واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


انتہا پسندی کے رنگ:کیا ہم بھی مجرم ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-10-09, 10:50 AM   #1
انتہا پسندی کے رنگ:کیا ہم بھی مجرم ہیں؟
حیدر حیدر آف لائن ہے 29-10-09, 10:50 AM

انتہا پسندی کے رنگ:

آج فرصت تھی تو ٹیلی ویژن کا ریموٹ ہاتھ میں پکڑ کر اپنے پسندیدہ مشغلے یعنی چینلز کو تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ نہ جانے کس موڈ کے تحت پی ٹی وی کے چینل پر آ کر ہاتھ رک گیا جہاں کوئی مارننگ شو لگا ہوا تھا اور چار عورتیں بیٹھی ملکی حالات پر اپنے دکھ کا اظہار کر رہی تھیں اور مختلف باتوں پر قہقہے لگا رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ چلو عورتوں کے اس عجیب معاملے کو بھی سن کر دیکھتے ہیں۔ ©اسی اثنا میں اس مارننگ شو میں ایک ٹیلیفون کا ل آ گئی اسلام آباد سے اور کالر(بلال) نے تھوڑی سی تمہید کے بعد کہا کہ ایک عرض ہے وہ یہ کہ جب آپ کے مہمان آتے ہیں توآپ مرد مہمانوں سے بھی ہاتھ ملاتی ہیں ۔ ۔ ۔ تو براہ مہربانی اگر ہو سکے تو ایسا نہ کیا کریں کیونکہ نہ تو پاکستانی معاشرے میں ایسا چلن ہے اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی عورت یا مرد اپنے نا محرم کے جسم کو بلا وجہ چھوئے۔ بیچارہ بار بار معذرت بھی کرتا رہا کہ اگر بات بُری لگی ہو تو معاف کر دینا لیکن سوچنا ضرور۔خیر سے فون کال بند کر دی گئی اور شو میں خاموشی چھا گئی۔ پھرایک مہمان خاتون تقریر جھاڑنا شروع ہو گئیں کہ میں ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتی۔ شاید اس لیے کہ میری زندگی ہی باہر گزری ہے اور ویسے بھی اب کسی معاشرے میں ایسی سوچیں نہیں پائی جاتیں۔ ہم لوگوں کو اب ان دقیانوسی سوچوں سے اور خیالات سے جان چھڑوا لینی چاہیے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچھ گئی ہے اور ہمارے خیالات ابھی تک وہی پرانے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں ہاتھ ملانا تو کیا گلے بھی ملتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ میں نہیں سمجھتی کہ عورت اگر کسی مرد سے ہاتھ ملا لے تو کوئی ایسا طوفان آ جاتا ہے ۔ ہاتھ ملانا چاہیے اعتماد بڑھتا ہے۔کب تک آپ سیکڑوں سال پرانی سوچوں اور خیالات میں پھنسے رہیں گے۔ اپنا ذہن وسیع کریں۔آگے بڑھیں اور دیکھیں دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ میں سمجھتی ہوں ہمارے مسائل کی وجہ ہی یہی دقیانوسی سوچ ہے۔

اس پر دوسرے عورت نے بھی کہا میں بھی اس بات کی تائید کرتی ہوں ہمارے معاشرے کو اب ایسی سوچوں سے آزادی حا ٓ صل کر لینی چاہیے۔پھر ایک اور کال آ گئی جس میں کسی اور مرد صاحب نے میزبان کے حسن کی بھی تعریف کی اور ساتھ ہی بیٹھی ایک اورخاتون کے حسن کی بھی تعریفیں کیں۔اس پر میزبان خاتون نے شرارتی لہجے میں کہا کیا بات ہے آج یہ تو سبھی کو اچھی لگ رہی ہیں ؛؛

میں ریموٹ کو ہاتھ میں پکڑے ششدر بیٹھا سوچتا رہا کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں ۔ ہماری عقلیں کہاں گم ہو گئی ہیں ۔ کس آسانی سے ہم اسلامی شعار کا مذاق اڑا دیا کرتے ہیں ۔ میں یہ بھی سوچتا رہا کہ کہیں ہمارے آج کے حالات ہمارے ایسے ہی کرتوتوں کی سزا اور عذاب تو نہیں ۔پاکستانی طالبان کی جتنی بھی مذمت کر دیں وہ کم ہے۔ واقعی معاشرے میں انتہا پسندی کو پنپنے سے قبل ہی ختم کر دینا چاہیے۔ لیکن کیا انتہا پسند صرف وہی ہیں ۔ ۔ ۔ ؟ افواج کا کہنا درست ہے کہ پاکستانی طالبان اسلام کے دشمن ہیں مگر کیا محض وہی اسلام کے دشمن ہیں ؟کیا یہ لوگ جو ایک اسلامی مملکت کے چینل پر آ کر اسلامی شعار کا کھلم کھلا مذاق اڑا رہے ہیں یہ لوگ اسلام کے دشمن نہیں؟یہ بات تسلیم کہ طالبان مذہبی انتہا پسند ہیں ۔ ۔ ۔ مگر کیا یہ لوگ غیر مذہبی انتہا پسند نہیں؟ اگر مذہبی انتہا پسندوں کا قلع قمع کرنا ہے تو کیا ان کو کھلا چھوڑ دینا چاہیے؟ کیا ہم ایک برائی کا علاج دوسرے برائی سے نہیں کر رہے جو شاید اس برائی سے زیادہ خطرناک ہے؟

یہ انتہا پسندی نہیں تو کیا ہے کہ چند ہزار افراد اپنے غیر اسلامی اعتقادات/خیالات کی بنا پر کروڑوں لوگوں کے اعتقادات کو دقیانوسی کہہ دیں اور اس سے جان چھڑوانے کا مشورہ دے دیں۔ آج اگر کسی بیرونی معاشرے کی مثال دیتے ہوئے ہم سے کہا جا رہا ہے کہ ہاتھ ملانے میں کوئی حرج نہیں تو کل کو ہم سے کچھ اور بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے معاشرے کو کس کھائی میں دھکیلنا چاہ رہے ہیں۔

مجھے حدیث کا درست ریفرنس یاد نہیں تاہم حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ کا غضب اس قوم پر جلدی نازل ہوتا ہے جو اللہ کے احکامات کا مذاق اڑانے میں جری ہوتی ہے۔ ہمارے اوپر طالبان کے نام کا جو عذاب نازل ہوا ہے بجائے اس کے کہ ہم اس سے سبق سیکھتے اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ۔ ۔ ۔ ہم لوگوں نے الٹی راہ کیوں پکڑ لی ہے۔کیا ہم لوگوں نے مان لیا ہے کہ اس دنیا میں اللہ نام کی کوئی طاقت موجود نہیں ۔ کیا ہم نے تسلیم کر لیا ہے کہ ہم نے کسی روز آخرت میں اپنا حساب پیش نہیں کرنا۔اس معاشرے میں اسلامی شعار کا مذاق اڑانے والے اتنی جری کیوں ہوتے جا رہے ہیں ۔ اور ہم لوگ ان کے خلاف اتنے نامرد کیوں ہوتے جا رہے ہیں کہ آواز ہی بلند نہ کر سکیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے معاشرے میں مغربی معاشرت کی روایات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تو اتنا غلط نہ ہوگا۔ ایک مرتبہ پیپلز پارٹی کی ایک وزیر کو کسی اسلامی قسم کے جلسے سے خطاب کرنا پڑ گیا۔ تو اخبارات میں انکا یہ بیان زینت بنا کہ نہ جانے کس طرح عورتیں دوپٹہ پہنتی ہیں ۔میرے لیے تو بہت مشکل ہے،۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں بھی اسی طرح فحاشی و عریانی پر مشتمل پروگرام پی ٹی وی کی زینت بنا کرتے تھے۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ مشرف کے روشن خیال اعتدال پسندی پر فریب نعرے کے پیچھے درحقیقت اعتدال پسندی نہیں بلکہ جدید انتہا پسندی کام کر رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے دور میں قوم کو ناچ گانا، رنگ و نور کی محفلوں، فلموںمیں مصروف کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کیسی اعتدال پسندی تھی کہ اسلام کا پروگرام تو کیا نام بھی سال میں ایک بار بھی نہیں لینا جبکہ قوم کو تقسیم کرنے والے اعمال روزانہ کرنے۔

اگر اس کو باقاعدہ منصوبہ بندی نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے کہ اسی اسلامی مملکت میں طوائفوں کی جنکو سیکس ورکرز کا نام دے کر کوئی انڈسٹری ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،ورکشاپس کروائی جاتی ہیں جس میں انکو محفوظ جنسی روابط کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ حکومتی گماشتے ٹیلی ویژن چینلز کے سیاست پر مبنی پروگراموں پر تو تنقید کرتے ہیں اور انکو بند کرنے اور کروانے کی سعی کرتے ہیں مگر انہی چینلز پر نیم عریاں لباس میں ملبوس لڑکیوں کی نمائیش، عورتوں مردوں کے گلے ملنے ، ، واہیات کلمات کہنے ،غیر ملکی فحش پروگراموں کی نمائیش پر کوئی اعتراض نہیں کرتے۔

در حقیقت ہمارا معاشرہ دو قسم کی انتہا پسندوں کے درمیان پھنس گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ شدت پسند ہیں جو لوگوں سے زبردستی داڑھیاں رکھواتے ہیں، نماز پڑھواتے ہیں،انکے پینٹ شرٹ پہننے پر اعتراض کرتے ہیں،عورتوں کے باہر نکلنے پر پابندیاں لگاتے ہیں ۔ ۔ ۔ دوسری طرف وہ شدت پسند بھی ہیں جو کھلم کھلا اسلامی شعار کا مذاق اڑاتے ہیں، عورتوں اور مردوں کی مخلوط محافل منعقد کرواتے ہیں، بوس و کنار کو عیاں کرتے ہیں۔ عورتوں کو شمع محفل بنا کر معاشرتی طوائف بنانے کی سعی کرتے ہیں۔

