|
الیکشن اوراس کے بعد؟,,,,چوراہا…حسن نثار

19-12-07, 08:01 AM
الیکشن اوراس کے بعد؟,,,,چوراہا…حسن نثار
میرے علاوہ بھی کچھ لوگوں پر مایوسی پھیلانے کاالزام ہے حالانکہ کئی عشروں سے یہ ”کار ِ خیر“ کوئی اورانجام دے رہا ہے۔ اس طرح کی بودی، کھوکھلی، بے بنیاد اور غیرمنطقی باتیں کرنے والوں کو یہ سوچ سمجھ لینا چاہئے کہ مایوسی کا وائرس تحریروں سے نہیں… اشرافیہ کے کرتوتوں، بداعمالیوں، خودغرضیوں ، تضادات، مفادات، منافقت، ناقص منصوبہ بندی، تجاوزات، اختیارات کے بلاد کار، آئین و قوانین کو دہکتے کوئلوں پرنچوانے، ملکی وسائل کی سرعام لوٹ مار، طاقت کے ننگے استعمال، انصاف کی عدم دستیابی، عوام کی عزت نفس کو تاخت کرنے، ڈبل سٹینڈرڈز، مقدس مافیاز کی من مانیوں، غیر یقینی پن، کثیر الجہت و کثیرالمقاصد دھاندلیوں، شخصیت پرستیوں اور ایسی ہی دیگر لعنتوں اور خباثتوں کے سبب پھیلتا ہے۔ جن کے پیروں تلے ”بٹیرے‘ ‘ آجائیں جن کے چھونے سے مٹی سوناہو جائے جن کے ناجائز قبضوں کا ”انتقال“ اور ”رجسٹری“ ہو جائے۔ جن کے چمڑے کے سکے… درہم و دینار سمجھے جائیں جن کی ہر صبح… صبح بنارس اور ہر شام…شام اودھ ہو، انہیں حالات کی حقیقی تصویر کشی کرنے والے ”ایجنٹس آف ڈونر ڈے“ ہی نظر آتے ہیں اور یہی وہ شانت قسم کے بے شرم ہیں جو ”ہشیار، خبردار“ کے آوازے لگانے والوں پریہ پھبتی کستے ہیں کہ انہیں صرف آدھا خالی گلاس تو نظرآتاہے جبکہ آدھا بھرا ہواگلاس دکھائی نہیں دیتا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اول تو کہیں گلاس ہی موجود نہیں… ہے تو آدھا بھرا ہوا ہرگز نہیں اور اگر آدھا بھرا ہوا ہے تو اس میں سریع الاثر زہریلے مشروب کے علاوہ کچھ نہیں۔ جسے شک ہو وہ ان سچ مچ کے کروڑوں عوام سے پوچھے جو پینے کا صاف پانی اور آٹے کے تھیلے ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اصل حالات دیکھنے ہوں تو شوکت عزیز کے سوٹ، خورشید قصوری کے بوٹ، شیخ رشید کے سگار اور ان کی مقدس توندوں اور بلٹ پروف گاڑیو ں میں نہیں… یوٹیلیٹی سٹورز کے باہر قطاروں میں لگے ”مستقبل“ میں دیکھو یا چند بڑے شہروں کے باہر جھانکو جہاں بے گناہ عوام تھوڑے اور جہنم زیادہ ہیں۔ میرے چھوٹے سے گاؤں ”بیلی پور“ میں کنسٹرکشن کا خاصا کام ہو رہا ہے۔ اکثرمستریوں مزدوروں کے ساتھ میرا ذاتی تعلق ہے۔ میں دسمبر کی دھوپ تاپنے اخبارات کا پلندہ لئے اکثر ان کے پاس جا بیٹھتا ہوں۔ خبریں انہیں میں سناتا ہوں لیکن اصلی ملکی حالات مجھے وہ بتاتے ہیں۔ دوپہر بارہ سے ایک بجے تک ان کی ”لنچ بریک“ ہوتی ہے توان کے ”لنچ بکس“ کھلتے ہیں۔ ان ”پوٹلیوں“ سے لنچ کے نام پر کیا کچھ نکلتا ہے؟ دیکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، لکھتے ہوئے بھی آرہی ہے۔ اقتصادی خوشحالی کا کوئی موجد میرے قابو آجائے تو زبردستی اسے یہ ”لنچ“ کراؤں اورپھر پوچھوں کہ سناؤ تمہارے زرمبادلہ کا کیا حال ہے؟ یہ بے حیا ہیں؟ یا بے خبر؟ یا دونوں کے حسین امتزاج کا آئیڈیل نمونہ؟ ایمرجنسی مرحومہ کی قسم! نہ انہیں الیکشن سے کوئی دلچسپی ہے نہ ملکی حالات و واقعات سے، ان کا صرف اور صرف ایک مسئلہ ہے کہ رات کو چولہا جلے گا یا نہیں؟ مایوسی کی اس مستقل برسات میں جو کوئی امید کے چراغ جلاناچاہے تو ست بسم اللہ، سر آنکھوں پر لیکن جو الیکشن سرپر کھڑا ہے، اس کے ہونے پربھی کیا ہوگا؟ خود میں نے چندماہ پہلے ”ہنگ پارلیمینٹ“ کی پشین گوئی کی تھی اور اب یہ ہر کسی کی زبان پرہے۔ دوسری طرف شیخ رشیدجیسے سیانے کوے قبل از وقت مطلع فرما رہے ہیں کہ آئندہ معاملہ بھی ڈیڑھ دو سال سے زیادہ نہیں چلے گا۔ انتخابات کے تمام تر امکانات پرغور کرکے دیکھ لیں… کچھ بھی ہو جائے تو کیا کچھ ہوتا نظرآتا ہے؟ جو دو، دو باراس ملک کی وزارت ِ عظمیٰ پر فائز رہ کر یہا ں دودھ اور شہد کی نہریں بہا چکے… تیسری بار کوئی معجزہ دکھا سکیں تو پھرممکن ہوگا لیکن مجھے وہ وارننگ یاد آتی ہے کہ ”مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاسکتا“… لیکن خیر یہ شرط ”مومنوں“ کے لئے ہے، ہمیں تو ناگوں اور ناگنوں سے ڈسوانے کا شوق ہے۔ ناگ راجہ اور ناگن رانی اِدھراُدھر ہو جائیں اور مناسب وقفے کے بعد اپنے اپنے محبوب و منتظر مریضوں کو ڈسنے نہ آئیں تو ”مریض“ خود دیوانہ وار انہیں پکارنے ڈھونڈنے لگتے ہیں جیسے ”ہیروئن“ یا ”مارفین“ کا عادی نشہ نہ ملنے پر نیم پاگل ساہو کر کچھ بھی کرنے پرتل جاتا ہے۔ معاف کیجئے یہ تو ”مبالغہ“ اور ”مایوسی پھیلانے کی عادت“ ہوگئی… آپ صرف اتنی مہربانی فرمائیں کہ الیکشن کے بعد والے تمام تر امکانات پرباری بار خود ہی غور فرمائیں اورخود ہی مختلف نتائج پر پہنچنے کی کوشش کریں کہ کون سا مسیحا آ گیا توکون سی قیامت یا راحت آجائے گی؟ کیسی تبدیلی سے عوام کی تقدیر بدل جائے گی؟ کس کے حلف اٹھانے سے یہ 16کروڑ افتادگان خاک اوپر اٹھ جائیں گے؟ سچ تو یہ ہے کہ الیکشن کے بعد مہنگائی کا سونامی ہمارا منتظر ہے۔ ”نگرانوں“ نے بڑی مشکل سے پٹرول اور گیس وغیرہ کی قیمتیں روک رکھی ہیں۔ منتخب حکومت آتے ہی ایسی ”سلامی“ پیش کرے گی کہ بیچارے ”عوامی“ دیکھتے رہ جائیں گے۔ حال تو بے حال ہے ہی، مستقبل قریب پر بھی غور کریں تو رونگٹے گارڈ آف آنرپیش کرنے لگتے ہیں، ایسے میں مایوسی نہیں تو کیا نور اور خوشبو پھیلے گی؟
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|