متحدہ قومی موومنٹ نے 26 جون کو مہاجرین کی دونشستوں پر انتخابات کے التوا کو جواز بناکر آزاد کشمیر کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے پیپلزپارٹی پر الزام لگایا ہے کہ وہ مہاجرین کی نشستوں سے ایم کیو ایم کو دستبردار کرانے کے لیے دباو ڈال رہی تھی اور انکار کی صورت میں انتخابات ملتوی کردیئے گئے۔ ایم کیو ایم نے انتخابات کے التوا کے فیصلے کے خلاف سندھ اسمبلی سے واک آوٹ اور کراچی پریس کلب پر پی پی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے التوا میں اس کا کوئی کردار نہیں، انتخابات الیکشن کمیشن آف آزاد کشمیر نے سیکورٹی خدشات کی بنا پر ملتوی کیے ہیں۔ ترجمان کے مطابق پی پی اور ایم کیو ایم مشترکہ طور پر الیکشن کمیشن سے جلدازجلد انتخابات کے انعقاد کی درخواست کریں گے۔
کراچی کا حلقہ انتخاب بہت بڑا ہے، اس میں لاہور، رحیم یار خان اور کوئٹہ سمیت کراچی کے ووٹر شامل ہیں، جبکہ کراچی میں سیکورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، الیکشن کے موقع پر 10 ہزار سیکورٹی اہلکار کشمیر بھیجے گئے ہیں۔ 26 جون کو الطاف حسین نے کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں عام کارکنان کے اجلاس سے ٹیلی فونی خطاب میں انتخابات کے التوا کے فیصلے کو غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ رابطہ کمیٹی کشمیر میں الیکشن کے خلاف عدالت میں جائے گی۔ الطاف حسین نے اپنے خطاب میں بین السطور پیپلزپارٹی سے علیحدگی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کھلی بدمعاشی کی ہے اور آج سے حکومت کی تباہی کا آغاز ہوگیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ حکمراں سن لیں یہ 88 یا 90 کی دہائی نہیں ہی، غنڈہ گردی 93ءمیں جنرل نصیر اختر نے بھی کی تھی۔
آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ اور الطاف حسین کے جنرل ورکرز سے خطاب کے فوراً بعد اگلے روز یعنی 27 جون کی شام ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں صوبائی اور وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا، ساتھ ہی عشرت العباد نے گورنر سندھ کی حیثیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ ادھر صدرآصف علی زرداری لندن پہنچ گئے ہیں جہاں پیدا شدہ نئی صورت ِحال پر ان کی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے ملاقات کا امکان ہے۔ حکومت سے ایم کیو ایم کی علیحدگی کے فیصلے کو پیپلزپارٹی کے رہنماوں نیابھی تک سنجیدہ نہیں لیا ہے اِس بار بھی ان کے خیال میں معاملات ٹھیک ہوجائیں گے، جبکہ عوام میں تقریباً یہی تاثر ہے، عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا حکومت میں آنا جانا لگا رہتا ہے اور اِس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔
لیکن ایم کیو ایم نے گورنر سندھ کے استعفے سمیت صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے علیحدگی کا فیصلہ خوب ناپ تول کر کیا ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے بائیکاٹ اور حکومت سے علیحدگی کے اصل محرکات کیا ہیں۔ کشمیر کی مہاجرین کی سیٹوں پر انتخابات کا التوا تو پی پی کی کھلی بدنیتی ہے۔ کشمیر کے انتخابات میں اسے خطرہ تھا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ نہیں کرسکے گی۔ لیکن جو نتائج سامنے آئے وہ پیپلزپارٹی کی توقعات کے برعکس تھے۔ آزاد کشمیر میں پی پی کی 19 سیٹوں پر کامیابی فی الحقیقت پی پی کی فتح نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی شکست ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی بے عملی، فرینڈلی اپوزیشن کے کردار اور کشمیری عوام کے مسائل سے لاتعلقی کے باعث کشمیریوں نے پی پی کو ووٹ نہیں دیئے اور امر واقع بھی یہ ہے کہ شریف برادران نے قوم کو اپنا فیکٹری ورکرز سمجھ لیا ہے کہ وہ ہر حالت میں ان ہی کو ووٹ دیں گے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات مسلم لیگ (ن) کے لیے متوقع قومی انتخابات کے حوالے سے دھچکاہیں۔ پیپلزپارٹی کو اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ وہ اتنی بڑی کامیابی حاصل کرلے گی تو وہ ہرگز مہاجرین کی نشستوں پر انتخابات ملتوی کرکے اپنے حلیفوں ایم کیو ایم کو نظرانداز نہ کرتی۔ پیپلزپارٹی کو یہ بھی یقین تھا کہ ایم کیو ایم دھاندلی اور دہشت گردی کے ذریعے پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی، چنانچہ اس نے آزاد کشمیر اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کوئی خطرہ مول نہیں لیا اور انتخابات ملتوی کرادیئے۔ انتخابات تو صرف دو نشستوں پر ملتوی ہوئے تھے لیکن ایم کیو ایم نے پورے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کردیا۔
انتخابات کے التوا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ ایم کیو ایم کے لیے کھلا تھا اور اس نے اعلان بھی کیا تھا کہ وہ عدالتوں سے رجوع کرے گی، سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر بھی کردی گئی تھی لیکن پورے انتخابی عمل کے بائیکاٹ کی دو ہی وجوبات ہوسکتی ہیں، (1) شکست کا خوف، (2) سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے علیحدگی کا فیصلہ۔ اغلب یہ ہے کہ موخر الذکر وجہ زیادہ وزنی ہے۔ ایم کیو ایم کی 25 سالہ تاریخ ہرچند کہ اقتدار کے مزے لوٹنے سے عبارت ہے، وہ ہر حکومت میں شاملِ اقتدار رہ کر سیاسی و مادی فوائد سمیٹتی رہی ہے، لیکن الیکشن جوں ہی نزدیک آتے ہیں اس کے پیٹ میں مہاجروں اور کراچی کا درد اٹھ جاتا ہے اور وہ حکومت سے علیحدگی کو اس کا آزمودہ علاج سمجھتی ہے۔ ایم کیو ایم کا صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے علیحدگی کے فیصلے کا شاخسانہ بھی ماضی کا یہی آزمودہ اور کامیاب تجربہ ہے۔
ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں میں اردو بولنے والوں کی حمایت 1997ءکے انتخابات میں کھوچکی تھی، 2002ءاور 2008ءکے انتخابات میں کامیابی دھاندلی کی مرہون منت ہے، 2008ءکے انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی کے ساتھ سندھ اور وفاق میں تقریباً 3½ سال تک حکومت میں رہی۔ اب جبکہ انتخابات نزدیک ہیں اور سیاسی صورت حال مڈٹرم انتخابات کی جانب جاتی دکھائی دے رہی ہے تو اقتدار کی کشتی سے چھلانگ لگانے میں ایم کیو ایم نے عافیت سمجھی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے دورِ حکومت میں کراچی میں لاقانونیت اور بدامنی کی انتہا بالخصوص بجلی کے بحران پر بے حسی سے ایم کیو ایم کے خلاف کراچی اور سندھ کے شہریوں کا غصہ عروج پر ہے۔
چنانچہ عوام کا دباو، غم و غصہ اور سیاسی مستقبل کی تاریکی کا خوف وہ بنیادی وجہ ہے جس نے ایم کیو ایم کو حکومت سے علیحدگی پر مجبور کیا۔ ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کے بعد پہلا سوال تو یہی ہے کہ وہ دوبارہ حکومت میں واپس جائے گی یا نہیں؟ اندازہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ ناقابلِ واپسی ہے۔ اس کی وجہ ہم نے اوپر بیان کردی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی علیحدگی کے پیپلزپارٹی پر کیا اثرات ہوں گی؟ یقینا پیپلزپارٹی کی قومی اسمبلی میں حمایت و طاقت میں کمی واقع ہوگی، لیکن وفاق اور صوبے کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم اپوزیشن کی حیثیت سے پی پی کو ٹف ٹائم دے گی، خصوصاً کراچی میں ہنگاموں و ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے، اور ایم کیو ایم سندھ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے سارے غیر جمہوری اور فسطائی ہتھکنڈے استعمال کرے گی۔ ایم کیو ایم نے جتنی بار بھی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا اس میں اس کے پیش نظر سیاسی و گروہی مفادات تھی، اس نے کبھی بھی عوامی مسائل پر حکومت سے علیحدگی اختیار نہیں کی۔
رپورٹ: بلال احد
ربط :
ایم کیو ایم کی علیحدگی کیا گل کھلائے گی؟ - Open Source رپورٹس , KARACHI UPDATES, Karachi