واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


امریکی خون ریزیاں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-09-10, 01:06 AM   #1
امریکی خون ریزیاں
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 24-09-10, 01:06 AM

دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے دعویدار امریکہ کی ابتدائی تاریخ سیاہ فام افریقی اور مقامی باشندوں کے خون سے لکھی گئی ۔۔۔ڈیڑھ سو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی دنیا بھر میں بہنے والے زیادہ تر خون کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے۔۔۔ دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو کہ جہاں امریکی خونریزی کی مثالیں موجود نہ ہوں۔ امریکہ میں یورپ کے جرائم پیشہ افراد کو بسایا گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ آنے والے دور میں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے باوجود امریکی مہم جووں کی فطرت نہ بدل سکی اور آج دنیا بھر میں اس مملکت کا تاثر محض ایک سامراجی ذہنیت کی قاتل ریاست کا ہے۔ امریکہ کی جانب سے امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر دنیا بھر میں اس قدر خون بہایا گیا۔۔کہ اب ہر کوئی ان الفاظ سے ڈرتا پایا جاتا ہے۔ امریکہ کی جنگی مہموںاور قتل و غارت کے لیے بدترین طریقے استعمال کرنے کے باعث دنیا بھر میں نفرت پائی جاتی ہے اور خود امریکی ذرائع ابلاغ اپنی رپورٹوں سے اس کی تصدیق کر چکے ہیں۔امریکہ آج کے دور کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہے ۔ اس کی فوج چودہ لاکھ پچاس ہزار سے زائد جوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ریزرو فوجیوں کی تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ امریکہ کا دفاعی بجٹ سالانہ آٹھ سو ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ خفیہ اداروں کو بھی اربوں ڈالر دئیے جاتے ہیں ۔ سی آئی اے کا بجٹ چوالیس لاکھ جبکہ ایف بی آئی سالانہ پندرہ ارب ڈالر خرچ کرتی ہے۔ اس وقت انتالیس ممالک میں امریکہ کے آٹھ سو بیس مستقل فوجی اڈے موجود ہیں جبکہ دنیا کے ایک سو پچاس ممالک میں امریکی فوجی کسی نہ کسی طرح موجود ہیں۔ امریکی بحری بیڑے دنیا بھر میں اس کے مفادات کے تحفظ کے ضامن ہیں جبکہ میزائل ڈیفنس سسٹم اور خلایی ٹیکنالوجی کے زریعے امریکی تسلط کے تحفظ کا کام لیا جاتا ہے۔ امریکہ کے خونین کارناموں کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ سترہ سو پجھتر سے سترہ سوتیراسی تک امریکیوں نے جنگ آزادی لڑی۔ برطانیہ سے آزاد ہونے کے بعد امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کو مضبوط بنایا اور آس پاس موجود کئی جزیروں اور چھوٹے چھوٹے ممالک پر قبضے شروع کر دئیے۔ اٹھارہ سو اکسٹھ میں امریکہ کو سول وار کا سامنا کرنا پڑا جوکہ چار سال تک جاری رہی ۔ سول وار پر قابو پانے کے بعد امریکہ کے سامراجی عزائم کا آغاز ہوا۔ امریکہ نے پہلی سامراجی جنگ سپین کی کالونیاں حاصل کرنے کے لیے لڑی ۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ امریکہ نے براعظم سے باہر قدم رکھا اور فلپائن ،گوام سمیت کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انیس سو تیرہ تک فلپائن میں ہزاروںافراد کو امریکی قبضہ مضبوط کرنے کی غرض سے قتل کر دیا گیا۔۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرا کر امریکہ نے نہ صرف سامراجی عزایم کا اظہار کیا بلکہ ایک وحشی ریاست کے طور پر اپنی شناخت کرا لی۔۔۔

چند سالوں کے بعد انیس سو پچاس میں امریکہ کورین جزیرے پر مفادات کی جنگ لڑنے کے لیے موجود تھا۔ اب کی بار کیمونسٹ شمالی کوریا کو سبق سکھانے کا اعلان کیا گیا اور اپنے ورلڈ آرڈر کی مضبوطی اور اس کے اظہار کی خاطر لاکھوں کورین باشندوں کا خون بہا دیا گیا۔
۔انیس سو اٹھاون میں لبنانی صدر کامیلی چیمون نے فلسطینی مہاجرین کی کاررواییوں کے خلاف امریکہ کی مدد مانگی ۔ اس طرح امریکہ کو مشرق وسطی میں فوجی مداخلت کا موقعہ ملا۔ انیس سو ستاون میں شروع ہونیوالی ویت نام جنگ میں تین لاکھ سے زائد مقامی باشندوں کو خون کی قربانی دینا پڑی۔تاہم امریکہ اور اتحادیوں کی بھرپور کوشش کے باوجود شمالی ویت نام میں اٹھنے والی کمیونسٹ لہر کو دبایا نہ جا سکا اور امریکہ کو ایک تاریخی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ انیس سو اسی میں روس افغانستان میں داخل ہوا۔ امریکہ نے اس موقعے پر اسلامی ممالک میں بڑھتی ہوئی تشویش سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ افغانی عوام پاکستانی بھائیوں کی مدد سے روسی ظلم کے خلاف ڈٹ گئے جبکہ امریکہ اس صورتحال کو اپنے سامراجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ نے روس پر افغانستان سے قبضہ ختم کرنے کے لیے دباو ڈالنے کی بجائے اس جنگ کو بڑھکانے کا فیصلہ کیا۔ افغانیوں اور مسلم ممالک سے آنیوالے مجاہدین کی اسلحہ کی صورت میں مدد کی جانے لگی۔ یہ وہ موقع تھا کہ جب امریکی پالیسی ساز اپنے خطرناک منصوبوں کی خاطر اس خطے کے کروڑوں انسانوں کی جانوں سے کھیل رہے تھے ۔ روس کی شکست پر افغانوں کا مشکور ہونے کی بجائے امریکہ نے جنیوا میں ایک ایسا معاہدہ کرایا کہ جس کی وجہ سے مختلف مسلح گروپ آپس میںلڑ پڑے ۔ اس طر ح امریکی مفادات کے لیے بڑھکائی گئی اس جنگ میں ہزاروں افغان ہلاک ہوئے۔۔۔

اب امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن چکا تھا اور طاقت کے نشے میں دھت یہ ملک پانامہ کے صدر مینول نوریجا پر منشیات کی تجارت میں ملوث ہونے کا الزام اور انتخابات سے پیدا ہونے والے اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس علاقے میں بحری آمدورفت پر اجارہ داری قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس سے اگلے سال امریکی فوجیں مشرق وسطی پہنچی اور کویت پر قبضے کی آڑ میں اپنے پرانے اتحادی صدام حسین کے خلاف نبردآزما ہوئیں۔ گلف وار کا میڈیا کے زریعے خوب چرچا ہوا اور ایسے لگتا تھا کہ امریکی چند دنوں کی بھرپور کارروائی کرکے صدام حسین کی طاقت کا صفایا کر دیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔صرف تین دن کی لڑائی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ بعض حلقوں کے خیال میں اس جنگ کا مقصد امریکہ کو مشرق وسطی میں فوجی اڈے فراہم کرنا تھا اور اس سازش میں امریکی صدر بش سینئر کے ساتھ ساتھ صدام حسین بھی شامل تھا۔ اگر صدام حسین کویت پر حملہ نہ کرتا تو امریکیوں کے پاس مشرق وسطی میں آنے کا بہانہ نہ ہوتا اس طرح صدام حسین نے دوستی نبھائی اور امریکہ کو کو یت میں مستقل ٹھکانہ مل گیا۔ گلف وار کے نتیجے میں صدام حسین کویت سے پسپا ہو کر عراقی سرحدوں میں محدود ہو گیا جبکہ امریکہ کویت اور سعودی عرب کے خرچے پر یہاں مستقل قیام کی سہولیات حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ انیس سو بانوے میں افریقہ کو امریکی بربریت کا سامنا کرنا پڑا اور صومالیہ کی سرزمین پر اس کے ظلم کی داستان لکھی جانے لگی۔ اسلام پسند فرح عدید کے ساتھ کشیدگی کی سزا صومالی عوام کی زندگی سے کھیل کر دی گئی۔امریکی فوج کو تو عوامی دباو پر واپس بلا لیا گیا تاہم صومالیہ کے اسلام پسند عوام کی آزمائش ختم نہ ہوئی اور امریکی ایما پر ایتھوپیا کے ذریعے ان کا قتل عام جاری ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں امریکہ کی خونین کارروائیوں کا کچھ تذکرہ پھر کسی موقع پر۔۔۔


بشکریہ
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 392
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (24-09-10), یاسر عمران مرزا (26-09-10), نورالدین (24-09-10), مرزا عامر (24-09-10), احمد بلال (25-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 01:13 AM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو پھر میرا یہ کہنا غلط نہیں ہے نا کہ امریکہ ہی اصل میں دجال ہے ۔
جو لوگ بروز جمعہ سورۃ کھف کی تلاوت کا معمول بنا لیں وہ انشاءاللہ فتنہ دجال سے محفوظ رہیں گے۔ یہ میں نے حدیث پڑھی تھی لیکن یہ کس سے روایت ہے یہ مجھے نہیں معلوم ۔
سورۃ کھف کی تلاوت کی اگر معاشرے میں آگاہی کی جائے تو یقینا بہت فوائد حاصل ہوں گے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا

Last edited by مرزا عامر; 24-09-10 at 01:20 AM.
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (24-09-10), فیصل ناصر (24-09-10), احمد بلال (25-09-10)
پرانا 24-09-10, 01:35 AM   #3
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,748
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ /
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 10:00 AM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,868
شکریہ: 23,988
4,979 مراسلہ میں 14,687 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دجال کانا ہو گا..................جنت اور جہنم(جعلی( والا ہو گا.................انسان ہو گا.............

آپ تشبیہ دے سکتے ہیں................لیکن اصل دجال ابھی نہیں ایا
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (26-09-10), مرزا عامر (24-09-10), احمد بلال (25-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 12:37 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ALI-OAD مراسلہ دیکھیں
امریکہ میں یورپ کے جرائم پیشہ افراد کو بسایا گیا

"7"]بشکریہ
[/URL]

میں نے یہی آسٹریلیا کے بارے میں سُنا ہے ۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (24-09-10), احمد بلال (25-09-10)
پرانا 24-09-10, 01:32 PM   #6
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
دجال کانا ہو گا..................جنت اور جہنم(جعلی( والا ہو گا.................انسان ہو گا.............

آپ تشبیہ دے سکتے ہیں................لیکن اصل دجال ابھی نہیں ایا
امریکہ کی بھی صرف ایک ہی آنکھ ہے ۔ اسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا میں نے ایک آنکھ کی تفصیل کئی علماء سے سنی ۔ ان کے مطابق ضروری نہیں کہ ایک آنکھ کا بیان لغوی معنوں میں ہو۔
یہ ویڈیو دجال کے بارے میں ہے ۔ اس سے زیادہ تفصیل میں نے دجال کے بارے میں کہیں بھی نہیں دیکھی ۔ دجال کے تین دور جو برطانیہ سے شروع ہوئے اور اسرائیل پر ختم ہونگے ، ہے تو ویڈیو لمبی لیکن دیکھنے میں مزہ آئے گا ۔ آسان انگریزی زبان میں ۔
Abaut dajjal
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (25-09-10), حیدر (24-09-10), عبداللہ آدم (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 02:08 PM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,868
شکریہ: 23,988
4,979 مراسلہ میں 14,687 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سر جی واضح احآدیث ہیں کہ صحابہ ایک بندے ابن قطن کے بارے میں شک کرتے تھے کہ یہ دجال ہے،لیکن وہ صرف کاہن تھا،جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس سے ملے تو انہوں نے کلیر فرمایا کہ نہیں یہ نہیں ہے اور اسی طرح تمیم داری رضی اللہ عنہ کہ طویل روایت ہے کہ وہ اسلام لانے سے پہلے کس طرح ایک جزیرے پر اتفاقا دجال سے ملے جو زنجیروں سے بندھا ہوا تھا وغیرہ وغیرہ...............
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
مون لائیٹ آفریدی (03-10-10), مرزا عامر (24-09-10), احمد بلال (25-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 02:17 PM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ ممکن ہے کیوں نہیں ہو سکتا ہے کہ کانا اسرائیل کا وزیراعظم یا پھر امریکہ کا صدر ہو۔ آپ نے پوری ویڈیو دیکھی نہیں شاید
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (25-09-10), حیدر (24-09-10)
پرانا 24-09-10, 02:41 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کافی علما بھی اسی نظریہ کے قائل محسوس ہوتے ہیں کہ دجال کسی سسٹم کا نام ہےبہ نسبت کسی شخص کے۔ واللہ عالم
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 24-09-10, 03:05 PM   #10
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
کافی علما بھی اسی نظریہ کے قائل محسوس ہوتے ہیں کہ دجال کسی سسٹم کا نام ہےبہ نسبت کسی شخص کے۔ واللہ عالم
__________________
جس طرح کے سسٹم کی بات کی گئی تھی وہ آج سب موجود ہے ۔ کسی شے کی کمی نظر نہیں آتی ۔
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
احمد بلال (25-09-10)
پرانا 26-09-10, 12:11 AM   #11
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,868
شکریہ: 23,988
4,979 مراسلہ میں 14,687 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدیث ملاحغظہ فرما لیں تاکہ سب کی کوئی غلط فہمی ہے تو دور ہو جائے::

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے تمہیں رغبت دلانے یا ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا، بلکہ اس لئے جمع کیا کہ تمیم داری ایک نصرانی تھا، وہ آیا اور اس نے بیعت کی اور مسلمان ہوا اور مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو اس حدیث کے موافق ہے جو میں تم سے دجال کے بارے میں بیان کیا کرتا تھا۔ اس نے بیان کیا کہ وہ یعنی تمیم سمندر کے جہاز میں تیس آدمیوں کے ساتھ سوار ہوا جو لخم اور جذام کی قوم میں سے تھے، پس ان سے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں کھیلتی رہیں۔ پھر وہ لوگ سمندر میں ڈوبتے سورج کی طرف ایک جزیرے کے کنارے جا لگے۔ پس وہ جہاز سے پلوار ( یعنی چھوٹی کشتی ) میں بیٹھے اور جزیرے میں داخل ہو گئے وہاں ان کو ایک جانور ملا جو کہ بھاری دم، بہت بالوں والا کہ اس کا اگلا پچھلا حصہ بالوں کے ہجوم سے معلوم نہ ہوتا تھا۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ اے کمبخت تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میں جاسوس ہوں۔

لوگوں نے کہا کہ جاسوس کیا؟ اس نے کہا کہ اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے، کہ وہ تمہاری خبر کا بہت مشتاق ہے۔ تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب اس نے مرد کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں شیطان نہ ہو۔ تمیم نے کہا کہ پھر ہم دوڑتے ہوئے ( یعنی جلدی ) دیر میں داخل ہوئے۔ دیکھا تو وہاں ایک بڑے قد کا آدمی ہے کہ ہم نے اتنا بڑا آدمی اور ویسا سخت جکڑا ہوا کبھی نہیں دیکھا۔ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور دونوں زانوں سے ٹخنوں تک لوہے سے جکڑا ہوا تھا۔ ہم نے کہا کہ اے کمبخت ! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا تم میری خبر پر قابو پا گئے ہو ( یعنی میرا حال تو تم کو اب معلوم ہو جائے گا )، تم اپنا حال بتاؤ کہ تم کون ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم عرب لوگ ہیں، سمندر میں جہاز میں سوار ہوئے تھے، لیکن جب ہم سوار ہوئے تو سمندر کو جوش میں پایا پھر ایک مہینے کی مدت تک لہر ہم سے کھیلتی رہی، پھر ہم اس جزیرے میں آ لگے تو چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے، پس ہمیں ایک بھاری دم کا اور بہت بالوں والا جانور ملا، ہم اس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے اس کا اگلا پچھلا حصہ نہ پہچانتے تھے۔

ہم نے اس سے کہا کہ اے کمبخت ! تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میں جاسوس ہوں۔ ہم نے کہا کہ جاسوس کیا؟ اس نے کہا کہ اس مرد کے پاس چلو جو دیر میں ہے اور وہ تمہاری خبر کا بہت مشتاق ہے۔ پس ہم تیری طرف دوڑتے ہوئے آئے اور ہم اس سے ڈرے کہ کہیں بھوت پریت نہ ہو۔
پھر اس مرد نے کہا کہ مجھے بیسان کے نخلستان کی خبر دو۔
ہم نے کہا کہ تو اس کا کون سا حال پوچھتا ہے؟
اس نے کہا کہ میں اس کے نخلستان کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ پھلتا ہے؟
ہم نے اس سے کہا کہ ہاں پھلتا ہے۔ اس نے کہا کہ خبردار رہو عنقریب وہ نہ پھلے گا۔ اس نے کہا کہ مجھے طبرستان کے دریا کے بارے میں بتلاؤ۔
ہم نے کہا کہ تو اس دریا کا کون سا حال پوچھتا ہے؟
وہ بولا کہ اس میں پانی ہے؟
لوگوں نے کہا کہ اس میں بہت پانی ہے۔
اس نے کہا کہ البتہ اس کا پانی عنقریب ختم ہو جائے گا۔
پھر اس نے کہا کہ مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں خبر دو۔
لوگوں نے کہا کہ اس کا کیا حال پوچھتا ہے؟
اس نے کہا کہ اس چشمہ میں پانی ہے اور وہاں کے لوگ اس پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟
ہم نے اس سے کہا کہ ہاں ! اس میں بہت پانی ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں۔
اس نے کہا کہ مجھے امییّن کے پیغمبر کے بارے میں خبر دو کہ وہ کیا رہے؟
لوگوں نے کہا کہ وہ مکہ سے نکلے ہیں اور مدینہ میں گئے ہیں۔
اس نے کہا کہ کیا عرب کے لوگ ان سے لڑے؟
ہم نے کہا کہ ہاں۔
اس نے کہا کہ انہوں نے عربوں کے ساتھ کیا کیا؟
ہم نے کہا کہ وہ اپنے گرد و پیش کے عربوں پر غالب ہوئے اور انہوں نے ان کی اطاعت کی۔
اس نے کہا کہ یہ بات ہو چکی؟
ہم نے کہا کہ ہاں۔
اس نے کہا کہ خبردار رہو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہے کہ پیغمبر کے تابعدار ہوں۔ اور البتہ میں تم سے اپنا حال کہتا ہوں کہ میں مسیح ( دجال ) ہوں۔ اور البتہ وہ زمانہ قریب ہے کہ جب مجھے نکلنے کی اجازت ہو گی۔ پس میں نکلوں گا اور سیر کروں گا اور کسی بستی کو نہ چھوڑوں گا جہاں چالیس رات کے اندر نہ جاؤں، سوائے مکہ اور طیبہ کے، کہ وہاں جانا مجھ پر حرام ہے یعنی منع ہے۔ جب میں ان دونوں بستیوں میں سے کسی کے اندر جانا چاہوں گا تو میرے آگے ایک فرشتہ بڑھ آئے گا اور اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہو گی، وہ مجھے وہاں جانے سے روک دے گا اور البتہ اس کے ہر ایک ناکہ پر فرشتے ہوں گے جو اس کی چوکیداری کریں گے۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی منبر پر مار کر فرمایا کہ طیبہ یہی ہے، طیبہ یہی ہے، طیبہ یہی ہے۔ یعنی طیبہ سے مراد مدینہ منورہ ہے۔ خبردار رہو ! بھلا میں تم کو اس حال کی خبر دے نہیں چکا ہوں؟
تو اصحاب نے کہا کہ ہاں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمیم رضی اللہ عنہ کی بات اچھی لگی جو اس چیز کے موافق ہوئی جو میں نے تم لوگوں سے دجال اور مدینہ اور مکہ کے حال سے فرما دیا تھا۔ خبردار ہو کہ وہ شام یا یمن کے سمندر میں ہے؟ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے ( مشرق کی طرف بحر ہند ہے شاید دجال بحر ہند کے کسی جزیرہ میں ہو ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہے۔

صحیح مسلم::کتاب الفتن::2054
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (26-09-10)
پرانا 26-09-10, 01:06 PM   #12
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمیم رضی اللہ عنہ کی بات اچھی لگی جو اس چیز کے موافق ہوئی جو میں نے تم لوگوں سے دجال اور مدینہ اور مکہ کے حال سے فرما دیا تھا۔ خبردار ہو کہ وہ شام یا یمن کے سمندر میں ہے؟ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے ( مشرق کی طرف بحر ہند ہے شاید دجال بحر ہند کے کسی جزیرہ میں ہو ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہے۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا تو ہندوستان صرف ایک قیاس آرائی ہو سکتی ہے ۔ دمام بھی تو مشرق میں ہے جہاں امریکی افواج نے اپنا بیس بنا لیا ہے ۔ اور اسرائیل سعودیہ کے مغرب میں آتا ہے ۔
ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے کہ دجال کے بارے میں جو زبان استعمال ہوئی ہے وہ زیادہ تر استعارہ پر مبنی ہے ۔ مثلا ً اس کا گدھا جو آگ برسائے گا یعنی جیٹ پلین وغیرہ ۔ ابھی تک ہمیں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس کا تعلق الف لیلیٰ قسم کی داستانوں سے ہو ۔ اس کا ہتھیار سائنسی ٹیکنالوجی ہو گی ۔ اس کی ایک چھلانگ مشرق سے شروع ہوتی ہے تو مغرب میں ختم ہوتی ہے ۔ جو مشرق سے( ممکن ہے کہ یہ علاقہ دمام ہی ہو جہاں امریکی بیس ہے) اپنے جیٹ پلینز میں اپنے ساتھیوں کے ذریعے حملہ کرنے کی کوشش کرے گا لیکن بہک کر شمال کی طرف نکل جائے گا ۔
گذارش کروں گا ایک مرتبہ ویڈیو ضرور دیکھیں ۔

Last edited by مرزا عامر; 26-09-10 at 01:15 PM.
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, com, php, کوریا, کوشش, پاکستانی, پسند, قدم, نفرت, آج, ایٹم بم, الزام, امریکہ, اسلامی, خون, خلاف, زندگی, سال, شناخت, شمالی کوریا, صومالیہ, صورتحال, صدام, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یزید اور حدیث قسطنطنیہ کی حقیقت طارق راحیل تاریخ و عبر 12 10-02-11 09:41 PM
یزید بن عبدالملک طارق راحیل سیاست 0 03-01-09 07:09 AM
ولید ثانی بن یزید طارق راحیل سیاست 0 03-01-09 07:06 AM
یزید ثالث بن ولید طارق راحیل سیاست 0 03-01-09 07:05 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger