واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ایک اور جہاد کا آغاز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-01-11, 08:36 PM   #1
ایک اور جہاد کا آغاز
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 24-01-11, 08:36 PM

ہارون رشید۔

2007ء کی طرح ایک اور جہاد کا آغاز چاہئے۔ اب کی بار پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے ۔ اسی عزم اور یقین کے ساتھ۔ امید ہی مشعل ہے ، امید ہی اسلحہ اور امید ہی منزل۔
چوہدری نثار نے ٹھیک کہا :بیرونی مداخلت بنیادی مسئلہ ہے ۔ بل گیٹس نے بھی بجا ارشاد کیا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام سلجھا لیا جائے تو بتدریج سبھی کچھ استوار ہو جائے گا۔ جن لوگوں کا تجزیہ یہ ہے کہ دہشت گردی سے نجات پا کر قومی آہنگ کی منزل کا حصول ممکن ہے ، ان سے بھی اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ ان سب کی خدمت میں مودبانہ گزارش مگر یہ ہے کہ وجوہات جو بھی ہوں، بنیادی بحران اقتصادی ہے ۔ معیشت اگر سنبھل نہ سکی تو کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ پنجابی کی ضرب المثل یہ ہے "پیٹ نہ پیّاں روٹیاں تے ساری گلاں کھوٹیاں"نپولین نے کہا تھا : فوج پیٹ کے بل آگے بڑھتی ہے اور اہل دانش کے سرخیل، امام غزالی کا ارشاد یہ ہے : ملک کی حفاظت فوج کیا کرتی ہے اور فوج کی سرمایہ ۔
چوہدری نثار کے موقف سے اتفاق کیے بغیر چارہ نہیں کہ فوجی اخراجات کا ٹھیک اسی طرح محاسبہ ہونا چاہئیے ، جیسا کہ باقی اداروں کا لیکن آج سوال دوسرا ہے : کیک کا سائز ہی اگر چھوٹا ہو تو سبھی کو حصہ رسدی کیسے ملے گا۔ وسائل اگر محدود ہوں اور ان میں بھی دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار تو نگر آباد کیسے رہے گا۔ تعلیمی نظام کی اہمیت سے کوئی احمق ہی اختلاف کرے گا لیکن روپیہ ہے کہاں ۔دہشت گردوں کے ہاتھوں ملک اگر یرغمال ہے تو سامنے کی بات یہ ہے کہ امریکی غلبے کی وجہ سے اور امریکی غلبے کا سبب معیشت کی زبوں حالی ۔ آدمی اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے ۔ بھوکا آدمی اور بھوکا معاشرہ توازن کھو دیتا ہے ۔ مکّہ میں قحط پڑا تو تاریخ کے سفاک ترین گروہ کے لیے اللہ کے آخری رسول نے سونے کے پانچ سو سکّے بھیجے تھے۔ وہ ، جنہوں نے رحمتہ للعالمین کو ستا یا تھا، اذیتیں دی تھیں ، حتیٰ کہ قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔پاکستانی معیشت کو تین امراض لاحق ہیں ۔ طویل المیعاد منصوبہ بندی کا فقدان ، امرا کا ٹیکس ادا کرنے سے گریز اور بڑے پیمانے کی لوٹ مار۔ نوبل پرائز پانیوالے ماہرین میں سے ایک نے ایوب خان کے دور میں یہ کہا تھا: اگر ایشیا کا کوئی ملک امریکہ کی امیر ترین ریاست کیلی فورنیا جیسا ہو سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے ۔ چالیس برس کے بعد بھی اگر ہم بھکاری ہیں تو لوٹ مار ہی واحد سبب نہیں، زیر زمین معدنیات کی اہمیت سمیت قومی وسائل کے امکانات کا عدم ادراک بھی۔ سینڈک کو ہم نے کوڑیوں کے مول بیچ دیا اور اب اس سے کہیں بڑے ذخیرے ریکوڈک میں بھی وہی خطرہ درپیش ۔پہلے ہی سیاپا چاہئے تھا۔ کھیت سے خرگوش گزرا تو کسان رویا۔کسی نے پوچھا : ایک ذرا سے نقصان پر ایسا ماتم ؟ جواب ملا: خرگوش نہیں ، میں اس راستے کو روتا ہوں ، جو اب مسافر تراشیں گے۔
بتدریج تمام تفصیلات اخبارات اور ٹی وی پروگراموں میں آشکار ہوں گی۔سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت ہے؛ چنانچہ امید کی کرن بھی۔ معاملہ مگر کہیں زیادہ سنگین ہے۔ یرغمال معیشت ؛چنانچہ یرغمال خارجہ پالیسی والی قوم کا مستقبل داؤ پر لگا ہے اور اس کے رہنما لمبی تان کر سوئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ، پانچ ، سات اور دس نکاتی فارمولوں میں الجھی ہیں اور کم از کم ایک ہزار بلین ڈالر ڈکیتی کے منصوبے پر بات ہی نہیں ۔ اشرفیاں لٹیں اور کوئلوں پر مہر۔ ظاہر ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے نا انصافی کا اندیشہ کسی کو نہیں لیکن عدالت میں صرف قانونی پہلو زیر بحث ہے ۔ غیر ملکی کمپنیوں کے کنسورشیم کو کان کنی کا اختیار دیا جائے یا نہ دیا جائے۔ دیا جائے توکن شرائط پر ۔ دوسرے پہلو اور بھی زیادہ اہم ہیں۔ کیا یہ غیرملکیوں کا حق ہے کہ پاکستان کے قومی وسائل استعمال کر کے سو فیصد خام مال بیرون ملک لے جائیں ۔ نگران آنکھوں سے بہت دور، اس میں سے سونا اور تانبا نکالیں جبکہ دودھ کی رکھوالی پر بلیاں بیٹھی ہیں۔ جواب یہ ہوگا کہ کان کن اپنا سرمایہ لگائیں گے۔ جی نہیں ، اخراجات آمدن میں سے منہا کیے جائیں گے۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ جب پاکستان میں مٹی چھانٹ کر سونا اور تانبا الگ کرنا ممکن ہے تو اربوں ڈالر کے اخراجات کا مقصد کیا ہے ۔ آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش۔ 63برس سے پاکستانی قوم لٹتی آئی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا نے ہمیں اندھا اور احمق سمجھ لیا ہے ۔ حکمران طبقہ حضرت یوسف کے بھائیوں کی طرح بے رحم ہے ۔ پانچ سات تو ایسے بے حمیت ہیں کہ پاکستان پر سے ان کا ایمان ہی اٹھ چکا۔ اپنا سرمایہ انہوں نے بیرون ملک منتقل کر دیا ہے کہ کشتی ڈوبے تو وہ جزیرے پر پناہ پائیں۔ کشتی نہیں ڈوبے گی۔ ملک لمیٹڈ کمپنیاں نہیں ہوتے کہ دیوالیہ ہو جائیں ۔عدالت جاگ رہی ہے اور صحافت بھی ۔ ضرورت پڑے توریکوڈک سمیت ملک کے معدنی وسائل کو بچانے کے لیے عدالتی تحریک ایسی تحریک اٹھانی چاہئیے ۔ اپنا حال تو ہم بیچ ہی چکے، مستقبل نہیں بیچ سکتے۔ آنے والی نسلوں کا سودا نہیں کر سکتے۔ حیرت انگیز طور پر اولین کوشش بھرپور ہے اور قرائن حوصلہ افزا۔ کسی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر وہ دستاویز عدالت تک پہنچا دی ہے ، جس پر دستخط ہو جاتے تو ملک لٹ جاتا۔ حیرت انگیز طور پر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسائی ڈٹ گئے۔ صاف صاف فیصلہ سازوں سے انہوں نے کہہ دیا : خطاکار ہوں مگر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اگرچہ ابھی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ ان کی زندگی اور اقتدار کو خطرہ لاحق ہے ۔ اب بلوچستان اسمبلی کو بروئے کار آنا چاہئے۔ بتایا گیا کہ جلد ہی وہ ریکوڈک کے بارے میں ایک متفقہ قرار داد منظور کرے گی۔جھوٹ ہے ، یہ سفید جھوٹ کہ پاکستان مٹی سے سونا اور تانبا چھاننے کی فنی استعداد نہیں رکھتا۔ ایٹمی سائنس دانوں سے ملا ہوں اور ان کا کہنا یہ ہے: تانبے کا ذرہ ، یورینیم سے گیارہ گنا بڑا ہوتا ہے ۔ اگر چالیس برس سے ہم صاف یورینیم حاصل کر رہے ہیں تو تانبا اور سونا کیوں نہیں ۔ خوشگوار حیرت کی بات یہ ہے کہ مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے 25سینیٹر عدالت سے رجوع کرنے والے ہیں اور حیرتوں کی حیرت یہ کہ رابطہ کار جمعیت علماءِ اسلام کے رہنما اعظم سواتی ہیں ۔ سواتی صاحب کے بارے میں پہلے بھی عرض کیاتھا کہ وہ روپیہ بانٹتے ضرور ہیں مگر بناتے نہیں ۔ اگر سرکار کا یہ فرمان پیشِ نظر نہ ہوتا کہ جہاں سے اے کاش شروع ہوتا ہے ، وہیں سے شیطنت شروع ہوتی ہے ،تو میں یہ کہتا: اے کاش ، مولانا فضل الرحمٰن سے سینیٹر سواتی نے کبھی ہاتھ نہ ملایا ہوتا۔ بہرحال یہ معاملہ وہ ہے ، جسے سیاست سے بالاتر ہونا چاہئے۔ ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اورنون لیگ ابھی بروئے کار نہیں ۔ پیپلز پارٹی سے تو کیاامید کہ وہ زرداری صاحب کے اشارہ ء ابرو کا انتظار کرے گی لیکن شریف برادران کیوں سوئے پڑے ہیں ۔ ایم کیو ایم کو کس چیز کا انتظار ہے ۔ جب مجھے اطمینان ہوگیاکہ سینیٹر سواتی اس معاملے میں مخلص ہیں تو دریائے سواں کے پل سے گزر کر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ انکی اردل میں ، جن سے یادہ محتاط ، محترم اور معتبر کوئی نہیں۔
قرآن کریم کی آیت کریمہ پر بار ہا غور کیا: اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ آج صبح ، ایک اور جہت کا ادراک ہوا۔ ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جاؤ تو سبھی کچھ لٹ جاتا ہے ۔2007ء کی طرح ایک اور جہاد کا آغاز چاہئے۔ اب کی بار پاکستان کے معاشی مستقبل کیلئے۔ اسی عزم اور یقین کے ساتھ۔ امید ہی مشعل ہے ، امید ہی اسلحہ اور امید ہی منزل۔
امید کہ لو جاگا غمِ دل کا نصیبا
لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہوئی آخر
اس کنج سے پھوٹے گی کرن رنگ حنا کی
اس در سے بہے گا تری رفتار کا سیماب

روزنامہ جنگ۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 180
Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 24-01-11, 09:06 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
جانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: کسی کے دل میں
مراسلات: 143
کمائي: 1,298
شکریہ: 145
83 مراسلہ میں 135 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شئیرنگ کا شکریہ بھائی ۔
جانی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فنی, کورٹ, پاکستان, وزیر, نثار, نظر, منتقل, منصوبہ, ممکن, مشعل, معاشرہ, آج, آدمی, ایمان, اللہ, امیر, امریکہ, اسلام, اعلیٰ, حنا, زرداری, سیاست, سودا, سائنس, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:26 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger