واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


امریکہ نے افغانستان میں جنگ کیوں لڑی؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-02-12, 06:08 PM   #1
امریکہ نے افغانستان میں جنگ کیوں لڑی؟
پاکستانی پاکستانی آف لائن ہے 02-02-12, 06:08 PM

Name:  4398994874_aed9e77a08_b.jpg
Views: 31
Size:  33.9 KB
نیٹو کی سمٹ میں شرکت کی خاطر برسلز کے لیے روانہ ہوتے ہوئے امریکہ کے وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک خلاف توقع بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ سن دو ہزار چودہ کی بجائے سن دو ہزار تیرہ کے دوسرے نصف میں افغانستان میں جنگی کاررائیاں بند کر دے گا جس کے بعد صرف امریکی فوجی انسٹرکٹر اور مشیر افغانستان میں رہیں گے۔ روسی ماہر شرقیات بورس وولہوونسکی اس موضوع کو جاری رکھ رہے ہیں۔

اب مبصرین کو اس میں دلچسپی ہے کہ پنٹاگون کے سربراہ کے مذکورہ بیان اور امریکہ کے فوجی منصوبوں میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ چند دن پہلے برطانوی ذرائع ابلاغ عامہ افغانستان بارے نیٹو کی خفیہ رپورٹ کے اقتباسات منظر عام پر لائے تھے جس میں افغانستان کے حالات کی قنوطیت پسندانہ انداز میں تصویر کشی کی گئی تھی۔ رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ طالبان کو شکست نہیں دی جا سکی بلکہ یہ تحریک آج عروج پر ہے اور غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ماہ مارچ میں امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔ اندازہ ہے کہ وزیر دفاع کے مذکورہ بیان کا ایک مقصد عوام میں صلح کار کی حیثیت سے باراک اوباما کے وقار کو بلند کرنا ہے۔

اگر عالمی اور علاقائی مسائل کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے لیون پنیٹا کے حالیہ بیان اور نیٹو کی تازہ رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ افغانستان سے فوجی دستوں کا انخلاء کرنے کے امریکہ کے منصوبے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آئندہ افغانستان اور اس پورے خطے کو واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں کوئی مقام حاصل نہیں ہوگا۔ یہ اندازہ لیون پنیٹا کے اس بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی طویل المدت موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مراکش سے پاکستان تک پھیلے ہوئے گریٹ مڈل ایسٹ پر قابو پانے کے امریکی منصوبے کے لیے افغانستان کلیدی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں سے تیل کے بڑے قدرتی وسائل والے مرکزی ایشیا کے ممالک جانا ممکن ہے۔ اس لیے واشنگٹن انتظامیہ افغانستان میں اپنی پوزیشن کو کمزور ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ طالبان کو فوجی طریقے سے ہرانے میں ناکام ہونے کے بعد امریکہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا کونسا طریقہ اختیار کرے گا؟

امریکہ کی نئی حکمت عملی کی جھلک نئے فوجی بجٹ کے مسودہ میں ملتی ہے جو لیون پنیٹا ماہ جنوری کے آخر میں منظر عام پر لائے ہیں۔ بجٹ کے مسودے میں فوجی اخراجات میں کمی اور روایتی افواج کی طرف سے کئے جانے والے آپریشنز کی بجائے ڈرون حملوں اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کئے گئے خفیہ آپریشنز کا تذکرہ ہے۔

علاوہ ازیں عراقی جنگ کے تجربے سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کے نام نہاد انسٹرکٹر اور مشیر اصل میں فوجی ہی ہیں۔ عراق سے امریکہ کے تمام فوجی دستوں کے انخلاء کے بعد پچاس ہزار مشیر وہاں رہ گئے تھے۔ انہیں تب واپس بلا لیا گیا جب عراقی حکام نے سخت انداز میں ایسا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اندازہ ہے کہ افغانستان میں بھی ایسا ہی ہوگا۔

اپنا وقار برقرار رکھنے کے لیے امریکہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو وسعت دے گا۔ تاہم گزشتہ برسوں سے امریکہ کو اس حوالے سے سنگین مسئلہ کا سامنا ہے جو امریکہ نے خود پیدا کیا ہے۔ طالبان پر اثر ڈالنے کے قابل واحد ملک پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات ابتر ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان نے چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا شروع کر دیا ہے۔ اور امریکہ افغانستان سے افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان سے تعاون پر تکیہ نہیں کر سکتا۔

مطلب یہ کہ امریکہ کو نئے اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے امریکہ کی نظر ہندوستان پر پڑ چکی ہے جو طالبان مخالف رویہ رکھتا ہے اور موجودہ افغان حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ ازبکستان کے ساتھ اشتراک عمل کو مزید گہرا بنا سکتا ہے کیونکہ ازبکستان کو افغانستان کے شمالی علاقوں میں کافی اثر و رسوخ حاصل ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے ازکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا کر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث اس ملک کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی ہٹا لی ہے۔ جب بات امریکہ کے مفادات کی ہو تو انسانی حقوق کی پروا بھلا کون کرے گا؟

ساتھ ہی امریکہ افغانستان میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ نیٹو کی مذکورہ رپورٹ میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے خطرے کے علاوہ پاکستانی آئی ایس آئی کے طالبان کے ساتھ رابطے کا تذکرہ بھی آتا ہے۔ تاہم پاکستان اس الزام کو مسترد کرتا چلا آ رہا ہے۔ مذکورہ رپورٹ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے دورہ افغانستان سے عین پہلے شائع کی گئی اس لیے وہ اس پر تبصرہ کئے بغیر نہیں رہ سکیں۔ حنا ربانی کھر نے پاکستان پر عائد کردہ طالبان کی حمایت کرنے کے الزام کے جواب میں کہا کہ یہ ایک پرانی بوتل میں پرانی شراب پیش کی گئی ہے۔

درحقیقت یہی بات افغانستان سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ امریکہ پہلے کی طرح آج بھی دنیا کے اس اہم علاقے پر مسلط ہونا چاہتا ہے لیکن اپنی اس پرانی پالیسی کو نیا نام دینے کے لیے کوشاں ہے۔

ربط: صدائے روس

__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر

 
پاکستانی's Avatar
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,266
شکریہ: 10,278
3,092 مراسلہ میں 7,435 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 90
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-02-12), rana ammar mazhar (05-02-12), احمد نذیر (02-02-12), رضی (02-02-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پښتو لیكلو كښے ګرانی؟ - پشتو لکھنے میں دشواری؟ محبوب عالم پشتو فورمز 2 07-01-12 06:07 PM
شہباز شریف پاکستانی ہیں یا پنجابی؟ شریف خبریں 19 10-07-10 03:14 PM
پاکستان: آئی ٹی کی دنیا کا اہم کھلاڑی؟ پاکستانی خبریں 1 17-08-07 09:57 PM
پاکستان: آئی ٹی کی دنیا کا اہم کھلاڑی؟ چاچا کمال خبریں 1 16-08-07 09:58 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:51 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger