واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


امریکہ کا سفر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-10-11, 11:20 AM   #1
امریکہ کا سفر
حیدر حیدر آف لائن ہے 03-10-11, 11:20 AM

اُن احباب کے لیے جو امریکہ کے مریخ تک پہنچ جانے کے سفر کو دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں۔
ایک فلسفی کے قلم سے امریکہ کے سفر کا احوال ۔ سوچ بیدار کرتی ایک تحریر۔ اگر کوئی سوچے اور سمجھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میکسیکو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پچیس ہزار سال پرانے پیروں کے نشان دریافت کیے ہیں ۔یہ نشان تین اشخاص کے ہیں ۔ ان میں ایک چار برس کا ایک چھوٹا بچہ بھی ہے۔
یہ چھوٹی اور دلچسپ خبر میرے خیالات کو بہت دور تک بہا کر لے گئی۔ یہ خبر پڑھ کر مجھے سفید بالوں والا وہ صوفی مزاج پنجابی دوست بھی یاد آیا جس نے بتایا تھا کہ جب میں دنیاوی معاملات میں الجھ کر پریشان ہو جاتا ہوں تب میں ایک درویش کے مزار پر چلا جاتا ہوں ، دیر تک زیارت کرتا رہتا ہوں اور خاموش ہونٹوں سے عرض کرتا ہوں کہ "مجھے سلوک کے سفر کا حکم کب نصیب ہو گا؟"

آثار قدیمہ کی یہ خبر پڑھ کر سوچ کا سفر شروع ہو گیا کیوں کہ پیر تو سفر کی علامت ہیں ۔ یہ خبر ہمیں صرف یہی نہیں بتاتی کہ 25 ہزار برس قبل انسان غاروں میں رہتا تھا اور پہاڑوں میں ننگے پاؤں سفر کرتا تھا یہ خبر ہم سے یہ بھی پوچھتی ہے کہ ہزاروں سال قبل انسان نے جو سفر شروع کیا تھا کیا آج اُسے منزل مل گئی ہے؟

آج میں اُمت کے اُس قاری کے سوال کا جواب بھی دینا چاہوں گا جس نے دو برس قبل مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ کو البرٹ کامو کیوں پسند ہے؟ اس خبر کے حوالے سے میں اپنے اُس محنت کش دوست کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ البرٹ کامو کی سب سے اعلیٰ تحریر "دی فال" اس بار سے شروع ہوتی ہے جس کا نام "میکسیکو بار" ہے۔ اس بار میں بیٹھ کر کامو نے مغرب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ "سائنس کا سفر کرتے ہوئے تم نے آج فلک کو چھونے والی عمارتیں تعمیر کر دی ہیں۔ اور تمہارے پیر خلا تک پیہنچ گئے ہیں۔ مگر کیا اخلاقی طور پر تم زوال کی پستیوں میں نہیں رینگ رہے؟ یہ جنگیں اور بیوائیں۔ یہ بھوک سے بلکتے ہوئے بچے تمہاری ترقی پر فریاد کناں ہیں۔ یہ تم سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا ترقی تیزی سے تباہی پھیلانے کا نام ہے؟ تمہاری سوچ کا سفر بلندی کا پتہ کیسے فراہم کر سکتا ہے؟ تم نے تو ایذا رسانی کے جدید ترین اوزار ایجاد کیے۔ اس ترقی نے تمہارے جسم تو بڑے اور بلند کر دئیے لیکن ان اجسام میں تمہاری روح بہت چھوٹی اور پست ہو کر رہ گئی ہے۔"

اس حؤالے سے امت سے عشق کرنے والے قاری کو البرٹ کامو کی انفرادیت اور اس کی سچی ذہانت کا اندازہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ جو بات اس نے آج سے پچاس برس قبل ایمسٹرڈم کے میکسیکو بار میں بیان کی تھی وہ بات آج میکسیکو کے پہاڑوں میں پچیس ہزار سال پرانے پیروں کے ملنے والے نشان بھی ثابت کر رہے ہیں۔ ااور افغانستان سے بھاگنے والے دنیا کے "ترقی یافتہ" امریکیوں سے سراپا سوال بن کر پوچھ رہے ہیں کہ غزنی میں فاختاؤں جیسے بچوں کو ڈیزی کٹر بموں سے اُڑانے ، میراں شاہ میں ڈرون حملوں میں میزائل برسانے اور معصول انسانوں کے گھروں کو ان کی قبروں میں تبدیل کرنے والے تمہارے اعمال البرٹ کامو کی یہ بات ثابت نہیں کر رہے کہ تم سائنس میں تو بہت ترقی کر چکے ہو مگر اخلاقی سطح پر تم براعظم امریئکہ کے ان قدیم ترین باشندوں سے کہیں نیچے گر چکے ہو ، جنہوں نے غاروں سے نکل کر معاشرت سفر کا آغاز کیا تھا۔ غاروں سے نکل کر خلاؤں میں قدم جمانے کا یہ سفر ترقی نہیں بلکہ "زوال ہے"۔ اس زوال کی ایک مثال امریکہ کی طرف سے اپنی ناکامی کے ملبے میں پاکستان کو دفن کرنے کی ناکام کوشش بھی ہے۔

کیا امریکہ یہ بھول گیا ہے کہ اگر پاکستان سرد جنگ میں اس کا ساتھ نہ دیتا تو آج امریکہ نہیں تو نیٹو کے کئی ممالک وارسا کے ممبران بن چکے ہوتے۔ مگر ترقی کے سفر میں سب سے آگے نکلنے والا ملک آج اپنے محسن کو مجرم کہہ رہا ہے۔ ۔ کیوں کہ وہ امریکہ کے لیے ان انسانوں کا خون بہانے کی ہمت نہیں کر رہا جو امریکہ کو پتھر چبوا چکے ہیں۔ پاکستان کا جرم صرف اتنا ہے کہ اسے ان لوگوں کی قوت دکا اندازہ ہے۔ جن کی قوت کا اندازہ امریکہ نہیں کر سکا۔ اُن سے جب امریکی نہیں لڑ سکے تو پاکستان کس طرح لڑ سکتا ہے؟ جس آگ میں امریکی غرو بھسم ہو چُکا ، اُس آگ میں امریکہ پاکستان کو کیوں دھکیلنا چاہتا ہے۔ اور جب پاکستان اس خودکش کاروائی سے انکار کرتا ہے تو امریکہ پاکستان پر یہ الزام کیوں لگاتا ہے کہ پاکستان ان سے ملا ہوا ہے۔
وہ لوگ اپنی بقا کی خاطر پہلے برطانیہ سے لڑے، پھر روس سے لڑے اور آج امریکہ سے لڑ رہے ہیں۔
وہ دہشت گرد نہیں ، دلدل ہیں۔ ان پر جو بھی پاؤں رکھے گا ، وہ دھنس جائے گا۔
امریکہ نے پچیس ہزار برس والے سفر کے بعد پاؤں رکھا تو اس دلدل پر جس کا نام افغانستان ہے۔ کیا اس سفر کو ترقی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یہ ترقی کا سفر نہیں۔۔۔یہ تو تباہی کا سفر ہے۔

امریکہ کے پاس میڈیا کے نام کا دنیا کا سب سے بڑا ڈھول ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اس سفر کا تجزیہ خود کرے۔ اور پھر اپنے اس بڑے ڈھول کے ذریعے پوری دنیا کو بتائے تاکہ کوئی اور ملک امریکہ بننے سے بچ سکے۔ مگر یہ ممکن نہیں لگتا۔ امریکہ اُسامہ آپریشن ڈرامے کرنے اور پاکستان کو ڈرانے کے علاوہ کُچھ نہیں کر سکتا۔
امریکہ اندر سے ختم ہو چکا ہے۔ اب اس کے باہر سے ختم ہونے کا سفر شروع ہونے کو ہے۔ وہ اپنی اس منزل کو کب پہنچتا ہے ۔۔۔۔اس سوال کا جواب پوری دنیا کو دیکھنا ہے۔
کاش یہ دنیا امریکہ کے اس تباہی والے سفر سے سبق حاصل کر سکے۔
جان سکے کہ سائنسی ترقی تب تک تباہی کا سبب بنتی ہے جب تک وہ اخلاقی ترقی سے متوازی نہیں ہوتی۔
کاش امریکہ کے سفر سے دنیا کو کوئی سبق حاصل ہو سکے
کا ش یہ دنیا کامو کے ناول "زوال" کو پھر سے پڑھے
کاش وہ یہ ناول صرف پڑھے ہی نہیں بلکہ سمجھے بھی۔/
اور اپنے اُس سفر کی سمت تبدیل کر لے جو ہزاروں برسوں سے عظمت کی بلندیوں کے بجائے ذلت کی پستیوں کی طرف جا رہا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ :تلخیص از اعجاز منگی : روزنامہ امت

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 213
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (03-10-11), ننھا بچہ (03-10-11), محمد یاسرعلی (03-10-11), مرزا عامر (03-10-11), احمد نذیر (03-10-11), احمد بلال (03-10-11), راجہ اکرام (03-10-11)
پرانا 03-10-11, 02:48 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,689
کمائي: 31,843
شکریہ: 10,596
1,217 مراسلہ میں 3,222 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میڈیا زرہ زہنیت تک کچھ تو اچھا پہنچ رہا ہے۔
احمد بلال آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
محمد یاسرعلی (03-10-11), حیدر (03-10-11)
پرانا 03-10-11, 03:05 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کُچھ نہ کُچھ اچھا ضرور ہو رہا ہے۔ بس وہ شور و غوغے میں سُنائی نہیں دے رہا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
پاکستان, پسند, قدم, ممکن, آپریشن, آج, الزام, انسان, امریکہ, اعلیٰ, بچوں, تحریر, جواب, حکم, خون, خودکش, خبر, دوست, دریافت, سفر, سال, سائنس, عشق, صوفی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:54 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger