واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ایک خندق!::::: نگہت یا سمین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-05-11, 11:32 PM   #1
ایک خندق!::::: نگہت یا سمین
JISOUTH JISOUTH آف لائن ہے 16-05-11, 11:32 PM

بچپن بھی کبھی لو ٹ کر آ یا ہے مگر اس کی یاد کہا ں جا تی ہی؟ بقول ماں کے با د شا ہی وقت ہے نہ فکر نہ اندیشہ ! چھو ٹی چھو ٹی باتو ں پر کھلکھلا نا ،
معمولی کھلو نو ں پر جا ن دینا ، رو ٹھنا اور خود ہی من جا نا ! بس ایک خوشگوار کسک ساری عمر ساتھ رہتی ہے مگر بچپن کی کچھ یا دیں حقیر نہیں ہو تی ۔
ایسی ہی ایک یاد ہے جو میرے دل کے نہا ں خا نہ میں بسی ہوئی ہی، جو دما غ کے ایسے گو شہ میں پیوست جہا ں کی یا د داشت کبھی زا ئل نہیں ہوتی۔ مگر پھر بھی میں بتا پا ئو ں گی ، الفاظ کا پیرا ہن پہناسکو ں گی یاشدت جذ با ت سے لر زتے لبو ں ، بر ستی آ نکھو ں سے کچھ کہا نہ جائے گا ۔کیو نکہ اس سے وا بستہ میری ما ں کے آ نسو ہیں بلکہ اس قو م کی ہر ما ں کے آ نسو ہیں جسے میں آ ج بھی اپنے چہرے پر ، اپنی ہتھیلیو ں پر گر تا ہوا محسوس کر تی ہو ں ! بس اک خندق جو مجھے سونے نہیں دیتی اور جا گتے میں چین نہیں لینے دیتی ۔ ایک دبی ہو ئی چنگاری ہے جو دھیرے دھیرے سارے وجود کو جلا کر خاکستر کر رہی ہے ۔
یو نیور سٹی کا متوسط سر کا ری گھر جس کی اصل شان اس کا پھو لو ں ، پھلو ں سے لدا چمن تھا ۔ ایک کنارے پر بڑا سا چھتنار نیم کا در خت جس کی گھنیری شا خیں جھک کر ہم بچو ں کی ٹو ہ میں لگی رہتی۔ سب کچھ صحیح تھا پھر اچانک ابامز ید تعلیم کے لیے جر منی چلے گئی۔ امی اور ہماری دیکھ بھا ل
کے لیے نانا، نا نی ،ما مو ں اور طلعت با جی آ گئی۔ ایک تقریب کا سماں ، اتنے چا ہنے وا لے جو آ جا ئیں ! مگر دیکھتے دیکھتے تقریب خوف اور
سرا سیمگی میں بدل گئی۔ لان میں انگریزی کے حرف L ’’شکل کی خندق جو کھد گئی ۔ دن میں تو بچے اس میں چھپم چھپا ئی کھیلتے مگر سر شام اچھی
بھلے گھرا ور آ رام دہ بستر چھو ڑ کر آ نسئو ں،سسکیو ں ، آ ہو ں سے یہ خند ق آ با د کی جا تی ۔ ہر طرف سوال ہی سوال تھے اور کسی کے پاس جوا ب نہ تھی۔ آ یت کریمہ کاورد سنتے بچے ما ئوں کے تر دامن میں نیند کی وا دیو ں میں اتر جاتے ۔ مگر جنگی طیارو ں کی گھن گرج ، گھٹا ٹوپ اندھیرو ں میں
رو شنیو ںکے جھماکے صرف اس کو سو نے دیتے جو کبھی نہ اٹھنے کے لیے سو تا ۔
پا کستا ن کی حفا ظت اور مدد کو ن کر رہا ہے ؟؟؟ غدا ری اور سا زش کہاں ہو رہی ہی؟؟ خدا جانے قوم کیا ہو تی ہے اور ہم ایک قوم کیو ں نہ بن سکی؟؟گا ہے امید اور گا ہے ما یو سی کے تبصرے ، جذ با ت کے اتار چڑ ھا ئو ، الفا ظ کے زیر و بم بحث اور خبریں سنتے سنتے ذہن میں سوا لا ت کلبلا تے مگر تتلیا ں اور جگنو پکڑ نے کی عمر میں جواب مل بھی جا تے تو فہم کہا ں ہو تا ؟؟ مگر آ ج مجھے بخو بی علم ہے کہ قو میں تو نظر یہ سے بنتی ہیں اور نظر یہ پر جیتی ہیں اور اس ملک کی بنیاد سچا ، آ فا قی نظر یہ تو حید ہے ۔ زندگی کی سا ری خو بصو رتیا ں تو نظر یہ آ زا دی سے منسلک ہیں ۔ آ زادی تگ و تا ز ، تحرک ، تسلسل سے قائم رہتی ہی۔ غلا می چا ہے جسمانی ہو ، معا شی اور ذہنی زہر ہلا ہل ہے ۔ آج جسمانی سے زیادہ معا شی اور ذہنی غلا می رو بہ عمل ہے ۔
عالمی طا قتو ں کا طے شدہ ہدف اس مملکت کو نا کا م ثا بت کر نا ہے ۔با ہم متصا دم عد لیہ، مقننہ ، افوا ج پا کستا ن ! اٹھا رہ کرو ڑ سے زیادہ نفو س اور اس قدر ما یو سی اور نا مر دی! ایک طرف لا تعلقی اور بے نیا زی کی صلیب پر جھو لتے عوام الناس اور دوسری جا نب عا قبت نا اندیش حکمرا نو ں کے مبہم ، نا مبارک فیصلے جو قوم کو جان کنی میں مبتلا کیے ہو ئے ہیں ۔پا کستان کی سا لمیت کو پا رہ پا رہ کر نا وہ نکتہ ہے جس پر اغیا ر ایک ہیں اور ہم محض منتشرہجو م ! سو ہمیں آ ج خود کوقوم ثابت کر نا ہے ۔
سقو ط ہسپا نیہ کے مو قع پر حکمران ابو عبداﷲکی ماں فا طمہ کہتی ہے ’’جس سلطنت کی حفا ظت تم مر دو ں کی طرح نہ کر سکے تو اب اس کے کھو دینے پر عورتو ں کی طر ح آ نسو نہ بہا ئو!‘‘ ۔ یقینا ایک ریا ست کا سقو ط اس کے شہریو ں کے لیے بلا تخصیص مرد و زن آ نسو بہا نے کابھا ری جوا زرکھتے ہیں !!!
کسی بھی انقلاب کو بپا کر نے کے لیے محض 30% اذ ہان کی تبدیلی درکا ر ہے تو کیا اس ملک کی سا لمیت اور بقا کے لیے 30% عوام بھی یکسو نہیں ہیں !! بنظر غائر جا ئزہ سے پتہ چلتا ہے کہ صو رت حال اس سے مختلف ہے ۔ نہ جا نے کس لمحے عوام کی خا مو ش اکثر یت غیر ملکی آ قا ئو ں کے حما یت یا فتہ مقتدر طبقہ کے احتسا ب پر اتر آ ئی۔ اور اگر یو ں ہوا تو نا کا میو ں ،پسپا ئیو ں کی طویل فہرست چشم زدن میں تحلیل ہو جا ئے گی !!!
مجھے گمان نہیں یقین ہے کہ یہ معجزہ ممکن ہے !!! اگر جو ہما رے علما ء قیادت سنبھا لیں اور قرار داد مقا صد جو اس ملک کے تمام دسا تیر کے ماتھی
کا جھو مر ہے کے نفاذ کو حرز جا ن بنا لیں ، میرے دیس کی ما ئیں اپنی کوکھ اور گود میں پلنے وا لی نسل کو نظر یہ پا کستا ن منتقل کر دیں ، میرے دہقان اس وطن کی مٹی کو سونا بنا ئیں ، میرے جوا ن اس ملک کے لییء جا ن کی با زی لگا دیں ................
تا کہ آ ئندہ اس ملک کی آ زا دی کی خاطر آ نگنو ں ِ گلیو ں میں کھدنے وا لی خند قو ں کے ساتھ حسرتو ں اور آ نسوئو ں کے بجا ئے ولولہ انگیز یا دیں جڑی ہو ں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

JISOUTH
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 66
شکریہ: 16
53 مراسلہ میں 142 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 204
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے JISOUTH کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (17-05-11), حیدر (17-05-11)
پرانا 17-05-11, 11:19 AM   #2
Senior Member
 
mama_shalla's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: pakistan
عمر: 38
مراسلات: 558
کمائي: 8,094
شکریہ: 1,347
372 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
mama_shalla کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوبصورت تحرير.......
يادداشت....انسان كو عطا كى گئى باكمال صلاحيت
mama_shalla آف لائن ہے   Reply With Quote
mama_shalla کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (17-05-11)
پرانا 17-05-11, 03:24 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (17-05-11)
جواب

Tags
گمان, چین, نیند, نظر, منتقل, ممکن, ماں, معجزہ, آج, بچپن, تعلیم, جوا, جواب, حال, خدا, دیس, دل, زندگی, شام, علم, علما, عالمی, صلیب, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:29 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger