| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 155
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
ایک خدا رسیدہ بزرگ کا کہنا ہے کہ "الیکشن سلیکشن کچھ بھی نہیں ہوگا ۔زرداری صاحب اسی طرح ہی لیلائے اقتدار سے ہم آغوش رہیں گے'اصل میں لوگ زرداری صاحب کو ایک "سیاہ ست دان"ہی سمجھتے ہیں جب کہ وہ صرف سیاہ ست دان ہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہیں اس لئے "مفاہمت کی سیاست" آگے بڑھتی رہے گی،اور خلق خدا یوں ہی مرتی،سڑتی،روتی،دھوتی رہے گی۔"
لیکن ان سب باتوں کے باوجود دل کہتا ہے کہ "جوذات نواز شریف کی اوپر کالم میں بیان کئے گئے مضبوط حکومت کو ڈھا سکتی ہے اس کے لئے زرداری کی زورداری کا قلع قمع کچھ مشکل نہیں" |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
کمائي: 93,763
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
منیراحمد بلوچ
29 جولائی ”دی نیوز“ کے''LETTERS TO EDITOR'' میں سابق گورنر اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے داماداورنگ زیب لکھتے ہیں کہ انہوں نے1996ء میں نواز شریف کو بتا دیا تھا کہ اس سال کے آخر میں بے نظیر بھٹو حکومت ختم ہو جائے گی لیکن انہوں نے میری اس بات پر یقین نہیں کیا تھا اور سب نے دیکھا کہ نومبر96 میں بے نظیر حکومت ختم ہو گئی پھر میں نے نواز شریف اور اس کے ساتھیوں کو بتایا کہ1999ء کے آخر میں آپ کی حکومت ختم ہورہی ہے اس پر سب لوگ میرا مذاق اڑانے لگے لیکن سوائے جنرل مجید ملک کے باقی کسی نے بھی اس پر یقین نہیں کیا تھا اپنے اس خط کے آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ آج میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ پی پی پی کی موجودہ حکومت اس سال کے آخر تک ختم توہو رہی ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ اس کا متبادل ہم سب کیلئے باعث رحمت نہ ہو“ ابھی چند دن پہلے پیر صاحب پگارا نے بھی فرما دیا ہے کہ ملک میں سینیٹ کے گیارہ مارچ 2012ء کے ا نتخابات نہیں ہوں گے۔کبھی کبھی نجومیوں اور سیاسی پنڈتوں کی باتوں کو ماننے کیلئے دل بے چین ہو جاتا ہے شاید اس لئے کہ ہم سب میں سے اکثر کی دلی خواہش ہو تی ہے کہ آسٹرو پامسٹ نے جو کہا ہے وہ سچ ہی ہو اور سچ پوچھیں تو اس علم کو جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا کہ یہ حقیقت ہے۔ مجھے یاد ہے چودہ سال قبل دسمبر1997ء میں معروف آسٹروپامسٹ صادق محمود ملک نے ایک ہفت روزہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ 1999ء کے آخر میں نواز شریف کی حکومت ختم ہو جائے گی جس کے بعد ان پر ابتلا کا دور شروع ہو گا اور کئی سال تک ان کا سایہ بھی ان سے دور بھاگے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اقتدار سے بھی دور ہو جائیں گے۔ صادق محمود ملک کے دیئے گئے انٹرویو کے الفاظ آج بھی میرے سامنے ہیں”99 کے آخر میں اچانک ہی ایک ایسا واقعہ رونما ہو گا جو جناب نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کا باعث بن جائے گا اور اس میں بے نظیر کا کوئی دخل نہیں ہو گا کیونکہ اسے بھی بعد میں ہی پتہ چلے گا لیکن وہ اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی“.... والی سوات کی طرح صادق محمود ملک کی بات پر سب نے ان کا مذاق اڑایا تھا کہ پنجاب میں بھائی مطلق العنان وزیراعلیٰ اور مرکز میں دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم کی حکومت کون ختم کرے گا لیکن ہونی ہو کر رہی یہی سوچ کر جب صادق محمود ملک سے اورنگ زیب کے اس خط کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی کی حکومت اپنے اقتدار کے چار سال پورے کرنے کے بعد عام انتخابات کا اعلان کرے گی ۔یہ تو باتیں ہیں علم نجوم والوں کی لیکن اگر اس سال کے آخر تک پی پی پی کا اقتدارکسی طریقے سے ختم کر دیا جاتا ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ کیونکہ نجومیوں کے علاوہ مختلف ”ماہرین“ یہ خبر دے رہے ہیں کہ اگلے سال کے شروع میں پی پی پی نے عام انتخابات کا اعلان نہ بھی کیا تو مارچ 2012ء سے پہلے پہلے موجودہ سیٹ اپ ختم ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ بہت سی قوتیں کبھی بھی نہیں چاہیں گی کہ سینیٹ میں پی پی پی کی قوت 27 سے بڑھ کر یکدم 43 سے45 اور” آصف زرداری“کی 53 سے 55تک پہنچ جائے۔ یہ بھی مدنظر رکھیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد سینیٹ میں اقلیتوں کیلئے بھی چار نشستیںمختص کر دی گئی ہیں اور ان کافائدہ بھی زرداری صاحب اٹھا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سینیٹ میں آصف زرداری کی متوقع واضح اکثریت کو روکنے کیلئے کون سا آئینی اور قانونی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے؟ اگر کسی بھی طریقے سے پی پی پی سے بالا بالا اسمبلیاں توڑ دی جاتی ہیں تو کیا سپریم کورٹ اس کی توثیق کر دے گی؟ ایسی صورت میں آئین کے مطابق نئے انتخابات کب اور کس کی نگرانی میں منعقد ہوں گے اورمرکز اور صوبوں میں ان انتخابات کے نتیجے میں بننے والا نقشہ کیا ہو گا؟ کیا ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ نواز چاہے گی کہ اسمبلیاں ٹوٹنے کی صورت میں ملک میں فوری انتخابات ہو جائیں؟ لیکن اسکے باوجود وہ فوری انتخابات پر اس وقت تک زور نہیں دیگی جب تک''bowler end and leg empire'' سمیت حسب معمول گراﺅنڈ سے باہر بیٹھا ہوا تھرڈ ایمپائر مکمل طور پر اس کے ساتھ نہ ہو.... وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اسلام آباد میں مسلم لیگ کے ”عام انتخابات“ کے بعد سپریم کورٹ کی عمارت کی طرف ہاتھ کرتے ہوئے جو کہا تھا” سپریم کورٹ کی توہین ہو رہی ہو اور وہ پنجاب میں حکومت کریں، نہیں نواز شریف صاحب نہیں“۔ اب ظاہر ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی پنجاب حکومت کی قربانی وہ دیں قومی اسمبلی میں سو سے زائد نشستوں سے وہ محروم ہوں تو کس یقین دہانی پر کس وعدے پر۔اچھی تجارت کا پہلا اصول ہے کہ کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہ کرو۔ نجومیوں نے جو کچھ کہا ہے اس کا میں نے اپنے استاد محترم گوگا دانشور سے ذکر کیا تو انہوں نے اپنے تربوز جیسے سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے کہا وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔اور یہ اچھا نہیں ہو گا کہ ایک صوبے کے ارکان اسمبلی کے استعفوں سے حکومت ختم کر دی جائے، چاہے وہ سب سے بڑا ہی کیوں نہ ہو۔ ہاں اگر مولانا فضل الرحمن، اے این پی اور ایم کیو ایم بھی اپنی تمام نشستوں سے استعفیٰ دے دیتے ہیں تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ ہمایوں اختر خان اور حامد نا صر چٹھہ سے ہونے والی نواز شریف کی ”اصولی ملاقات“ بھی صرف اسی لئے ہوئی کہ شریف برادران کے سامنے اپنی سیاسی بقا کا ایک ہی سوال بار بار گھوم رہا ہے کہ اگر اگلے سال گیارہ مارچ سے پہلے اسمبلیاں نہیں توڑی جاتیں تو پھر آصف علی زرادری کو سینیٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ میں لکھنے لکھانے میں ہمیشہ اپنے استاد گوگا دانشور سے مدد لیتا ہوں کیونکہ وہ میرے استاد کا کہنا ہے کہ سیاستدان، نجومی اور دانشور جو اس سال کے آخر یا مارچ2012ءتک عام انتخابات کی توقع یا خواہش کر رہے ہیں، بہتر ہے کہ وہ ہواﺅں میں اڑنا بند کر کے زمینی حقائق پر بھی نظر ڈالنے کی کوشش کریں۔گوگا کہتے ہیں کہ ایک لمحے کیلئے مان لیتے ہیں کہ اس سال اکتوبر نومبر تک اسمبلیاں تحلیل کر دی جاتی ہیں اب ظاہر ہے کہ کوئی تو نگران حکومت قائم ہو گی اور آئین یہ کہتا ہے کہ نگران نوے دنوں میں ملک میں انتخابات کرانے کے پابند ہوں گے....کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ نہیں کیونکہ جو زمینی حقائق ہیں ان کے مطابق اس سال اگر اسمبلیاں توڑ بھی دی جاتی ہیں تو ملک میں انتخابات نہیں ہو سکیں گے کیونکہ نئے قانون کے تحت ووٹروں کیلئے نادرا کا نیا شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے اس وقت الیکشن کمیشن اور نادرا سپریم کورٹ کے حکم پر37 ملین جعلی ووٹ انتخابی فہرستوں سے خارج کرانے میں مصروف ہیں اور ساتھ ہی35 ملین کے قریب نئے ووٹروں کی رجسٹریشن بھی ان کے سامنے ہے اور یہ دونوں کام نادرا اور الیکشن کمیشن مارچ 2012ء تک مکمل نہیں کر سکیں گے سب سے اہم بات جو سیاسی پنڈت شاید بھول رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس سال ستمبر میں آئین کی رو سے مردم شماری بھی ہونی ہے اور اس سلسلے کا پہلا مرحلہ جسے خانہ شماری کہا جا تا ہے وہ اس سال اپریل میں مکمل ہو چکی ہے پاکستان کا آئین یہ واضح حکم دیتا ہے کہ ہر مردم شما ری کے بعد نئے انتخابی حلقے بنائے جائینگے“اور نئی حد بندیوں کیلئے الیکشن کمیشن کو مردم شما ری کی رپورٹ کا انتطار کرنا پڑے گا۔الیکشن کمیشن اور نادرا وفاقی حکومت کا ادارہ ہیں اگر”کسی“ بھی وجہ سے مردم شماری کے نتائج اکٹھے کرنے میں دیر ہو جاتی ہے تو نادرا الیکشن کمیشن کے حکم کے بغیر کس طرح مارچ سے پہلے انتخابی فہرستیں تیار کر سکے گی؟ کیا ایسی صورت میں نئے انتخابات اپنی آئینی مدت میں منعقد ہوسکیں گے؟ روزنامہ جنگ راولپنڈی 13اگست2011ء
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23) |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (14-08-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
کمائي: 93,763
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
کیا کہتی ہے خلق خدا اس کالم کے بارے میں؟؟؟ رائے دیں مگر کالم پڑھنے کے بعد۔ شکریہ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں نے ابتدائی چند سطور ہی پڑھی ہیں
حضرت کوئی پہنچی ہوئی سرکار لگتے ہیں ۔۔۔ اس سال کے آخر میں ہی پیش گوئی کرتا ہے جب دیکھ لے کہ حالات بہت ماڑے ہو چکے ہیں یہ پیش گوئی دو سال قبل کیوں نہیں کی ؟
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (14-08-11) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,374
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
الیکشن نہیںہوںگے ۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کورٹ, کارڈ, پاکستان, لوگ, چین, نواز شریف, نظر, مکمل, موجودہ, متوقع, مجید, آج, اسلام, استاد, بھائی, بے نظیر, ترمیم, حکم, خان, خبر, روزہ, سپریم, سودا, سال, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میںپھر باتوں میںاس کی آ گیا ہوں | نیلم خان | شاعری اور مصوری | 8 | 22-08-11 01:40 AM |
| ہم گناہ گار بھی ہیںتیرے پرستاروں میں | ابوسعد | شعر و شاعری | 3 | 03-03-11 11:09 PM |
| لاہور کی سڑکوں پر عوام کا راج، جڑواں شہروں میںمعمولات زندگی معطل | ابن جلال | خبریں | 1 | 15-03-09 06:38 PM |
| ہم نہیںہوں گے | میاں شاہد | عبدالمجید سالک | 2 | 07-04-08 06:17 AM |
| قبروں میںنہیں، ہم کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ | محمدعدنان | شاعری اور مصوری | 0 | 24-10-07 01:32 AM |