|
امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ پاکستان کو بدنا م کرنے کی اک اور سازش

27-08-11, 02:09 PM
امریکی محکمہ خارجہ نے ”دہشت گردی“ کے خلاف اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی۔ یہ رپورٹ دہشت گردی کے خلاف کم اور پاکستان کے خلاف زیادہ ثابت ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عدالتی نظام قابل بھروسہ نہیں کیونکہ امریکی محکمہ خارجہ کے خیال میں یہاں سے 75 فیصد ملزم رہا ہو جاتے ہیں۔ کہا گیا ہے پاکستان میں ”دہشت گردوں“ کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔ جنہیں کئی آپریشنوں کے بعد بھی ختم نہیں کیا جا سکا۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور فاٹا دہشت گرد، تنظیموں کا گڑھ ہے۔ متعدد کالعدم تنظیمیں کشمیر میں متحرک ہیں۔ کہا گیا ہے کہ کئی ایک ملزمان گرفتار کئے گئے لیکن سزائیں چند ایک کو ملیں باقی رہا ہو گئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری پاکستانی طالبان اور لشکر جھنگوی نے قبول کی۔ ایسے واقعات سے امریکی بھی متاثر ہوئے اس کے ذمے دار بھی رہا ہو گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ القاعدہ اور لشکر طیبہ پاکستان میں کافی مضبوط ہیں۔
امریکہ کو حق ہے کہ وہ جو چاہے رپورٹس شائع کرتا رہے مگر اسے یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے اگرچہ امریکہ ساری دنیا اور ہر معاملے میں مداخلت کو الٹا حق سمجھتا ہے۔ پاکستانی عدالتی نظام پر حرف گیری دراصل امریکہ کی اس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت وہ پاکستان کو بدنام کرنے اور تنہا کر کے مارنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیتا۔ پرویز مشرف نے 2001ءمیں نام نہاد دہشت گردی کے خلاف امریکی اتحاد میں شمولیت اختیار کر کے کوئلوں کی ایک ایسی دلالی کی کہ جس میں سوائے کالک اور سیاہی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ پرویز مشرف کے اس بزدلانہ فیصلے جس کی وجہ سے تیس ہزار سول آبادی اور اعلیٰ ترین عہدیداران کے ساتھ ساتھ پانچ ہزار اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ناقابل اندازہ مالی نقصان کے باوجود بھی پاکستان امریکہ کے ہاں مکمل طور پر ناقابل اعتبار رہا ہے۔ کبھی اس کے ایٹم کے متعلق شوشے چھوڑے گئے، کبھی اس کی فوج کو مطعون کیا گیا تو کبھی دفاعی ایجنسی آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ بلکہ امریکہ نے تو پاکستان اور پاکستانی معاشرے اور سماج کے کسی حصے کو نہیں بخشا۔ اب تازہ ترین ملبہ عدالتوں پر گرانے کا سودا امریکی خارجہ کے ذہن میں سمایا ہے۔ حیرت ہے پاکستانی عدالتوں کے خلاف اس امریکہ کے دماغ میں سووا سمایا ہے خود جس کی اپنی عدالتوں کا حال یہ ہے کہ ایک اس کے اپنے بقول فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کی ہی نہتی اور بے بس مگر پڑھی لکھی خاتون ڈاکٹر عافیہ کے خلاف کم و بیش ایک صدی پر محیط سزا سنا دی گئی جس پر الزام محض ایک فوجی کے خلاف گن اٹھانے کا ہے۔ یعنی چلانے کا نہیں محض اپنے دفاع میں مقابل فوجی پر تاننے کا۔ پھر ایسے وقت میں کہ جب اس کا مقدمہ امریکی عدالت میں زیرسماعت تھا اسے ہر طرح کی ذہنی اذیت پہنچائی گئی۔ نعوذباللہ قرآن مقدس پر سے گزرنے پر مجبور کیا گیا اور اب رمضان میں کیفیت یہ ہے کہ اسے سحر و افطاری میسر نہیں، چاہئے تھا کہ اس بہیمانہ اور قطعی ظالمانہ رویے کے خلاف بات کی جاتی مگر ظاہر ہے وہ امریکی عدالت ہے اسے ہر قتل معاف اور ہر جرم کی چھوٹ ہے۔ امریکہ کو پاکستانی عدالتوں پر کستے شرم آنی چاہئے کہ اگر یہ عدالتیں واقعتاً دہشت گردوں کو دانستہ چھوڑ دیتی ہیں تو پھر انہیں کیا تکلیف تھی کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے دہشت گرد کو عدالت سے چھڑانے کے بجائے جناب امریکی صدر پوری دنیا کو مخاطب کر کے جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے۔ اگر عدالتیں دہشت گردوں کو چھوڑتی ہیں تو آنجناب کو تب پریشانی کیا تھی؟
دراصل امریکہ کو تکلیف پاکستانی عدالتوں کے آزاد رویے سے ہے۔ اس وقت عدالتیں بہت حد تک آزادانہ کام کر رہی ہیں۔ وکلاءکی ایک بے پناہ تحریک کے بعد عدالتوں نے جو ایک نیا منظر نامہ پیش کیا ہے اس سے امریکہ کو شدید تکلیف لاحق ہو گئی ہے۔ امریکہ افغانستان میں ایک عبرتناک شکست سے دوچار ہونے کے بعد پاکستان پر غصہ نکالنا چاہتا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ پاکستان کے کئی علاقوں میں بری طرح سر پٹخ رہا ہے۔ ایک طرف کوئٹہ میں خفیہ اڈے اور سازشیں جاری ہیں دوسری طرف جنوبی پنجاب میں پیر پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تیسری طرف پشاور میں سفیروں کے روپ میں آئے دن اس کے دہشت گرد گماشتے گھومتے پائے جاتے ہیں۔
اب جبکہ پاکستان نے امریکیوں کو قدرے محدود کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ سفیروں کے روپ میں سی آئی اے کے ایجنٹوں کو بے لگام اور بے تکان آوارہ گردی سے روکا ہے۔ ایئر پورٹس پر جہاز کھڑے کرنے سے روکا ہے تو امریکہ کو یہاں سانس لینا دشوار ہونے لگا ہے۔ پھر امریکہ ہر محب وطن پاکستانی کو اپنا حریف، دشمن اور دہشت گرد سمجھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ جسے وہ دہشت گرد قرار دے اسے امریکہ کے حوالے کر دیا جائے یا پھر عدالتوں سے انہیں ملزم سے فی الفور مجرم قرار دے دیا جائے۔ امریکہ کو سمجھنا چاہئے کہ کچھ بھی سہی یہاں عدالتیں بہرحال اپنا کام کر رہی ہیں۔ عدالت میں ثبوت محض امریکی ”فرمان“ نہیں۔ خارجی شواہد ہوتے ہیں اور عدالت انہی کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ لہٰذا امریکہ کو عدالتی اصلاح کا اگر واقعتاً کوئی بخار چڑھا ہے تو اس کے لئے بہترین میدان خود امریکی عدالتیں ہیں۔ وہ عافیہ کو رہا کرے اور اگر اس کا مقصد صرف پاکستان دشمنی ہے تو وہ یاد رکھے کہ اس معاملے میں وہ پہلے بھی منہ کی کھاتا رہا ہے، آئندہ بھی خاک چاٹے گا، حکومت پاکستان کو اس رپورٹ نما سازش کا بھرپور جواب دینا چاہئے۔ ناصرف حکومت پاکستان بلکہ بین الاقوامی عدالتی کمیونٹی کو بھی نوٹس لینا چاہئے اور طے کرنا چاہئے کہ محض اپنے سیاسی مقاصد کے لئے عدالتوں پر حملے بند کئے جائیں۔
بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
___
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|