|
بل گیٹس کا فلاحی کلب

16-12-10, 05:13 AM
اشتیاق بیگ
بل گیٹس کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ ان کے اثاثوں کی مالیت کا اندازاً 75 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ کچھ سالوں قبل تک بل گیٹس کی مقبولیت، شہرت اور شناخت محض ان کی دولت تھی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی مزید عنایت کی۔ انہیں مالی اثاثوں اور مادی دولت کے ساتھ ساتھ دل کی دولت سے بھی نواز دیا۔ بل گیٹس نے اپنی دولت کا بیشتر حصہ فلاحی کاموں کے لئے وقف کردیا۔ بل گیٹس کی فلاحی تنظیم سماجی کاموں کے لئے اب تک 29ارب ڈالر سے زائد کے عطیات دے چکی ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے وصیت کی کہ میں اپنی اولاد کے لئے صرف اتنی رقم چھوڑ جاﺅں گا کہ وہ اگر اپنی اولاد کے لئے اپنی پوری دولت چھوڑ جاتے ہیں تو ان کی اولاد کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہے گا اور وہ کامیاب بننے کے لئے جدوجہد نہیں کریں گے۔ میں ان کے لئے صرف اتنی رقم چھوڑ جاﺅں گا کہ وہ جدوجہد کرکے اپنے باپ کی طرح ایک کامیاب انسان بن سکیں۔ واضح رہے کہ موصوف پیدائشی امیر نہیں ہیں بلکہ انہوں نے ساری دولت اور کامیابی اپنی محنت اور جدوجہد سے حاصل کی ہے۔
بل گیٹس نے دنیا بھر کے ارب پتی افراد سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ آگے بڑھیں اور ان کے ساتھ فلاحی کاموں میں شریک ہوجائیں۔ ان کی اپیل کا خاطر خواہ اثر ہوا اور امریکہ کے دوسرے امیر ترین افراد اپنی دولت بل گیٹس کے فلاحی ادارے کے لئے وقف کررہے ہیں، جن میں کئی ارب پتی افراد بھی شامل جن کاکہنا ہے کہ جب فلاحی کام کرنے ہی ہیں توپھر انتظار کیوں، ابھی سے ہی اس کام کا آغاز کیوں نہ کیا جائے۔ ان نوجوانوں کے فلاحی جذبے نے دیگر امراءکو بھی متاثر کیا اور امریکہ کے امیر ترین لوگوں نے اپنی حکومت سے یہ درخواست کی کہ ان پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگائے جائیں تاکہ ان کے دیئے گئے ٹیکسوں سے غریب لوگوں کی مدد ہوسکے۔ اس مہم میں اب تک دنیا بھر کے 57 ارب پتی افراد شمولیت اختیار کرچکے ہیں جن میں بھارت کے بھی کچھ ارب پتی شامل ہیں۔
پاکستانیوں کے لئے یہ خوشی کا مقام ہے کہ پاکستان کے ایک معروف صنعتکار بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ پاکستان کا امیر ترین طبقہ سماجی اور فلاحی کاموں سے لاتعلق ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں آنے والے سیلاب نے 2 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا ۔ اس مشکل ترین مرحلے پر پاکستان کا امیر ترین طبقہ غافل رہا اور یہ کہہ کر اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالنے سے اجتناب کرتا رہا کہ ان کی دی ہوئی امداد کرپشن کے باعث متاثرین تک نہیں پہنچ پائے گی۔ اس کے برعکس پاکستان کا متوسط طبقہ فلاحی اور سماجی کاموں میں سب سے آگے رہا، چاہے وہ 2005ءکے زلزلے کے متاثرین کی امداد ہو یا حالیہ سیلاب زدگان کی مدد کا معاملہ ہو۔ملک میں چلنے والے بیشتر فلاحی منصوبے ان ہی کے دم سے چل رہے ہیں۔
پاکستان کا امیر ترین طبقہ اپنی سماجی اور فلاحی ذمہ داریوں سے کتنا غافل ہے اس کا مجھے ذاتی تجربہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنے فلاحی ادارے میک اے وش فاﺅنڈیشن کی طرف سے پاکستان کے امیر ترین لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان لاعلاج بچوں کی خواہشات کی تکمیل کے لئے ادارے سے تعاون کریں۔ مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ تحریر کرنا پڑ رہا ہے کہ میری اپیل پر ان امراءنے کوئی توجہ نہ دی۔ اس کے برعکس کچھ ایسے لوگ بھی عطیات دینے کے لئے ادارے میں تشریف لائے جن کی مالی حالت بہت مستحکم نہ تھی۔
جس ملک کا امیر ترین طبقہ اپنے ملک کے مسائل سے لاتعلق رہتا ہے، فلاحی کاموں میں حصہ نہیں لیتا، اس ملک میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلے بڑھتے جاتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے یہ فاصلے لوگوں کو جرائم، اغواءبرائے تاوان اور تخریب کاری پر آمادہ کردیتے ہیں۔ فلاحی کام ملک کے غریبوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں اور معاشرہ ان کے ساتھ ہے۔
یہ فلاحی منصوبے ملک کے محروم طبقے کے لئے امید کا چراغ ہیں۔ ان چراغوں کو روشن رہنے دیجئے، اگر خدانخواستہ یہ چراغ بھی بجھ گئے تو لوگوں کی امید و آس ٹوٹ جائے گی اور ناامیدی لوگوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کردے گی۔ پاکستان میں کچھ لوگ غیر یقینی صورتحال سے مایوس ہوکر دہشت گردی کی راہ پر چل پڑے ہیں، اس لئے معاشرے سے بے چینی کے خاتمے، امیر و غریب کے بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے ارب اور کروڑ پتی بھی ایک فلاحی کلب کی بنیاد رکھیں اورسماجی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ اس طرح ان افراد کی کامیابی اور ان کی دولت ملک کے ہزاروں انسانوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کا سبب بن سکتی ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
15 دسمبر 2010ء
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|