واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


امیدوں کے چراغ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-03-09, 11:39 AM   #1
امیدوں کے چراغ
ایس اے نقوی ایس اے نقوی آف لائن ہے 29-03-09, 11:39 AM

جب فضائیں گھٹن ذدہ ہوجائیں
جب دہشت بھری ہوائیں ہر طرف رقص شروع کر دیں
جب مایوسی پھیلاتی کہانیاں ہر طرف گنگنانا شروع ہوجائیں
جب فسانے حقیقت اور حقیقت جھوٹ میں بدل جائے
جب غریب کے منہ سے نوالے کا حق چھن لیا جائے
جب مفلسوں کے سروں کو سیڑھیاں بنا کر ان سے اقتدار کے محل چڑھنے شروع ہو جائیں
جب غریبوں اور ناداروں کا خون ٹیکسوں کے سیلاب میں بہا دیا جائے
جب مسکراتے ہوئے ہونٹوں سے انکی رعنائی چھین کر انہیں ناامیدی کی لکیروں کے‌حوالے کر دیا جائے
جب ظالم کے ہاتھ ظلم کے عادی ہوجائیں اور جب ہر طرف مظلوموں کی چیخ و پکار ہو اور انکی بدعائیں عرش کے سینے کو چیرکے رکھ دیں
تب!
جی ہاں تب فطرت اپنے ازلی قانون کی کتاب کھول دیتی ہے
ازلی قانون!وہ قانون ہے جو ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے اور قیامت تک تابناک ہی رہے گا
انصاف!خدائی کا انصاف
جی ہاں وہی خدائی انصاف کا قانون جو فرعون کو اپنی پوری کبرائی سمیت دریائے نیل میں بہا لے گیا اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ذلیل کر گیا
وہی انصاف جو روم کے ہرقلوں کو اپنے ” کلوزیمر“ سمیت برباد کر گیا
جو یزید کو اپنی پوری جاہ حشمت سمیت رسوا کر گیا اور‌حسین علیہ اسلام کو تابناک سورج کی مانند تاریخ کے آسمان پر بلند کر گیا بہت ہی بلند
ہاں وہی انصاف جو چنگیز خان کو قیامت تک کےلئے خونخواردرندے کا خطاب عطا کر گیا
جو شاہ ایران کو مٹا گیا
اور
جو ذارا روس کو اپنی طاقت سمیت کھا گیا
پر یہ کتاب کھلنے سے پہلے ایک اور اصول کی پیروی کرتا ہے اس لئے اس کے کھلنے سے زرا دیر سی لگتی ہے
ایک اور اصول!
وہ یہ کہ کائنات کا پرودگار اور ازلی قانون کو اسکتاب کا خالق اپنے عاجزبندوں کے‌صبر کا امتحان لیتا ہے
انکی برداشت دیکھتا ہےانکا حوصلہ آزمانا چاہتا ہے
جی ہاں!
وہ یہ دیکھنا چاہتاہے کہ اس کے بندوں کا بندگی کا جنون کتنا ہے؟
اپنے پروردگار پر انکا یمان کتنا مضبوط ہے انکے دلوں کی روشن شمعیں کتنی دیر تک جل سکتی ہیں؟
وہ ظلم کے آگے کتنی دیر تک ڈٹےرہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
وہ سچائی کی راہ میں کتنی دور تک نکل سکتے ہیں؟
دنیا کے اس بازار میں کہیں وہ اپنے عقیدے کا سودہ تو نہیں کر بیٹھے؟
کہیں خوف!
یہ ختم ہونے والا خوف تو نہیں خرید بیٹھے؟
خدا صرف یہی دیکھتا ہے صرف یہی
اور پھر جب
وہ اپنے بندوں کو استقامت کی راہ پر دیکھتا ہے
جب وہ ان کو حق پر چٹان کی طرح ڈٹے پاتا ہے
تب!
جی ہاں!
تب وہ اپنے اس ازلی قانون کی کتاب کے پھریرے لہراتا ہے اور ظالموں کے چیھننے کے سارے ٹھکانے چھین لیتا ہے
انکے سروں سے سارے کے سارے آسرے اڑا لیتا ہے
انکی کبریائی کا بھسم کر دیتا ہے
پھر ظلم کا حساب ہوتا ہت ناانصافی تولی جاتی ہے
پھر زہر آٌود قہقوں کا استفسار ہوتا ہے
مظلوم کی ہر چیخ کا احساس ہوتا ہےہر چیخ کا!
کیونکہ یہ اس سچے پروردگار کا انصاف ہوتا ہے جس کی بادشاہت ہر ذرے پر قائم ہے اور جسکی طاقت کے ڈنکے ساری کائنات میں بجتے ہیں
سارے کے سارے کائنات میں‌!
ہر خطے اور ہر دور میں ایسا ہی ہوتا ہےا ور ہوتا رہے گا
پروردگارکا یہ قانون ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا
کوئی ظالم اسے روک نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی باطل اسے بدل سکتا ہے یہ انصاف اس مملکت خداداد میں بھی یہی ہو گا یہاں ظلم کا حساب ہو گا
مظلوم کے آنسو یہاں بھی رنگ لائیں گے
اس قانون کے تازیانے یہاں بھی برسیں گے جابروں پر وحشیوں پر
یہاں بھی آسمان نظارہ کرے گا ٹوٹتے بکھرتے جاہ حشمت کا
تباہ ہوتی ان جاگیروں کا جہاں ظلم کی کاشت ہوتی ہے
سماجی انصاف کی ہوائیں یہاں بھی چلیں گی
یہاں بھی غریبوں کو دو وقت کی روٹی ملے گی اور بےگھروں کو آشیانہ
شاعر کے آنسو یہاں بھی مقدس ترین کہلائیں گے اور وہاں بھی نگری نگری قریہ قریہ انقلابیوں کی تقریریں گوجننے لگے گی
یہاں بھی حق پرستوں کی ٹولیاں ہر طرف سے اٹھیں گی اور اٹھتی ہی چلی جائیں گی
لیڈر یہں بھی پیدا ہوں گے نہ جھکنے ولاے ،نہ بکنے والے لیڈر،سیاسی تاجر نہیں مخلص اور بہادر لیڈر
عظمتوں کے مینار صلاحیتوں اور قابلیتوں پر تقسیم ہوں‌گے نہ کہ خاندانی جاہ‌حشمت پر
منافقت کے بازاروں کو ایک دن کوڑھ ضرور لگیں گے
آسمان سے رحمتوں کی رم جھم ضرور ہو گی
بس ہم اس امتحان میں سرخرو ہوں گے
ناامیدئ کا کمبل ہم اپنے اوپر نہ اوڑھنے دیں
ظلم ہمارےولولوں کو ختم نہ کرے
خون کے چھینٹے ہمیں جھکا نہ دیں
باطل ہمیں جھکا نہ دے اور ہم حق کی صدائیں لگاتے ہی چلے جائیں
شاعر کی اذانیں یہاں ختم نہ ہوجائیں اور انقلابیوں کت نعروں کی گونج بس تھمنے نہ پائے
پھر دیکھنا یہ آسمان ضرور نظارہ کرے گا سماجی انصاف کا
اور
مظلوم کی چیخوں کے حساب کا نظارہ
کیونکہ یہی اس کتاب کا خلاصہ ہے جی ہاں خدائی قانون کی کتاب کا خلاصہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ اگر کسی بھی دوست کو میرے کیس الفاط سے تکلیف ہوئی ہو کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو برائے کرم مجھ کو معاف فرمانا اور اپنی دعاوں میں یاد رکھنا
تحریر کو ایڈیٹ کر دیا گیا ہے برائے کرم غلطی کوتاہی کی درستگی کےلئے خاکسار کو آگاہ کریں شکریہ

Last edited by ایس اے نقوی; 15-06-09 at 08:28 PM..

 
ایس اے نقوی's Avatar
ایس اے نقوی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 741
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (29-03-09), محمدخلیل (29-03-09), ام غزل (29-03-09), بزم خیال (04-06-11), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 29-03-09, 03:39 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عمدہ موضوع ہے۔ املاء کی غلطیاں درست فرمائیں۔
اقتباس:
کیونکہ یہی اس کتاب کا خلاصہ ہے جہ ہاں خلائی قانون کی کتاب کا خلاصہ
یہ خدائی ہونا چاہیے؟ اس کے علاوہ بھی کافی املاء کی غلطیاں ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (29-03-09), بزم خیال (04-06-11), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 29-03-09, 06:40 PM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ منتظمین‌صاحبان آپکا تاہم اقرار کرتا ہوں کہ لکھنے میں غلطیاں ضرور ہوئی ہیں پہلے کبھی لکھنے میں غلطی نہیں ہوئی آج جلدی تھی اس لئے جلدی میں لکھتا گیا جس کی معافی چاہتا ہوں اور آئندہ سے غلطی گستاخی نہیں ہو گی تبصرےکا شکریہ اور تعاون کی درخواست ہے سب سے طالب دعا سید انجم شاہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
وسیم (30-03-09), ام غزل (29-03-09), بزم خیال (04-06-11), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 29-03-09, 07:07 PM   #4
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ صاحب اچھی کاوش ھے مگر خدائی قانون کا شارح انسان نہیں ھو سکتا کس وقت رب کیا کرے گا انسان اس کو طے نہیں کر سکتا ۔ ظلم کیا ھے ؟ اگر ایک صاحب حثیت آدمی کسی غریب کی حق تلفی کرتا ھے تو کیا وہ سب سے بڑا ظلم اپنی ذات کے ساتھ نہیں کرتا کہ خود کو سزا کا اہل بنا دیتا ھے اسی لئے حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ھیں کہ کسی چیز کا اپنے مقام سے ہٹ جانا سب سے بڑا ظلم ھے انسان اپنے مقام سے ہٹ چکا ھے وہ خدا شناس و خدا پرست نہیں رھا تو اس دنیا میں سب سے بڑا مظلوم انسان خود ھے وہ چاھے مغرب کا ھو یا مشرق کا ہندو ھو یا مسلمان بقول اقبال انسان کو واپس اس کے مقام پر لانا سب سے بڑا عدل ھے اور یہ عدل مسلمانوں نے کرنا ھے، جان دے کر مال دے کر ہر حال میں انسان کو اس کے مقام بندگی پر واپس لانا ھے۔

متاع بے بہا ھے سوز و ساز آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لو شان خداوندی


سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (29-03-09), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 29-03-09, 07:45 PM   #5
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سد ید مسعو د مراسلہ دیکھیں
شاہ صاحب اچھی کاوش ھے مگر خدائی قانون کا شارح انسان نہیں ھو سکتا کس وقت رب کیا کرے گا انسان اس کو طے نہیں کر سکتا ۔ ظلم کیا ھے ؟ اگر ایک صاحب حثیت آدمی کسی غریب کی حق تلفی کرتا ھے تو کیا وہ سب سے بڑا ظلم اپنی ذات کے ساتھ نہیں کرتا کہ خود کو سزا کا اہل بنا دیتا ھے اسی لئے حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ھیں کہ کسی چیز کا اپنے مقام سے ہٹ جانا سب سے بڑا ظلم ھے انسان اپنے مقام سے ہٹ چکا ھے وہ خدا شناس و خدا پرست نہیں رھا تو اس دنیا میں سب سے بڑا مظلوم انسان خود ھے وہ چاھے مغرب کا ھو یا مشرق کا ہندو ھو یا مسلمان بقول اقبال انسان کو واپس اس کے مقام پر لانا سب سے بڑا عدل ھے اور یہ عدل مسلمانوں نے کرنا ھے، جان دے کر مال دے کر ہر حال میں انسان کو اس کے مقام بندگی پر واپس لانا ھے۔

متاع بے بہا ھے سوز و ساز آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لو شان خداوندی


سدید مسعود
مسعود صاحب آپک بات بالکل بجا ہے انسان خود پر اختیار رکھتا ہے اور حقوق العباد کا خیال خود انسان نے ہی رکھنا ہے اور جناب نے فرمایا کس وقت خدا کیا کرے انسان طے نہیں کر سکتا بھائی بات ٹھیک ہے آپ کی
اور واضح رہے کہ خدا کی‌ذات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسان سب سے افضل ہے وہ اپنی عقل سے کام لے سکتا ہے کہ کیا غلط ہے اور کیا صیح ہے کوئی بھی معاشرہ کفر کی بنیاد پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم کی بنیاد پر نہیں آپ کے تبصرے کا بہت شکریہ میں آپ کا مشکور رہوں گا اور دعا کا طالب ہوں امید ہے کہ مہربانی فرماتے رہیں گے
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (29-03-09), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 29-03-09, 11:16 PM   #6
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,498
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک عمدہ تحریر و تنقید ،جوبات مجھے سمجھ آئی وہ یہ کہ انسان ہی انسان کی قدروں کو پامال کئے ہوئے ہے ، یہ کتاب دورٍ حاضر کیلئے ایک تنبیہ ثابت ہو گی ۔پھر چاہے اشرفالمخلوقات سمجھ جائے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 30-03-09, 12:56 AM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
بہت شکریہ منتظمین‌صاحبان آپکا تاہم اقرار کرتا ہوں کہ لکھنے میں غلطیاں ضرور ہوئی ہیں پہلے کبھی لکھنے میں غلطی نہیں ہوئی آج جلدی تھی اس لئے جلدی میں لکھتا گیا جس کی معافی چاہتا ہوں اور آئندہ سے غلطی گستاخی نہیں ہو گی تبصرےکا شکریہ اور تعاون کی درخواست ہے سب سے طالب دعا سید انجم شاہ
میں‌اس کو فرنٹ پیج پر ڈالنا چاہ رہا ہوں اپ ایڈیٹ کی بٹن کو پریس کر کے مناسب تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ اگر سمجھ نہیں آتی تو شعبہ تدریس میں ایک نیا موضوع شروع کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (30-03-09), ام غزل (30-03-09), بزم خیال (04-06-11), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 30-03-09, 11:45 AM   #8
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
میں‌اس کو فرنٹ پیج پر ڈالنا چاہ رہا ہوں اپ ایڈیٹ کی بٹن کو پریس کر کے مناسب تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ اگر سمجھ نہیں آتی تو شعبہ تدریس میں ایک نیا موضوع شروع کریں۔
میں مشکور ہوں منتظمین کا کہ انہوں نے خاکسار کی تحریر کو اس قابل سمجھا کہ یہ تحریر فرنٹ پیچ کا حصہ بن سکے
استدعا ہے کہ آپ لوگ جیسا مناسب سمجھتے ہیں اس مناسبت سے تحریر کو ایڈیٹ کر لیا جائے کیونکہ میں نے کوشش کی ہے تاہم ایڈیٹ کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہوں امید ہے کہ حوصلہ افزائی کی جائے گی
آپ کے تعاون کا شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-03-09), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 30-03-09, 11:47 AM   #9
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
ایک عمدہ تحریر و تنقید ،جوبات مجھے سمجھ آئی وہ یہ کہ انسان ہی انسان کی قدروں کو پامال کئے ہوئے ہے ، یہ کتاب دورٍ حاضر کیلئے ایک تنبیہ ثابت ہو گی ۔پھر چاہے اشرفالمخلوقات سمجھ جائے یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ غزل آپکا کہ آپ نے تحریر پر اپنا تبصر کیا اور یہ بتائیں کہ آپ کی والدہ صاحبہ کی طبیعت اب کیسی ہے ؟
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-03-09), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 30-03-09, 01:10 PM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید انجم شاہ مراسلہ دیکھیں
میں مشکور ہوں منتظمین کا کہ انہوں نے خاکسار کی تحریر کو اس قابل سمجھا کہ یہ تحریر فرنٹ پیچ کا حصہ بن سکے
استدعا ہے کہ آپ لوگ جیسا مناسب سمجھتے ہیں اس مناسبت سے تحریر کو ایڈیٹ کر لیا جائے کیونکہ میں نے کوشش کی ہے تاہم ایڈیٹ کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہوں امید ہے کہ حوصلہ افزائی کی جائے گی
آپ کے تعاون کا شکریہ
اپکو کیا مسائل پیش آئے ہیں۔ تفصیل سے بتائیں تاکہ مستقبل میں بھی اپ اس کو حل کر سکیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-03-09), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 30-03-09, 03:40 PM   #11
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
اپکو کیا مسائل پیش آئے ہیں۔ تفصیل سے بتائیں تاکہ مستقبل میں بھی اپ اس کو حل کر سکیں۔
بہت شکریہ‌صاحبان آپ کا
تو عرض یہ ہے کہ میرے سامنے ایڈیٹ کی آپشن نظر ہی نہیں آرہی کچھ عرصہ قبل میں اپنی ہی کسی تحریر کو ایڈیٹ کرنے لگا تھا تو رائٹنگ اردو کی بجائے انگلش ہو رہی تھی جس کو کوشش کی کامیاب نہ ہونے کے باعث میں نے دوبارہ سے کوشش نہیں کی کیونکہ میری مجبوری یہ ہے کہ خبریں لکھتے ہوئے جیسے جیسے ٹائم ملتا ہے میں پاک نیٹ پر آن لائن ہو جاتا ہوں مگر رزق کمانا سب سے اہم ہے اس لئے میں زیادہ گہرائی میں نہیں جاتا امید کرتا ہوں کہ میری یہ بات کسی بھی دوست احباب کو ناگوار نہیں گزرے گی اور میرے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا طالب دعا سید انجم شاہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (30-03-09), ام غزل (31-03-09), بزم خیال (04-06-11), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 30-03-09, 03:51 PM   #12
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جب اپ ایڈیٹ پر کلک کرتے ہیں تو پھر واقعی ہے انگلش ا جاتی ہے لیکن اس میں اپ go adavance پر کلک کریں گے تو پھر اردو کا ایڈیٹر آ جاے گا۔ بلاشبہ رزق حلال کمانا ہی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-03-09), بزم خیال (04-06-11), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 30-03-09, 09:05 PM   #13
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
جب اپ ایڈیٹ پر کلک کرتے ہیں تو پھر واقعی ہے انگلش ا جاتی ہے لیکن اس میں اپ go adavance پر کلک کریں گے تو پھر اردو کا ایڈیٹر آ جاے گا۔ بلاشبہ رزق حلال کمانا ہی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

والسلام
منتظمین صاحبان تحریر کو ایڈیٹ کر دیا ہے اور میں ایک بار پھر مشکور ہوں کہ میری راہنمائی فرمائی گئی ہے اگر مزید کوئی غلطی ہے تو آگاہ کر کے شکریہ کا موقع دیا جائے نوازش ہو گی اور خاکسار آپکا مشکور ہو گا اور تعاون کا بہت شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-03-09), بزم خیال (04-06-11), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 30-03-09, 11:45 PM   #14
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب شاہ صاحب حقوق العباد اور اشرف ا لمخلوق کی حد اسی کے لئے ھے جو مومن ھو اور اپنے مقام بندگی پر قا ئم ھو ایک مظوم اور صراط مستقیم سے بھٹکا ھوا انسان کیسے اشرف و اعلی ھو سکتا ھے اور جو اپنے حقوق و قیود سے واقف نہیں ھے کیسے دوسروں کے حقوق ادا کرسکتا ھے داتا گنج بخش علی ھجویری نے اپنی کتا ب کشف المعجوب میں یہی رائے قائم کی ھے ۔ رھی بات انسان کے علم کی تو اس پر کبھی بھروسا نہیں کیا جاسکتا خود قرآن کی سورہ بقرہ میں ارشاد باری ھے کہ " کوئی اس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا مگر جتنا وہ چاھے" یہ قول کہ معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ھے ظلم پر نہیں حضرت علی کا ھے اور آپ نہج البلاغہ جو کہ حضرت علی کے خطبات پر مشتمل ھے پڑھ کر دیکھ لیں کہ ظلم سے مراد انکی نظر میں کیا ھے کفر پر معاشرہ قائم رہ سکتا ھے کیوں کہ اس نے صراط حق دیکھا ھی نہیں لیکن ظلم پر نہیں کیونکہ ظلم نصاب حق کے آشکار ھونے اور پھر اس کے انکار کے بعد آتا ھے ۔ ظلم کی حدود مقام بندگی سے دوری پر شروع ھوتی ھیں اگر آج ھم اپنے کھوئے ھوئے مقام بندگ پر واپس آ جائیں تو ظلم باقی نہیں رھے گا ۔ بقول اقبال

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ھیں
کہ یہ ٹوٹا ھوا تارہ مہ کا مل نہ بن جائے

شاہ صاحب میں کوئی ملا ئے مسجدی نہیں ھوں نہ کوئی عالم فاضل ھوں میرا ادیان میں ایک تقابلی اور حقیر سا مطالعہ ھے اپنی کم علمی کی بارگاہ ربی میں معافی چا ھتا ھوں‌ اور آپ سے بھی ۔ شکریہ

سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-03-09), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
پرانا 31-03-09, 03:27 AM   #15
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عمدہ علمی بحث شروع کرنے پر اپ مبارکباد کے مستحق ہیں اور اس کو ساتھ ہی فرنٹ پیج پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (31-03-09), ام غزل (31-03-09), حسینیت زندہ باد (26-06-09)
جواب

Tags
ہندو, لوگ, منتقل, مسائل, معاشرہ, آج, ایران, انگلش, امتحان, اردو, اسلام, بندگی, بادشاہت, تحریر, جھوٹ, حل, خون, خان, دوست, درخواست, دعا, ظالم, علی, صلاحیتوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 11:05 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger