واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


انتخابات کی ساکھ کا مسئلہ,,,,محمد خالد یوسف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-07, 08:18 AM   #1
انتخابات کی ساکھ کا مسئلہ,,,,محمد خالد یوسف
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 19-12-07, 08:18 AM

انتخابات کی ساکھ کا مسئلہ,,,,محمد خالد یوسف



مارچ دو ہزار سات سے ایمرجنسی اٹھائے جانے تک، ملک کی سیاسی اور غیرسیاسی صورتحال جس مسلسل جوار بھاٹے کی زد میں ہے وہ پہلے ہی قابل تشویش ہے کہ انہی حالات میں ہم انتخابات کی طرف بھی جا رہے ہیں۔ عام انتخابات کو جہاں موجودہ بحران کا حل قرار دیا جا رہا ہے وہیں ان حالات میں انتخابات ملک کی سیاسی اور امن وامان کی صورتحال پر مثبت کے ساتھ ساتھ منفی اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں انتخابات کی شفافیت ہمیشہ سے متنازع رہی ہے اور انتخابی نتائج کو بآسانی قبول کرنے کی روایت ابھی ہماری سیاست میں جگہ نہیں بنا سکی ہے دوسری جانب آئندہ یعنی جنوری 2008 میں منعقد ہونے والے انتخابات کی ساکھ اس وقت بھی ایک سوالیہ نشان تھی جب ان انتخابات کی تاریخوں کا اعلان بھی نہ ہوا تھا اور اب جبکہ انتخابات کے انعقاد میں صرف تین ہفتے باقی ہیں انتخابات کی شفافیت پر شکوک وشبہات کی ایک دبیز تہہ جم چکی ہے جس کے نیچے ہی کہیں باہمی اعتماد کی راکھ میں انتخابات کی ساکھ بھی پوشیدہ ہے گو یہ سیاسی حربہ سہی مگر نوبت بایں جا رسید کہ مفاہمت کے نتیجے میں وطن واپس آکر انتخابات میں شرکت کرنے والی بے نظیر بھٹو مسلسل دھاندلی کے بھرپور اندیشے کا اظہار کر رہی ہیں اور اس اندیشے کے یقین میں بدل جانے کی صورت میں 9 جنوری سے ہی حکومت کے خلاف تحریک کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہیں میاں نواز شریف جن کی مفاہمت ابھی تازہ اور پوشیدہ ہے وہ بھی حکومت کے شفاف انتخابات کے دعوے کو ایک دعویٰ محض سے زیادہ حیثیت دینے کو تیار نہیں۔ دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ انتخابات میں احتجاجاً حصہ لے رہی ہیں جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنی اپنی بولی میں الیکشن کو فراڈ کہہ رہی ہیں وکلاء چند سیاسی جماعتیں اور غیرسیاسی رہنما تو ان انتخابات کے انعقاد کو ہی ایک دھوکہ قرار دے رہے ہیں جن کا اعلان عدالتوں اور آئین کو پامال کرنے کے بعد ہوا ہے قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں کے واویلے کو اگر ہماری سیاست کا جنم روگ جان کر نظرانداز کر بھی دیا جائے جب بھی عدلیہ اور آئین کے خلاف ہونے والے اقدامات کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات کو دنیا بھر میں شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اس عالم میں ہونے والے انتخابات کو بھی شفاف کہنا تو مشکل نہیں البتہ دوسروں سے تسلیم کروانا اور منوانا ضرور مشکل ہو گا تاوقتیکہ وہ دوسرے خود حکومتی جماعت میں شامل اور انتخابات میں شریک نہ ہوں۔ سیاسی جماعتوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کے دیگر رہنماؤں کو چھوڑ کر بین الاقوامی ادارے انتخابات کے متعلق جو رائے دے رہے ہیں ان آراء کی رو سے یہ انتخابات ایک نمائشی مشق ہونگے امریکی اور برطانوی نشریاتی ادارے ان انتخابات کے لئے قبل از انتخابات اور پھر انتخابات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا تذکرہ جس تواتر سے کر رہے ہیں گزشتہ نو انتخابات میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک ویب سائٹ پر نیویارک سے اس کے ایک قلمکار نے پاکستان میں انتخابی دھاندلی کا ایک منظر پیش کیا ہے جس کے مطابق ایک شخص کو مقامی تھانے میں پولیس کے ہاتھوں اب تک قید رکھا گیا ہے اس شخص کا تعلق مسلم لیگ ن سے بتایا جاتا ہے مگر شاید یہ زیادہ اہم نہیں، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ اپوزیشن کے ایک انتخابی امیدوار کا حال ہے۔ غیرملکی میڈیا انتخابات سے قبل ہونے والی دھاندلیوں کے علاوہ انتخابات کے دن ہونے والی ممکنہ دھاندلیوں کا تذکرہ بھی فراوانی سے کر رہا ہے بین الاقوامی ادارے انتخابی نتائج کو ری میڈ نتائج سے معنون کر رہے ہیں اس ضمن میں امریکی حکومت کے آخری سرکاری بیان نے بھی انتخابات کے پرفیکٹ ہونے کی توقع کو مسترد کر دیا گیا تھا البتہ نان پرفیکٹ الیکشن کے نتائج کی قبولیت کا عندیہ ضرور دیا گیا تھا۔ غیرملکی نشریاتی اداروں اور ان کے حوالے سے ملکی اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ نے امریکی کانگریس کے رکن کے اس استفسار کے جواب میں کہ کیا انہیں پاکستان جانا چاہئے۔ کہا کہ اب آپ پاکستان جا کر کیا کریں گے۔ شفاف انتخابات کروانے کی ذمہ دار پاکستان کے آئین کی رو سے عدلیہ ہے مگر جب درجنوں ججوں کو ہی گھر بھیج تو انتخابات کے بین الاقوامی مسلمہ معیار کے مطابق منصفانہ ہونے کی امید کتنی کم رہ جاتی ہے۔ سابقہ حکومت کے لوگ آخری سہ ماہی میں سرکاری خرچ پر حکومتی جماعت کی تشہیر کر رہے تھے انتخابی فہرستوں پر اعتراضات شروع سے موجود رہے ہیں۔ بعض سیاستدانوں کے لئے وہ پولنگ اسٹیشن زیادہ تشویش کا باعث ہیں جن کا برسرزمین وجود نہیں ہے بلدیاتی اور ضلعی حکومتوں کے ناظمین کی سرگرمیوں پر بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں یہاں تک کہ ایک مقام پر تو الیکشن کمیشن نے بھی (جس پر جانبدار ہونے کا الزام لگ رہا ہے) ایک شکایت کا سخت نوٹس لیا ہے۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جو جماعتیں بھی انتخابات میں شریک ہو رہی ہیں وہ تمام کی تمام انتخابات تک اس نظام کو معطل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ بے اعتباری کی اس فضا میں ہونے والے انتخابات کا نتیجہ اگر حزب مخالف خصوصاً پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے قبول نہیں کیا تو حکومت اندرون ملک اور بیرون ملک خصوصاً (جس کے لئے وہ زیادہ فکرمند رہتی ہے) کس طرح یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گی۔ حکومت کی طرف سے ابھی تک انتخابی انتظامات پر اٹھائے جانے والے بدنیتی کے الزامات کا جواب روایتی طریقوں سے دیا جا رہا ہے حالانکہ ان انتخابات میں حالات روایات سے قطعاً مختلف ہیں کہ آئندہ وزیراعظم کے نام کے لئے کی جانے والی اکثر پیش گوئیاں حزب اختلاف کے رہنماؤں سے متعلق ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے امریکی ٹیلیویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے انتخابات میں دھاندلی کے متعلق حزب اختلاف کی جماعتوں کے اندیشوں کے متعلق کہا ہے کہ ”دھاندلی کا شور وہ جماعتیں مچا رہی ہیں جنہیں انتخابات میں اپنی شکست نظر آرہی ہے ظاہر ہے کہ اس جواب کا اطلاق ابھی سے پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر کرنا اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی منظر نامے کی جانب آنکھیں بند کر لی جائیں کہ یہ دونوں جماعتیں ملک کی بڑی جماعتیں ہیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے اور آئین کی بحالی پر بھی بین الاقوامی ادارے اکثر ملکی سیاسی جماعتوں اور غیرسرکاری تنظیموں کی طرح مطمئن نظر نہیں آتے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے ایمرجنسی ختم کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک صدر مشرف برطرف شدہ ججوں کو بحال نہ کر دیں اور آئین میں کی گئی ترامیم واپس نہ لے لیں۔ اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات اور حکومت کی جانب سے ایسے جوابات ہماری روایتی سیاست کا حصہ سہی مگر اس بار وہ بہت سارے عوامل بھی سیاست میں ملوث ہیں جو گزشتہ انتخابات میں عام طور پر نہیں ہوتے تھے ان حالات میں انتخابات کی ساکھ کی اہمیت بھی انتخابات کے انعقاد سے کم اہمیت کی حامل نہیں ہے ملک ابھی ابھی ایمرجنسی کی گرفت سے نکلا ہے اور سپریم کورٹ کے برطرف شدہ جج صاحبان بحال نہیں ہوئے ایسے میں حکومت مخالف فضا بننے کے لئے ماحول انتہائی سازگار ہے اور اگر انتخابی نتائج ہی اس کا جواز بنے تو اس کے لئے کسے ذمہ دار سمجھا جائے گا یہ بالکل واضح ہے۔

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 265
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, پولیس, پاکستان, ویب, وزیراعظم, قید, لوگ, نواز شریف, موجودہ, اقوام متحدہ, الزام, بے نظیر, جواب, حل, خلاف, خبر, سپریم, سیاست, شور, شخص, عالم, صورتحال, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
محمد یوسف پر پابندی سید راحیل علی کرکٹ 3 07-11-08 08:46 AM
یوسف رضا گیلانی اور ایشوریا رائے !!! قیصرجی مزاحیہ ادب 2 06-04-08 03:56 PM
یوسف رضا گیلانی اور ایشوریا رائے !!! قیصرجی عمومی بحث 0 04-04-08 09:20 PM
یوسف کا معاملہ طول پکڑ گیا محمدعدنان کرکٹ 0 21-12-07 04:56 PM
بھارت کے خلاف محمد یوسف کے ایک ہزار رنز مکمل محمدعدنان کرکٹ 2 07-11-07 04:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger