یہ گروپ القاعدہ اور طالبان کو حقیقت تو مانتے ہیں لیکن ان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ان دونوں کے حوالے سے ان کی معلومات بہت ناقص اور کمزور ہیں ۔ وہ تجزیے اور تبصرے میں اعتدال سے کام لینے کی بجائے چند واقعات کو بنیاد بنا کر محض اپنا غصہ نکالتے رہتے ہیں اور ان کی اکثریت بھی تصویر کا صرف ایک رخ دکھاتی ہے۔
تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو اس مسئلے کو سمجھتے ہیں اور انصاف کے ساتھ بیان بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں خوف نے گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ وہ حقیقت بولیں تو عسکریت پسند بھی ناراض، اسٹیبلشمنٹ بھی ناراض۔ دائیں بازو کے لوگ بھی غصہ اور بائیں بازو کے لوگ بھی برہم ۔ جان بھی خطرے میں اور ایمان بھی خطرے میں۔ دائیں بازو کے لوگ انہیں امریکی ایجنٹ، گمراہ، روشن خیال کے القابات سے نوازتے ہیں اور بائیں بازو کے لوگ انہیں رجعت پسند اور طالبان کا حامی گردانتے ہیں ۔ اس طبقے کے بعض لوگ ہمت کا مظاہرہ کر بھی رہے ہیں لیکن ظاہر ہے ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستان میں القاعدہ اور طالبان سے متعلق جتنے منہ اتنی باتیں والا معاملہ ہے۔ کوئی کہتا ہے القاعدہ نامی تنظیم موجود ہے کوئی کہتا ہے اس کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ کوئی کہتا ہے پاکستانی طالبان حقیقت ہیں تو کوئی کہتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ غیرملکی ایجنسیاں کروارہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اسامہ بن لادن زندہ ہے تو کوئی کہتا ہے وہ کئی سال پہلے مرچکے تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان ایک ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے لئے زہرقاتل ہیں تو کوئی کہتا ہے کہ وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ جب تشخیص میں اس بڑے پیمانے پر کنفیوژن ہو تو علاج اور حل کیسے ممکن ہے؟ اس لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دانشوروں کو ساتھ بٹھائے، نمائشی کانفرنسز کی بجائے خاطر خواہ بحث و مباحثہ کے ذریعے صحیح تشخیص کرے۔ جس میں انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی معلومات سامنے رکھ دیں۔ ان لوگوں کی استعداد، نظریات اور مطالبات کے بارے میں آگاہی حاصل کی جائے۔ قومی سطح پر ایک پالیسی بنا کر اس کے حوالے سے قوم کو یک زبان کیا جائے اور پھر ایک ایسی پالیسی بنائی جائے جس کی پشت پر قوم کھڑی ہو، نہیں تو خاکم بدہن پورے پاکستان کے وزیرستان بننے کاانتظار کیجئے۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 190
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
عبداللہ آدم (24-05-11), غلام خان (24-05-11)
پرانا 24-05-11, 09:40 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بات تو سچ ہے ۔۔
لیکن ہمارے ارباب اقتدار اور اصحاب حل و عقد کو نہ جانے کب ہوش آئے گا
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (25-05-11)
پرانا 25-05-11, 07:35 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,515
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

القاعدہ اور طالبان پاکستان کو وزیرستان بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان پوری دنیا سے کٹ جائے اور ان کے مقاصد پورے ہو جائیں ۔ پاکستان میں آجکل بہت آسان ہے، امریکہ کے خلاف بولو، ہمدردیاں سمیٹو، مزہبی حلقوں میں کافروں کو بد دعائیں دو اور ولی مشہور ہو جاؤ۔

کب دیکھیں گے لوگ اس سطح سے تھوڑا سا اوپر اپنی سوچوں کو
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (25-05-11)
پرانا 25-05-11, 07:50 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اداس ساحل مراسلہ دیکھیں
القاعدہ اور طالبان پاکستان کو وزیرستان بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان پوری دنیا سے کٹ جائے اور ان کے مقاصد پورے ہو جائیں ۔ پاکستان میں آجکل بہت آسان ہے، امریکہ کے خلاف بولو، ہمدردیاں سمیٹو، مزہبی حلقوں میں کافروں کو بد دعائیں دو اور ولی مشہور ہو جاؤ۔

کب دیکھیں گے لوگ اس سطح سے تھوڑا سا اوپر اپنی سوچوں کو
یہ ایک طبقے کی سوچ ہے جو کہ بہت ہی محدود ہے
دوسری سوچ یہ ہے کہ
امریکہ کی آنکھیں بند کر کے تعریف کرو۔ وہ جو کرے اسے اخلاقی اور قانونی ہر لحاظ سے سپورٹ کرو
وہ آپ کے ملک کے اندر آ کر دو بندوں کو شہید کردے ۔۔ یا ایبٹ آباد میں آ کر اسامہ کو شہید کرنے کا دعوی کرے، یا ڈرون حملے کرے ۔۔۔ اسے اس کا پیدائشی حق مانو اور اس کا دن رات پرچار کرو
اس سے دنیا میں روشن خیال اور اعتدال پسند بھی قرار پاؤ گے اور ڈالر تو مقدر ہیں ہی ہیں ۔۔

پتہ نہیں لوگ اس سطح کی سوچ سے کب اوپر اٹھیں گے۔

اب آپ بتائیں کہ کون سی سوچ زیادہ صحیح ہے؟
آپ یقینا یہی سمجھیں گے کہ آپ کی سوچ زیادہ صحیح ہے لیکن مجھے کامل یقین ہے کہ یہ بات ایک فیصد بھی درست نہیں۔

اپنا اپنا نقطہ نظر ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (26-05-11), سیفی خان (25-05-11), عبداللہ آدم (27-05-11)
جواب

Tags
کوشش, پاکستان, پاکستانی, واقعات, لوگ, ممکن, آبادی, آج, ایمان, امریکہ, اسلام, تصویر, حل, خلاف, راستہ, سیاست, طالبان, علاج, صف, صلاحیت, صافی, صحیح, صحافی, صحافت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 2 23-02-12 06:09 PM
پاکستان فرانس میں سیکورٹی،تجارت اوراقتصادی تعاون کے معاہدوں پر دستخط ذوالفقار علی خبریں 0 06-05-11 11:40 AM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:48 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger