واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-10-11, 01:28 AM   #1
بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور
سید محمد عابد سید محمد عابد آف لائن ہے 24-10-11, 01:28 AM

سائنس و ٹیکنولوجی کے میدان میں ترقی ہر ملک کے لئے ضروری ہے اور اس کے لئے ہماری نوجوان نسل خصوصاً بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بچوں کو جو کچھ شروع سے سمجھایا جاتا ہے اور جو کچھ وہ دیکھتے ہیں وہ بھی ویسا ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہر انسان کا مستقبل میں بچپن اور جوانی کے اثرات اور تجربات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اگر بچوں کو سائنس و ٹیکنولوجی کے ماحول میں رکھا جائے جہاں وہ روزانہ سائنسی تجربات سے ہمکنار ہوتے ہوں تو وہ ان چیزوں میں دلچسپی لیں گے اور اس طرح بچوں میں سائنس کا شعور پیدا ہوگا۔ ان بچوں کی تربیت ایسے ماحول میں کی جائے جہاں ان کا جوش وجذبہ سائنس وٹیکنولوجی سے وابسطہ ہو تو ملک میں تقریباً ہر دو سے چار دن میں ایک نئی ایجاد سامنے آئے گی۔
سائنس کو اردو میں علم کہتے ہیں اور علم کا مطلب ہوتا ہے جاننا یا آگہی حاصل کرنا، اپنے اردگرد کے ماحول کا مشاہدہ کرنا، مختلف قدرتی چیزوں کے بارے میں سوچنا اور پھر اس پر تجربہ کرنے والے کو سائنسدان کہتے ہیں یعنی سائنسدان وہ ہوتا ہے جو مشاہدہ کرتا ہے اور سوچ کر کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے۔ یہ سب کچھ بچے تو بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں اور آج کل کے بچے تو دیکھتے ہی دیکھتے بڑی بڑی چیزیں بنا لیتے ہیں۔ بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور بیدار کر کے ہم متعدد ایجادات کو حاصل کر سکتے ہیں۔
اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کہ علم انسان کا زیور ہے اور یہ انسان کو سنوارتی ہے۔ تو اس تعلیم کو ہم سائنس وٹیکنولوجی کے فروغ کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر تعلیمی اداروں میں ہفتے کے دوران کسی ایک دن ایک آدھ گھنٹا سائنسی تجربات میں لگایا جائے یا پھر سال میں ایک دن سائنسی تجربات کے لئے وقف کر دیا جائے۔ اس دن اساتذہ بچوں کو سائنس و ٹیکنولوجی سے متعلق اہم معلومات فراہم کریں اور بچوں کو نئی نئی چیزیں بنانے کا موقع دیں۔ اس کے علاوہ سال میں سائنس سے متعلق بچوں کے شوز منعقد ہوتے رہنے چاہیئے ہیں۔
پاکستان میں ذہانت کی کمی نہیں ہے اور اس بات کو پاکستان کے ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والا چودہ سالہ بابر اقبال ثابت کر چکا ہے۔ اس کم عمر لڑکے نے اپنی چھوٹی سی عمر میں بھی انفورمیشن ٹیکنولوجی کے شعبے میں چار ورلڈ ریکارڈ قائم کئے۔ بابر اقبال نے پہلا ورلڈ ریکارڈ نو سال کی عمر میں قائم کیا۔ اتنی کم عمری میں چار ورلڈ ریکارڈ حاصل کرنے کی وجہ سے مائیکر وسوفٹ نے بابر اقبال کو امریکہ میں مفت تعلیم کے لئے منتخب کیا۔ جس طرح جاوید اقبال نے انفورمیشن ٹیکنولوجی کی دنیا میں اپنی کم عمری کے باوجود چار ورلڈ ریکارڈ قائم کیئے، بالکل اسی طرح کل کوئی اور بچہ سائنسی ایجاد بھی کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنس و ٹیکنولوجی کو تعلیمی اداروں کی سطح پر فروغ دیا جائے۔
غیر سرکاری اسکولز ہر ہفتے کوئی نہ کوئی دن مثلا رنگوں کا دن، ماں کا دن، باپ کا دن، پھلوں کا دن، خوراک کا دن اور دیگر مناتے ہیں جو کہ بچوں کو معلومات فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ ہم بالکل اسی طرح ایک دن سائنس و ٹیکنولوجی کے نام پر منا سکتے ہیں۔ ویسے تو یونیسکو کے کہنے پر ہر سال دنیا بھر میں 10 نومبر کو ورلڈ سائنس ڈے منایا ہی جاتا ہے مگر ملکی سطح پر بھی تعلیمی اداروں میں سائنس و ٹیکنولوجی کے فروغ کے لئے ایک دن وقف کرنا بہترین اقدام ہوگا۔
ملک میں پاکستان سائنس فاﺅنڈیشن (پی ایس ایف) سائنس و ٹیکنولوجی کے فروغ کے لئے کام کر رہا ہے۔ پی ایس ایف ملک بھر میں پانچ سائنس سینٹرز قائم کر رہا ہے جو کہ سائنس کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ ان سینٹرز کی تعمیر تین سال کے عرصے میں دو سو ستاون اعشاریہ سات دو چار ملین لاگت سے مکمل ہو گی۔ ان پانچ سائنس سینٹرز میں سے دو صوبہ بلوچستان جبکہ باقی دیگر صوبوں میں تعمیر کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پی ایس ایف تین سال کی ہی مدت میں ملک بھر کے 100 اسکولوں میں پچیاسی اعشاریہ نو تین نو ملین کی لاگت سے سائنس کلبس تعمیر کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
پی ایس ایف کے تعاون سے پاکستان مونامنٹ میوزیم اسلام آباد میں سائنس اینڈ ٹیکنولوجی نمائش سال 2011-12ء کے دوران کرائے جانے کا امکان ہے۔ پی ایس ایف کے علاوہ نیشنل اکیڈمی اوف ینگ سائنٹسٹ، پاکستان سائنس کلب اور دیگر ادارے بھی سائنس اینڈ ٹیکنولوجی کے فروغ کے لئے کام کر رہے ہیں۔
یہ بات جان کر نہایت افسوس ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں سائنس ڈے ہر سال دھوم دھام سے منایا جاتا ہے مگر ہمارے ملک میں گزشتہ سال مالی و دیگر وجوہات کی بنا پر سائنس ڈے ہی نہیں منایا گیا۔ ہم سائنس و ٹیکنولوجی کے فروغ کی بات تو کر رہے ہیں مگر سال میں آنے والے سائنس کے عالمی دن کو ہی نہیں مناتے۔ حکومت پاکستان کو سائنس و ٹیکنولوجی کے فروغ کے لئے متعدد انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: سید محمد عابد

بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور

بچوں میں سائنس و ٹیکنولوجی کا شعور
__________________
Science comes first where Technology is a product of Science
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
www.smabid.technologytimes.pk

 
سید محمد عابد's Avatar
سید محمد عابد
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 140
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (26-10-11), رضی (07-12-11)
جواب

Tags
کوشش, مفت, مکمل, موقع, ماں, آج, انسان, امریکہ, اردو, اسلام, بہترین, بچپن, بچوں, بچے، سائنس و ٹیکنالوجی, تحریر, تعلیم, جاوید اقبال, خان, دنیا, سال, سائنس, علم, عمری, عالمی, صوبہ, صوبوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
روزانہ 2 گھنٹے سے زیادہ ٹیلی ویژن دیکھنے والوں میں ہارٹ اٹیک کے امکانات دو گنا ہوجاتے ہیں۔ ماہرین گلاب خان شعبہ طب 0 19-02-11 03:12 AM
عوام پرٹیکس لگانے والوں کو اپنی ”ادائیگی “ہی یاد نہیں جاویداسد خبریں 2 26-11-10 07:21 PM
عوام کو نومبر سے 119ارب کے ٹیکسوں تلے دبائے جانے کا امکان جاویداسد خبریں 0 03-10-10 03:41 PM
بھارت نے کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی بھاری رشوت کے عوض حاصل کی ٹیلی گراف جاویداسد خبریں 0 24-09-10 06:36 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:06 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger