واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


اللہ رکھا کمہاراور امریکہ کی حالتِ زار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-08-11, 02:11 PM   #1
اللہ رکھا کمہاراور امریکہ کی حالتِ زار
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 23-08-11, 02:11 PM

ایمان و ایقان کی چاشنی میں گندھے، صوم و صلوٰة کے پابند اس شخص کی پرچون کی ایک چھوٹی سی دکان روزی کا ذریعہ تھی، وہ علی الصبح بیدار ہوتا، قرآن کی تلاوت کرتا اور دکان پر باقاعدگی سے بیٹھ کر رزق حلال کماتا، اکثر و بیشتر اس کے ہاتھ میں چھوٹی سی تسبیح ہوتی وہ فارغ وقت میں تسبیح پڑھتا، اس کے دو کماﺅ پتروں کی وجہ سے بھی رزق کی فراخی تھی، اس کا نام اللہ رکھا تھا۔ وہ ذات کا کمہار تھا، وہ لین دین کا کھرا تھا، اس کی عمر پچاس سال سے زائد تھی، معلوم نہیں کس وقت حرص و ہوس کے پنجوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ لوگوں سے رقم ادھار لینے لگا، رفتہ رفتہ میری حیرت بڑھنے لگی کہ اسے پیسوں کی ضرورت بھی نہ ہوتی مگر پھر بھی لوگوں سے قرض کے طور پر رقم مانگتا، دراصل وہ سودی کاروبار کی غلاظت میں دھنسنے لگا تھا، پھر یہ نوبت آ گئی کہ وہ ایک شخص سے سود پر رقم لیتا اور دوسرے شخص کی سود کی رقم ادا کرتا، یوں سود کی رقم بڑھتی گئی پھر اس کی حالت اتنی ابتر اور دگرگوں ہو گئی کہ اپنی رقم واپس مانگنے والے اس کے پیچھے پڑے رہتے مگر وہ اس قدر دیوالیہ، مفلس اور کنگال ہو چکا تھا کہ لوگوں کی رقم واپس کرنے کے لئے اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی۔ 1994ءکی ایک شب وہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر ہمارے گاﺅں سے ایسا کھسکا کہ آج تک لوٹ کر نہ آیا، قرض خواہوں میں سے کسی نے اس کی دکان پر قبضہ کر لیا تو کسی نے مکان پر۔
کیلی فورنیا میں واقع امریکی فضائیہ کی وانڈربرگ ایئر بیس میں ”عیسائی جنگ“ کی تھیوری پڑھائی جا رہی ہے، اس تربیت میں ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایٹمی ہتھیاروں سے محبت ہے“ کے نام سے فوجیوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے، اس مقصد کے لئے بائبل اور مذہبی مناظر کو جوہری جنگ اخلاقی طور پر جائز ہے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، اس تربیت کے بانی کا نام مائیکل وائن سٹائن ہے۔ امریکی فضائیہ کے ایجوکیشن ایئر ٹریننگ کمانڈ کے ترجمان ڈیوڈاسمتھ کا عقیدہ ہے کہ جوہری میزائل چلانے کے لئے ایسے کورسز ضروری ہیں، اس تربیت کے دوران فوجیوں کو یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ شیطان کو ہرانے کے لئے جنگ بہت ضروری ہے، یہ امریکی تربیت کا ایک خفیف سا منظر ہے، اپنی فوج کو جنگ کے لئے مذہبی تربیت دینے والے امریکہ کے اعصاب پر مسلسل یہ خوف سوار ہے کہ پاک فوج میں مذہبی ذہن رکھنے والے افسروں اور جوانوں کی اکثریت ہے۔ امریکی سی آئی اے اور پینٹاگون نے مشترکہ رپورٹ تیار کی ہے کہ پاکستان میں ایسے افسروں اور جوانوں کی کثیر تعداد موجود ہے جن پر مذہبی رنگ غالب ہے اور یہ عناصر ایٹمی اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جب امریکی فوجیوں کے لئے عیسائیت کی تعلیم ضروری ہے تو پھر پاک فوج کے خلاف مذہبی ذہن کا پروپیگنڈا چہ معنی دارد؟ شکست کی ذلت آمیز اور متعفن دلدل میں دھنسے امریکہ کی یہ آخری سسکیاں اور ہچکیاں ہیں، یہ نام نہاد سپر پاور جو 6 اگست 2011ءتک اپنے 1648، کینیڈا کے 72، جرمنی کے 56 ڈنمارک اور اٹلی کے 82، یو کے، کے 156، سپین کے 33 ، آسٹریلیا کے 28 نیدرلینڈ کے 25 پولینڈ کے 28 رومانیہ کے 19 اور نارومے کے 10 فوجیوں سمیت مختلف اتحادیوں کے 2583 فوجیوں کو کٹوا کر آج عبرتناک شکست سے دوچار ہے۔ یہ وہ اموات ہیں جو امریکی محکمہ دفاع کی تسلیم شدہ ہیں۔ حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اتحادیوں کے کتنے فوجی جہنم رسید ہوئے، آج دنیا یہ منظر دیکھ رہی ہے کہ امریکی سانڈ پر جان کنی کا عالم طاری ہے، نہ صرف اس کی معیشت کا کچومر نکل چکا ہے بلکہ امریکہ کے ٹوٹنے کی باتیں بھی گردش کرنے لگی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ امریکی معیشت کی باچھیں اتنی بری طرح چیر دی گئی ہیں کہ اس کو اپنی کو تاہ قامتی کا ادراک ہو چکا ہے۔ امریکہ سے مرعوب قلم کاروں کے قلم ششدر اور دنگ ہیں، آج اہل علم کا علم متحیر اور متجسس ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ساری دنیا کو پچھاڑ دینے والی یہ طاقت آج افغانستان کی چوکھٹ پر کیوں سر پٹک رہی ہے؟ روسی وزیراعظم ولادی میرپیوٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ عالمی معیشت کا خون چوس رہا ہے۔ امریکہ اپنے وسائل سے زیادہ خرچ اور بے پناہ قرض لینے کی وجہ سے عالمی معیشت پر بوجھ بن گیا ہے، بالکل اللہ رکھا کمہار کی طرح سود در سود قرضوں نے امریکی ریڑھ کی ہڈی توڑ ڈالی ہے۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کریسٹین لوگارڈ چیخ رہی ہے کہ دنیا کو اب امریکی معیشت اور ڈالر پر اعتبار ہی نہیں رہا۔ امریکہ پٹ گیا، ڈالر بے وقعت ہوتا جا رہا ہے، آج امریکی رخساروں پر بہتے آنسو اس کے دریچہ احساس کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر اسے قصرِمذلت میں کھدی وہ قبر دکھا رہے ہیں جس میں اس خناس کی سطوت اور نخوت دفن کی جانے والی ہے۔ امریکہ نامی اس ریاست نے 12 کھرب 37 ارب 7 کروڑ 70 لاکھ 22 ہزار 3 سو 29 ڈالر افغان اور عراق جنگ میں جھونک ڈالے، عراق میں 8 کھرب 6 ارب 30 کروڑ 62 لاکھ 88 ہزار 5 سو 94 اور افغانستان میں 4 کھرب 30 ارب 77 کروڑ 7 لاکھ 33 ہزار 7سو 35 ڈالر کھپا کر خود کوڑی کوڑی کا اتنا محتاج ہو گیا ہے کہ معیشت کے سب سے بلند قدمچے پر کھڑا ملک دیوالیہ ہو چکا ہے۔ عراق اور افغان جنگ جیتنے کے لئے وہ کئی ممالک کا مقروض ہو چکا، چین کہتا ہے کہ قرضوں کی نئی ڈیلز بھی امریکی و یورپی معیشت کو نہیں بچا سکتیں، اس قدر قرضے لینے کے باوجود افغانستان میں اس کی کسمپرسی اور بدحالی کا نظارہ ساری دنیا کر رہی ہے۔ افغانستان کے غربت کی چکی میں پسے لوگ آج امریکہ کو نشان عبرت بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، صوبہ میدان وردگ کی وادی تنگی کے باسی فرہاد نامی شخص نے امریکی چنیوک ہیلی کاپٹر کی تباہی کا دلربا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک پہاڑی سے راکٹ ہیلی کاپٹر کو لگا اور وہ آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ کر دھڑام سے زمین پر آ گرا، تمام فوجیوں کی لاشیں اتنی بری طرح جھلس گئی تھیں کہ ان کو شناخت کرنا ممکن ہی نہیں تھا، پاکستان کا صدر اور وزیراعظم بھی اپنی آنکھوں سے یہ محسور کن منظر دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان کے لئے امریکہ کا خصوصی نمائندہ مارک گراسمین وزیراعظم گیلانی کے سامنے فریاد کناں ہے کہ افغانستان میں کوئی مصالحت پاکستان کے بغیر ممکن نہیں سومارک گراسمین گڑگڑاتا ہے کہ افغانستان میں امن و امان کے قیام اور غیرملکی فورسز کے انخلاءکے عمل میں طالبان سے مصالحتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لئے پاکستان امریکہ کی مدد کرے۔
سود کی لعنت نے اللہ رکھا کمہار کے ہنستے بستے گھر کو اجاڑ ڈالا اور وہ بستی کو چھوڑ کر بھاگ گیا آج امریکہ بھی اللہ رکھا کمہار کی طرح سود کے بوجھ تلے دب چکا ہے اور یہ سب افغان جہاد کی وجہ سے ہوا ہے۔ اللہ رکھا تو رات کی تاریکی میں بھاگ گیا تھا مگر طالبان امریکہ کو بھاگنے نہیں دیں گے، وہ اپنے فوجیوں کو عیسائی جنگ کی تھیوری پڑھائے یا جدید ٹیکنالوجی سکھائے افغانستان کے کوہساروں پر عبرتناک شکست اس کا مقدر بن چکی ہے۔ (ان شاءاللہ)


بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
___
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 145
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-08-11), ننھا بچہ (23-08-11)
پرانا 23-08-11, 06:06 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,720
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
کیلی فورنیا میں واقع امریکی فضائیہ کی وانڈربرگ ایئر بیس میں ”عیسائی جنگ“ کی تھیوری پڑھائی جا رہی ہے، اس تربیت میں ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایٹمی ہتھیاروں سے محبت ہے“ کے نام سے فوجیوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے، اس مقصد کے لئے بائبل اور مذہبی مناظر کو جوہری جنگ اخلاقی طور پر جائز ہے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، اس تربیت کے بانی کا نام مائیکل وائن سٹائن ہے۔
اقتباس:
امریکہ نامی اس ریاست نے 12 کھرب 37 ارب 7 کروڑ 70 لاکھ 22 ہزار 3 سو 29 ڈالر افغان اور عراق جنگ میں جھونک ڈالے، عراق میں 8 کھرب 6 ارب 30 کروڑ 62 لاکھ 88 ہزار 5 سو 94 اور افغانستان میں 4 کھرب 30 ارب 77 کروڑ 7 لاکھ 33 ہزار 7سو 35 ڈالر کھپا کر خود کوڑی کوڑی کا اتنا محتاج ہو گیا ہے۔
مذکورہ جملوں‌کی ماخذ و حوالہ جات کہاں ‌ہیں؟؟؟
مجھے تو خرچ کی جانے والی رقم کے اندراج پر ہنسی آ رہی ہے!!!!
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاک, پاکستان, ڈنمارک, وزیراعظم, قرآن, چین, ممکن, محبت, معلوم, آج, ایمان, اللہ, امریکہ, بچوں, تعلیم, خون, خلاف, روزہ, رات, سائنس, شخص, طالبان, عیسیٰ, علی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger