| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 288
|
||||
| 11 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | asakpke (13-06-11), shafresha (13-06-11), یاسر عمران مرزا (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (13-06-11), سام (13-06-11), سحر بٹ (12-06-11), شھزادباجوہ (14-06-11), شمشاد احمد (12-06-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس ميں كوئي شك نہيںكہ اسلام تلوار كے زور سےنہيں اہل اسلام كے كردار اور عمل كو ديكھ كر پھيلا ہے۔۔۔۔۔تلوار تو صرف اسلام كي راہ ميں ركاوٹ ڈالنے والے سركش عناصر كے لئے ہے جو بار بار بات سمجھانے كے بھي صرف اپنے مفادات كے چكر ميں لاكھوں خلق خدا كو بھي اس دين رحمت سےدور ركھنے سے باز نہيں آتے۔۔۔
سہيل احمد جيسے بہت سے ايسے لوگ ہيں جو اپنے كردار اور عمل سے اپنے مذہب اور ملك كا نام روشن كرتے ہيں۔۔۔ ليكن حاليہ دنوں ميں اس قسم كے واقعات كو مغربي ميڈيا كے ذريعہ اجاگر كرنا اسي سلسلے كي ايك كڑي ہے جو برسوں سےچل رہا ہے۔۔۔۔ مغرب خصوصا امريكہ كي پاليسي يہي رہي ہے كہ ہر دس سال بعد وہ اپنے دشمن كو تبديل كرتا ہے۔۔۔۔ يا اس سے دشمني كا انداز تبديل كرتا ہے۔۔۔۔۔۔لہذا اب يہي دجالي ميڈيا جس نے اسلام كو خونخوار مذہب كےطور پر پيش كيا۔۔۔۔ تھا وہي اسے رحمت اور امن كاعلمبردار قرار دے كر دنيا بھر كے مسلمانوں كو يہ دعوت فكر دے رہا ہےكہ ہم سے غلطي ہو گئي تھي۔۔۔ اس معمولي سے غلطي كي پاداش ميں لاكھوں مسلمان قتل ہو گے۔۔۔اجڑ گئے ہنستے بستے گھر تباہ و برباد ہو گے۔۔۔۔۔ اب ہميں اس كا احساس ہو گيا ہے۔۔۔۔ اس سوري فار ديٹ۔۔ اور ہم مسلمان خوش ہو كر پھولے نہيں سمائيںگے كہ ديكھو جي۔۔۔۔۔گورے كو اپني غلطي كا احساس ہو گيا ہے۔۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,028
شکریہ: 25,208
16,384 مراسلہ میں 41,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اشاعت اسلام اور تلوار |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,213
کمائي: 17,917
شکریہ: 2,322
912 مراسلہ میں 2,327 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
94ءکی بات ہے۔ہمارےاستادڈاکٹرمغیث الدین نےایک بارشعبہ کی لائبریری میں منقعدسیمینارمیں کچھ پیش گوئیاں کیں۔یہ پیش گوئیاں انہوں نےامریکی اخبارات وجرائدکوبنیادبناکرکیں ۔وہ تازہ تازہ پی ایچ ڈی کرکےلوٹےتھےاورانکی معلومات بھی تازہ تھیں۔انھوں نےبتایاکہ سوویت یونین کےٹوٹنےسےپہلےامریکہ نےکیمونزم اورروس کی گرم پانیوں کی حکمت عملی سےدنیاکوخوفزدہ کیے رکھا۔اب ussrکوروس کی حدودتک محدودکرکےوہ نئےدشمن کی سرکوبی کرنےکےلیےزمین ہموارکررہاہے۔انھوں نےچندامریکی اخبارات دکھائے۔ایک کی شہ سرخی تھی
islam is a rising threat اورایک مجلے کےسرورق پراونٹوں میں سوارمسلمان ڈھاٹےباندھےآرہےتھےاورلکھا تھا islam is coming,islam is coming اوراسی طرح نقاب پوش عورتوں کی تصاویرتھیں مختلف کیپشنزکے ساتھ۔ استادصاحب نےمژدہ سنایاکہ تیارباش اگلی باری ہماری ہے۔ہماراشایدروس سےبھی براحشر ہو ۔اس وقت اتنےmature نہین تھےکچھ سمجھ ائی کچھ نہین اب اس عمرمین بہت عوروفکر کیالیکن مجھےآج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہم جانتے ہیں کہ دشمن کون ہے جانتے ہیں کہ وہ تیاری کر رہاہےتو50 سے زائداسلامی ممالک اپنے بچاو کےلیےکوشش کیوں نہیں کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےفرمان کے مطابق اپنےگھوڑےکیوں تیارنہیں رکھتے کیوں ذلیل ہورہےپیں۔ Last edited by سام; 13-06-11 at 03:23 AM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (13-06-11), skjatala (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (13-06-11), شھزادباجوہ (14-06-11), شمشاد احمد (13-06-11) |
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,028
شکریہ: 25,208
16,384 مراسلہ میں 41,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
نفسا نفسی، بے اطمینانی، ظلم اور نا انصافی کے اس دور میں جہاں انسان تمام آسائشوں کے میسر ہونے کے باوجود سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے وہاں ان نظریات اور مذاہب کی دلکشی اور جاذبیت میں اضافہ ہو گیا ہے جو قلبی سکون و اطمینان، مراقبے اور دھیان و گیان جیسی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ جو لوگ تجسس اور تحقیق کی صفت سے متصف ہوں وہ اچھی طرح چھان بین کے بعد کوئی نیا نظریہ یا مذہب قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی اکثریت اسلام سے قریب تر ہو جاتی ہے۔ اور جو لوگ صرف ذہنی سکون کی تلاش میں ہوں اور تحقیق و تجسس کی صفت سے عاری ہوں تو ان کی اکثریت بدھ مت کے دھیان و گیان اور ہندو مت کے یوگا کی طرف مائل نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ و امریکہ میں بدھ مت کی دھیان و گیان (meditation)کی ریاضتوں اور یوگا کی طرف بہت زیادہ رجحان پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سے مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔ جس کا اظہار مختلف اوقات میں مختلف جائزوں میں پیش کیا جاتا رہتا ہے۔ یہ بات بہت ہی تسلسل کے ساتھ سننے میں آتی ہے کہ اسلام دنیا کا سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والا مذہب ہے اور دیگر مذاہب کو چھوڑ کر اسلام کو قبول کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بے شک یہ باعت باعث خوشی ہے اور ہر مسلمان اسے سن کر خوش ہوتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہیے لیکن میرا خیال ہے اس طرح کی باتوں پر خوشی کا اظہار کرنا اورمطمئن ہو جانا کہ اسلام اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور جلد ہی دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا اور مسلمان غالب ہو جائیں گے کافی نہیں ہے۔ اور اس طرح کی ہر بات کو بلا تحقیق سچ مان لینا اور اس میں مخفی رازوں کو جاننے کی کوشش نہ کرنا بھی کسی طور ہمارے لیے مفید نہیں۔ اسلام کے تیزی سے پھیلنے کی اکثر خبریں مغربی میڈیا اور وہیں کے تیار کردہ جائزوں کی روشنی میں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ ان میں سچائی کتنی ہے اور مبالغہ کتنا۔ اور اس مبالغے کے پس پردہ مقاصد کیا ہو سکتے ہیں۔ کسی جگہ سنا یا پڑھا تھا کہ ’’ اس طرح کے جائزے پیش کر کے اہل مغرب اپنے ہم وطنوں اور ہم مذہب افراد کے دلوں میں یہ خوف بٹھانا چاہتے ہیں کہ مسلمان بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اگر ان پر کنٹرول نہ کیا گیا اور انہیں روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ تم سے تمہارا سب کچھ چھین لیں گے اور جہاد کے ذریعے دنیا میں تباہی پھیلا دیں گے‘‘۔ یہ بات کس حد تک درست ہے اس کا صحیح اندازہ تو تحقیق کے بعد ہی لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر اہم دنیا میں پھیلنے والے دیگر مذاہب کا جائزہ لیں اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد پر نظر کریں تو کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسلام کے بڑھنے کی ان خبروں کے پس پردہ مقاصد واقعی وہ ہو سکتے ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ بدھ مت ایک قدیم مذہب ہے جس کا آغاز قبل مسیح میں ہوا تھا۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس کے ماننے والے پائے جاتے ہیں جن میں چین، جاپان اور انڈیا قابل ذکر ہیں۔ لیکن امریکہ میں ان کی تعداد بھی غیر معمولی ہے۔ 2007 کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں عیسائیت، یہودیت اور دہریت کے بعد چوتھا سب سے بڑا مذہب بدھ مت ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق صرف 1990 سے لے کر 2000 کے عرصے میں اضافے کا تناسب 170 فی صد بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں ان کے ہزاروں میڈیٹیشن سینٹرز ہیں۔ اور ان کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت ساری معلومات ہیں جن کو ذکر کرنے لیے ایک علیحدہ مضمون کی وسعت درکار ہو گی۔ یہ صرف ایک مذہب بدھ مت کے بارے میں ایک ملک امریکہ کے اعداد و شمار ہیں۔ اگر موضوع کو پھیلایا جائے تو اس طرح کے بے شمار حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | fazain (13-06-11), skjatala (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), حیدر (14-06-11), سام (13-06-11), شمشاد احمد (13-06-11), عبداللہ حیدر (13-06-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
راجہ بھائی آپ کی تحریر سے ایک نئی جہت سامنے آتی محسوس ہوئی پہلے کبھی دماغ اس طرف نہیں گیا،جزاک اللہ
|
|
|
|
| ابوسعد کا شکریہ ادا کیا گیا | شمشاد احمد (13-06-11) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جزاک اللہ خیر جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ليكن ہم ٹھہرے كنويں كے مينڈك۔۔۔۔۔ اور جب كنويں سے باہر نكلے تو بہت دير ہو چكي تھي۔۔۔۔ 9۔11 كا واقعہ ہمارے كراچي قيام كےدوران ہي پيش آ گيا اور ديكھتے ہي ديكھتے آج طالبان كےنام پر مذہبي جماعتيں اور فوج آمنے سامنے آگئي ہيں۔۔۔۔۔۔ اب ان خلائي طالبان كا مذہبي جماعتوں سےكتنا تعلق ہے۔۔۔۔ كوئي كتنا ہي پيٹتا رہے۔۔۔۔ ليكن مفاد پرستوں كي مفاد پرستي كے سامنے ان كا واويلا نقار خانے ميںطوطي كي آواز كي سي حيثيت بھي نہيں ركھتا۔۔۔۔۔۔ افسوس تو اس بات كا ہے كہ اب آئےدن يہ خليج مذہبي جماعتوں اور فوج كےدرميان سےنكل كر عوام اور فوج كے درميان حائل كر دي گئي ہے۔۔۔۔۔ جس كي وجہ سے آج گھر گھر۔۔۔۔پاكستاني اپني پوليس، رينجرز اور فوج سےخوف زدہ ہے۔۔۔۔اور تو اور عبد القدوس بھائي كا اللہ بھلا كرے كہ وہ ہميں ان طريقوں سے آگاہ كر رہے ہيں جن كي بدولت ہم خود كو اپنے ہي محافظوں سےمحفوظ ركھ سكتے ہيں۔۔۔۔۔۔ يہ اصل ميں عكاسي ہے۔۔۔ ہمارے معاشرے اور اور ہمارے سيكيورٹي اداروں كے باہمي تعلق كي۔۔۔۔ لہذا اس وقت ہميں صرف اور صرف مخلص قيادت كي ضرورت ہے۔۔۔۔ اور جب تك ہم خود قيادت تلاش نہيں كريںگے۔۔۔۔ تو يہ بار بار كےپٹے ہوئے پيادے ہميںكہيں كا نہيں رہنے ديںگے۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
انسان کی کامیابی صرف اسلام میں ہے دنا میں سب سے غریب انسان وہ ہے جس کے پاس ایمان نہ ہو
__________________
زمانہ دیکھے گا جب میرے دل سے
محشر اٹھے گا گفتگو کا |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,887
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پر مغز تبصروں کے لیئے جناب مہاراجہ اکرام الحق اور جناب شمشاد احمد کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنی مصروف زندگی میں سے قیمتی وقت دیا۔
سب احباب کو اللہ جزائے خیر دے ۔ آمین |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا | حیدر (14-06-11), شمشاد احمد (17-06-11) |
![]() |
| Tags |
| فروخت, پولیس, پاکستانی, واقعات, قرآن, لطیفہ, چینل, نظر, موت, آج, اللہ, امریکہ, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, بھائی, بچوں, تعلیم, خلاف, دل, رات, زرداری, شخص, عورت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میں تو لفظ لفظ تیری تیری ذات ہوں | زارا | شعر و شاعری | 1 | 12-02-11 07:53 AM |
| گھریلو صارفین احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گیس کی بو ہو تو بجلی کے بٹن آن نہ کریں | گلاب خان | خبریں | 1 | 08-01-11 12:29 PM |
| کرپٹ افسران کے خلاف شکنجہ تیار کرنے کی تیاری | جاویداسد | خبریں | 1 | 27-07-10 01:14 PM |
| بے احتیاطی یا تیز رفتاری کا نتیجہ | مسافر | دلچسپ اور عجیب | 3 | 02-10-09 01:03 PM |
| تفتیشی ٹیم کو موت کی وجہ جاننے سے آگے کا اختیار نہیں، برطانوی ہائی کمیشن | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 07-01-08 07:51 AM |