واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


اے ابنِ آدم مجھے جینے دو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-11-11, 05:40 PM   #1
اے ابنِ آدم مجھے جینے دو
زارا زارا آف لائن ہے 30-11-11, 05:40 PM

میں کون ہوں ، میں زندگی کے رنگ ہوں ، خوشبو کا احساس ہوں ، امید کی کرن ہوں ، روشنی کا سفر ہوں میں ایک خواب ہوں ، مجھے پہچانو آخر میں کون ہوں ۔ میں بنت حوا ہوں ہاں میں ایک عورت ہوں محبت کے چار خوبصورت اور مقدس رشتوں کا احساس ہوں۔ بیٹی ہوں تو سراپا رحمت ، بہن ہوں تو سراپا شفقت ، بیوی ہوں تو سراپا عزت اور اگر ماں ہوں تو سراپا محبت !! لیکن تم یہ سب کیوں جانو ۔۔۔
میں مشرقی پاکستانی عورت ہوں ، جس کی اپنی کوئی سوچ نہیں ، جو رائے تو رکھتی ہے پر اظہار نہیں کر سکتی ، جو عقل و شعور تو رکھتی ہے پر اس کے خیال کو اہمیت نہیں دی جاتی ، جو کبھی باپ کی عزت کی لاج رکھتے رکھتے اپنا جیون کسی اور کے آگے ہار بیٹھتی ہے ، کبھی بھائی کا مان بن کر اپنی آرزؤں کو مار دیتی ہے ، کبھی شوہر کی خواہشوں کے آگے سر جھکا دیتی ہے اور کبھی بیٹے کی خوشی میں خود کو قربان کر دیتی ہے ۔
میں مظلوم ڈری سہمی درد کی ماری عورت کبھی جہیز کم لانے کے جرم میں جلا دی جاتی ہوں ، کبھی بیٹے کی ماں نہ بننے کے جرم میں تیزاب سے داغ دی جاتی ہوں ،کبھی بیوگی کی چادر اوڑھ کر دھکے دے کر گھر سے باہر نکال دی جاتی ہوں۔ کبھی عزت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہوں اور کبھی بھری پنچائیت میں کسی اور کے گناہ کا خمیازہ بھگتنے کے لئے ونی کر دی جاتی ہوں ۔ کبھی غربت کے نام پر بیچ دی جاتی ہوں اور کبھی جائیداد کے بٹ جانے کے خوف سے قرآن سے شادی کروا کر ساری عمر مقدس دیوی بنا کر بابل کی دہلیز پر بٹھا دی جاتی ہوں ۔ میرے ساتھ ابن آدم کا سلوک ہمیشہ امتیازی رہا ہے ۔ میرے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا ۔
میں فاطمہ جناح ہوں قائد کی بہن میں نے پاکستان کو صرف بنتے ہی نہیں دیکھا بلکہ پاکستان بنانے کی جدوجہد میں اپنا آپ وقف کر ڈالا اور اپنی ساری زندگی پاکستان کے نام کر دی ۔ قائد اعظم کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد جب سب کی نظریں مجھ پر تھیں اور اس ملک و قوم کو میری ضرورت تھی میں نے آگے بڑھ کر اپنے حصے کا فرض ادا کیا ۔ میرا جینا مرنا سب پاکستان کے لئے تھا ۔ لیکن جب مجھے تم لوگوں کی ضرورت پڑی تو وعدے کر کے وفا کسی اور سے جا کے نبھائی اور ایک آمر جرنیل کے ہاتھوں میں ملک کی باگ دوڑ تھما دی جس کا خمیازہ تم لو گ آج تک بھگت رہے ہو ۔
میں بے نظیر بھٹو ہوں پا کستان ہی نہیں بلکہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون صدر ۔۔۔ سیاست مجھے میرے باپ نے سکھائی لیکن سیاست کے اسی داؤ پیچ میں میں نے اپنا جیون ہار دیا لاکھوں کے مجمعے میں مجھے مار دیا گیا اور تین برس گزر جانے کے بعد بھی تم صرف یہ سچائی نہیں جان سکے کہ میرے قاتل کون تھے ۔ میرے نام پہ تم نے لوگوں سے ووٹ مانگے اور سیاست کے منصب پہ جا کہ بیٹھ گئے ۔ اقوام متحدہ تقریر کرنے جاتے ہو تو میری تصویر پہلے آگے سجاتے ہو ۔ کہتے ہو کہ میں قاتلوں سے واقف ہوں لیکن میرے خون کا حساب نہیں مانگتے کیا میں تمہیں سالگرہ اور برسی کے موقع پر ہی یاد آتی ہوں ؟ ہر دفعہ تم تجدید عہد کرتے ہو کہ میرے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا کہ رہو گے اور پھر بھول جاتے ہو ۔
میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہوں مجھے تم نے محض چند ڈالروں کی خاطر اغیار کے ہاتھوں بیچ ڈالا ۔ میری عزت و ناموس کے محافظ میرے اپنے بھائی میری عزت کے سوداگر نکلے ۔ مجھے ظالم درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔ مجھے ان کے آگے ڈال دیا میں اپنی عزت ، اپنا وقار ، اپنا مان سب کھو بیٹھی ۔ اب ایک زندہ لاش کی مانند ہوں میرا جسم اور میری روح زخم زخم ہیں جینا سزا کسے کہتے ہیں یہ مجھ سے پوچھو جس کا ہر دن اذیت ناک اور ہر رات اس قدر بھیانک ہے کہ زندہ رہنا ہی سب سے بڑی سزا لگتا ہے اس کے باوجو د اب بھی تم مجھ پر ترس نہیں کھاتے ۔ سات سمندر پار میں آج بھی منتظر ہوں کہ شاید تمہارا ضمیر، تمہاری غیرت جاگ جائے ۔ میرے نام پر تم اپنی سیاست تو خوب چمکاتے ہو ، لیکن کوئی عملی قدم کیوں نہیں اٹھاتے ، جانے ابھی اور کتنی اذیت اور کتنا انتظار میری قسمت میں لکھا ہے ۔
میں میر والا کی مختاراں مائی ہوں جس کو اسلام کے نام پر بننے والی اس پاک دھرتی میں اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لئے سر عام بے آبرو کر دیا گیا ۔ بھری پنچائیت میں میری عزت کی نیلامی ہوئی اور کسی ابن آدم میں اتنی جرآت نہ ہوئی کہ مجھے ان ظا لم لوگوں کے چنگل سے بچا سکے ، مجھے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ میری عزت کو تار تار کر دیا گیا ۔ میں روتی رہی ، تڑپتی رہی ، رحم کی بھیک مانگتی رہی لیکن سب بے اثر گیا ۔ میری ردا کے محافظ ہی میری عصمت کے لٹیرے نکلے اور میں اپنا قصور تلاش کرتی رہی ۔ مجھ جیسی اور کتنی بہنیں ایسی ہیں جو کہ تمہاری ہوس کا نشانہ بن گئیں ، کتنی معصوم پریاں کو تمہاری ہوس اور درندگی نگل گئی اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں وہ شیطان آج بھی نظروں کے سامنے ڈھٹائی سے دندناتے پھرتے ہیں لیکن تم اور تمہارا قانون خاموشی سے تماشا دیکھتا رہتا ہے ۔
میں شمائلہ ہوں فہیم کی بیوہ میرے خاوند اور ایک اور پاکستانی کو دن دیہاڑے ایک انگریز نے مار دیا اور تم آج تک اس کے بارے میں یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ وہ مجرم ہے یا نہیں ہاں میں مانتی ہوں کہ میں ایک کمزور عورت نکلی حالات کا مقابلہ نہ کر سکی ۔ میں مرنا نہیں چاہتی تھی مجھے زندہ رہنا تھا ، زندگی کے سب رنگ دیکھنے تھے ۔لیکن مجھے ریمنڈ کی ممکنہ رہائی نے پریشان کر رکھا تھا اور اس احساس نے ہی مجھے مار دیا کہ میرے شوہر کے قاتل میری نظروں کے سامنے دندناتے پھریں گے اور میں برداشت کرتی رہوں گی ۔ میں نے روز روز مرنے کی بجائے ایک ہی بار میں خود کو مار ڈالا ۔ سوچتی تھی اب زندہ رہ کر کیا کروں گی بیوہ عورت کے لئے یہاں رہنا کتنا مشکل ہے مجھے چند ہی دنوں میں پتا لگ گیا تھا تم لوگ میرے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے میری بے بسی کا تماشہ جو دیکھنے لگے تھے ۔
میں تم سے کچھ نہیں مانگتی اے ابن آدم صرف اپنے جینے کا حق مانگتی ہوں ، میری خواہشوں کو اپنے پاؤں تلے نہ روندو ، میرے وقار اور نسوانیت کو یوں نہ کچلو کہ چشم فلک کو بھی حیا آنے لگے ۔ میری عصمت کے تم ہی رکھوالے ہو میری عزت کو سر بازار نیلام نہ کرو ۔ تمہاری زندگیوں میں رنگ ، خوشی ، رونق سب مجھ سے ہے ۔ تم یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ وجود زن سے ہی تصویر کائنات میں رنگ ہیں ۔ میں تمہاری نسلوں کی وارث ہوں ۔ مجھے مکان نہیں گھر چاہیے ، چادر اور چار دیواری کا تحفظ چاہیے ، مجھے عزت چاہیے ، اپنے رشتوں کا احترام چاہیے ، مجھے مان چاہیے اور کسی اپنے کے ہونے کا گمان چاہیے ۔ مجھے میری شناخت ، میرا مان ، میرا غرور لوٹا دو ۔ اے ابن آدم تم بھی جیو اور مجھے بھی جینے دو۔

سارہ لیاقت، پیغامِ اُمید
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 177
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
compaq (05-12-11), skjatala (30-11-11), نبیل خان (30-11-11), ایکسٹو (30-11-11), بنت حوا (01-12-11), حسن قادری (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 06:54 PM   #2
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,887
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بیشتر مشرقی خواتین نے مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں اپنے آپ کو بہت ارزاں و بے وقعت کر لیا ہے -
جس طرح گندم کے ساتھ گُن پس جاتا ہے اسی طرح ابن آدم نے ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکنا شروع کر دیا ہے،
قصور وار دونوں فریق اور دین سے دوری ہے۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (30-11-11), ایکسٹو (30-11-11)
پرانا 30-11-11, 08:11 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,461
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,505 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قصور وار دونوں فریق اور دین سے دوری ہے۔
جی ہاں
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-11-11, 08:59 PM   #4
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,130
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قصوروار ہم سب ہیں ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کرن, گمان, پاکستانی, وفا, قدم, قرآن, مقابلہ, ماں, محبت, آج, اقوام متحدہ, اسلامی, بھائی, بے نظیر, تلاش, تصویر, جرم, خون, زندگی, سیاست, سالگرہ, عورت, عقل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:33 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger