|
ایک امت، ایک آسمان پھر چاند ایک کیوں نہیں

17-07-11, 12:54 PM
اختلاف اور تنوع ہر جگہ، ہرصورت موجود ہے۔ (افتراق کی بات نہیں ہورہی کہ وہ ناپسندیدہ ہے)سورج کا طلوع دیکھےے۔ ہر روز ہر شمال یا جنوب کو سرکتا نظر آئے گا۔ اُس کی جائے غروب بھی بدلتی رہتی ہے۔ سورج کے اوقات ِطلوع اور اوقاتِ غروب بھی سارا سال روزانہ بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی ایک نہیں ہوتے۔ اوقاتِ سحروافطار بھی روزانہ بدلتے ہیں اور پورے کرہ¿ ارض پر ہر بستی اور ہر شہر میں مختلف ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی ایک نہیں ہوتے۔
اوقاتِ نماز تمام نمازوں کے اوقات ہر چند میلوں پر مختلف ہوتے ہیں۔ مثلاً اسلامی دن کے آغاز کا اعلان اذانِ مغرب سے ہوتا ہے۔ لاہورمیں مغرب کی نماز ہورہی ہے تو شیخو پورہ میں سورج کھڑا ہے۔ حتیٰ کہ کراچی میں نصف گھنٹہ بعد اذان مغرب ہوگی۔ یہ اختلاف کیوں ہے؟ کیا ایک ہی وقت طے نہیںہوسکتا۔ تاکہ شوکت ِ اسلام کا اظہار ہو؟ مکہ اور مدینہ حجاز مقدس ہمارا مرکز ِدل ونگاہ ہے۔ لیکن مغرب کی نماز کے لےے ہم اذانِ حرم کا انتظار نہیں کرسکتے۔ ورنہ دین کی تھوڑی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی ہماری نماز پر فوت ہونے کاحکم لگا دے گا۔ وہاں کی مغرب میں تو ہماری عشاءہوچکی ہوگی اور ہماری مغرب کے وقت وہاں عصر ہی کا وقت ہوگا۔ پاکستان میں اذانِ فجر کے وقت حرمین شریفین کے اہلِ تقویٰ آہِ نیم شبی کی لذتیں اٹھا رہے ہوں گے۔ حرمِ مکہ کی اذانِ فجر پر جدہ میں اذان نہیں دے سکتے۔ چند منٹ کا انتظار فرض ہوگا۔ حرمِ کعبہ کی اذان مغرب کے وقت دیارِ مصر، سوڈان، الجزائر، لیبیا، مراکش میں عصر کا وقت ہوگا۔ امریکا میں شاید ظہر کا وقت بھی نہ ہوا ہوگا اور جاپان، آسٹریلیا میں شاید فجر ادا کی جارہی ہوگی۔ یہ اختلاف اس لیے ہے کہ دنیا کے کسی نہ کسی گوشے میں کلمتہ اللہ کا بلندہونا ضروری ہے کہ اللہ کا نام کائنات کی جان ہے۔ جب اللہ کا نام نہ رہے گا تو کائنات مر جائے گی۔ (مفہوم حدیث)
الحمد للہ پوری دنیا میں اللہ کے نام لیوا محمدی موجود ہیں۔ ہرجگہ اختلافِ وقت ہونے سے کسی دن کوئی گھڑی ”اللہ سب سے بڑا ہے “ اور ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ کے کلمات سے خالی نہ ہوگی۔ آخری دین حق کا مرکز حجازِ مقدس (مکہ اور مدینہ) ہے۔ گلوب کے ۰۶۳ درجوں میں ہر درجے پر موجود محمدی پروانے پانچوں فرض نمازوں میں حرمِ مکہ کومرکز ِ توجہ بنائیں گے۔ سمتیں بھی اللہ کی ہیں مگر عبادت کے لےے مشرق یا مغرب، شمال یا جنوب کاحکم نہیں دیا گیا۔ ۰۶۳ درجوں پر گھوم کر ۰۶۳ رخ سمت ِ کعبہ کو قبلہ نماز بنائیں گے۔ اگر کوئی داعی اتحاد، پوری دنیا میں اذانِ حرم بوقت مغرب پر نمازِ مغرب کی دعوت دے گا یا تمام اہلِ اسلام کو ایک ہی جہت مشرق یا مغرب (سمت کعبہ نہیں) کی دعوت دے گا تو اُسے چار نمبر بس میں بٹھا کر عقلمندوں کی مجلس میں پاگل خانے بھیج دیں گے۔ آواز دو۔ وحدتِ امت کہاں ہے؟
ہاں یہ سارا اختلاف، اختلاف مطلوب ہے۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں۔ سورج، چانداور اوقات تو اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ (القرآن) کبھی رات بڑی کبھی دن بڑا اس اختلاف روزوشب میں اللہ کی نشانیاں ہیں۔(القرآن)
چاند مغرب سے طلوع ہوکر مغرب ہی کو غروب ہوتا ہے۔ زمین کے گرد حرکت کناں رہتا ہے۔ ہر ماہ بلکہ ہر روز اپنا نیا رستہ بناتا ہے۔ آغاز ماہ میں جس لائن پر نظر آتا ہے اُسے عالمی قمری خط تاریخ(ILDL) کہتے ہیں۔ اپنے دور میں کبھی جنوب مغرب کے مختصر علاقے میں اہلِ زمین کو نظر آتا پھر غروب ہوجاتا ہے۔ جسے ۶ نو مبر ۰۱۰۲ءہلال ذی الحجہ صرف سانتی آگو(جنوبی امریکا) امکان ہے۔ پھر ذرا آگے بڑھ کر ۵۲ عرض بلد شمالی(مشرق) سے ۰۵ عرض بلد شمالی (مغرب) سے جنوبی ممالک آسٹریلیا، ملائیشیا، سعودیہ، افریقہ، وسطی وجنوبی امریکا میں نظر آتا اور شمالی نصف کرہ کے باقی ممالک میں عدم رو¿یت کا اعلان کردیتا ہے جیسے ۷ نومبر۰۱۰۲ءہلال ذی الحجہ ۔ کبھی خط ِ استوا کے قریبی ممالک ملائیشیا، جنوبی بھارت، سعودیہ، افریقہ، جنوبی امریکا بشمول آسٹریلیا میں بھرپور رو¿یت لیکن نصف کرہ شمالی بشمول پاکستان نظر آنے سے انکار کردیتا ہے ، جیسے ۹ ستمبر ۰۱۰۲ءہلال عید الفطر جب خالق شمس وقمر نے خود ہی چاند کو متغیر الطریق بنایا ہے تو کسی عقلمند کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ ایک امت، ایک آسمان پھرچاند ایک کیوں نہیں؟ روزہ، عیدین، اعتکاف، قربانی اور حج کی تاریخیں ایک کیوں نہیں ۔ صاف بات ہے کہ یہ Non Issueلایعنی بات ہے۔ سورج کے اوقاتِ طلوع وغروب میں اختلاف ہے۔ سورج کے اپنے مشارق اور مغارب میں روزانہ اختلاف ہے۔ چاند کے روٹ میں روزانہ کا اختلاف ہے۔ وفی انفسکم اپنی جانوں میں غور کرو۔ ملائیشیا، چین، جاپان کے لاالہ الا اللہ کہنے والے اپنے کلمہ گو بھائیوں، افغان ، لبنان اور مصر کے محمدیوں کے سامنے بونے لگیں گے۔ نہ رنگ ایک، نہ نسل ایک، ہزاروں مختلف بولیاں بلکہ ایک ہی خطے میں بولی الگ۔ اربوں انسانوں کی شکل وصورت، لہجہ ، چال ڈھال اختلاف کے رنگ میں رنگی۔ مگر جاپاں اور چین کے کلمہ گو اور لبنان، شام، برطانیہ اور امریکا کے کلمہ گو افریقہ کے کالے بلال کے ہم نسل سب ایک دوسرے سے ہر لحاظ سے اختلاف کا رنگ لےے ہوئے۔ کون کون سے اختلاف کی بات کریں۔ ایک ہی ماں کے دس بیٹے مختلف شکلیں، مختلف عقلیں اور ذہن و عمل مختلف۔ اربوں کھربوں انسانوں کے انگوٹھوں انگلیوں کی لکیریں مختلف۔
آواز دو ، وحدت کہاں ہے:
ع اے ذوق اس چمن کو ہے زیب اختلاف سے
ہاں وحدتِ امت مطلوب ہے لیکن وہ وحدتِ ایمان ہے، وحدتِ عمل ہے، نبی کا فرمان اور علماءکی تشریح نشانِ راہ ہے۔ ہر جگہ ظاہراً اختلاف کے باوجود اصولی بات ہے اللہ ایک، اللہ کا آخری نبی ایک ، قرآن ایک، آخری نبی کا دین ایک، نبی کا فرمان وحدت نشان ایک، ہزار تنوع اور اختلاف کے باوجود نبی کی دعوت اور نبی کی امت ایک۔ ہزار اختلاف ہوں مگر نبی کے حکم، علماء، فقہا کی نشاندہی کے تحت ہم اسے وحدتِ امت کہیں گے۔ ہمارا مقصود ایک ہوگا۔ اللہ کے حکموں کو نبی کے طریقے پر چل کر ماننا اور نبی علیہ السلام کے طریقے بتانے کے لےے علماءاسلام فقہائے شرع محمدی کے قدموںمیں حاضری۔
بشکریہ نقیب ختم نبوت
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
|
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|