اسی معاشرے میں ہم جیسے منافق بھی پائے جاتے ہیںجوبرائی کو ہوتے دیکھ کر خاموش رہ جاتے ہیں ، جو ہوا کے رخ پرخس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں ۔ ابھی اس گروہ میں ایمان کا آخری درجہ یعنی دل میں برائی کو برا جاننا کی رمق موجود ہے لیکن کفرو الحاد کی جو آندھیاں چل رہی ہیں خوف ہے کہ یہ رمق بھی جلد ہی بجھ جائے گی میرے اس دوست کی طرح کہ جو ایک مرتبہ مجھ سے بحث کر رہا تھا کہ مردوں اور عورتوں کاآپس میں ملنا جلنا، پڑھنا، گپ شپ کرنا، علحدہ بیٹھنا کوئی بُرا نہیں بلکہ اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ہم جیسے منافق کہ جو معاشرے میں برائی ہوتے دیکھ کر بھی خاموش ہو جاتے ہیں وہ در حقیقت خیر و شر کے معرکے میں شر کی مدد کر رہے ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ جہاں برائی ہوتے دیکھو وہاں پر ڈنڈے لے کر، ہتھیار لے کر ٹوٹ پڑو۔میں یہ نہیں کہتا کہ جہاں برائی ہوتے دیکھو اس کے خلاف جنگ چھیڑ دو۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ جب برائی ہوتے دیکھو تو اس کے خلاف آواز بلند کرو۔ اس کے خلاف رائے عامہ ہموار کرو۔ اس کے خلاف بھاگ دوڑ کرو۔ اس کے خلاف احتجاجی خطوط لکھو، اس کے خلاف لوگوں سے اور متعلقہ لوگوں سے ملاقاتیں کرو۔ اور یہ ہر مسلمان کا کام ہے خواہ اس کا تعلق کسی دینی جماعت سے ہو یا لسانی جماعت سے، خواہ وہ ملازمت پیشہ ہو یا اپنا بزنس کرتا یا بیروزگار۔خواہ وہ مرد ہو یا خاتون۔یہ ہر کسی کی اپنی ذاتی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اسکو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھیں گے تو اس کے لیے ویسے ہی بھاگ دوڑ کریں گے جیسے ہم اس وقت کرتے ہیں جب خود کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔ یاد کیجیے کہ جب ہم میں سے کوئی کسی غلط کیس میں پھنس جاتا ہے تو کتنی بھاگ دوڑ کرتا ہے، کتنی میل ملاقاتیں کرتا ہے، دن رات اس مصیبت سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ فتنے جو ہمارے سروں پر آ کھڑے ہوئے ہیں یہ ان دنیاوی مصیبتوں سے کہیں زیادہ ہولناک ہیں، یہ فتنے نہ صرف ہم کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ ہمارے اہل وعیال بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔
حدیث مبارکہ ہے جسکا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی تب تک کسی قوم کو اسکے گناہوں کی سزا نہیں دیتا جب تک اس کے خواص میں برپا گناہ اس کے عوام میں رائج نہ ہو جائیں۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3066
Reply With Quote
30 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-01-11), Real_Light (14-11-09), saraah (01-01-11), Student (30-10-09), گوندل (14-11-09), ھارون اعظم (29-10-09), یاسر عمران مرزا (29-10-09), ملک بھائی (18-11-09), منتظمین (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), مسٹر شیف (19-02-10), معظم (29-10-09), wajee (29-10-09), آبی ٹوکول (29-12-10), ام طلحہ (29-10-09), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), بلال الراعی (03-01-11), تانیہ رحمان ستارہ (30-10-09), حسنین ایوب (30-10-09), رانا امر (11-11-09), راجہ اکرام (30-10-09), سحر (29-10-09), شمشاد احمد (31-12-10), شاہد جمیل حفیظ (05-11-09), طاھر (30-10-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10), عبداللہ حیدر (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 11:04 AM   #2
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہترین تحریر ہے بدر بھائی۔یہ سب جو بھی ہورہا ہے انہی اعمال کا تو نتیجہ ہے کہ ہماری زمین ناحق خون سے رنگ رہی ہے، اور اگر کچھ بچا ہوا ہے تو انہی "ضعیف الاعتقاد دقیانوس" لوگوں کی وجہ سے جو آج بھی زمانے کے ساتھ چلن بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ اس قوم پر عذاب کے نزول کیلئے کتنا توقف کرے گا۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (30-10-09), اخترحسین (30-10-09), تانیہ رحمان ستارہ (30-10-09), حیدر (29-10-09), حسنین ایوب (30-10-09), راجہ اکرام (30-10-09), عامرشہزاد (30-10-09)
پرانا 29-10-09, 11:18 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

صاحبو و احبابو۔
بہت سے عرب معاشروں میں عورتیں مردوں سے ہاتھ ملاتی ہیں۔ پاکستان میں پٹھان عورتیں اپنے خاندان کے مردوں کے ہاتھ کی پشت چومتی ہیں۔ اللہ تعالی عورتوں کو معاشرہ میں فعال ہونے سے کہاں منع فرماتے ہیں۔ ہاتھ ملانا کوئی جنسی عمل نہیں اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ ذہنی بیمار ہے۔ آپ اللہ تعالی کا وہ فرمان عطا فرمائیے جو عورتوں کو معاشرہ میں فعال ہونے سے منع فرماتا ہو یا ہاتھ ملانے سے روکتا ہو۔

اپنے طور پر اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کو بنیاد بنا کر یا اپنی معاشرتی قدروں کو بنیاد بنا کر آپ اللہ تعالی کے قوانیں گھڑ نہیں سکتے ۔

استدعا ہے کہ مجھے برا بھلا کہنے کے بجائے، آپ کسی قسم کے دلائیل پیش کیجئے۔


والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 29-10-09 at 11:21 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-11-09), محمدعدنان (30-10-09), ام طلحہ (29-10-09), اخترحسین (30-10-09), تانیہ رحمان ستارہ (30-10-09), حیدر (29-10-09)
پرانا 29-10-09, 11:23 AM   #4
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
میں تو یہ کہتا ہوں کہ جب برائی ہوتے دیکھو تو اس کے خلاف آواز بلند کرو۔ اس کے خلاف رائے عامہ ہموار کرو۔ اس کے خلاف بھاگ دوڑ کرو۔ اس کے خلاف احتجاجی خطوط لکھو، اس کے خلاف لوگوں سے اور متعلقہ لوگوں سے ملاقاتیں کرو۔ اور یہ ہر مسلمان کا کام ہے خواہ اس کا تعلق کسی دینی جماعت سے ہو یا لسانی جماعت سے، خواہ وہ ملازمت پیشہ ہو یا اپنا بزنس کرتا یا بیروزگار۔خواہ وہ مرد ہو یا خاتون۔یہ ہر کسی کی اپنی ذاتی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اسکو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھیں گے تو اس کے لیے ویسے ہی بھاگ دوڑ کریں گے جیسے ہم اس وقت کرتے ہیں جب خود کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔ یاد کیجیے کہ جب ہم میں سے کوئی کسی غلط کیس میں پھنس جاتا ہے تو کتنی بھاگ دوڑ کرتا ہے، کتنی میل ملاقاتیں کرتا ہے، دن رات اس مصیبت سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ فتنے جو ہمارے سروں پر آ کھڑے ہوئے ہیں یہ ان دنیاوی مصیبتوں سے کہیں زیادہ ہولناک ہیں، یہ فتنے نہ صرف ہم کو نقصان پہنچائیں گے بلکہ ہمارے اہل وعیال بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔
حدیث مبارکہ ہے جسکا مفہوم ہے کہ اللہ تعالی تب تک کسی قوم کو اسکے گناہوں کی سزا نہیں دیتا جب تک اس کے خواص میں برپا گناہ اس کے عوام میں رائج نہ ہو جائیں۔


جزاک اللہ خیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (29-12-10), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 11:28 AM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
صاحبو و احبابو۔
بہت سے عرب معاشروں میں عورتیں مردوں سے ہاتھ ملاتی ہیں۔ پاکستان میں پٹھان عورتیں اپنے خاندان کے مردوں کے ہاتھ کی پشت چومتی ہیں۔ اللہ تعالی عورتوں کو معاشرہ میں فعال ہونے سے کہاں منع فرماتے ہیں۔ ہاتھ ملانا کوئی جنسی عمل نہیں اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ ذہنی بیمار ہے۔ آپ اللہ تعالی کا وہ فرمان عطا فرمائیے جو عورتوں کو معاشرہ میں فعال ہونے سے منع فرماتا ہو یا ہاتھ ملانے سے روکتا ہو۔

اپنے طور پر اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کو بنیاد بنا کر یا اپنی معاشرتی قدروں کو بنیاد بنا کر آپ اللہ تعالی کے قوانیں گھڑ نہیں سکتے ۔

استدعا ہے کہ مجھے برا بھلا کہنے کے بجائے، آپ کسی قسم کے دلائیل پیش کیجئے۔


والسلام
میں تو واقعی ذہنی بیمار ہوں میرے بھائی۔ لیکن آپ عقل والے ہیں کیوں کہ جن کے پاس قرآن کا علم ہوتا ہےوہ کبھی ذہنی بیمار نہیں پڑتے اور آپ اکثر ہی یہ دعوی کرتے پائے گئے ہیں۔ تو مجھے آپ بتا دیں کہ قرآن میں کہاں منع کیا گیا ہے مرد اور عورت کے hugکرنے یعنی گلے ملنے کا؟کیوں کہ گلے ملنا بھی کوئی جنسی عمل نہیں اسلام کی رو سے۔ تو آپ اسکی تردید کہاں سے لائیں گے؟ آپ بھی مجھ پر غصہ نہ ہوئیے گا کیونکہ میں تو ہوں ہی ذہنی بیمار
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
17 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-01-11), sahj (29-10-09), Student (30-10-09), فاروق سرورخان (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), مسٹر شیف (19-02-10), مسافر (29-10-09), آبی ٹوکول (29-12-10), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), حسنین ایوب (30-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), طاھر (30-10-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10), عبداللہ حیدر (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 11:55 AM   #6
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
صاحبو و احبابو۔
بہت سے عرب معاشروں میں عورتیں مردوں سے ہاتھ ملاتی ہیں۔ پاکستان میں پٹھان عورتیں اپنے خاندان کے مردوں کے ہاتھ کی پشت چومتی ہیں۔ اللہ تعالی عورتوں کو معاشرہ میں فعال ہونے سے کہاں منع فرماتے ہیں۔ ہاتھ ملانا کوئی جنسی عمل نہیں اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ ذہنی بیمار ہے۔ آپ اللہ تعالی کا وہ فرمان عطا فرمائیے جو عورتوں کو معاشرہ میں فعال ہونے سے منع فرماتا ہو یا ہاتھ ملانے سے روکتا ہو۔

اپنے طور پر اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کو بنیاد بنا کر یا اپنی معاشرتی قدروں کو بنیاد بنا کر آپ اللہ تعالی کے قوانیں گھڑ نہیں سکتے ۔

استدعا ہے کہ مجھے برا بھلا کہنے کے بجائے، آپ کسی قسم کے دلائیل پیش کیجئے۔


والسلام
جواب نہیں فاروق بھائی! میری ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ کہیں آپ کے سامنے آنے کی جسارت نہ کروں اور دلائل کی میری بساط کہاں،مگر میں صرف اس حدیث یا اس آیت کا حوالہ مانگ رہی ہوں جس میں غیر محرم سے ہاتھ ملانے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
معذرت کے ساتھ ، میں بھی ذہنی بیمار ہوں اسلئے معاشرے میں فعال ہونے کے باوجود، مردوں کے ساتھ ایک دفتر میں کام کرنے کے باوجود آج تک کسی کولیگ کی جراءت نہیں ہونے دی کہ وہ مجھ سے ہاتھ ملائے۔ مجھے تو واقعی علاج کرانا پڑے گا۔
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
19 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-01-11), sahj (29-10-09), saraah (01-01-11), shafresha (15-11-09), Student (30-10-09), فاروق سرورخان (29-10-09), یاسر عمران مرزا (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), مسٹر شیف (19-02-10), آبی ٹوکول (29-12-10), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), حسنین ایوب (30-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10), عبداللہ حیدر (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 01:01 PM   #7
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,327
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدرالزمان بھائی پہلے تو آپ کی اتنی پیاری سوچ اور اس کے مطابق اتنی پیاری تحریر پر میری طرف سے مبارک۔ ذہنی بیمار تو میں بھی ہوں۔ ہماری کچھ عورتوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے، اور ان کے حمایتی پتہ نہیں کیا چاہتے ہیں۔ کیا اسلام صرف عرب ممالک میں ہی ہے۔ میں یہاں دبئی میں ہوں۔ سوچا تھا یہاں کا اسلام پاکستان سے بہتر ہوگا۔ لیکن یہاں تو وہ کچھ بھی مجھے دیکھنے کو ملتا ہے جو میں پاکستان میں سوچ نہیں سکتا تھا۔ افسوس تو اس بات پر ہوتا ہے جب قرآن و حدیث سے ثابت کیا جاتا ہے کہ یہ جائز ہے بدربھائی نے احتجاج کیا ام طلحہ بہن نے حمایت کی اور میں بھی حمایت کرتا ہوں


ہم ذہنی بیمار ہیں۔ اور اس بیماری پر ہم فخر کرتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں ہر مسلمان ہماری طرح ذہنی بیمار ہو جائے آمین

Last edited by خرم شہزاد خرم; 29-10-09 at 03:23 PM. وجہ: ناظمِ اعلیٰ سحر بہن کے کہنے پر تبدیلی کی ہے
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
16 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-01-11), sahj (29-10-09), saraah (01-01-11), فاروق سرورخان (29-10-09), یاسر عمران مرزا (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), مسٹر شیف (19-02-10), آبی ٹوکول (29-12-10), ام طلحہ (29-10-09), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10), عبداللہ حیدر (28-12-10)
کمائي نے خرم شہزاد خرم کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
28-12-10 عبداللہ آدم ہم ذہنی بیمار ہیں۔ اور اس بیماری پر ہم فخر کرتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں ہر مسلمان ہماری طرح ذہنی بیمار ہو جائے آمین 1
پرانا 29-10-09, 01:06 PM   #8
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ ،
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
sahj (29-10-09), فاروق سرورخان (29-10-09), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عبداللہ آدم (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 02:17 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں تنہا ہی چلا جانب منزل فقط
لوگ ملتے گئے کاروان بنتا گیا
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (29-10-09), فاروق سرورخان (29-10-09), مسٹر شیف (19-02-10), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 02:23 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

باقی رہی ذاتی خؤاہشات کی بات۔ تو بھائی میرے یہ تو انسان کی فطرت ہے کہ وہ جنس مخالف میں گھلنا ملنا چاہتا ہے، ہر طرح کی آزادی چاہتا ہے۔ تو اگر میں اپنی ذاتی خؤاہشات کی بنا پر ایسا کہتا تو میں بھی یہی کہتا کہ چھڈو یار 4 دن کی زندگی ہے، کجھ کھا لو پی لو معج اڑا لو، یا بابر بہ عیش کوش را عالم دوبارہ نیست۔ مگر میں تو اپنی خواہشات کے بر خلاف مردوں اور عورتوں کے ایسے ملنے جلنے کے خلاف ہوں ۔ اس لیے آپ یہ مت کہیے کہ ذاتی خواہشات بنیاد پر بلکہ یوں کہیے کہ ذاتی خؤاہشات کے خلاف۔ ورنہ محفل رنگ ہاؤ ہو کس کافر کو بری لگتی ہے
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), اخترحسین (30-10-09), حسنین ایوب (30-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10), عبداللہ حیدر (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 02:27 PM   #11
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں تو بہت پرانا ذہنی مریض ھو مسلمانو

اور میری سیدھی اور صاف صاف باتوں کو کیسا گھما گھما کر اور توڑ مروڑ کر جواب دیا جاتا ھے شاید آپ نے دیکھا ھو،

لیکن میں صاف اور کھری بات کہنے سے نہیں رکوں گا

انشاء اللہ

آپ بھائی بہن مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا

شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (29-10-09), یاسر عمران مرزا (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), طاھر (30-10-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 02:57 PM   #12
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,505
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابنِ شبیر مراسلہ دیکھیں
بدرالزمان بھائی پہلے تو آپ کی اتنی پیاری سوچ اور اس کے مطابق اتنی پیاری تحریر پر میری طرف سے مبارک۔ ذہنی بیمار تو میں بھی ہوں۔ ہماری عورتوں [COLOR="DarkRed"]کا دماغ خراب ہو گیا ہے[/COLOR]، اور ان کے حمایتی پتہ نہیں کیا چاہتے ہیں۔ کیا اسلام صرف عرب ممالک میں ہی ہے۔ میں یہاں دبئی میں ہوں۔ سوچا تھا یہاں کا اسلام پاکستان سے بہتر ہوگا۔ لیکن یہاں تو وہ کچھ بھی مجھے دیکھنے کو ملتا ہے جو میں پاکستان میں سوچ نہیں سکتا تھا۔ افسوس تو اس بات پر ہوتا ہے جب قرآن و حدیث سے ثابت کیا جاتا ہے کہ یہ جائز ہے بدربھائی نے احتجاج کیا ام طلحہ بہن نے حمایت کی اور میں بھی حمایت کرتا ہوں


ہم ذہنی بیمار ہیں۔ اور اس بیماری پر ہم فخر کرتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں ہر مسلمان ہماری طرح ذہنی بیمار ہو جائے آمین
ابن شبیر بھائی
میں آپ کی باتوں سے متفق ہوں سوائے اس جملے کے ۔
چند خواتین کی باتوں کا مطلب یہ نہیں کہ تمام خواتین ایسا ہی سوچتی ہین ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-11-09), فاروق سرورخان (29-10-09), ھارون اعظم (29-10-09), یاسر عمران مرزا (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), ام طلحہ (29-10-09), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 03:21 PM   #13
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,327
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
ابن شبیر بھائی
میں آپ کی باتوں سے متفق ہوں سوائے اس جملے کے ۔
چند خواتین کی باتوں کا مطلب یہ نہیں کہ تمام خواتین ایسا ہی سوچتی ہین ۔
جو خواتین ایسا نہیں سوچتی اور خاموشی اختیار کر لیتی ہیں وہ بھی ان کے ساتھ ہی شمار کی جائیں گی

میں نے ہماری خواتین اس لیے استعمال کیا تھا کہ اس میں سب شامل ہوجائیں یعنی میں اپنے گھر کی خواتین کو بھی شامل کر رہا تھا۔

آپ کی نشاندہی پر میں اس کو ایڈیٹ کر دیتا ہوں لیکن بہن جی یہ خواتین چند نہیں رہیں اب
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (15-11-09), فاروق سرورخان (29-10-09), یاسر عمران مرزا (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 03:29 PM   #14
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
ابن شبیر بھائی
میں آپ کی باتوں سے متفق ہوں سوائے اس جملے کے ۔
چند خواتین کی باتوں کا مطلب یہ نہیں کہ تمام خواتین ایسا ہی سوچتی ہین ۔
سحر میری رائے میں اس میں غلط نہیں۔ اشارہ تو اسی طبقے کی طرف ہے جنکی سوچ پر ہم بات کر رہے ہیں، باقی ہم اور آپ دقیانوس ہیں اور وہی رہیں گے، یہ تو طے ہے۔شکر الحمد للہ
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
sahj (29-10-09), فاروق سرورخان (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), آبی ٹوکول (29-12-10), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10)
پرانا 29-10-09, 03:45 PM   #15
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,505
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابن شبیر بھائی اور ام طلحہ
میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم کو اس سوچ کو غلط کہنا چاہیے ۔
یہ سوچ صرف خواتین میں نہیں بلکہ مردوں میں بھی ہے آپ نے یہ کیوں کہا کہ ہماری عورتوں کا دماغ خراب ہے ، کیوں کیا ہمارے مردوں کا دماغ خراب نہیں ہے ۔
میں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں ۔
معاشرہ عورت اور مرد دونوں سے مل کر بنتا ہے ۔
سارا الزام صرف خواتین کو دینا صحیح نہیں
ایک حد تک تو میں ان خواتین کو بھی اتنا قصور وار نہیںسمجھتی
جتنا ان کے بڑوں کو اور اپنے بڑوں کو سمجھتی ہوں
جنھوں نے ان کی تربیت کی
یہ سوچ ایک دن میں تو پیدا نہیں ہوئی ہوگی ۔ اس سوچ کو پیدا کرنے کے لیے کتنے لوگون نے محنت کی ہوگی اور کب سے کررہے ہونگے کبھی سوچا ہے آپ لوگون نے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (29-10-09), فاروق سرورخان (29-10-09), یاسر عمران مرزا (29-10-09), محمدعدنان (30-10-09), آبی ٹوکول (29-12-10), ام طلحہ (30-10-09), احمد بلال (14-11-09), اخترحسین (30-10-09), حیدر (29-10-09), راجہ اکرام (05-11-09), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ آدم (28-12-10), عبداللہ حیدر (28-12-10)
جواب

Tags
پاکستانی, پسندیدہ, وزیر, نماز, منافق, منصوبہ, مخلوط, مسائل, معاشرہ, معذرت, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, حدیث, حسن, خلاف, دیکھو, دوست, دل, زندگی, سیاست, سال, طالبان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
معاشرہ شدت پسندی کے شکنجے میں؟ ALI-OAD اپکے کالم 2 09-01-11 11:34 PM
آپ کو کونسے پھول پسند ہیں؟ Zullu230 گپ شپ 47 24-04-08 05:18 AM
آپ کو پاکستان کے کونسے کونسے شہر پسند ہیں؟ Zullu230 عمومی بحث 27 22-04-08 06:20 AM
آپ کو نسا لباس پہننا پسند فرماتے ہیں؟ Zullu230 گپ شپ 21 21-09-07 06:16 PM
آپ کو نسے کونسے پرندے پسند ہیں؟ Zullu230 عمومی بحث 12 24-08-07 10:55 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:02 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger