واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


انسان کیا ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-06-09, 12:47 PM   #1
انسان کیا ہے؟
Zullu230 Zullu230 آف لائن ہے 03-06-09, 12:47 PM

اگر عزم و حوصلے کو دیکھا جائے تو کسی پہاڑ سے بھی زیادہ مظبوط
کمزوری اور نا توانی کو دیکھا جائے تو کسی چیونٹی سے بھی زیادہ کمزور
سختی کو دیکھا جائے تو کسی چٹان سے بھی زیادہ سخت
نرمی کو دیکھا جائے تو روئی سے بھی زیادہ نرم

انسان کیا ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو زندگی کے ہر نئے موڑ، ہر نئے راستے اور ہر نئے پہلو پر اُبھر کر میرے سامنے آ جاتا ہے۔

ایک معصوم بچہ جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اُسے یہ دنیا بہت
حسین و جمیل معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کی ماں کا چہرہ ہو تا ہے۔ اُسے اپنی ماں کے چہرے پر دنیا کے سارے رنگ بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جوں جوں آگے بڑھتا ہے اور ماں کے چہرے سے نظر ہٹاتا ہے تو دکھوں اورغموں سے اُس کا پالا پڑتا ہے توزندگی کے معنوں پر غور خوض شروع کر دیتا ہے۔ جب وہ اپنی ماں سے کچھ دیر کےلئے دور جاتا ہے تو اُسے یہ احساس ہوتا کہ ماں کے بغیر زندگی کے کیا معنی ہیں۔ جب سکول جانے لگتا ہے تو واپس گھر آکر سب سے پہلے اپنی نظر ماں کے چہرے پر ڈالتا ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کی ساری خوشیاں اور سارے خوبصورت رنگ میری ماں کے چہرے پر ہی ہیں۔

انسان کیا ہے؟

جب کبھی بجلی جاتی ہے تو اپنے گھر کی کھڑکی کھول کر سامنے والی سڑک پر نظر دوڑاتا ہوں تو بہت سے چہروں پر خوف، پریشانی، دکھ، درد و کرب کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ کوئی بھاگ رہا ہے تو کوئی تیز تیز قدموں سے چل رہا ہے۔ کوئی پسینے میں شرابور ہے تو کوئی ماتھے سے بہتا ہوا پسینہ پونچھ رہا ہے۔ کوئی منچلا نوجوان سیلنسر نکال کر سڑک پرموٹر بائیک کو سر پٹ دوڑا رہا ہے جیسے اُس کا تعلق فائیر بریگیڈ والوں کے عملہ سے ہے لیکن اُسے یہ احساس ہی نہیں ہوتاکہ موٹر بائیک سے نکلنے والی انتہائی اونچی اور خوفناک آواز سے کتنے دکھی دلوں پر ایک قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ پُر سکون ماحول میں اچانک اتنے اونچے شور سے خلل ڈالنا کہاں کی تہذیب و شائستگی ہے۔

انسان کیا ہے؟

کبھی یہ انسان آسمانوں کے سینے چیرتا ہوا سیاروں کو تسخیر کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کہیں سمندروں کی لا محدود گہرائیوں میں پہنچنے کی تگ و دو میں مصروف نظر آتا ہے۔ کبھی یہ نمرود کی شکل میں خدائی دعوے کرتا نظرآتا ہے تو کبھی یہ انسان ناگا ساکی اور جاوا سماٹرا پر ایٹم بم پھینک کر لاکھوں انسانوں کوآن واحد میں جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیتا ہے۔ طاقت کے نشے میں چور ہو جائے تو افغانسان اور ایراق پر چڑھائی کر کے بیگناہ انسانوں پر بم برسا کر دل کو تسکین پہنچانے کا سامان فراہم کرتا ہے۔ کبھی یہ انسان پیٹ کے ساتھ بم باندھ کر اپنے ساتھ بیسیوں بیگناہوں کے جسموں کے پرخچے اُڑا دیتا ہے۔

انسان کیا ہے؟

کیا وہ بھی انسان تھے؟ کیا اُن کے سینوں میں دھڑکنے والا دل بھی گوشت کا لوتھڑاہی تھا جنہوں نے آئیندہ آنے والی نسلوں کی خاطر اپنے کلیجے تک دشمنوں کو پیش کر دیے۔ وہ کتنےعّطیم لوگ تھے جو اُس وقت شاید اتنے نہ تڑپے ہوں گےجب ہندئووں اور سکھوں کے ایک ایک لفظ نے اُن کی روح کو پاش پاش کیا ہو گا یا دشمن کی تیز دھار تلواروں نے اُن کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوں گے جتنا آج اس دھرتی پر جا بجا بکھرے ہوئے انسانی اعضاء اور خون کو دیکھ کراُن کی روحیں تڑپتی ہوں گی۔
جب انسان کو دکھوں سے پالا پڑتا ہے تو ہر دکھ اُسے زندگی کا نیا رُخ سمجھاتا ہے۔ انسان کا اپنا دل جب دکھی ہوتا ہے تو اُس کی آنکھیں پھٹ جاتی ہیں۔ ان آنکھوں میں اُسے ساری خلق خدا کے دکھ دکھائی دینے لگتے ہیں-اُسے کسی کی آنکھ سے گرنے والے آنسو کا مطلب بھی سمجھ میں آنے لگتا ہے۔ ہر آہ کے پیچھے چُھپی فریاد کا مطلب بھی اُس کی سمجھ میں آجا تا ہے۔ شاید یہی کیفیت میرے ساتھ بھی ہے۔ جب کسی شخص کو دیوار کے ساتھ لگا دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ اس پر ظلم کے کون کونسے پہاڑ ٹوٹے ہوں گے۔ کسی بچے کو روتا دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ اس نے کچھ نہیں کھایا۔ سفید داڑھی والے کسی بزرگ کی آنکھ سے گرنے والے آنسو سے سمجھ جاتا ہوں کہ مغرب کی اندھا دھند تقلید میں اس کی عزت گھر کی دہلیز پار کر چکی ہے۔ کسی بوڑھی ماں کی آنکھوں میں خشک آنسو دیکھ کر سمجھ جاتا ہوں کہ اس کی بیٹی کے بالوں میں سفیدی آچکی ہے۔ کسی نوجوان عورت کو بچوں کی انگلی پکڑ کر سڑکوں کے کنارے بھیک مانگتے دیکھ کر سمجھ جاتا ہوں کہ کسی بم دھماکے میں اس کا سہاگ اُجڑ چکا ہے۔ کسی پریشان حال شخص کو عدالت کی دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھ کر سمجھ جاتا ہوں کہ لاکھوں قربانیوں کے نتیجے میں ‌حاصل ہونے والے وطن عزیز میں غریب کےلئے انصاف کا حصول کتنا کٹھن اور صبر آزما مرحلہ ہے۔
انسان کیا ہے؟
وہ باپ، وہ ماں، وہ بیوی، وہ بہن اور وہ بیٹی بھی انسان ہی ہیں جو اپنے بیٹے۔ شوہر، بھائی اور بہن کے گھر سے نکلنے کے بعد سارا دن اُس کے لئے زندہ سلامت واپسی کی دعائیں مانگتی رہتی ہیں۔ وہ بچی بھی انسان ہی ہے جس کے پاپا نے واپسی پر اُس کے لئے چوڑیاں لانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس نے سارا دن چوڑیوں کے انتظار میں گزار دیا لیکن شام کو اُسے چوڑیوں کی بجائے پاپا کی لاش کے ٹکڑے ملے۔ زمین پر انسانی زندگی کا کاروبار رواں دوں ہے۔۔۔۔۔ کوئی کسی کو دکھ پہنچا رہا ہے تو کوئی سکھ،

میں، آپ اور ہم سب ان دکھ کے ماروں کو کچھ نہیں دے سکتے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چیز ہمارے پاس ہے جو ہم ان سب غمزدوں کو مفت دے سکتے ہیں اور وہ ہے فقط ایک مسکراہٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنی مسکراہٹ اُنہیں عطیہ میں دے سکتے ہیں۔ کہتے ہیں ہنسی غم کا علاج ہے۔ ہو سکتا ہے ہماری ایک مسکراہٹ سے وہ ایک نئے حوصلے، جوش اور ولولے کے ساتھ سارے غم بھول کر زندگی کی رنگینیوں میں شامل جائیں۔

 
Zullu230's Avatar
Zullu230
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
شکریہ: 3,271
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 443
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے Zullu230 کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (03-06-09), محمدخلیل (03-06-09), wajee (03-06-09), راجہ اکرام (15-06-09), رضی (15-06-09), سحر (18-06-09)
پرانا 03-06-09, 12:50 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,834
شکریہ: 7,286
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (15-06-09)
پرانا 03-06-09, 01:17 PM   #3
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,225
شکریہ: 3,271
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : خلیل مراسلہ دیکھیں
انسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کیا ہے؟
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (15-06-09)
پرانا 03-06-09, 09:29 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق پر پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
Zullu230 (16-06-09), راجہ اکرام (15-06-09)
پرانا 03-06-09, 09:57 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,076
شکریہ: 5,188
5,037 مراسلہ میں 11,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی عمدہ تحریر زبردست
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
Zullu230 (05-06-09), راجہ اکرام (15-06-09)
پرانا 03-06-09, 10:53 PM   #6
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,549
شکریہ: 1,314
418 مراسلہ میں 960 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قصہ از مختصر انسان خطاء کا پتلا ہے
muhammad asif virani آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا
Zullu230 (05-06-09), راجہ اکرام (15-06-09)
پرانا 15-06-09, 08:43 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ذلو بھائی۔۔۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ

ماشاء اللہ بہت ہی پر مغز اور انسان کو تفکر و تدبر کی دعوت دینے والی تحریر ہے۔ اس پر تبصرہ کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ آپ کی صلاحیتوں میں‌اضافہ فرمائے اور آپ کو توفیق دے کہ آپ یہ صلاحیتیں ملک و ملت کے مفاد میں استعمال کر سکیں۔

محتاج دعا
راجہ اکرام
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
Zullu230 (16-06-09), رضی (15-06-09)
پرانا 18-06-09, 02:17 PM   #8
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,225
شکریہ: 3,271
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اکرام بھائی حوصلہ افزائی کا شکریہ۔ مجھے لکھنا نہیں آتا۔ بس اپنے تاثرات ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں یہاں شئیر کر کے دل غبار نکال لیتا ہوں۔
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (18-06-09)
پرانا 18-06-09, 03:06 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,023
شکریہ: 25,208
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Zullu230 مراسلہ دیکھیں
دل غبار نکال لیتا ہوں۔

ذلو بھائی سلام۔
میں سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ غبار ہے تو اصل کیا ہو گا۔
کبھی اپنے دل کی اصل بات بھی پیش کریں ۔۔۔۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-06-09, 09:28 AM   #10
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,225
شکریہ: 3,271
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
ذلو بھائی سلام۔
میں سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ غبار ہے تو اصل کیا ہو گا۔
کبھی اپنے دل کی اصل بات بھی پیش کریں ۔۔۔۔
شکریہ بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں کلک کریں استحکام پاکستان
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
Zullu230 کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (19-06-09)
جواب

Tags
لوگ, چور, نظر, مفت, ماں, معلوم, آج, ایٹم بم, انسان, بھائی, بچوں, حال, خون, داڑھی, دعائیں, روتا, زندگی, شور, شام, شخص, عورت, علاج, عدالت, عزیز, عزت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:06 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger