واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


اکھنڈ بھارت… ہندو کا دیرینہ خواب…

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-08-11, 08:52 PM   #1
اکھنڈ بھارت… ہندو کا دیرینہ خواب…
زبیرافتحار زبیرافتحار آف لائن ہے 26-08-11, 08:52 PM

بریگیڈئر(ر)محمود الحسن.....
جغرافیائی حقیقتیں اہم اٹل اور دوررس نتائج کی حامل ہوتی ہیں، جبکہ ملکی پالیسیاں حالات کے تغیر اور تبدل کے حوالے سے بدلتی رہتی ہیں مگر ہمسائے تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کی سرحدیں افغانستان، ایران، چین اور بھارت سے مشترک ہیں۔ چین سے ہمارے تعلقات مثالی ہیں۔ وہ ہمارا مخلص دوست اور ہمدرد ہے اور ہر آڑے وقت میں ساتھ دیتا ہے۔ ایران سے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے جبکہ افغانستان کی موجودہ حکومت سے تعلقات وہاں امریکی جارحیت کے بعد اتار چڑھائو کا شکار ہیں۔ ہمارا ہمسایہ بھارت جس سے ہماری سب سے طویل سرحد ملتی ہے وہ واحد ملک ہے جس سے ہمارے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ بھارت کا پاکستان کو دل سے قبول نہ کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا کوئی بھی ہمسایہ اس سے خوش نہیں۔ دفاعی طور پر کمزور اور چھوٹے ممالک مثلا مالدیپ، سری لنکا، بھوٹان اور یہاں تک کہ نیپال جو کہ بھارت کے علاوہ دنیا کی واحد ہندو ریاست ہے وہ بھی اس کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن اور پھر کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ بعد میں پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی غرض سے 1965ء میں رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے حملہ آور ہوا۔ 1971ء میں مکتی باہنی کے بھیس میں فوج بھیج کر ہمارا مشرقی حصہ ملک سے الگ کر دیا۔ ’’گوا‘‘ جیسے چھوٹے اور کمزور ملک پر فوجی کشی کر کے اس پر قبضہ کر لیا اور 80ء کی دہائی میں سری لنکا میں فوج بھیج دی۔ یہ تمام واقعات بھارتی جارحانہ اور توسیع پسندانہ روش کے ان مٹ ثبوت ہیں۔ بھارت کا یہ غیردوستانہ اور ہمسایہ دشمن رویہ اس کی صدیوں پرانی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس لئے ہمیں ماضی کے دریچوں میں جھانکنا ہو گا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام کے بعد ہندو آبادی اور نووارد مسلمانوں میں ایک کشمکش نے جنم لیا اور کیونکہ مسلمان ہمیشہ اقلیت میں رہے۔ اس لئے ان کو ہر لمحہ ہندومت میں جذب ہونے کا خطرہ لاحق رہا کیونکہ ہندو ’’کالی ماتا‘‘ کے پجاری ہیں جو کہ بقول ان کے دوسرے مذاہب کو اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جیسے کہ مشہور ہندو شاعر ٹیگور نے اپنی نظم میں کہا کہ ’’انسانوں کا ایک سیلاب جس میں چینی، آرین، غیرآرین، ہن، پٹھان، ویڈین اور مغل تھے وہ سب ہندوستان میں اپنی انفرادیت کھو کر شیروشکر ہو گئے۔ اس وجہ سے مسلمان ہمیشہ مشکلات میں گھرے رہے۔ علاوہ ازیں ہندوئوں نے بڑی چالاکی سے بھگتی، شدھی اور سنگھاتھن تحریکوں کے ذریعے عیسائی اور مسلمانوں کو ہندومت میں ضم کرنے کی سرتوڑ کوششیں جاری رکھی ہوئی تھیں۔ ہندو چاہتے تھے کہ مسلمان بھارت میں صرف ہندوئوں کے محکوم اور غلام بن کر ہی زندگی گزاریں۔ مسلمانوں نے اس نظریے کو سختی سے رد کر دیا اور قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں ایک الگ ملک کی جدوجہد کی اور بے انتہا قربانیوں کے بعد اس کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن ہندو نے آج تک پاکستان کو دل سے کبھی بھی قبول نہیں کیا۔ اس کی مسلمان دشمنی متعدد بار جارحیت اور پاکستان کو دولخت کرنے کی صورت میں آشکار ہوئی۔ اصل میں تشدد، مجرمانہ ہندو کی سرشت میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں ایک ہندو مصنف نیراد چودھری کہتا ہے کہ
"The current belief is that Hindus are a peace loving and non voilent people and this belief has been fortified by Gandhism. In reality however, few human communities have been more war like and fond of bloodshed."
یعنی عام تاثر یہ ہے کہ ہندو امن پسند اور عدم تشدد میں یقین رکھنے والے ہیں۔ یہ تاثر گاندھی کے منافقانہ رویے کی وجہ سے عام ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ بہت کم قوتیں اتنی جنگ و جدل اور خون خرابے کی شوقین ہیں جتنی ہندو برادری۔ اس سلسلے میں گوالیار جو کہ ہندو دہشت گرد تنظیم کے راشتریہ سیوک سنگ یعنی RSSکا سربراہ ہے کہتا ہے کہ
"If Pakistan is a settled fact we are here to unsettle it"
یعنی ’’اگر پاکستان ایک حقیقت ہے تو ہم اس کو مٹا کر دم لیں گے۔‘‘ ان بیانات کی روشنی اور بھارت کے پرتشدد رویے کی وجہ سے پاکستان ہر وقت بھارت کی جارحیت کے خطرے سے دوچار ہے اور اس سلسلے میں ہماری ذرا سی بھی غفلت ایک ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
ہندو مت:
ہندو مذہبی طور پر ذات پات کے نظام کے تابع ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق Primeval Man یعنی قدیم زمانے میں آدمی کی قربانی دی گئی تو برہمن اس کی بانہوں سے پیدا ہوا۔ کہستری اس کی رانوں سے اور شودھر نے اس کے پائوں سے جنم لیا۔ ہندو عقیدے میں برہمن ہمیشہ راج کرنے کے لئے بنا ہے۔ وہ اگر کسی کو قتل بھی کر دے تو اس کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ جبکہ شودھر پیدائشی طور پر ناپاک ہوتا ہے اور سب کا نوکر ہے جس کو قتل کرنا ایک معمولی بات ہے۔
کیونکہ ہندو مسلمانوں کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس لئے مذہبی تحریک شدھی شروع کی جس کے ذریعے مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانا مقصود تھا۔ اس بارے میں روزنامہ پرتاب لکھتا ہے کہ
The question of Shuddi is a matter of life and death for us. Muslims have grown from zero to seven million and Charistians are four millions."
1۔ یعنی ہمارے لئے شدھی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیونکہ مسلمان صفر سے سات لاکھ ہو گئے ہیں اور چالیس لاکھ عیسائی ہیں۔‘‘ جین اور بدھ مت والوں کے ساتھ بھی ہندوئوں کا یہی رویہ تھا۔ بقول Rev. Wilkim
The desciples of Budda were so ruthlessly prosecuted that all were slain or exiled.
یعنی جین اور بدھ مت کے پیروکاروں کو نہایت بے دردی سے قتل کر دیا وہ یا قتل ہوئے یا پھر ملک بدر کر دیے گئے۔ اس طرح تمام بدھ مت کے ماننے والے ہندوستان سے ختم ہو گئے۔
مسلمانوں کا ردعمل:
مسلمان بہرحال اس خطرے کو بھانپ گئے اور مجدد الف ثانی جیسے صوفیائے کرام کی رہنمائی میں شدھی جیسی تحریکوں کو ناکام بنا دیا۔ اس سلسلے میں مغل بادشاہ اورنگزیب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ 1857ء کی جنگ کی آزادی کے بعد مسلمانوں کی حالت دگرگوں ہو گئی۔ ان کے جائز مطالبات بھی روکے جانے لگے اور یہ سب ہندو انگریز گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھا۔ اس مرحلے پر مسلمانوں کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ اگر انہوں نے اپنے آپ کو نئے سرے سے منظم نہ کیا تو ہندوئوں کے ہاتھوں ان کی تباہی یقینی ہو گی۔ ہندوئوں کی اس مسلم دشمنی میں انگریز اس کی مکمل مدد کرتا رہا کیونکہ وہ ابھی تک crusadesکو نہیں بھولا تھا اور اسلام دشمنی اس کا شاخسانہ تھی
الگ ملک کا مطالبہ
مسلمانوں کے خلاف ہندو انگریز گٹھ جوڑ اور ان کو ہندومت میں ضم کرنے کی کوششوں کے علاوہ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف تھے۔ اس سلسلے میں مشہور تاریخ دان البیرونی لکھتا ہے کہ
The Hindus entirely differ from us. One might think they had internationally changed their customs into the opposite, because our customs do not resemble theirs. And if ever any of the customs resemble, they mean the opposite.
یعنی ’’ہندوئوں سے ہمارے رسم و رواج اتنے مختلف ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے دانستہ طور پر ایسا کیا ہے اور اگر کوئی رسم ایک دوسرے سے ملتی ہے تو اس کا اصل مفہوم یکسر متضاد ہوتا ہے۔‘‘ البیرونی کے مطابق مسلمانوں کا معاشرہ ہندوئوں سے الگ تھلگ تھا کیونکہ ہندو ہر غیرملکی آنے والے کو ملیچھ یا ناپاک سمجھتے تھے۔ ان سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے تھے۔ اس کے ہاتھ لگ جانے سے چیز ناپاک ہو جاتی تھی۔ نتیجہ دونوں معاشرے ایک دوسرے کی ضد تھے۔ 2۔ البیرونی نے یہ بات ایک ہزار سال پہلے کہی تھی اور قائداعظم نے بھی ان ہی حالات کے بارے میں فرمایا تھا کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کا مذہب سماجی روایات لٹریچر اور زندگی کے بارے میں فلسفہ مکمل طور پر مختلف ہے۔ ہندو مسلمانوں کو ناپاک سمجھتے ہیں اور ان سے کوئی تعلق رکھنا بھی گناہ گردانتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ہزار سال گزر جانے کے باوجود بھی یہ دونوں معاشرے ایک دورسرے کے قریب آ سکتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے میں ضم ہو سکتے ہیں تو یہی Two nations theory یعنی دو قومی نظریے کی اصل بنیاد ہے جس کے نتیجے میں پاکستان وجود پذیر ہوا۔ بعد میں انڈین کانگریس کے مسلمان دشمن رویے نے قائداعظم کو مسلمانوں کی ایگ الگ سیاسی پارٹی ’’مسلم لیگ‘‘ کے نام سے تشکیل دینے پر مجبور کیا جس نے مسلمانوں کیلئے ایک الگ وطن کے حصول کی عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں 1940ء میں لاہور میں ایک تاریخی جلسہ میں پاکستان ریزولیشن پاس ہوا اور صرف سات سال کے قلیل عرصے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ جس کی ہندوئوں اور انگریزوں نے شدید مخالفت کی۔ ہندوئوں کی اصل مخالفت کی وجہ مندرجہ ذیل تھا:
اول: تقسیم سے بھارت ماتا دو ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔

ثانثاً: پاکستان بننے کے بعد علاقے کی تمام مسلمان ریاستیں مل کر بھارت پر حملہ آور ہوں گی۔ اس سلسلے میں ہندوئوں کے شبہ کو مسٹر ایڈورڈ تھومسن کے اس بیان نے یقین میں بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ :
Creation of Pak would back the days when the waves of raiding Muslims armies swept down the Indian plains form Northern direction.
یعنی پاکستان بن جانے کے بعد پھر دوبارہ مسلمانوں کی شمال مغرب سے یلغار شروع ہو جائیگی جو ہندوستان کے سارے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
بھارت کی پاکستان دشمنی: تاریخ اس چیز کی گواہ ہے کہ ہندوئوں کے مندرجہ بالا شب شبہات غلط ثابت ہوئے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکے باوجود بھارت پاکستان کیخلاف اپنی توسیع پسندانہ پالیسیاں کیوں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں وہ پاکستان کیخلاف تین دفعہ جارحیت کا ارتکاب بھی کر چکا ہے۔ اسکی پہلی وجہ ہے کہ ہندوستان نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا کیونکہ وہ ابھی تک ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا خواب دیکھ رہا ہے اور یہی اسکا اہم ’’دو لفظی ایجنڈہ‘‘ ہے۔ دوسری طرف بھارت کی اس خطے میں برتری کی خواہش میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سلسلے میں ہندو لیڈروں کی پاکستان کو ختم کرنے کی خواہش ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پاکستان بننے کے بعد نہرو نے ایک بیان میں کہا کہ ’’پاکستان جغرافیائی، سیاسی معاشی اور عسکری لحاظ سے ناکام ریاست ہے اور جلد یا دیر واپس ہم سے مجبوراً آ ملے گا۔‘‘ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھارت کی تمام تر کوششیں اس ملک کو مٹانے پر مرکوز ہیں۔ آزادی کے وقت پاکستان عسکری اور معاشی طور پر بے حد کمزور تھا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدر آباد دکن اور جونا گڑھ اور بعد میں کشمیر پر قبضہ کر لیا۔ 1965ء میں پہلے ’’رن آف کچھ‘‘ پر قبضہ کر لیا اور بعد میں بغیر اعلان جنگ پاکستان پر لشکر کشی کر دی۔ 1971ء میں مکتی باہنی کے بھینس میں فوج بھیج کر پاکستان کا ایک حصہ الگ کر دیا۔ 1980ء کی دہائی میں سیاچن کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے تمام دریائوں پر 65ڈیم بنا کر پاکستان کو ریگستان بنانے کی منصوبے پر تیز یسے کام کر رہا ہے۔ 1974ء میں ایٹمی دھماکہ کیا اور جنوب مشرقی ایشیاء میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر کے پورے علاقے کے امن کو خطرے سے لاحق کر دیا۔ اب ملک میں بڑے پیمانے پر بھوک اور افلاس کے باوجود اربوں روپے کا اسلحہ اور گولہ بارود خرید کر پورے خطے میں طاقت کا تواز ن مکمل طور پر تباہ کرنے کے درپے ہے اور یہ تمام جنگی تیاریاں ظاہر ہے‘ پاکستان کیخلاف کی جا رہی ہیں۔ ادھر افغانستان میں اپنے متعدد قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے اور ان تخریب کاروں کو پیسہ اور اسلحہ بارود مہیا کرتا ہے۔ اصل میں بھارتی لیڈر ہندو برہمن چانکیہ کی کتاب ’’اردھ شاستر‘‘ کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہیں اور ہمارے عوام میں گروہ بندی کے ذریعے ان کو آپس میں لڑوا کر اور افواہیں پھیلا کر بددلی پھیلانے میں مصروف ہیں تاکہ پاکستانیوں کو گمراہ کریں اور آپس میں متنفر کر کے انتشار کا فائدہ اٹھائیں۔
دوسری طرف بھارت میں دہشت گرد جماعتیں زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کیخلاف نفرت کو ہوا دیکر بھارتی عوام کو جذباتی طور پر انتہائی اقدام کیلئے تیار کر رہی ہیں وہ عوام کو یقین دلانے کی کوشش میں ہیں کہ ملک کو شمال سے جارحیت کا مسلسل خطرہ لاحق ہے اور پاکستان بھارت کو ٹکڑے کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ نیز پاکستان کی طرف سے بھارت کی نظریاتی بقاء اور ہندو مت کو خطرہ لاحق ہے۔ اسکے علاوہ علاقے میں بھارت کی بالادستی کے حصول میں پاکستان سب سے بڑی رکاوٹ ہے جسے زیر کرنا ضروری ہے اور ویدک ’’شان و شوکت‘‘ کے دوبارہ حصول کی خاطر تمام رکاوٹوں کو دور کرنا جس میں مضبوط پاکستان سرفہرست ہے۔
پاکستان کو لاحق خطرات:
قارئین! اس وقت پاکستان متعدد اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے۔
اندرونی خطرات: قومی اتفاق و یکجہتی اور سیاسی استحکام ملکی بقاء اور ترقی کیلئے ناگزیر ہے‘ دور جدید میں ملکی دفاع کا فریضہ صرف مسلح افواج کے سپرد نہیں کیا جا سکتا بلکہ پوری قوم کی مکمل تائید اور شرکت ناگزیر ہو چکی ہے۔ دوران جنگ عوام کا ایثار اور جذبہ قربانی مسلح افراد کو میدان جنگ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی دینے پر تیار کر دیتا ہے۔ 1965ء کی جنگ میں ہمارے فوجیوں نے دشمن کے ٹینکوں کو اپنے جسم کیساتھ بارودی سرنگیں باندھ کر تباہ کیا۔ وہ صرف اس لئے کہ پوری قوم اس وقت افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔ لیکن 1971ء میں ہماری ناقص سیاسی اور فوجی حکمت عملی کی وجہ سے مشرقی پاکستان کے عوام کی تائید اور حمایت حاصل نہ ہو سکی تو ہم اپنے ملک کا آدھا حصہ گنوا بیٹھے۔
بدقسمتی سے 64سال گزر جانے اور ملک کے مشرقی حصے سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے باوجود ملک میں قومی یکجہتی اور اتحاد کا فقدان ہے اور ہم سندھی، پنجابی، پٹھان، سندھی اور مہاجر زیادہ اور پاکستانی کم ہیں۔ یہ اندرونی خلفشار ہماری سب سے بڑی قومی کمزوری اور خامی ہے۔ حکومتی سطح پر اسکا گہرائی میں تجزیہ اور اسکا سدباب بے انتہا ضروری ہے کیونکہ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے اور ہمارا ازلی دشمن دن بدن اپنے آپکو تباہ کن ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے۔ آزادی کے بعد اب تک معاشی اور معاشرتی توازن قائم نہیں ہو سکا۔ ہم ابھی تک علاقائی اور صوبائیت کی سیاست سے باہر نہیںہو سکے۔ اس سلسلے میں سکالر Mr. William Brands (ولیم جے برینڈز) لکھتے ہیں:
The country never developed a political system that provided the measure of participation for different areas and different clauses that might have allowed a sense of nationhood to develop.
یعنی ابھی تک ملک میں ایسا سیاسی نظام رائج نہیں ہو سکا جس سے طبقاتی اور سیاسی ہم آہنگی اور پاکستانی قومیت کا احساس اجاگر اور مستحکم ہو۔
مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر ملک طوائف الملوکی اور انتشار کا شکار ہے اور اس ملکی سالمیت مسلسل خطرات کا شکار ہے۔ اس سلسلے میں چند گزارشات درج ذیل ہیں:
اول: وفاق کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کیا جائے۔ نیز صوبائی خودمختاری کے ذریعے صوبوں کو اپنے وسائل بروئے کار لا کر عوام کیلئے دفاع عام کیلئے زیادہ سے زیادہ منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا جائے۔
دوم: عوام کو ملکی امور چلانے کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ مواقع مہیا کئے جائیں۔ اس کیلئے (Local Bodies) کے سسٹم کو فعال بنایا جائے اور اختیارات (Grassroot Level) یعنی بنیادی سطح تک منتقل کر دئیے جائیں۔
سوم: Ombudman کا نظام ضلع سطح تک رائج کیا جائے تاکہ لوگوں کو انصاف کے حصول میں آسانیاں میسر آئیں۔ اس سلسلے میں ضلعی اور سیشن عدالتوں کی سطح پر جیوری کا نظام قائم کیا جائے جو کہ ہماری اسلامی روایت بھی ہے۔
چہارم: ہمارے لئے تعلیمی نظام کی اصلاح وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ گورنمنٹ کے اداروں کو زیادہ سے زیادہ فعال بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو معیاری تعلیم کی سہولیات میسر آ سکیں۔
پنجم: ملکی دفاع کو مضبوط کرنے کیلئے سکول اور کالج کی سطح پر لازمی فوجی ٹریننگ کا فوری طور پر اجرا کیا جائے تاکہ سیکنڈ لائن دفاع کو یقینی اور مضبوط بنایا جا سکے۔
ششم: دوقومی نظریہ کی اہمیت کو ٹی وی پروگرامز کے ذریعے اجاگر کیا جائے۔ نیز سکول اور کالج کی سطح پر جناب مجید نظامی کی تقلید کرتے ہوئے نظریہ پاکستان کے حوالے سے سیمینار اور دیگر پروگرام مرتب کئے جائیں تاکہ نئی نسل کو اس بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے۔
ہفتم: ہندوستان جو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کے اصل چہرے کو بے نقاب کیا جائے اس سلسلے میں مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر روا رکھے جانیوالے مظالم کے معاملہ کو ہر سطح پر اٹھایا جائے اس کیلئے تمام سفارتی نمائندوں کو ہدایات دی جائیں۔
ہشتم: بھارت نے اپنے ٹی وی پروگراموں کے ذریعے پاکستان کیخلاف پراپیگنڈے کا جو سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ہمیں اس کا موثر جواب دینا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بیشتر ٹی وی چینل صرف پیسہ کمانے کیلئے بھارتی ڈرامے اور فلمیں دکھاتے ہیں۔ ان کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ نیز بھارتی فلموں کی نمائش پر بھی مکمل پابندی لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ ٹی وی کے علاوہ اخبارات اس سلسلے میں بے حد موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مجاہد صحافت جناب مجید نظامی پاکستان اساس کے تحفظ اور ہندو کے مسلمان دشمن رویے کے دلسلے میں جو جہاد کر رہے ہیں اسکی تقلید کرتے ہوئے تمام ملکی اخبارات اور رسائل کو اس میں حصہ لینا ضروری ہے اور ’’امن آشا‘‘ جیسے دھوکے کیخلاف عوام کو مطلع (Educate) کی جائے۔
نہم: پاکستان کے ایٹمی پروگرام کیخلاف بھارت اور مغربی ممالک دن رات پراپیگنڈے میں مصروف ہیں اور اس کو ختم کرنے کیلئے مختلف حیلے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اس خطے میں ایٹمی دوڑ شروع کرنے کا ذمہ دار بھارت ہے اس لئے پاکستان کو اپنے دفاع کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول اس کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مشہور سکالر سٹیفن کوہن اپنی "The Pakistan Army" میں لکھتا ہے کہ
"There are extremely persuance strategic reason for Pakistan to go ahead with miobidry nuclear pgoramme, even if the political diplomatic and economic is substantia"
چند اہم تزویرانی وجوہات کی بناء پر پاکستان کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کا حصول ناگزیر ہے۔ چاہے اس کیلئے اسے بہت ہی بڑی سیاسی سفارتی اور معاشی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے
قارئین! ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کا ایک الگ وطن کا مطالبہ ایک سیاسی اور آئینی اقدام تھا جس کی بڑی وجہ وہ گھٹن تھی جس نے مسلمانوں کو ایک لمبے عرصے سے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ اس پورے معاملے میں ہندوستان مسل دشمنی نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ شدھی، سنگھٹن جیسی تحریکوں کے ذریعے مسلمانوں کا علیحدہ تشخص کو مٹانے کے درپے تھے اور وہ انہیں دلت اور شودھر ذات کے باشندوں کے برابر بھی حقوق دینے کے حق میں نہ تھے۔ ظاہر ہے اس ناقابل برداشت صورتحال کی وجہ سے مسلمانان ہند کیلئے ایک الگ وطن کے مطالبے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
ہندوئوں کے اس غیرمنصفانہ اور ظالمانہ رویے نے دوقومی نظریے کی بنیاد ڈالی اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے تمام اختلافات بھلا کر متحد ہو جائیں اور پاکستان اور اسلام دشمن طاقتوں کے مضموم ارادوں کو خاک میں ملا دیں اور ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے کے قابل بنائیں۔
__________________
تم قاتل نہیں ہو پیشہ ور گدھے!

 
زبیرافتحار's Avatar
زبیرافتحار
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 611
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 475
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-08-11), پاکستانی (05-12-11), یاسر عمران مرزا (28-08-11), ننھا بچہ (26-08-11), محمد یاسرعلی (28-08-11), wajee (28-08-11), احمد نذیر (22-09-11), رضی (06-12-11)
پرانا 26-08-11, 08:59 PM   #2
Senior Member
 
زبیرافتحار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 611
کمائي: 11,084
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہم کو مٹاسکے یہ زمانے میں دم نہیں
زمانہ ہم سے ہے.ہم زمانے سے نہیں
افسوس کوشش کے باجود شعر درست نہیں ہوں
مجھے شیروشاعری نہیں آتی
زبیرافتحار آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-08-11), محمد یاسرعلی (28-08-11)
پرانا 26-08-11, 09:07 PM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,720
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

"ہم سے ہے زمانہ، زمانے سے ہم نہیں"
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (26-08-11), محمد یاسرعلی (28-08-11), سیفی خان (26-08-11), عبداللہ آدم (31-08-11)
پرانا 28-08-11, 10:18 AM   #4
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,658
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھا مضمون ہے حقائق کا بہت اچھے طریقے سے تجزیہ کیا گیا ہے

زی بھائی اچھی ٹرائی ہے ٹرائیاں ماریں ہم بھی تو بے طقی ٹرائیاں مارتے ہیں ہم بھی کوئی شاعر تھوڑے ہیں
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-08-11, 11:34 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,076
شکریہ: 5,188
5,037 مراسلہ میں 11,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گذارشات پر عمل ہونا چاہیے اچھی تجاویز ہے
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 22-09-11, 07:35 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بریگیڈیر صاحب! آپ کا یہ مضمون ساری قوم کے لیے آئینہ نما بن سکتاہے،کاش اسے کماحقہ ڈسپلے مل سکتا۔کاش قوم کے نوجوان اس پر غور وفکر کرتے اورتمام ارباب دانش اس طرح کے تجزیوں پرواہ واہ کرکے ہی نہ رہ جاتے،بلکہ ہمارے اس نظریاتی ملک کو ہندو قوم اوردیگر دشمن طاقتوں سے جو خطرات لاحق ہیں ان کاصحیح معنوں میں ادراک کرتے اور ملک کی کشتی کو ان سے بچا کر ساحل مراد پر اتارنے کی تمام تدابیر بروئے کار لاتے۔
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-12-11, 09:41 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بریگیڈئیر صاحب،

اس کا جواب میرے پاس یہ ہے


براہمن، کھتری ، شودر ہو ، یا ہو کوئی گندا
سب کی سمجھ میں‌آجائے گا مساوات کا فنڈا

کراچی سے کلکتے تک سب ایک ہو جائے گا
ہندو ندی کے آر پار مسلم ہر ایک ہو جائے گا

سولہ روپ نہا کر راوی سے ملنے آئے گی گنگا
اسلام آباد کی چھاتی سے لہرائے گا بھارت پر جھنڈا

گندا : مسلمان کو ہندو ملیچھ یعنی گندا کہتے ہیں
فنڈا: ہندوستان میں فندامینٹلز کے لئے فنڈا کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں

ہندو ندی: ہندو ندی یعنی سندھو ندی ۔۔۔۔ سندھ کا عربی نام ہند ۔ جس سے لفظ‌ہند اور ہندو نے رواج پایا۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
country, death, pakistan, system, ہندو, فرض, کالج, پاکستان, واقعات, قائداعظم, نفرت, چین, چینل, موت, موجودہ, منتقل, مجید, معاشرہ, آبادی, آج, دھماکہ, دوست, سیاست, علی, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:18 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger