اللہ کی عبادت کے لئے دو مختلف فکر اور سوچ ہیں ایک تو یہ کہ بندہ خوف یا لالچ میں اس کی عبادت کرتا ہے یا پھر اس سے محبت اور سچے مسلمان ہونے کی وجہ سے عبادت میں مصروف رہتا ہے۔ہم میں سے زیادہ تو لوگ سزا کے ڈر سے یا جنت میں مقام حاصل کرنے کے لالچ میںعبادت کرتے ہیں ۔ صوفیت میں کہا جاتا ہے کہ 23ویں صدی ہجری ، 8ویں صدی عیسوی کا ایک مشہور خاتون رابعہ بصری کو ایک با ردیکھا گیا کہ وہ ایک ہاتھ میں پانی سے بھری بالٹی اور دوسرے ہاتھ میں جلتی مشعل لے کر بھاگی جا رہی ہیں جب لوگو ں نے انہیں اس حالت میں دیکھا تو معلوم کیا کہ اے رابعہ یہ پانی سے بھری بالٹی اور آگ کہاں لے کر جا رہی ہو۔
رابعہ بصری نے جواب دیا کہ میں اس آگ سے جنت میں آگ لگاؤں گی اور بالٹی کے پانی سے جہنم کی آگ بجھاؤں گی تاکہ لوگ جنت کے لالچ یا عذاب جہنم سے ڈر کر عبادت نہ کریں بلکہ اللہ سے خالص محبت کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔ رابعہ بصری کہ اللہ تعالیٰ سے اتنی محبت تھی کہ وہ کہتی تھی کہ ان کے پاس شیطان سے نفرت کرنے کا وقت نہیں ہے۔ میرا دل اللہ کی محبت سے لبریز ہے اور اس میں نفرت پالنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ اللہ سے خالص محبت اور انتہائی قابل تقلیدعبادت کا راستہ ہے۔ اللہ کے تمام نیک بندے اور اولیا ءاللہ صرف اور صرف اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ ڈراتے نہیں ہیں۔ ہندوستان میں رابعہ بصری کی ہم منصب میرا ہیں۔ وہ بھگوان کر شن کی شکل میں خداکی سب سے برگزیدہ بندی تھیں۔ بھگوان کرشن کروہ گریدھر، گوپالہ، کرشنا، نٹور اورکئی مختلف نامو ں سے پکارا کرتی تھیں۔ وہ عام انسانوں کی زبان میں اشلوک پڑھا کرتی تھیں وہ راجستھان نی ، مارواڑی ، گجراتی ، بیراج بھاشا ادرکشی علاقائی زبانوں میں اشلوک پڑھتی تھیں۔ انکی موت کے 5سو سال بعد لوگ ان سے گہری عقیدت اور انسیت رکھتے ہیں ۔
یہ بھگوان کرشن سے ان کی محبت ہی تھی جس نے انہیں بے خوف بنادیا تھا اور انہوںنے تمام شاہی بندشیں توڑ دی تھیں۔ بھگوان سے انکی عقیدت اور لگاؤ نے انہیں دنیا سے بے گانہ کر دیاتھا اور انہیں اپنا شاہی محل بھی نہیں بھاتا تھا ۔انہوںنے ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کرنی شروع کر دی اور سادھوؤں اور سنتوں کے ساتھ بستی بستی گھومنا شروع کر دیا ۔ ان کے شاہی خاندان نے ان پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا لیکن وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں۔ بلاشبہ محبت ہر ایک کو نڈر بنا دیتی ہے۔ ان کی بھگوان کرشن سے عقیدت کے گیت اور بھجن روزانہ کروڑوں افراد آج بھی گاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبت کے اس سے ایک دنیا مبہوت ہے۔
مولانا رومی محبت اور خود کو وقف کردینے کی ایک اور تابندہ مثال ہیں ۔ وہ ایک عظیم عالم دین اور شرعی قوانین کے ماہر تھے ۔ وہ اکثر خطبہ دیتے تھے۔ اور شاہ کی عدالت میں ان کو انتہائی محترم سمجھا جاتا تھا۔ ہزاروں شاگرد اور عقیدت مندوں سے فیضیاب ہونے ان کی خدمت میں حاضر رہا کرتے تھے اور بڑی توجہ اور دھیان سے ان کے خطبات سنا کرتے تھے۔ اگر ایک با ران کی ملاقات شمس تبریز نام کے مشہور در دیش سے نہ ہوپاتی تو ا نکی بیش بہا معلومات اور علم کے باوجود دنیا ان سے واقف نہ ہوپاتی۔ ایک روز وہ خطبہ دے رہے تھے اور جس معمول اپنے سامنے کتابوں کا انبار رکھے ہوئے تھے اور ان کتابوں سے وہ استفادہ کیاکر تے تھے کہ یہ دروپیش شمس تبریز داخل ہوئے اور کتابوں پر نظر ڈال کر کہا کہ یہ کیا ہے۔ مولانا کی بہت ناگوار گزرا اور انہیں غصہ آگیا انہوںنے کہا کہ آپ اسے نہیں جان پائیں گے۔ شمس تبریز نے دوبارہ کتابوں پر نظر ڈالی اور کتابوں میں آگ لگ گئی۔ مولانا رومی نے کہا یہ کیا ہے تب شمس تبریز نے کہا کہ تم نہیں جان پاؤ گے یہ کیا ہے۔ مولانا رومی سمجھ گئے کہ یہ درویش کوئی معمولی شخص نہیں ہے اور ان کے پیچھے ہولئے۔ شمس تبریز نے انہیں اپنی شاگروں میں لے کر انکو ایک عالم سے ایک ایسے عظیم صوفی میں مکمل طور پر بدل دیا جس کی نظروں میں دنیا کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ انہوںنے دولت و عیش وعشرت کی زندگی کو خیر باد کہہ کر شمس تبریز جیسی دوریشانہ زندگی گذارنی شروع کر دی۔
وہ خدا کی محبت میں اپنے سرشار بے چین اور مضطرب رہا کرتے تھے کہ انہوں نے عشقیہ غزلیں کہنی شروع کر دیں جسے دیوان شمس تبریز کے عنوان سے مجموعہ کی شکل دے دی گئی ہے۔ آخر کار انہوںنے کئی جلدوں میں فتویٰ لکھے جسے آج فارسی کا قرآن کہا جاتا ہے۔ یہ زبردست عالمی میعار کی شاعری ہے جس میں اللہ سے محبت قربت اور اس کے لئے خود کو وقف کردینے کی وجہ سے وہ زندہ جاویہ برگزیدہ بندہ خدا بن گئے ہیں۔ میرا کی طرح وہ بھی خدا کی محبت میں اتنے ڈوب گئے تھے کہ کہا کرتے تھے کہ ان کی واحد شناخت عشق ہے ۔مذہب علاقے یہاں تک کہ دنیا وآخرت اور جنت بھی نہیں ۔
دوسری جانب جو خدا سے ڈرتے ہیں وہ زیادہ تر پادری اور ماہرین دینیات ہیں۔ در حقیقت وہ سب لوگوں میں منافرت پھیلاتے ہیں اور آخرکار اللہ سے یہ ڈر پیدا کرتے در اصل وہ اپنے معتقدین میں اپنا ڈر پیدا کر کے اپنا کنٹرول قائم کر لیتے ہیں۔ وہ ہمیں جہنم کی آگ میں ڈراتے ہیں کہ ان کی نافرمانی پر انہیں کس طرح اس آگ میں جھونک دیا جائے گا۔یہ سچ ہے کہ قرآن میں جہنم کا ذکر ہے لیکن وہ ان گناہ کبیرہ کے مرتکب ہونے والوں کے لئے ہے جو دوسروں پر مظالم ڈھانا بند کرنے سے انکار کرتے ہیں ‘ظالم ہیں اور اپنی دولت اور اقتدار و طاقت پر تکبر کرتے ہیں۔
معمولی گناہگار کے لئے اللہ سب سے بڑا معاف کرنے اور عضود درگزر سے کام لینے والا ہے۔ وہ بہت احمدل اور معاف کرنے کی پسند کرنے والا ہے۔ جواس سے معاف اور بخشش کے طلب گار ہوتے ہیں ان پر وہ رحم اور شفقت کرتا ہے۔ ہر انسان اللہ سے محبت اور اس کے لئے خو د کو وقف کر کے ہی اللہ سے رحم اور مہربانی اور بخشش ماگنی چاہئے۔ یہ محبت ہی ہے جو انتہائی بد کردار کو بھی راتوں رات بدل دیتی ہے۔ جو میرا اور مولانا روم کی طرح محبت کی تاثیر اور طاقت جانتے ہیں طاقت اور اقتدار کی محبت سے کنارہ کش ہونے میں ہرگز نہیں ہچکچائیں گے۔ یہ اقتدار سے محبت غرور اور تکبر اور دولت ہی ہے جس نے آج پوری دنیا میں برائی پھیلا رکھی ہے اور یہ محبت کی طاقت ہے جو ان تمام برائیوں کو دور کرکے دنیا کو جنت بنا دیتی ہے اب ہم سب پر لازم ہے کہ اس کا تجزیہ کر یں کہ اللہ سے محبت کریں یا خوف خدا سے عبادت کریں جو محبت کرتا ہے وہ یقینا بے خوف رہتا ہے اور یہ محبت اور عشق ہی ہے جو خدا ہے اور خدا ہی محبت ہے۔
تحریر: اصغرعلی انجینئر
والسلام
زارا