واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-08-10, 09:47 AM   #1
بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 22-08-10, 09:47 AM

الیکشن میں دھاندلی ہو یا حکومتی غلط بیانی ،بدکلامی ہو یا بد انتظامی ہمیشہ ہی افسوس کا اظہار کیا ۔ عوامی ترجمانی کا کبھی بھی دعویدار نہیں رہے ۔ کیونکہ سیاست ہو یا سیاسی چالبازی کے جراثیم کبھی پنپ نہیں پائے ۔مگر ایک بری عادت نے کبھی ساتھ نہ چھوڑا ۔سوچنے کی عادت جوشروع سے تھی لیکن آج سوچ کے تمام دروازے بند محسوس ہو رہے ہیں ۔حالات سے کبھی گھبرائے نہیں ۔ مسائل سے نپٹنا اور حالات سے مقابلہ کرنے کی اپنی سی سعی کرتےہیں ۔
علامہ اقبال کے اس شعر کو ہمیشہ پلو سے باندھ کے رکھا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔ ایک نہ ایک دن ہمیں ضرور احساس ہو گا ۔ بحیثیت قوم ہمارے اندر جو خامیاں رہ گئی ہیں ۔ ضرور جلد یا بدیر ان پر قابو پا لیا جائے گا ۔ لیکن سیالکوٹ میں دو نوجوانوںپر تشددکے دن دیہاڈے سینکڑوں کے ہجوم کے سامنے پیش آنے والے واقعہ نے انسانی تاریخ میں رونما ہونے والی وحشت و بربریت کی داستانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ ہسٹری چینل پر صدیاں پرانے مخالفین پر ڈھائے جانے والے مظالم کے لئے جو طریقے اختیار کئے جاتے تھے ۔ میرے اوسان خطا کرنے کے لئے کافی تھے ۔ ظلم و بربریت کی جو داستان قومی اور انتظامی سطح پر تماشا دیکھنے سے رقم کی گئی ہے ۔ شائد اگلی صدی میں انہیں بھلانا ممکن نہیں ہو گا ۔ آخر ایسی بھی کیا جرم کی انتہا ہو گئی کہ دیکھنے والے صرف تماشائی ہونے تک اپنا حق ادا کرتے رہے ۔سانس لیتی زندگی سے لیکر موت سے ہمکنار مردہ جسم مسلسل بربریت کی انتہا تک جا پہنچے ۔
کئی دہائیوں سے مردہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے والی قوم آج خود کو مردہ قوم کی شرمساری کی آغوش میں پناہ لینے لگی ۔ ظلم کرنے والے ہمیشہ سے بچوں و خواتین کو تنہائی میں اپنی درندگی کا شکار کرتے رہے ہیں ۔ایسے ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اجتماعی سطح پر قومی ذمہ داری کو ادا کیا جاتا رہاہے ۔ مگر یہ واقعہ کسی بند کمرے یا اندھیری رات کی سرگوشی نہیں ہے ۔دن دیہاڈے اجتماعی منظر کشی کا نمونہ خاص ہے ۔ جو ہمارے لئے سوالوں کے انبار چھوڑ گیا ہے ۔ کیوں ہمارا معاشرہ بےحسی کی تصویر بنتا جا رہا ہے ۔ اور ادارے مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ آج لکھنے کی طاقت نہیں ۔ لفظ شرمندہ ہیں ۔ ہاتھوں میں ڈنڈے لئے مارنے والوں کو دیکھتے خون کھول رہا ہے ۔ زمین پر بے بسی سے لیٹے خون میں لت پت ایک لمحے کو بھی زخم سہلانے کی مہلت نہیں پا رہے تھے ۔
دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں بھرے مجمع میں ایسی خوفناک بربریت کا شائد یہ پہلا واقعہ ہو ۔جہاں قانون کے محافظ خود قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو تحفظ دے رہے ہیں ۔اور بین الاقوامی سطح پرانصاف کی دہائی دینے والی قوم کے سینکڑوں افراد خود ہی انسانیت کی تذلیل کے عینی شاہد ہوں ۔
برسوں پہلے کے ایک واقعہ نے میرے اندر طلاطم پیدا کر دیا ۔ جسے میں اپنے ایک طنز ومزاح کے مضمون تھوڑی سی لفت کرا دے میں بیان کر چکا ہوں ۔ تئیس سال پہلے گورنمنٹ کالج لاہورمیں ایم اے میں داخلہ لینے کے چند روز بعد ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے آٹھ دس لڑکے دو مخالف پارٹی کے لڑکوں کوگھونسوں اور لاتوں سے پیٹ رہے تھے ۔ اور بیسیوں لڑکے خاموش تماشائی بنے خون آلود چہروں پر نظریں جمائے وہیں کھڑے تھے ۔ مجھ سےیہ منظر دیکھ کر رہا نہ گیا اور بیچ میں کود پڑا ۔ دونوں لڑکوں کو بحفاظت نکال کر لے گیا ۔ کہنے والے کہتے رہے کہ پرائی آگ میں کیوں کودے ۔خطرناک گروپ ہے اب اس کا خمیازہ تمہیں بھگتنا پڑے گا ۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا ۔
سیالکوٹ کے واقعہ نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ دل سے برا جاننے سے ہی اپنے فرض منصبی کو ادا کر رہے ہیں ۔ روکنے والےسینکڑوں ہاتھ ظلم کرنے والے چند ہاتھوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں ۔اور حکومت صرف نمائشی واقعات میں پانچ پانچ لاکھ کے چیک دینے سے غریبوں کی عزت بحال کرنے کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کو ترجیح دیتی ہے ۔
آج مجھے اپنے یہ اشعار شدت سے یاد آ رہے ہیں ۔

دغاء انسان سے اُٹھ میرا وفاءایماں گیا
ظاہر سیرت فرشتہ اندر دیکھا ہو حیراں گیا

نام خدا سے ہے جنکو ملتا مقامِ عزت جہاں
قلبِ سیاہ سے جلتا دیا خود اپنے پہ قرباں گیا

نام سے شہرت نہیں تو در سے گھر نہیں
جو خود کو نہیں بھولا دور اس سے لا مکاں گیا

ایک جسم و جاں میں رکھتے دو الگ فریب روپ ہیں
سوکھے پھول ہیں سب نام رکھا گلستاں گیا

خوش قسمت ہیں گل و گلزار عداوت خار رکھتے ہیں
ہر بشر عظیم کا ہاتھ اپنے ہی گریباں گیا

میرا فرش ملک ادنیٰ تیرا عرش فلک عظیم
حاکمیتِ فرعون نہ رہی مگر چھوڑ نفرت نشاں گیا

اسلاف اسلام تو ہے مجھے سفینہ محبت مقام مصطفےؑ
زمام رفعت مقام میں کھوتا بھٹکا انساں گیا
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 249
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-08-10), یاسر عمران مرزا (22-08-10), نورالدین (05-10-10), منتظمین (22-08-10), مرزا عامر (22-08-10), اویسی (22-08-10), ابرارحسین (22-08-10), حیدر (05-10-10), عدنان دانی (22-08-10)
پرانا 22-08-10, 02:45 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (22-08-10), مرزا عامر (05-10-10), بزم خیال (23-08-10), حیدر (05-10-10)
پرانا 05-10-10, 07:36 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 346
کمائي: 6,553
شکریہ: 577
180 مراسلہ میں 317 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان لڑکوں نے ایسا کون سا کام کیا جس کی ان کو سزا دی گئی ہے ؟؟؟
ہادی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ہادی کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (05-10-10), حیدر (05-10-10)
جواب

Tags
فرض, ہسٹری, کالج, پھول, واقعات, نفرت, چینل, موت, مقابلہ, ممکن, محبت, مسائل, معاشرہ, آج, اسلام, اشعار, بچوں, جلتا, جلد, جرم, خون, خواتین, خدا, سیاست, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تیرے ہاتھ الگ میرے ہاتھ الگ راجہ اکرام شعر و شاعری 7 16-04-12 09:08 PM
ماں ساتھ ہے تو سایہ قدرت بھی ساتھ ہے راجہ اکرام شعر و شاعری 24 09-06-11 02:36 PM
وکی لیکس کے ڈرون حملے جاری، دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی بمبارمنٹ، پول کھلنے لگے جاویداسد خبریں 1 01-12-10 01:59 PM
افغانستان: فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور ترقیاتی کام کی بھی ضرورت ہے: ہلری کلنٹن راجہ اکرام خبریں 1 01-02-10 05:25 PM
میرے ہاتھ میں تیرا ہاتھ شیراز احمد شاعری اور مصوری 1 15-07-09 12:04 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger