| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 941
|
||||
| بلال عباسی کا شکریہ ادا کیا گیا | پیاسا (24-06-08) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
ماشا اللہ کافی اچھا کالم لکھا ہے آپ نے میں نے کل آخبار میں پڑھا تھا کہ ایک اسلامی ملک نے ملعون کو جہنم واصل کرنے والے کو غالباََ 1 کروڑ ڈالر انعام دینے کا علان کیا ہے. اس کے علاوہ پاکستان میںتاجر برادران نے ایک اجلاس کروایا ہے اور اس میں 10 کروڑ پاکستانی روپے انعام دینے کا علان کیا ہے. اس علانات تو اپنی جگہ درست بھی ہیں. لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اس کو قتل کرنے والا شخص روپوں کے لالچ میں اس کو قتل نہیںکرے گا بلکہ اس کو جنت کا لالچ ہو گا اس اللہ کی خوشنودی اور اللہ کے رسول کے دیدار کا لالچ ہو گا . اور انشا اللہ یہ ملعون رشدی جلد جہنم میںجئے گا اور ایک اور غازی علم دیں، عامر چیمہ پیدا ہو گا. یہ پاکستان کے لیے ایک عزاز کی بات ہے کہ جب بھی کسی بھڑیئے نے سر اٹھایا اس کو جہنم میں ڈالنے والا پاکستانی ہوا. اور انشااللہ اگر اللہ کی رضا ہوئی تو اس بار بھی یہ عزاز پاکستان کو ہی نصیب ہو گا اور پاکستانی بھائی یا بہن اس کو جہنم میں جھونکے گا. انشا اللہ میری تو کیا ہر مسلمان کی دعا ہے کہ اللہ اس ملعون کا خون اس کے ہاتھوں سے کروائے. آمین ثم آمین
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() |
جی ہاں کل میں نے بھی یہ خبر پڑئی ہے قدوس بھائی
بلال بھائی آپ نے ایک بار پھر بہت ہی اچھا کالم لکھے ہے
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,328
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وہ جو آسمان اور زمینوں کا رب ہے نہ وہ سب کچھ دیکھتا ہی رہتا ہے
ہم لوگو کا یہ ہی مسئلہ ہے کے ہم سے آنکھیں ہی نہیں کھلتی اور جب کھلتی ہے تو ایسے ایسے کام کرتے ہے جو کھولی آنکھوں والوں کے لیے بھی خیران کن ہوتے ہے انشاء اللہ جلد ہے ہم میں سے کوئی اس کو ٹھیکانے لگا دے کا انساءاللہ
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
انشااللہ ضرور
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مراسلات: 10
کمائي: 216
شکریہ: 0
4 مراسلہ میں 8 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جنابآپ کی تحریر بھت جاندار اور اچھی ھے۔لیکن یاد رکھیں جنگ صرف جذبات سے نھیں جیتی جاتی۔کیا ھم میں سے کوَی اس قابل بھی نھیں کھ اس کے اٹھا ے جھو ٹے سوالات کا جواب ھی دے سکے۔ بات کڑوی مگر سچی ھے کھ ھم نے اپنے نبی کی تعلیمات بھلا دیں ھیں۔جن کا فرمان تھا کھ “علم حاسل کرو چاھے چین جانا پڑے“۔آج ھما ری ترجیحات کیا ھیں -انتھا پسندی،فتوے بازی،فرقے پرستی اور اس سب سے بڑھ کر خود فریبی کا بخار- ھم مغرب کو برای کی جڑ قرار دیتے ھیں مگر برتنے سے لے کر کھانے پینے کی اسیا ، سب وھیں کی استعمال کرتےھیں اور ذرا بھی نھیں سرماتے۔گلا پھلا پھلا کر مغرب کو گالیاں دعنے والا فتوے باز‘ کافر کی بنی کار استعمال کرتا ھے۔اس کی کلای پر کسی لادین ملک کی گھڑی بندھی ھوتی ھے اور جیب میں کسی یھودی ملک کا بنا موبایل ھوتا ھے۔وہ ایک “ جھنمی“ کی ایجاد کردھ بجلی کی روسنی میں مغرب کے تاریک مستقبل کی نوید سناتا ھے۔میرے جیسے لوگ اس کی باتوں پر سر دھنتے ، واھ واھ کرتے اور جنت کے وعدوں پر خوس ھوتے ھیں۔ھم ناموس رسول کے جلوس میں اپنے بھایوں اور سرکار کی املاک کو نقصان پھنچاتے اور لوٹ مار سے بھی دریغ نھیں کرتے۔کیا یھی حب رسول ھے ؟ کیا اسی کا نام قومی غیرت ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یھ معاشرھ، جھاں بچیوں کے سکولوں پر بم مارے جاتے ھوں، جھاں پولیو ویکسین کو خلاف اسلام سمجھا جاتا ھو، جھاں ٹیلے وژن توڑنے کی “ تقریبات“ منعقد ھوتی ھوں، کیا کسی طور اسلامی یا مھذب کھلاےّ جانے کا حقدار ھے۔۔۔۔۔؟ ھم نے علم،عقل اور دلیل کا راستھ چھوڑ دیا۔ ھم غیر منظم لوگوں کا ایسا گروھ ھیں کھ جو “جس کا کھاتے ھیں اسی پر غراتے بھی ھیں“
جب تک آپ علم اور تحقیق کا راستھ نھیں اپناتے ایسے رشدی پیدا ھوتے رھیں گے۔یھ فیصلھ آپ کہ کرنا ھے کھ اس کا جواب لٹھ سے دینا ھے یا قلم سے، ھاں محض جذبات سے کام نھیں چلے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ] |
|
|
|
| اصغر زیدی کا شکریہ ادا کیا گیا | عرفان حیدر (01-08-08) |
|
|
#8 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 39
کمائي: 295
شکریہ: 5
14 مراسلہ میں 26 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم۔
جناب زیدی صاحب آپ کی بہت سی باتوں سے مجھے اتفاق ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ لیکن جناب اس بات سے ہر گز اتفاق نہیں کروں گا کہ ہم نے اس ملعون کے سوالوں کے جوابات دینے کی سکت نہیں یا ہم نے کوشش نہیں کی اسکے لئے اللہ کے کرم سے ہمارے پاس جید قسم کے عالم حضرات موجود ہیں بہترین مفکر اور مفسر موجود ہیں جو اس ملعون کے ہر قسم کے سوالوں کے جوابات دے سکتےہیں لیکن کیا آپ یہ پسند کریں گے کے آپ ایک جاہل سے اس قسم کی گفتگو کریں جو دین الٰہی قرآن سنت و حدیث کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہ ہو ایسے شخص سے بحث مباحثہ یا سوال و جواب کرنا تو خود اپنےایمان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے میں قرآن شریف کی ایک آیت کریمہ کا ترجمہ کروں گا اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ( ہم نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دیں ہیں) اب ذرا غور کیجئے اللہ انہی لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے جن کے دلوں میں مہریں لگی ہیں اور وہ اس قسم کی خرافہ حرکات کرتے ہیں۔ اس قسم کے ملعون تو تا قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے اور یہ کوئی نئی پیدا وار نہیں اس طرح کے ملعون تو شروع سے پیدا ہوتے آ رہے ہیں ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وصلم کی اس دنیا فانی سے رخصتی کے فورا بعد میں یہ سلسلہ شروع ہو گیا تھا بہت سے نبوت کے جھوٹے دعوے دار پیدا ہو گئے تھے جن کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ہر زمانے میں کوئی نا کوئی گستاخ پیدا ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اسکا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے انشاء اللہ اس ملعون کا انجام براہو گا۔ باقی رہی بات جذبات کی تو میں کہتا ہوں کہ ایسے معاملے میں جذبات ہی ایک مسلمان کے اندر قوت ایمانی پیدا کر سکتے ہیں۔ نہ کی بحث مباحثے سے اس ملعون کو واصل جہنم کیا جا سکتا ہے۔ میں جب بھی اس عنوان پر کچھ لکھتا ہوں تو اپنےآپ کو مجرم تصور کرتا ہوں کے مجھے لکھنے کی بجائے عملی قدم اٹھانا چاہیے۔ اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کے اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد کرنے کی توفیق دے۔ آمین |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
آمین
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 27
مراسلات: 75
کمائي: 414
شکریہ: 2
12 مراسلہ میں 28 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ نے ماشاالہ بہت آچھا آرتےکل لکھا ھے.
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مراسلات: 2
کمائي: 208
شکریہ: 0
0 مراسلہ میں 0 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا لکھا ہے
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,852
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائی بلال نے جو کچھ لکھا وہ درست ہے اور میں ہی کیا ہر وہ شخص جِس کے دِل میں تھوڑا سا بھی ایمان ہے ، میں ایمان کی بات کر رہا ہوں اسلام کی نہیں ، تو ہر وہ شخص جس کے دل میں تھوڑا سا بھی ایمان ہے وہ اپنے محبوب ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر پاتا ، اور اگر کہیں کچھ اور نہ کر سکے تو اُس کے خلاف اپنی تنہائیوں میں اپنے رب کے سامنے اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کر کے اپنی کوتاہی پر نادم ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے بد دعا ضرور کرتا ہے ، بلال بھائی کے مضمون کے جواب میں جناب اصغر زیدی صاحب نے جو کچھ کہا ، اس میں سے جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہم (مسلمانوں) میں اس سے کوئی اس قابل بھی نہیں کہ اُس کی جھوٹی باتوں کے جواب سے سکےمیں اِس بات سے اتفاق کرتا ہوں ،،،،، لیکن ایک فرق کو برقرار رکھتے ہوئے ، جی ہاں ابھی تک تو یہ درست نظر آ رہا ہے ،،، کہ ہم مسلمانوں میں اس کی جھوٹی باتوں کا جواب دینے کی قابلیت کسی میں نہیں ،،،،، لیکن ،،،، ہم سب ہی صرف مسلمان نہیں ہمارے درمیان کچھ سچے ایمان والے مومن بھی ہیں اور انشاء اللہ کوئی سچے ایمان والا اُسے جواب دے گا ، مجھے اصغر زیدی صاحب کی بات میں سے جِس نقطے سے اتفاق نہیں وہ ہے جواب دینے کا طریقہ اس طریقے کے بارے میں بات کرنے سے پہلے یہ کہنا مناسب خیال کرتا ہوں کہ زیدی صاحب جو علم حاصل کرنے کی بات کر رہے ہیں وہ خود اس پر کتنا عمل کرتے ہیں کہ اپنی بات کی دلیل میں جو قول بطور حدیث پیش کیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ثابت نہیں بلکہ اُن پر جھوٹ باندھا گیا ہے علم حاصل کرنے کا جو حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہے وہ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ((( طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم )) (( علم طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے )) اب آئیے زیدی صاحب ، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو جواب دینے کا کیا طریقہ ہے ، اور وہ طریقہ اللہ کی رضامندی سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے ، میری ایک کتاب جو زیر تیاری ہے ، اور اُس کا عنوان ہے "" مثالی شخصیات The Ideals "" میں سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے ، ایک سچے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سچی محبت کا ایک منظر دیکھیئے ، اور پھر اپنے دِل میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عِزت و محبت کا اندازہ خود ہی فرمائیے ، مُحِمد بن مَسلَمہ الانصاری الحارثی ، رضی اللہ عنہ ُ و ارضاہ ُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اللہ کے دِین کی دعوت بلند کی تو شیطان کے تابع فرمانوں کے دِلوں میں آگ لگ گئی اور وہ اپنے پیر و مُرشد کے الہامات پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے دِین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے خِلاف ہر کام کرتے اور کرواتے ، اِن میں سے کچھ تو ایسے بھی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت بھی خوب دے رکھا تھا اور اُنکے مدد گار بھی بہت تھے اور اُن سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور اللہ کے دِین کے خِلاف کام کرنے کو اپنا نصب العین بنا رکھا تھا، اپنے مال اور ساتھیوں کو اِستعمال کر کے اللہ کے دِین اور رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے خِلاف ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے ، بلکہ خود ایسے کام شروع کرواتے ، انہی میں سے ایک یہودیوں کا طاغوت کعب بن الاشرف تھا، اللہ نے اسے مال و دولت سے نوازا تھا ،لیکن دِین حق کی دعوت کی جلن کی وجہ سے وہ اللہ اور اللہ کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا پکا دشمن بن چکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شان میں اور صحابہ کی شان گُستاخانہ شاعری بھی کیا کرتا تھا اور یہ ایسا کام تھا جس کی وجہ سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس کی دیگر کاروائیوں سے زیادہ ناراضگی بلکہ تکلیف تھی ، ، اس کے علاوہ وہ مکہ اور عرب کے مشرکوں کے ساتھ دوستانہ مجلسیں ''' Friendly Meeting''' کرتا رہتا اور اُنہیں اپنے خصوصی مشیروں کے ذریعے اللہ کے دِین اور رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے خِلاف کاروائیوں پر تیار کرتا رہتا ، جب اِسکی کاروائیاں بہت بڑھ گئیں تو ایک دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( مَن لکعب بن الاشرف فاِنّہ قد آذی اللَّہ و رسولہ ) (کون ہے جوکعب بن الاشرف کو روکے کیونکہ اُس نے یقینا اللہ اور اللہ کے رسول کو دُکھ پہنچایا ہے ) تو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے سچی محبت کرنے والوں ،اللہ کے حقیقی ولیوں کی مجلس میں سے ایک ولی اللہ ، صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہُ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ::: اے اللہ کے رسول کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اُسے قتل کر دوں ؟ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( ہاں ) محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہُ نے عرض کِیا ::: اللہ کے رسول کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اُسکے سامنے آپ کے خِلاف کچھ کہوں ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( کہہ سکتے ہو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے اجازت پا کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہُ اپنے گھر چلے آئے ، گھر پہنچ کر جب اُنہوں نے اِس معاملے پر غور کِیا یعنی پلاننگ کرنا شروع کی تو خیال آیا کہ معاملہ تو کافی نازک اور خطرناک ہے اگر مجھے اِس میں کامیابی نہ ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو کیا مُنہ دِکھاؤں گا ، اِسی فِکرمیں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہُ نے کھانا پینا بھی چھوڑ دیا ، کچھ دِن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دیگر صحابہ سے محمد رضی اللہ عنہُ کے بارے میں دریافت فرمایا تو صحابہ نے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کوبتایا کہ وہ اپنے گھر میں بند ہے اور کچھ کھا پی بھی نہیں رہا ، رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُنکو بلایا اور پوچھا ( کیا بات ہے؟) تو انہوں نے کہاکہ :::میں نے آپ سے وعدہ توکر لیا ہے لیکن اگر میں اُسے قتل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو میں وعدہ خِلاف ہوجاؤں گا ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا(تمہارا کام کوشش کرنا ہے (یعنی تم کوشش کرونتیجہ اللہ نکالے گا )) محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ ، جب وہاں سے نکلے تو راستے میں اُنہیں ابو نائلہ سلکان بن قیس الاشھلی رضی اللہ عنہ ُ ملے ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس ہی جا رہے تھے ، محمد رضی اللہ عنہ نے سلکان رضی اللہ عنہ سے کہا ''' مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کعب بن الاشرف کو قتل کرنے کا حُکم دِیا ہے اور تُم جاہلیت کے زمانے میں اُسکے قریبی دوستوں میں تھے ، وہ اب بھی تمہاری بات مانے گا لہذا تم اُسے اُسکی پناہ گاہ سے نکالنے میں میری مدد کرو تا کہ میں اُسے قتل کر سکوں اِنشاء اللہ ''' سلکان رضی اللہ عنہ ُ نے کہا ''' اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اِسکی اجازت عطاء فرمائیں گے تو پھر میںاِنشاء اللہ ضرور تمہاری مدد کروں گا ''' پھر دونوں ملکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس آئے اور سلکان رضی اللہ عنہ ُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے اِس معاملے کی بابت وہی پوچھا جو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ نے پوچھا تھا اور اُنہیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُسی طرح اجازت دی جِس طرح محمد رضی اللہ عنہ ُ کو دی تھی ، پھر یہ دونوں ساتھی اپنی منصوبہ بندی اور اُسکے مُطابق تیاری کر کے ، اپنے ساتھ عباد بن بشر ، ، ابو عیسی ابن جبر ،سعد بن معاذ اور اُنکے بھتیجے الحارث رضی اللہ عنہم اجمعین ، کو لے کر کعب بن الاشرف کے عِلاقے میں پہنچے اور پہلے دو ساتھی یعنی محمد بن مسملہ اور ابو نائلہ سلکان بن قیس رضی اللہ عنھما کعب بن الاشرف کے پاس گئے وہ اُنہیں دیکھ کر بہت خوش ہوا اور پوچھنے لگا کہ '' کیسے آئے ہو ؟'' محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا ''' ہم لوگ بہت مصیبت میں ہیں اور تمہارے پاس کچھ مدد لینے کے لیئے آئے ہیں ، جب سے یہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم آیاہے اس نے ہم سے کہا کہ اگر تم لوگ ایمان لے آئے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور کہا صدقات دو ہم نے سب کچھ دے دیا ، اور کہا'' نماز'' پڑھو ہم نے پڑھنے لگے اور کہا ''روزہ'' رکھو ہم رکھنے لگے اور کہا میرے ساتھ ملکر ''جہاد ''کرو ہم نے کیا یہ سب کرتے ہو ئے ہمیں اتنا عرصہ گزر گیا لیکن ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ آخر یہ معاملہ کہاں رُکے گا اور کیا نتیجہ نکلے گا ، اور اب تو ہما ری حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اپنے گھر والوں کو کچھ کھلانے کےلیے بھی نہیں ہے، لیکن ابھی ہم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا ساتھ چھوڑنا نہیں چاہتے اور کچھ اور دیر تک دیکھنا چاہتے ہیں کہ شاید اُس کے وعدے پورے ہو جائیں اور ہماری حالت بدل جائے تم فی الحال ہماری اتنی مدد کرو کہ ہمیں کھجور کے دو چار ٹوکرے ہی دے دو تا کہ ہم اپنے خاندان والوں کو کچھ عرصے کھانا تو دے سکیں جب ہمارے پاس واپسی کی گنجائش ہو جائے گی تو تمہارا مال تمہیں واپس کر دیں گے ''' محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ کی بات کے بعد سلکان رضی اللہ عنہُ نے کعب کو اپنی پرانی دوستی یاد دلائی کعب نے کہا ''میں کعب بن الاشرف ہوں اور تم میرے پرانے دوست ہی نہیں بلکہ رضاعی بھائی بھی ہو، میں تماری مدد ضرور کروں گا ، لیکن تم لوگ میرے مال کی واپسی کی ضمانت کے طور کے طور پر کوئی چیز میرے پاس گروی رکھوا دو '' ، محمد اور سلکان رضی اللہ عنہما نے کہا ''' کیا رکھوائیں؟ ''' کعب نے کہا '' اپنی عورتیں ''اُنہوں نے کہا ''' تُم تو عرب کے خوبصورت ترین مَردوں میں سے ہو، ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ ''' کعب نے کہا '' اچھا اپنے بچوں میں سے کسی کو چھوڑدو '' تو انہوں نے کہا ''' یہ تو بڑے عیب اور شرم والی بات ہے کل کو ہمارے بچے کیا سوچیں گے کہ ہم نے اُنکی قیمت بس کھجور کے دو ٹوکرے رکھی تھی ؟ ایسا کرتے ہیں کہ ہم تمہارے پاس اپنا اسلحہ رکھ دیتے ہیں''' بیوقوف کعب نے خوش ہو کر کہا ''' ہاں ہاں اسلحہ اسلحہ ، اسلحہ تو وفا کی نشانی ہے، بالکل ٹھیک ہے تم لوگ اپنا اسلحہ میرے پاس رکھ دو '' انہوں نے کہا ''' ٹھیک ہے شام کو ہم دو تین اور لوگوں کو ساتھ لائیں گے تا کہ کھجوریں لے جا سکیں اور کھجوریں لینے سے پہلے تمہیںاپنا اسلحہ دے دیں گے ''' محمد اور سلکان رضی اللہ عنہما نے یہ بات اِسلیئے کی کہ کی طرف سے اجازت کی وجہ سے اسلحہ ساتھ لے کر داخل ہونے میں کوئی روکاوٹ نہ ہو، اور نہ ہی کعب کے چوکیدار اُنکی کوئی خاص نگرانی کریں ''' شام کافی گہری ہونے کے بعدپانچوں صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین ، کعب کے قلعے کے دروازے پر پہنچے اور آواز دِی ، ''' یا کعب ''' وہ اپنے کمرے میں اپنی بیوی کے پاس لیٹا ہوا تھا ، اُنکی آواز سُن کر فوراً جواب دِیا ''آتا ہوں آتاہوں ''،اُسکی بیوی اُسکے ساتھ لٹک گئی اور کہنے لگی '' کعب ، اس وقت باہر مت نکلو ،تم نے محمد(صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) اور اُسکے ساتھیوں سے دشمنی پال رکھی ہیں اِس وقت مت جاؤ '' کعب نے کہا '' پاگل عورت ، یہ لوگ محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کے ساتھی تو ہیں لیکن میرے پاس مدد مانگنے آئے ہیں اگر میں اِن کی بات پوری کروں گا تو مجھے محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کے دِین کو ناکام کرنے اور اُسکے مزید ساتھیوں کو اپنے ساتھ ملانے کا موقع ملے گا ، اور خاص طور پر یہ لوگ تو میرے دوست اور رضاعی بھائی ابو نائلہ کے ساتھ آئے ہیں، اور میں کوئی بیوقوف تو نہیں ، یہ لوگ اپنا اسلحہ بھی میرے پاس گروی رکھ رہے ہیں ، اور میں اپنے قلعے میں اپنے چوکیداروں کے سامنے ہوں یہاںکوئی میرا کُچھ نہیں بگاڑ سکتا '' اُسکی بیوی نے پھر کہا '' کعب خون بہنے کی آواز آرہی ہے، مت جاؤ '' کعب نے اپنی بیوی پر بہادری کی دھونس جماتے ہوئے کہا '' میں کعب بن الاشرف ہوں ، باعزت اور با رتبہ سردار اور اگر ایسے سردار کو اُسکے دوست آدھی رات کو قتل کرنے کے لیے بھی پکاریں تو وہ ضرور جاتا ہے '' اتنی دیر میں صحابہ نے پھر اُسکو زور سے آواز دِی ''' یا کعب ''' اُس نے بھی اونچی آواز میں کہا ''آرہا ہوں آرہا ہوں '' اور باہر آ کر اپنے چوکیداروں کو اشارہ کیا کہ دروزاہ کھول دیا جائے اور اِن لوگوں کو اسلحے سمیت اندر آنے دِیا جائے ، میں خود اُن کا اسلحہ اُن سے وصول کروں گا ، اُسکے چوکیداروں نے دروازہ کھول دِیا اور پانچوں صحابی رضی اللہ عنہم اندر داخل ہو گئے ، اور کعب کے پاس پہنچے اور کہا ''' کعب تمہارے پاس سے رخصت ہونے سے پہلے کچھ اور بات چیت کر لیں، اور تھوڑی چہل قدمی کر لیں ''' اُس نے کہا '' کیوں نہیں '' اور سب ملکر ٹہلنے لگے ، کعب کے پاس آنے سے پہلے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہُ نے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ طے کر کھا تھا کہ میں بہانے سے کعب کو سر کے بالوں سے قابو کروں گااور جب پوری طرح سے قابو کر لوں گا تو پھر تم لوگوں کو آواز دوں گا تُم لوگ اُس پر حملہ کر دینا ،اپنے اِسی منصوبے پر عمل کرنے لے لیے ہی اُنہوں نے کعب کو باتیں کرنے اور ٹہل قدمی کرنے کا کہا تھا ، جب وہ لوگ چلتے چلتے رہائشی عِلاقے سے کچھ دور ہوئے تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ نے کہا''' کعب تمہارے پاس سے بہت اچھی خُوشبُو آ رہی ہے ، کیا تُم مجھے اجازت دو گے کہ میں تمہارے بال سونگھ لوں ؟ ''' کعب جو پہلے ہی یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ آج وہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھیوں میں اپنے کچھ کواپنے ساتھی بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے ، اِس بات پر اور خوش ہوا اور بڑے فخر سے کہا '' میرے پاس عرب کی سب سےبہترین عِطر تیار کرنے والی عورتیں ہیں ، ضرور تُم اِس خُوشبُو کو سُونگھو '' محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ نے اُسکے قریب ہو کر اپنے دونوں ہاتھ اُس کے بالوں میں داخل کیے اور اُسکے بالوں کو سونگھا ، اور پھر چھوڑ دِیا ، اور کہا ، '''کعب میرے ساتھیوں کو بھی اجازت دو کہ اِس خُوشبُو کو سونگھ سکیں ''' کعب اور زیادہ اکڑا اور کہا '' کیوں نہیں ضرور '' ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کِیا اُنہوں نے بھی باری باری کعب کا سر سونگھا اور پیچھے ہٹ گئے یہ ساری کاروائی کعب کے چوکیداروں کو دِکھانے کےلیے کی جا رہی تھی تا کہ وہ کعب کی طرف سے بے فکر ہو جائیں اور یہ سمجھ لیں کہ کعب اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کر رہا ہے اور اُسے اِن لوگوں سے کوئی خطرہ نہیں ، کچھ اور دور جا کر پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ نے کہا ''' کعب مجھے تمہاری خُوشبُو پر صبر نہیں آ رہا ''' کعب نے پھر خوش ہو کر کہا ''' تو کیا ہوا پھر سونگھ لو ''' ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ نے پھر پہلے جیسا کام کیا ، کچھ دیر بعد جب وہ لوگ چوکیداروں سے کافی مُناسب حد تک دور ہو گئے ، تو پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ نے کہا ''' کعب بس اب آخری دفعہ اپنا سر سونگھنے کی اجازت دے دو ''' کعب نے بڑے تکبر کے ساتھ مسکراتے ہو ئے کہا ''' ہاں ضرور ، سونگھ لو اور جان لو کہ میرے پاس عرب کی سب سے بہترین خوشبو ہوتی ہے '' محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ والہانہ انداز میں آگے بڑھے اور اپنے دونوں ہاتھ کعب کے کانوں کے پاس سےاُسکے سر میں داخل کر کے اُسکے سر کے بالوں کو انتہائی مضبوطی سے قابو کر لیا اور اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہا''' مار ڈالو اللہ کے دُشمن کو ''' ساتھیوں نے اپنے ہتیاروں سے اُس پر حملہ کر دِیا ، وہ لوگ اُس وقت اندھیرے میں تھےلہذا کِسی کا بھی وار اِس حد تک کار گر نہ ہوا کہ اللہ کا دُشمن اُسی وقت ہلاک ہو جاتا ، صحابہ کے وار پڑنے پر وہ انتہائی اُونچی آواز میں چیخ رہا تھا ، اُسکی چیخیں سُن کر اُسکے چوکیدار اپنی اپنی مشعلیں جلا کربھاگتے ہوئے اُس طرف کو آئےقلعے کے اوپر والی رہائشی حصے میں سے اُس کی بیوی اور دوسری عورتیں بھی اُس کی چیخ و پکار سن کر چیخنے لگیں ، اُسکے چوکیدار بہت قریب پہنچ چکے تھے ، اور اللہ کا وہ دُشمن اُس وقت تک مرا نہیں تھا بلکہ اُسکو کوئی ایسا زخم بھی نہیںآیا تھا جو اُسکے لیے جان لیوا ہوتا ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہُ نے صورتِ حال کو بھانپ لیا اور اپنے ترکش میں سے ایک تِیر نِکال کر اُس کی چونچ والاحصہ کعب کے پیٹ کے نچلے حصے پر رکھ کر تکبیر بُلند کرتے ہوئے اپنا پورا وزن تیر کے دوسرے سِرے پر ڈال دِیا ،تِیر کعب کا پیٹ پھاڑ کر اندر داخل ہوتا چلا گیا ، اوراللہ کا دُشمن کعب ایک زور دار چیخ نکال کر خاموش ہو گیا ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہُ نے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تکلیف دینے والے یہودیوں کے طاغوت کعب بن الاشرف کے مرنے کی تاکید کی ، اتنی دیر میں قلعے میں موجود تمام تر چوکیدار اور دوسرے لوگ بھی اپنے اپنے ھتیار لے کر وہاں پہنچ چکے تھے ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہُ اور اُنکے باقی ساتھی رضی اللہ عنہم اجمعین دشمنوں سے لڑتے ہوئے اُن کا گھیرا توڑ کر وہاں سے کامیابی کے ساتھ نکل آئے ، اللہ ، اُس کے دِین اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور صحابہ کے دُشمن اور اُن کی شان میں گُستاخی کرنےوالے ، یہودیوں کے طاغوت کو فدائی کمانڈو ایکشن کے ذریعے قتل کرنے کے بعد جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ و ارضاہ اور اُن کے باقی چار ساتھی رضی اللہ عنھُم اجمعین واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن کو دیکھ کر خوش ہوئے اور آخرت کی کامیابی کی خوشخبری سُناتےہوئے فرمایا :::::: [size=24pt]( افلَحَت الوُجُوہ ::: کامیاب ہو گئے (یہ ) چہرے ) [/size] اِس واقعے میں بہت سے اہم سبق ملتے ہیں ، (١) دیگر بہت سے واقعات کی طرح اِس واقعے میں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم غیب کا عِلم نہیں جانتے تھے ، لہذا اپنے ساتھی محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ کے غیر حاضر ہونے کا سبب نہ جان سکے ، (٢) یہودی ہمیشہ سے خائن اور بُزدل ہوتے ہیں ، اور اِسلام کے آغاز سے ہی وہ اِسلام اور مسلمان دُشمنی میں اپنا وقت اور مال خرچ کر رہے ہیں ، خود صِرف وہاں سامنے آ کر لڑتے ہیں جہاں اُنہیں یہ یقین ہو کہ اُنہیں کوئی جانی نُقصان نہیں ہو گا ،جہاں مار پڑنے کا اندیشہ ہو وہاں وہ دوسروں کو استعمال کرتے ہیں ، (٣ ) کِسی مسلمان کا نام صرف ''' محمد ''' رکھنے میں کوئی گُناہ یا بے ادبی نہیں جیسا کہ ہمارے معاشرے میں خیال کیا جاتا ہے اور کِسی کا نام صرف ''' محمد ''' نہیں رکھا جاتا ، کہ صِرف یہ نام رکھنا بے ادبی ہے اور کوئی اور نام بھی اکیلا رکھنا برا خیال کیا جاتا ہے جِسکی وجہ خاص دِین دار طبقے کے لوگ ایک حدیث بتاتے ہیں ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے ( من ولد لہ ثلاثہ فلم یسمِّ احدھم محمداً فقد جھل ) ( جِسکو تین بیٹے ہوئے اور کِسی کا نام بھی محمد نہ رکھا تو وہ جاھل ہے ) یہ حدیث جھوٹی ہے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ /حدیث ٤٣٧، اِس پر اور اِس جیسی جھوٹی باتوں اور مَن گھڑت فلسفوں پر عمل کرتے ہوئے ہمارے معاشرے میں بچے کو کوئی اور نام دے کر اُسکے ساتھ '' محمد '' یا '' احمد '' یا '' علی ''، ''حسن '' ، '' حسین '' وغیرہ جوڑا جاتا ہے اور اِس جوڑ کے چکر میں نام کی حد تک تو شرک کو جوڑ ہی لیا جاتا ہے ،مثلاً '' غلام محمد '' ، '' غلام رسول '' '' غلام نبی '' '' غلام علی '' '' زاہد علی ''، ''کلبِ حسین ''،'' عابد حسن '' وغیرہ وغیرہ اور عورتوں کے ناموں میں بھی ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے مثلاً '' کنیز فاطمہ ''، '' نور فاطمہ '' وغیرہ، بات ہو رہی تھی نام ''''' محمد ''''' رکھنے کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے ( سمُّوا باِسمِی و لا تَکنَّوا بکُنِیتیِ ) ( میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کُنیت پر کُنیت مت رکھو ) مُتفقٌ علیہ ، لہذا صِرف ''' محمد ''' نام رکھنے میں کوئی گناہ یا بے ادبی نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے اِس عظیم مجاہد صحابی محمد بن مسملہ کا نام تبدیل فرما دیتے ، جِس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ سوائے غزوہ تبوک کے ہر معرکے میں حصہ لیا اور غزوہ اُحد میں جب سب لوگ ادھر اُدھر ہو رہے تھے اور کافروں نے ہر طرف سے رسول اللہصلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر حملہ کر دِیا تھا تو کافروں کے ہر وار کو اپنے جسموں پر روکنے والے چند سچے عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم میںیہ بھی تھے ۔ حوالہ جات ، صحیح مسلم ، صحیح ابن حبان ، المستدرک علیٰ الصحیحین للحاکم ، المعجم الکبیر للطبرانی ، اخبار المدینہ لابو زید عمر بن سبۃ النمیری البصری، اگر اِس ویب سائٹ کے منتظمیں صاحبان کو اعتراض نہ ہو تو ا"" مثالی شخصیات The Ideals "" کا سلسلہ کالمز میں شروع کیا جا سکتا ہے اور جیسے جیسے اللہ کی توفیق سے جو نئی شخصیت اپنی کتاب میں شامل کر پاوں گا یہاں کالمز میں بھی ارسال کر دیا کروں گا ۔انشاء اللہ تعالیٰ ، و ما توفیقی الا باللہ ۔ عادل سہیل ظفر ۔ 18/07/2007
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,608
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام!
عادل صاحب یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ اپ ایک اچھی کتاب لکھ رھے ہیں۔ اور اپ اس کتاب کو ہمارے فورمز پر اشائع بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جہاں تک کالمز والے سیکشن کا تعلق ہے اس میں شائد اتنی گنجائش نہ ہو کہ تمام کی تمام کتاب یہاں پر بحث میں آنے والے موضوعات کے عین مطابق ہو۔ اپ اس میں سے منتحب جو کہ کالمز کے سکیشن کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں پیش کر سکتے ہیں۔ باقی کے مضامین کے لیے ہمارے پاس مذہبی فورمز کا ایک پورا سیکشن ہے جس میں مزید فورمز کا آضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔۔ اپکی تجاویز کا انتظار رہے گا اس بارے میں۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,852
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم بھائی منتظمین السلام علکیم
میں نے آج ایک اور کالم ارسال کیا ہے اُمید ہے کہ آپ کی بات کا کچھ جواب اُس میں مل جائے گا انشا اللہ ، میں جو بھی کالم آپ کی اَس سائٹ پر ارسال کروں گا وہ ہر قاری کے فائدے کے لیے ہوں گے انشا اللہ ، کالمز کے زیر سایہ مستقل عنواین کا آغاز کیا جا سکتا ہے ، جیسا کہ ““ آئیڈیلز ، مثالی شخصیات “““ ، اور اَسی طرح اسلامی مضامین کے ضمن میں بھی الگ الگ عنوان کے سلسلے شامل کیئے جاسکتے جن کے رابطے یعنی ہائپر لنکز عام کالمز میں بھی واضح طور پر ظاہر کیئے جائیں تا کہ خیر اور اصلاح کا کام مہمانوں اور زائرین کے خاص طبقے تک محدود نہ رہے ، باقی انشا اللہ آپ کے جواب کے بعد السلام علیکم |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فورمز, پیارے, پیاسا, پاکستان, پاکستانی, وزیر, قرآن, لوگ, مکہ, موت, آج, اللہ, انشا, انعام, احتجاج, اسلام, اسلامی, بھائی, جواب, جلد, حدیث, خون, خبر, دعا, شخص |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جنگ جرنیلوں پر نھیں چھوڑی جا سکتی | فیصل ناصر | سیاست | 4 | 28-07-10 03:47 PM |
| آنکھیں کھولیں | sahj | عمومی بحث | 1 | 05-12-09 11:30 AM |
| چھین کر خواب مرے مری طلب پوچھتے ھیں | The Great | شعر و شاعری | 0 | 25-08-09 01:58 PM |
| ھم اکثر بھول جاتے ھیں ۔۔ | Haya 786 | گپ شپ | 18 | 27-04-09 01:59 PM |
| جلدی بتاو کتنے گھوڑے دیکھ رھے ھیں | J.S | دلچسپ اور عجیب | 16 | 09-07-08 07:06 PM |