واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ایک امریکی کا قبول اسلام ,,,,آج کی دنیا…اشتیاق بیگ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-06-11, 10:10 PM   #1
ایک امریکی کا قبول اسلام ,,,,آج کی دنیا…اشتیاق بیگ
skjatala skjatala آف لائن ہے 12-06-11, 10:10 PM

رات 12بجے کا وقت تھا۔ نیویارک میں بیس سال سے مقیم پاکستانی نژاد 47 سالہ محمد سہیل اپنا اسٹور بند کرنے کی تیاری کررہا تھا کہ اچانک ایک نقاب پوش امریکی ہاتھ میں بیس بال کا بلا پکڑے اسٹور میں داخل ہوا اور سہیل کو چیختے ہوئے کہا کہ تمہارے پاس جتنی بھی رقم ہے اسے میرے حوالے کردو ورنہ میں تمہیں مار ڈالوں گا۔ سہیل نے یہ دیکھتے ہی کاؤنٹر کے نیچے رکھی اپنا پستول نکالی ۔ سہیل کے ہاتھوں میں پستول دیکھ کر ڈکیت کو اپنی موت نظر آئی اور اس نے بلے کو فوراً پھینکتے ہوئے سہیل سے اپنی جان بخشی کی بھیک مانگی اور روتے ہوئے کہا کہ وہ بیروزگار ہے اور اس کے بچے پچھلے کئی دنوں سے بھوکے ہیں اور اس مجبوری کے تحت وہ ڈکیتی کرنے پر مجبور ہوا ۔ سہیل کا دل اس کے آنسو دیکھ کر پسیج گیا اور اس نے ڈکیت سے کہا کہ اگر وہ آئندہ ڈکیتی نہ کرنے کا وعدہ کرے تو وہ اسے معاف کرسکتا ہے ۔وعدے کے بعد سہیل نے اس کو کھانا کھلایا اور اپنی جیب سے چالیس ڈالر دیئے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے کھانا لے جائے۔ امریکی ڈکیت کے لئے سہیل کا یہ رویہ حیران کن تھا ڈکیت نے سہیل سے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اپنی دکان میں ڈکیتی کی اس کوشش پر مجھے ہلاک یا پولیس کے حوالے کرسکتے تھے۔ آپ نے نہ صرف مجھے معاف کیا بلکہ میرے بھوکے بچوں پر ترس کھا کر ان کے کھانے کے لئے رقم بھی دی ۔ سہیل نے اس امریکی سے کہا کہ اس کا مذہب اسلام رحم دلی کی تعلیم دیتا ہے۔ امریکی سہیل کی عفوو درگذر سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے سہیل سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بھی اسلام قبول کرنا چاہتا ہے ۔ سہیل نے اس سے کہا کہ اگر تم کسی دباؤ یا خوف کے بغیر دل سے مسلمان ہونا چاہتے ہو تو میں تمہیں کلمہ شہادت پڑھاتا ہوں اور اس طرح امریکی نے اپنے ہاتھ اُٹھا کر کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدﷺ اس کے رسول ہیں۔ سہیل نے اسے قبول اسلام کی سعادت حاصل کرنے پر گلے لگا کر مبارکباد دی اور اسے کہا کہ تم آج سے میرے مسلمان بھائی ہو اور تمہارا اسلامی نام نوازشریف زرداری ہے۔ سہیل نے یہ نام اس لئے تجویز کیا کہ اس واقعے سے قبل وہ ایک پاکستانی ٹی وی چینل پر خبریں دیکھ رہا تھا جس میں زرداری اور نوازشریف کا نام لیا جارہا تھا اور جلدی میں یہی نام اس کے ذہن میں آیا ۔
اس واقعے کی خبر نیویارک میں مقیم مسلمانوں اور امریکی میڈیا کو ہو گئی کہ کس طرح ایک پاکستانی نے رحم دلی کی ایک نادر مثال قائم کی۔ ایک دن پہلے اُوباما کی کی گئی اس تاریخی تقریر جس میں انہوں نے مسلمانوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا نے امریکی میڈیا کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مائل کیا اور اس کے نتیجے میں امریکی میڈیا جو ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے نے بھی اس خبر کی بھرپور تشہیر کی اور بین الاقوامی اداروں نے محمد سہیل کو انٹرویو کے لئے بلایا اور اس واقعے کی تفصیلات نشر کیں اور امریکیوں کو یہ باور کروایا کہ مسلمانوں سے خطاب کے بعد امریکیوں اور مسلمانوں کے رویّے میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ محمد سہیل کے کردار کو امریکہ سمیت پوری اسلامی دنیا نے سراہا اور محمد سہیل راتوں رات ایک ہیرو کے طور پر اُبھرا ۔
سہیل کا انٹرویو جب میں نے بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر دیکھا تو مغربی میڈیا کی یہ تبدیلی میرے لئے حیرانی کا باعث بنی۔ کل تک امریکی میڈیا جو اسلام اور مسلمانوں کوغلط روپ میں پیش کرتا آیا تھا۔ شاید امریکی میڈیا نے بھی امریکی حکومت کی طرح اپنی غلطیوں پر نادم ہوکر اپنے رویّے میں تبدیلی لائی ہے۔9/11کے بعد امریکی میڈیا کے مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کے بارے میں غلط پروپیگنڈے کا ایک لطیفہ جو امریکہ میں مقیم پاکستانیوں میں مشہور ہوا جو ازراہ مذاق مجھے میرے ایک کرم فرما نے ای میل کیا کہ نیویارک میں سڑک پر چلتے ہوئے ایک امریکی عورت پر ایک کتا حملہ آور ہوا، عورت زمین پر گر گئی ۔لگتا تھا کہ کتا عورت کی جان لے لے گا ۔ موقع پر موجود مجمع میں کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس خونخوار کتے سے اس عورت کی جان بچاتا ۔ مجمع میں موجود ایک پاکستانی نے عورت کی جان بچانے کیلئے آگے بڑھ کر کتے کی گردن کو اپنے بازوں میں دبوچ لیا ۔ اس طرح اس پاکستانی نے امریکی عورت کی جان بچا لی مگر کتا دم گھٹنے سے مر گیا۔ دوسرے دن امریکی اخبارات نے اس خبر کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا کہ ایک بہادر امریکی ہیرو نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک امریکی خاتون کی خونخوار کتے سے جان بچا لی۔ حکومت کو اس امریکی کو انعام سے نوازنا چاہئے ۔پاکستانی نے اگلے روز اخبار کے دفتر فون کیا کہ میں ہی وہ شخص ہوں جس نے اس امریکی عورت کی جان بچائی مگر میں امریکی نہیں پاکستانی ہوں۔دوسرے دن انہی اخبارات نے اس خبر کو اس طرح شائع کیا کہ پاکستانی دہشت گرد نے ایک امریکی کتے کی جان لے لی ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ دہشت گرد کو امریکہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں اور اسے ڈیپورٹ کیا جائے۔ اس لطیفے سے امریکی میڈیا کے مسلمانوں کے خلاف رویّے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق یورپ اور امریکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور قرآن یورپ اور امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔ 11ستمبر کے بعد لوگوں کو یہ تجسس ہوا کہ یہ کیسا مذہب کہ جس کے نام لیوا اس پر پروانہ وار جانیں نچھاور کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اسی جستجو نے انہیں قرآن کے مطالعے کی طرف راغب کیا جس سے انہیں اسلام کو سمجھنے کا موقع ملا۔ انہیں یہ علم ہوا کہ اسلام ایک جامع مذہب ہے، انہیں قرآن کے مطالعے سے قلبی سکون بھی حاصل ہوا۔ انہیں یہ احساس ہو اکہ اسلام کے متعلق ان کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا کردی گئی تھیں اسلام ویسا مذہب نہیں جیسا مغربی میڈیا اسے پیش کرتا ہے۔ اپنی حالیہ تقریر میں امریکی صدر بارک حسین اُوباما بھی اسلام کی تعلیمات سے متاثر نظر آئے۔ مغرب ہمیشہ یہ تشہیر کرتا رہا ہے کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے آج امریکیوں کو بھی سہیل کے اس رحمدلانہ کردار سے اس کا اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اسلام بروز تلوار نہیں بلکہ بزور کردار اور رحم دلی سے پھیلا ۔ اسلامی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے خود پیغمبر اسلام ﷺ کی رحم دلی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپﷺ نے اس ہندہ نامی عورت کو بھی معاف کردیا جس نے میدان جنگ میں آپﷺ کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد جب ہندہ حضور اکرم ﷺ کے سامنے پیش ہوئی تو حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ میں نے اسے معاف کیا مگر اسے کہہ دو کہ یہ میرے سامنے نہ آیا کرے کیونکہ اسے دیکھ کر مجھے میرے چچا  یاد آجاتے ہیں۔اسی رحم دلی کا مظاہرہ ڈیڑھ ہزار سال بعد آج ان کے ایک ادنیٰ امتی نے امریکہ میں کیا اور اس طرح ایک غیر مسلم امریکی نے اسلام قبول کیا اور مغرب کے اس پروپیگنڈے کو غلط ثابت کیا کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ہے۔ اگر قارئین اس واقعے کی ویڈیو دیکھنا چاہیں تواسے YOUTUBEپر دیکھا جاسکتا ہے۔
ربط: ایک امریکی کا قبول اسلام ,,,,آج کی دنیا…اشتیاق بیگ
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

 
skjatala's Avatar
skjatala
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 288
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
asakpke (13-06-11), shafresha (13-06-11), یاسر عمران مرزا (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (13-06-11), سام (13-06-11), سحر بٹ (12-06-11), شھزادباجوہ (14-06-11), شمشاد احمد (12-06-11)
پرانا 12-06-11, 10:28 PM   #2
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس ميں كوئي شك نہيں‌كہ اسلام تلوار كے زور سے‌نہيں اہل اسلام كے كردار اور عمل كو ديكھ كر پھيلا ہے۔۔۔۔۔‌تلوار تو صرف اسلام كي راہ ميں ركاوٹ ڈالنے والے سركش عناصر كے لئے ہے جو بار بار بات سمجھانے كے بھي صرف اپنے مفادات كے چكر ميں لاكھوں خلق خدا كو بھي اس دين رحمت سے‌دور ركھنے سے باز نہيں آتے۔۔۔

سہيل احمد جيسے بہت سے ايسے لوگ ہيں جو اپنے كردار اور عمل سے اپنے مذہب اور ملك كا نام روشن كرتے ہيں۔۔۔ ليكن حاليہ دنوں ميں اس قسم كے واقعات كو مغربي ميڈيا كے ذريعہ اجاگر كرنا اسي سلسلے كي ايك كڑي ہے جو برسوں سے‌چل رہا ہے۔۔۔۔

مغرب خصوصا امريكہ كي پاليسي يہي رہي ہے كہ ہر دس سال بعد وہ اپنے دشمن كو تبديل كرتا ہے۔۔۔۔ يا اس سے دشمني كا انداز تبديل كرتا ہے۔۔۔۔۔۔لہذا اب يہي دجالي ميڈيا جس نے اسلام كو خونخوار مذہب كےطور پر پيش كيا۔۔۔۔ تھا وہي اسے رحمت اور امن كاعلمبردار قرار دے كر دنيا بھر كے مسلمانوں كو يہ دعوت فكر دے رہا ہے‌كہ ہم سے غلطي ہو گئي تھي۔۔۔ اس معمولي سے غلطي كي پاداش ميں لاكھوں مسلمان قتل ہو گے۔۔۔‌اجڑ گئے ہنستے بستے گھر تباہ و برباد ہو گے۔۔۔۔۔ اب ہميں اس كا احساس ہو گيا ہے۔۔۔۔ اس سوري فار ديٹ۔۔

اور ہم مسلمان خوش ہو كر پھولے نہيں سمائيں‌گے كہ ديكھو جي۔۔۔۔۔‌گورے كو اپني غلطي كا احساس ہو گيا ہے۔۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-06-11), skjatala (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), حیدر (14-06-11), سام (13-06-11), شھزادباجوہ (14-06-11)
پرانا 13-06-11, 12:43 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,028
شکریہ: 25,208
16,384 مراسلہ میں 41,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
اس ميں كوئي شك نہيں‌كہ اسلام تلوار كے زور سے‌نہيں اہل اسلام كے كردار اور عمل كو ديكھ كر پھيلا ہے۔۔۔۔۔‌تلوار تو صرف اسلام كي راہ ميں ركاوٹ ڈالنے والے سركش عناصر كے لئے ہے جو بار بار بات سمجھانے كے بھي صرف اپنے مفادات كے چكر ميں لاكھوں خلق خدا كو بھي اس دين رحمت سے‌دور ركھنے سے باز نہيں آتے۔۔۔
اس حوالے سے یہ بھی اہم ہے
اشاعت اسلام اور تلوار
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-06-11), skjatala (13-06-11), حیدر (14-06-11), سام (13-06-11), شمشاد احمد (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 01:17 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,213
کمائي: 17,917
شکریہ: 2,322
912 مراسلہ میں 2,327 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

94ءکی بات ہے۔ہمارےاستادڈاکٹرمغیث الدین نےایک بارشعبہ کی لائبریری میں منقعدسیمینارمیں کچھ پیش گوئیاں کیں۔یہ پیش گوئیاں انہوں نےامریکی اخبارات وجرائدکوبنیادبناکرکیں ۔وہ تازہ تازہ پی ایچ ڈی کرکےلوٹےتھےاورانکی معلومات بھی تازہ تھیں۔انھوں نےبتایاکہ سوویت یونین کےٹوٹنےسےپہلےامریکہ نےکیمونزم اورروس کی گرم پانیوں کی حکمت عملی سےدنیاکوخوفزدہ کیے رکھا۔اب ussrکوروس کی حدودتک محدودکرکےوہ نئےدشمن کی سرکوبی کرنےکےلیےزمین ہموارکررہاہے۔انھوں نےچندامریکی اخبارات دکھائے۔ایک کی شہ سرخی تھی

islam is a rising threat
اورایک مجلے کےسرورق پراونٹوں میں سوارمسلمان ڈھاٹےباندھےآرہےتھےاورلکھا تھا
islam is coming,islam is coming
اوراسی طرح نقاب پوش عورتوں کی تصاویرتھیں مختلف کیپشنزکے ساتھ۔

استادصاحب نےمژدہ سنایاکہ تیارباش اگلی باری ہماری ہے۔ہماراشایدروس سےبھی براحشر ہو ۔اس وقت اتنےmature نہین تھےکچھ سمجھ ائی کچھ نہین

اب اس عمرمین بہت عوروفکر کیالیکن مجھےآج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہم جانتے ہیں کہ دشمن کون ہے جانتے ہیں کہ وہ تیاری کر رہاہےتو50 سے زائداسلامی ممالک اپنے بچاو کےلیےکوشش کیوں نہیں کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےفرمان کے مطابق اپنےگھوڑےکیوں تیارنہیں رکھتے کیوں ذلیل ہورہےپیں۔

Last edited by سام; 13-06-11 at 03:23 AM.
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-06-11), skjatala (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (13-06-11), شھزادباجوہ (14-06-11), شمشاد احمد (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 12:05 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,557
کمائي: 315,028
شکریہ: 25,208
16,384 مراسلہ میں 41,613 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ایک تحقیق کے مطابق یورپ اور امریکہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور قرآن یورپ اور امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔
السلام علیکم
نفسا نفسی، بے اطمینانی، ظلم اور نا انصافی کے اس دور میں جہاں انسان تمام آسائشوں کے میسر ہونے کے باوجود سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے وہاں ان نظریات اور مذاہب کی دلکشی اور جاذبیت میں اضافہ ہو گیا ہے جو قلبی سکون و اطمینان، مراقبے اور دھیان و گیان جیسی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔
جو لوگ تجسس اور تحقیق کی صفت سے متصف ہوں وہ اچھی طرح چھان بین کے بعد کوئی نیا نظریہ یا مذہب قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی اکثریت اسلام سے قریب تر ہو جاتی ہے۔ اور جو لوگ صرف ذہنی سکون کی تلاش میں ہوں اور تحقیق و تجسس کی صفت سے عاری ہوں تو ان کی اکثریت بدھ مت کے دھیان و گیان اور ہندو مت کے یوگا کی طرف مائل نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ و امریکہ میں بدھ مت کی دھیان و گیان (meditation)کی ریاضتوں اور یوگا کی طرف بہت زیادہ رجحان پایا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سے مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔ جس کا اظہار مختلف اوقات میں مختلف جائزوں میں پیش کیا جاتا رہتا ہے۔

یہ بات بہت ہی تسلسل کے ساتھ سننے میں آتی ہے کہ اسلام دنیا کا سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والا مذہب ہے اور دیگر مذاہب کو چھوڑ کر اسلام کو قبول کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بے شک یہ باعت باعث خوشی ہے اور ہر مسلمان اسے سن کر خوش ہوتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہیے
لیکن میرا خیال ہے اس طرح کی باتوں پر خوشی کا اظہار کرنا اورمطمئن ہو جانا کہ اسلام اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور جلد ہی دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا اور مسلمان غالب ہو جائیں گے کافی نہیں ہے۔ اور اس طرح کی ہر بات کو بلا تحقیق سچ مان لینا اور اس میں مخفی رازوں کو جاننے کی کوشش نہ کرنا بھی کسی طور ہمارے لیے مفید نہیں۔

اسلام کے تیزی سے پھیلنے کی اکثر خبریں مغربی میڈیا اور وہیں کے تیار کردہ جائزوں کی روشنی میں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ ان میں سچائی کتنی ہے اور مبالغہ کتنا۔ اور اس مبالغے کے پس پردہ مقاصد کیا ہو سکتے ہیں۔
کسی جگہ سنا یا پڑھا تھا کہ ’’ اس طرح کے جائزے پیش کر کے اہل مغرب اپنے ہم وطنوں اور ہم مذہب افراد کے دلوں میں یہ خوف بٹھانا چاہتے ہیں کہ مسلمان بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اگر ان پر کنٹرول نہ کیا گیا اور انہیں روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ تم سے تمہارا سب کچھ چھین لیں گے اور جہاد کے ذریعے دنیا میں تباہی پھیلا دیں گے‘‘۔

یہ بات کس حد تک درست ہے اس کا صحیح اندازہ تو تحقیق کے بعد ہی لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر اہم دنیا میں پھیلنے والے دیگر مذاہب کا جائزہ لیں اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد پر نظر کریں تو کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اسلام کے بڑھنے کی ان خبروں کے پس پردہ مقاصد واقعی وہ ہو سکتے ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

بدھ مت ایک قدیم مذہب ہے جس کا آغاز قبل مسیح میں ہوا تھا۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس کے ماننے والے پائے جاتے ہیں جن میں چین، جاپان اور انڈیا قابل ذکر ہیں۔ لیکن امریکہ میں ان کی تعداد بھی غیر معمولی ہے۔
2007 کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں عیسائیت، یہودیت اور دہریت کے بعد چوتھا سب سے بڑا مذہب بدھ مت ہے۔
ایک اور تحقیق کے مطابق صرف 1990 سے لے کر 2000 کے عرصے میں اضافے کا تناسب 170 فی صد بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں ان کے ہزاروں میڈیٹیشن سینٹرز ہیں۔ اور ان کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے علاوہ بھی بہت ساری معلومات ہیں جن کو ذکر کرنے لیے ایک علیحدہ مضمون کی وسعت درکار ہو گی۔

یہ صرف ایک مذہب بدھ مت کے بارے میں ایک ملک امریکہ کے اعداد و شمار ہیں۔ اگر موضوع کو پھیلایا جائے تو اس طرح کے بے شمار حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
fazain (13-06-11), skjatala (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), حیدر (14-06-11), سام (13-06-11), شمشاد احمد (13-06-11), عبداللہ حیدر (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 02:39 PM   #6
Senior Member
 
fazain's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 544
کمائي: 6,664
شکریہ: 602
343 مراسلہ میں 782 بارشکریہ ادا کیا گیا
fazain کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں fazain کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ راجہ بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
fazain آف لائن ہے   Reply With Quote
fazain کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (14-06-11)
پرانا 13-06-11, 07:24 PM   #7
Senior Member
 
ابوسعد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: فوق الارض
عمر: 36
مراسلات: 456
کمائي: 10,512
شکریہ: 1,763
319 مراسلہ میں 856 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

راجہ بھائی آپ کی تحریر سے ایک نئی جہت سامنے آتی محسوس ہوئی پہلے کبھی دماغ اس طرف نہیں گیا،جزاک اللہ
ابوسعد آف لائن ہے   Reply With Quote
ابوسعد کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 09:10 PM   #8
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,639
کمائي: 86,326
شکریہ: 9,608
4,225 مراسلہ میں 12,042 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللہ خیر جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-06-11, 09:55 PM   #9
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سام مراسلہ دیکھیں
94ءکی بات ہے۔ہمارےاستادڈاکٹرمغیث الدین نےایک بارشعبہ کی لائبریری میں منقعدسیمینارمیں کچھ پیش گوئیاں کیں۔یہ پیش گوئیاں انہوں نےامریکی اخبارات وجرائدکوبنیادبناکرکیں ۔وہ تازہ تازہ پی ایچ ڈی کرکےلوٹےتھےاورانکی معلومات بھی تازہ تھیں۔انھوں نےبتایاکہ سوویت یونین کےٹوٹنےسےپہلےامریکہ نےکیمونزم اورروس کی گرم پانیوں کی حکمت عملی سےدنیاکوخوفزدہ کیے رکھا۔اب ussrکوروس کی حدودتک محدودکرکےوہ نئےدشمن کی سرکوبی کرنےکےلیےزمین ہموارکررہاہے۔انھوں نےچندامریکی اخبارات دکھائے۔ایک کی شہ سرخی تھی

islam is a rising threat
اورایک مجلے کےسرورق پراونٹوں میں سوارمسلمان ڈھاٹےباندھےآرہےتھےاورلکھا تھا
islam is coming,islam is coming
اوراسی طرح نقاب پوش عورتوں کی تصاویرتھیں مختلف کیپشنزکے ساتھ۔

استادصاحب نےمژدہ سنایاکہ تیارباش اگلی باری ہماری ہے۔ہماراشایدروس سےبھی براحشر ہو ۔اس وقت اتنےmature نہین تھےکچھ سمجھ ائی کچھ نہین

اب اس عمرمین بہت عوروفکر کیالیکن مجھےآج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ہم جانتے ہیں کہ دشمن کون ہے جانتے ہیں کہ وہ تیاری کر رہاہےتو50 سے زائداسلامی ممالک اپنے بچاو کےلیےکوشش کیوں نہیں کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےفرمان کے مطابق اپنےگھوڑےکیوں تیارنہیں رکھتے کیوں ذلیل ہورہےپیں۔
ارے بھائي۔۔۔۔ يہ باتيں‌تو 94 سے كافي پہلے سے ہم سن رہے تھے۔۔۔۔ اخبارات ميں اس آرٹيكل آتے تھے۔۔۔ تجزيے تھے۔۔۔ بلكہ حيران كن بات يہ ہے كہ كراچي ميں‌قيام كے دوران كئي مرتبہ پرنٹ ميڈيا كے ذريعے ايسي خبريں سامنے آئي تھيں كہ 2010 تك پاكستان ميں مذہبي جماعتوں اور فوج كو باہم لڑا ديا جائے گا۔۔۔۔ ہماري سٹودنٹ لائف گزر رہي تھي تو ہم سٹوڈنٹ آپس ميں تبصرے كرتے تھے‌كہ ان ۔۔۔ اخبار والوں كو شرم نہيں آتي كہ اپنے دو چار روپے كے اخبار كي فروخت كے لئے‌ايسي بے پر كي اڑاتے رہتے ہيں۔۔۔۔ بھلا مذہبي جماعتيں اور فوج باہم كيوں دست و گريباں ہوں گي۔۔۔۔۔ يہ دونوں تو ايك دوسرے كے دست و بازو ہيں۔۔۔

ليكن ہم ٹھہرے كنويں كے مينڈك۔۔۔۔۔ اور جب كنويں سے باہر نكلے تو بہت دير ہو چكي تھي۔۔۔۔ 9۔11 كا واقعہ ہمارے كراچي قيام كے‌دوران ہي پيش آ گيا اور ديكھتے ہي ديكھتے آج طالبان كے‌نام پر مذہبي جماعتيں اور فوج آمنے سامنے آ‌گئي ہيں۔۔۔۔۔۔ اب ان خلائي طالبان كا مذہبي جماعتوں سے‌كتنا تعلق ہے۔۔۔۔ كوئي كتنا ہي پيٹتا رہے۔۔۔۔ ليكن مفاد پرستوں كي مفاد پرستي كے سامنے ان كا واويلا نقار خانے ميں‌طوطي كي آواز كي سي حيثيت بھي نہيں ركھتا۔۔۔۔۔۔

افسوس تو اس بات كا ہے كہ اب آئے‌دن يہ خليج مذہبي جماعتوں اور فوج كے‌درميان سے‌نكل كر عوام اور فوج كے درميان حائل كر دي گئي ہے۔۔۔۔۔ جس كي وجہ سے آج گھر گھر۔۔۔۔‌پاكستاني اپني پوليس، رينجرز اور فوج سے‌خوف زدہ ہے۔۔۔۔‌اور تو اور عبد القدوس بھائي كا اللہ بھلا كرے كہ وہ ہميں ان طريقوں سے آگاہ كر رہے ہيں جن كي بدولت ہم خود كو اپنے ہي محافظوں سے‌محفوظ ركھ سكتے ہيں۔۔۔۔۔۔ يہ اصل ميں عكاسي ہے۔۔۔ ہمارے معاشرے اور اور ہمارے سيكيورٹي اداروں كے باہمي تعلق كي۔۔۔۔

لہذا اس وقت ہميں صرف اور صرف مخلص قيادت كي ضرورت ہے۔۔۔۔ اور جب تك ہم خود قيادت تلاش نہيں كريں‌گے۔۔۔۔ تو يہ بار بار كے‌پٹے ہوئے پيادے ہميں‌كہيں كا نہيں رہنے ديں‌گے۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
skjatala (14-06-11), حیدر (14-06-11)
پرانا 13-06-11, 10:52 PM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مغرب ميں قبول اسلام كا بڑھتا رجحان
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (14-06-11)
پرانا 14-06-11, 07:50 AM   #11
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,130
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام ھے سلامتی کا جو اسکے معانی ومقا صد پر غور کرتا ھے اسکے لیے ھدایت کے دوازے کھل جاتے ھیں
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
حسن قادری کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (14-06-11)
پرانا 14-06-11, 02:23 PM   #12
Senior Member
 
fazain's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 544
کمائي: 6,664
شکریہ: 602
343 مراسلہ میں 782 بارشکریہ ادا کیا گیا
fazain کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں fazain کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انسان کی کامیابی صرف اسلام میں ہے دنا میں سب سے غریب انسان وہ ہے جس کے پاس ایمان نہ ہو
__________________
زمانہ دیکھے گا جب میرے دل سے
محشر اٹھے گا گفتگو کا
fazain آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-06-11, 02:34 PM   #13
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,887
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پر مغز تبصروں کے لیئے جناب مہاراجہ اکرام الحق اور جناب شمشاد احمد کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنی مصروف زندگی میں سے قیمتی وقت دیا۔
سب احباب کو اللہ جزائے خیر دے ۔ آمین
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
حیدر (14-06-11), شمشاد احمد (17-06-11)
جواب

Tags
فروخت, پولیس, پاکستانی, واقعات, قرآن, لطیفہ, چینل, نظر, موت, آج, اللہ, امریکہ, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, بھائی, بچوں, تعلیم, خلاف, دل, رات, زرداری, شخص, عورت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں تو لفظ لفظ تیری تیری ذات ہوں زارا شعر و شاعری 1 12-02-11 07:53 AM
گھریلو صارفین احتیاطی تدابیر اختیار کریں، گیس کی بو ہو تو بجلی کے بٹن آن نہ کریں گلاب خان خبریں 1 08-01-11 12:29 PM
کرپٹ افسران کے خلاف شکنجہ تیار کرنے کی تیاری جاویداسد خبریں 1 27-07-10 01:14 PM
بے احتیاطی یا تیز رفتاری کا نتیجہ مسافر دلچسپ اور عجیب 3 02-10-09 01:03 PM
تفتیشی ٹیم کو موت کی وجہ جاننے سے آگے کا اختیار نہیں، برطانوی ہائی کمیشن عبدالقدوس خبریں 0 07-01-08 07:51 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:26 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger