واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


انڈیا میں دہشت گردی کا اصل چہرہ ۔۔۔ از راجہ اکرام الحق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-04-10, 12:24 AM   #1
انڈیا میں دہشت گردی کا اصل چہرہ ۔۔۔ از راجہ اکرام الحق
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 06-04-10, 12:24 AM

انڈیا میں دہشت گردی کا اصل چہرہ

تحریر : راجہ اکرام الحق
بھارت شاید خطے کا واحد ایسا ملک ہے جس میں جہاں ایک طرف علیحدگی کی سب سے زیادہ تحریکیں سرگرم عمل او ر فعال ہیں وہیں مذہبی انتہا پسند اپنے سوا کسی کو چین سے رہنے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان دو اسباب نے دیگر بے شمار کے ساتھ مل کر بھارت کی اندرونی حالت کو خطرناک حد تک تشویش ناک بنا دیا ہے۔ بطور خاص گزشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے مختلف واقعات نے دہشت گردی کی جو ایک لہر دوڑا دی ہے اس سے ہر انسان ہراساں نظر آتا ہے۔ جس میں احمد آباد ک، مکہ مسجد حیدر آباد، درگاہ اجمیر شریف اور مالی گاؤں میں بم دھماکے کا واقعہ ، پٹنہ میں عیسائیوں کے خلاف ہونے والے فسادات ، سمجھوتہ ایکپریس میں آتش زدگی اور ممبی پر ہونے والے حملے قابل ذکر ہیں۔

بھارت کا رویہ شروع ہی سے یہ رہا ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے بعد تحقیق و تفتیش کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہوئے فوری طور پر الزام لگا دیتا ہے اور میڈیا بھی غیر جانبداری اور معروضیت کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔پھر پروپیگنڈے کا ایسا طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے کہ اصل حقائق، اصل مجرم اور اصل چہرے اس کے شور تلے دب جاتے ہیں۔ اس طرح کی غیر سنجیدہ حرکت سے ان عناصر کو مزید ہلہ شیری ملتی ہے اور وہ اپنے نئے ہدف کے لئے تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود بھارت نہ تو اصل مجرموں تک پہنچ سکا ہے اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی مؤثر اقدامات کر سکا ہے۔

بھارت کی طرف سے سر فہرست ملزمان پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ، کالعدم جہادی تنظیمین یا انڈیا سے تعلق رکھنے والی مسلمان تنظیمیں انڈین مجاہدین اور سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI)ہی ہوتے ہیں۔ پہلے سے تیار شدہ ان ملزمان کی موجودگی انہیں تحقیق و تفتیش کی صعوبتوں اور پیچیدگیوں سے یکسر بے نیاز کر دیتی ہے۔ لیکن یہ اصل چہر نہیں ہے۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاؤں والے واقعات کے بعد کرنل پروہت کا کردار سامنے آیا تھا جوکہ دہشت گردوں کے ساتھ تعاون میں ملوث تھا۔ پھر اس کے بعد ممبئی حملوں میں کرنل پروہت کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے والے ہیمنت کرکرے کی موت کا واقعہ بھی اسے انداز سے ہوا کہ ہندوستان میں دہشت گردی کے اصل چہرے کے خدو خال مزید واضح ہو گئے۔

اسی چہرے کو مزید بے نقاب کرنے کے لئے حال ہی میں انڈیا سے ایک کتاب چھپی ہے who killed karkary? The Real face of Terrorism in India ۔اس کتاب کے مصنف ایس ایم مُشِرف ہیں جو کہ سابق انسپیکٹر جنرل پولیس ۔مہاراشٹر ہیں ۔ مصنف نے 310صفحات کی اس کتاب میں ہیمنت کرکرے کے قتل کے اصل مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لئے ممبئی حملوں اور ہندوستان میں ہونے والے ان اہم واقعات کی تحقیق پیش کی ہے جن میں بظاہر پڑوسی ملک ، آئی ایس آئی ، یا پھر بھارت کی کچھ اسلامی تنظیموں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔لیکن اس کتاب میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ اس کے پیچھے ہندو انتہا پسند وں او ر بطور خاص ہندوتوا کا ہاتھ ہے جن کی پشت پناہی فوج کے موجودہ اور سابقہ افسران کر رہے ہیںجن میں کرنل پروہت سب سے قابل ذکر ہے ۔کتاب میں موجود دلائل بہت ہی واضح انداز میں اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتے یں کہ ہیمنت کرکرے اصل مجرموں تک پہنچ چکا تھا اس لئے اس کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کروا دیا گیا۔ ان میں سے چند اہم واقعات کا ذکر اس اجمال کی تفصیل کے لئے کافی ہوگا۔

اس سلسلے کا سب سے اہم واقعہ مالی گاؤں میںہونے والا بم دھماکا ہے۔ 29 ستمبر 2008ءکو یہ واقعہ رونما ہوا ۔ اس کی تحقیقات کی ذمہ داری اینٹی ٹیرورزم اسکواڈ(ATS) کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو دی گئی۔ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے پہلی مرتبہ پیشہ ورانہ انداز میں تحقیق کی گئی اور اس کے نتائج نے نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ جمہوریت اور سیکولرزم کے سارے دعوے زمین بوس ہو گئے۔ تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلح افواج کے افسران، حکومتی مشینری، انتہا پسند ہندوتوا اور سنگھ پریوار کا اس واقعے کے ساتھ واضح تعلق ہے۔

اور پھر بھارتی فوج کی تشکیل کردہ Court of Inquiry کی طرف سے اپنی آزاد تحقیقات کے بعد کرنل پروہت کے کورٹ مارشل کی سفارش نے رہی سہی کسر نکال دی جس کے بعد اس امر میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ مالی گاؤں دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس اصل دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ مل گیا جو دہشت گردی کے تقریبا ہر واقعے میں کسی نہ کسی طور پر ملوث ہے اور جس کے کرتا دھرتا لوگوں میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں۔

کرنل پروہت اور ان کے تائید یافتہ افراد اور گروہوں نے نہ صرف اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی بلکہ اور بھی انتہائی اہم واقعات میں ملوث ہونے کا اقرار کیا جو بھارت کے لئے نہ صرف اندرونی طور پر بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کے لئے بھی غیر معمولی حد تک خطرناک تھے ، اور کسی بھی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے تھے۔ان میں سے اہم ترین 19 فروری 2007ءکو سمجھوتا ایکسپریس کا سانحہ ، 18مئی 2007ءکو مکہ مسجد حیدر آباد میں ہونے والا دھماکہ اور 11 اکتوبر 2007ءکو اجمیر شریف درگاہ پر ہونے والا دھماکہ ہیں۔ ان تمام ہی واقعات کے ذمہ داری ابتدائی طور پر پڑوسی ملک اور مسلمان تنظیموں پر ہی لگائی گئی تھی لیکن تحقیقات نے بالکل برعکس نتائج سامنے لائے۔

26 نومبر 2008ءکو ممبئی میںہونے والے حملوں کی آڑ میں ہیمنت کرکرے کو اس کی ایمانداری کا بہترین ”صلہ“ دیتے ہوئے قتل کروا دیا گیا۔قانون کا تقاضا تھا کہ اس قدر اہم شخصیت کے قتل کی تحقیق فوری طور پر ہو جاتی لیکن تا حال حکومتی سطح پر اس طرح کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جو بذات خود کسی سازش کا پتہ دیتی ہے۔ یاد رہے مالیگاو ¿ں پر ہونے والی تحقیقات پر بی جے پی ناپسندیدگی کا اظہار کر چکی تھی ۔

ہندو ستان میں دہشت گردی کا اصل چہرہ دیکھنے کے لئے بھی اس قتل کی تحقیقات ناگزیر ہیں تا کہ پتہ چلایا جا سکے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جو نہ صرف دہشت گردی میں ملوث ہیں بلکہ اس کی روک تھام کرنے والے افسران کو راستے سے ہٹانے کا کام بھی بڑی صفائی سے کر رہے ہیں۔

ایس ۔ایم ۔ مُشرِف نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس قتل میں IB ملوث ہے۔ اس خدشے کی چند وجوہات ہیں جو کافی وزن رکھتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت کو بریف کرنے کا کام آئی بیIB کے ذمہ ہے، اور کرکرے کی تحقیقات آئی بھی کی رپورٹ کے بالکل برعکس جار ہی تھیں جو اس کے لئے نہ صرف خفت کا باعث تھیں بلکہ آئی بی کی ساکھ کے لئے بھی نقصان دہ تھیں۔ اس شرمندگی اور بدنامی سے بچنے کے لئے ضروری تھا کہ یہ کانٹا ہی نکال دیا جائے ۔مصنف نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ IB برہمنوں کا ایک ٹولہ ہے جن کے ہندوتوا کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔ چونکہ ہندوستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی میں ہندو انتہا پسند وں کا ہاتھ ہوتا ہے جن کی پشت پناہی سرکاری اور سیاسی سطح ہوتی ہے۔ اس لئے وہ کسی ایسے شخص کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے جو ان کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کر سکتا ہے۔

یہاں ایک اور بات قابل غور ہے کہ کرنل پروہت پر نہ صرف کرکرے کی تحقیق میں بلکہ مسلح افواج کی طرف سے کی جانے والی تحقیق میں بھی جرم ثابت ہو چکا ہے اور اس کے کورٹ ماشل کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا ہر گز مشکل نہیں کہ کرنل کے عہدے پر فائز یہ شخص تنہا یہ کام نہیں کر رہا بلکہ ضرور اسے اپنے اعلی افسران کا آشیر باد اور جونیئرز کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔ ایک پورا نیٹ ورک ہے جو پوری تندہی کے ساتھ نہ صرف مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے بلکہ پاکستان اور مسلم تنظیموں کو بدنام کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہا۔

اس ساری بحث سے پتہ چلتا ہے کہ اصل دہشت گرد ہندو انتہا پسند ہیں جن کو مسلح افواج اور IB کا مکمل تعاون اور آشیر باد حاصل ہے۔
ہندوستان میں ہونے ولی دہشت گردی کے اصل چہرے کو دیکھنے کے لئے یہ کتاب انتہائی ناگزیر ہے ۔پالیسی سازوں، تجزیہ نگاروں اور اہل قلم کے لئے اس کا مطالعہ انتہائی مفید ہو گا ۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
شکریہ: 25,208
16,384 مراسلہ میں 41,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 520
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (10-12-10), ھارون اعظم (06-04-10), یاسر عمران مرزا (21-09-10), محمد عاصم (23-09-10), مرزا عامر (22-09-10), بلال اویسی (10-12-10), حیدر (06-04-10), حیدر Rehan (09-12-10), رضی (07-04-10), شاہ جی 90 (08-04-10), عبداللہ آدم (22-09-10), غلام مجتبی جان (06-04-10)
پرانا 06-04-10, 12:36 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,272
شکریہ: 52,394
11,141 مراسلہ میں 35,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب راجہ بھائی انڈیا کے چہرے پر ٹارچ کی تھوڑی سی لائٹ مارنے پر آپکا شکریہ۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (22-09-10), راجہ اکرام (06-04-10), رضی (07-04-10), شاہ جی 90 (08-04-10), عبداللہ آدم (22-09-10)
پرانا 06-04-10, 12:40 PM   #3
Senior Member
 
غلام مجتبی جان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: Islamabad
مراسلات: 330
کمائي: 5,524
شکریہ: 605
259 مراسلہ میں 659 بارشکریہ ادا کیا گیا
غلام مجتبی جان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سرورق کے لئے پیش کریں ۔ بہت مفید تحریر ہے۔
غلام مجتبی جان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے غلام مجتبی جان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (06-04-10), رضی (07-04-10), شاہ جی 90 (08-04-10)
پرانا 07-04-10, 01:58 AM   #4
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھے راجہ جی ۔ ویسے میں یہ پہلے ہی پڑھ چکا ہوں ۔ بہت خوب ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (07-04-10), شاہ جی 90 (08-04-10)
پرانا 08-04-10, 10:13 PM   #5
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تو ایک ٹکٹ میں دو مزے والی بات ہو گئی
راجہ جی کتاب پر اتنا اچھا تبصرہ لکھنے پر ہماری جانب سے مبارک باد
اور انڈیا کا اصل روپ سامنے لانے کا ثواب تو آپ کو اللہ کے ہاں ملے گا ہی
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (22-09-10), راجہ اکرام (09-04-10), رضی (08-04-10), غلام مجتبی جان (10-04-10)
پرانا 22-09-10, 01:38 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا یہ سرورق پر لگ چکی ہے؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (22-09-10)
پرانا 22-09-10, 01:42 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,028
شکریہ: 25,208
16,384 مراسلہ میں 41,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سے بہتر کون جانتا ہو گا جناب

میری معلومات کے مطابق تو لگ چکی ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (22-09-10), شاہ جی 90 (22-09-10), غلام مجتبی جان (23-09-10)
پرانا 09-12-10, 12:43 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔اچھی تحریر ہے ۔ ۔ ۔
اللہ اپ کو اور زیادہ توفیق عطا کرئے ۔ ۔ ۔ ۔’’علم وقلم سے جہاد‘‘ ہی اج کی ضرورت ہے
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (21-12-10)
پرانا 10-12-10, 12:19 AM   #9
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,748
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب راجہ بھائی ،
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (21-12-10)
پرانا 21-12-10, 11:14 AM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,028
شکریہ: 25,208
16,384 مراسلہ میں 41,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
بہت شکریہ حیدر ریحان بھائی اور علی بھائی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
india, کورٹ, پولیس, پاکستان, پسند, واقعات, چین, نظر, مکہ, مکمل, موت, موجودہ, مجرموں, مسجد, الزام, انسان, اسلامی, بہترین, بم دھماکا, خلاف, دھماکہ, شور, غور, صفحات, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ڈیرہ اسمٰعیل خان میں تباہی کی چند تصاویر ام طلحہ میرا پاکستان 12 25-12-11 12:41 AM
آئندہ 20سالوں میں موجودہ ادویات کی بجائے سٹیم سیل ادویات لیں گی جاویداسد دلچسپ اور عجیب 28 29-11-11 10:28 AM
انڈیا میں عید الفطر ( تصاویر ) نورالدین عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ 2 20-09-10 05:50 PM
ویب سائٹ بنائیں صرف 30منٹ میں .بغیر html سیکھے..ایک انوکھا سافٹ ویئر پیاسا سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 15 27-10-09 11:40 AM
ویب سا ئیٹ پروفشنل کمپنی سے بنوائیں ، ویب ہوسٹنگ اور ڈومین ۔۔۔۔۔۔ محمد عامر ریاض آپکے کاروباری اشتہارات 23 20-04-09 01:22 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:11 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger