واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


بھولنے والے بھول جائیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-07-11, 02:53 PM   #1
بھولنے والے بھول جائیں
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 22-07-11, 02:53 PM

اصلاح احوال کریں تو کیسے کریں اتنے ٹی وی چینل خبریں تو ایک جیسی ہیں ۔ مگر انداز بیان الگ الگ ۔ اخبارات شہر شہر نگری نگری کی کہانیاں سمیٹے ہوئے ظلم و نا انصافی کی دہائی دیتے ہوئے مظلوم کے حق میں انصاف کا جھنڈا لہراتے ہوئے عوامی خدمت سر انجام دے رہے ہیں ۔ عوامی نمائندے بھی کسی سے پیچھے نہیں حق رائے دہی کا احترام کرتے ہوئے حق سے محرومی پر سیخ پا نظر ضرور آتے ہیں ۔ عوام کی تکلیف کا احساس حکمران اور ان کے مشیران کو آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔
بعض الفاظ اپنا تاریخی پس منظر چھوڑ جاتے ہیں ۔ جیسے سیاسی اداکار کا جملہ فنکاروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر گیا ۔ کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا ۔ ایک وقت تھا ٹی وی پر ان کے جلوے تھے ۔ تھیٹر ریڈیو سے سفر طے کرتے کرتے ٹی وی تک پہنچنا محال تھا ۔ اور فلمی سفر کی ٹکٹ ملنا تودیوانہ کا خواب تھا ۔
جیسا کہ اب محلے کی ویلفیر سوسائٹی سے کونسلر تک کا سفر طے طے کرتے کرتے اسمبلی تک پہنچنا محال ہے وزارت کا قلمدان سنبھالنا تو دیوانے کا خواب ہے ۔ جوں جوں معاشرہ اخلاقی اقدار کی کاٹ کا شکار ہے ۔ توں توں حکمرانی بندر بانٹ کے فارمولہ پر اتفاق رکھتی ہے ۔ مگر بیوقوفی میں تماشا نہیں بنتی ۔ پکڑے جانے کا ڈر ہو تو بندر کی طرح مٹھی بند نہیں رکھتی کھلے ہاتھ دکھا دیتی ہے ۔ سمجھ دار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ہاتھا پائی سے گریبان پھٹتے تو گالی سے روح تلملا جا تی ہے ۔ مگر کانوں میں جوں رینگنے کا دور گزر چکا ۔ جوں سے سر میں کھجلی کی بجائے ہاتھ کی میل دولت آنے کی امید سے کھجلی پیدا ہوتی ہے ۔ جو شریفوں کے لئے خجل خواری تو ہوس کے پجاریوں کے لئے سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ جس کے اثرات تابکاری جیسے نہیں ہوتے ۔ عوام ایسے معاملات کی جانکاری مانگتے مانگتے تانگے کی سواری کرنے کے قابل رہ جاتے ہیں ۔ رمضان کی آمد آمد ہے غریب گھرانے کئی سو روپے میں افطاری تک اپنے سحر کے اختتام کا سفر طے کریںگے ۔
ڈکشنری میں ہر لفظ کا مطلب نکالا جا سکتا ہے مگر حل نہیں ۔ مشنری اور کمشنری کے الفاظ ہم آواز تو ہیں مگر ہم معنی نہیں ۔ متحدہ ہندوستان میں مشنریوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا ۔ مگر آج بھی گورا راج کی نشانی کمشنری کا جادو سر سے اتاریں تو پھر چڑھ دوڑنے کے لئے بیتاب رہتا ہے ۔ بچپن میں دوست جادوگروں کی کہانیاں پڑھ کر ایسے شہزادوں کا روپ دھارنے کی کوشش میں رہتے جو خوبصورت شہزادی کو ظالم جادو گر کی قید سے رہائی دلا کر سہرے کی لڑیاں سجانے کے لئے آنکھوں میں طلسماتی خواب بسا لیتے ۔
آج کا جدید دور شہزادیوں کی محبت کا روادار نہیں ۔ مابائل فون اور انٹر نیٹ سے قارون کے خزانے کی جستجو ہے ۔ لاکھوں کروڑوں کے سودے ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں ۔ کمیشن لینے والا اب کمیشن ایجنٹ نہیں کہلاتا ۔ رقم کی منتقلی ارجنٹ مانگتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا مانگنے والے کو منگتا بھی کہا جاتا تھا ۔ اب مانگنا شرمساری کا باعث نہیں ۔ جب ملک قرض مانگ کر شرمندہ نہیں ہوتے تو ایسے میں فرد واحد کیوں فخر سے محروم رہے ۔
طعنے کوسنے دینے سے مسائل سے نجات ممکن دکھائی نہیں دیتی ۔ اور اکثر لکھنے والے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جو سوچتے ہیں وہی لکھتے ہیں ۔ حقیقت کا ادراک رکھنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں ۔ حالانکہ نشانی سب کی اپنی اپنی ہے جیسا کہ ۔۔۔۔۔ چلیں چھوڑیں سب ہی جانتے ہیں کہ آج باہمی اختلاف کس بات پر ہے ۔
اصل مسئلہ شائد عدم برداشت کا ہے ۔ میں میرا ، تو تیرا نے رشتوں اور باہمی احترام کی ڈوریاں ڈھیلی کر دی ہیں ۔ ابھی ٹوٹی نہیں ہیں ۔ ڈھیلی پھر بھی کسی جا سکتی ہیں مگر ٹوٹی جڑ نہیں سکتیں ۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو خود میں نیوٹرل یعنی غیر جانبداری کا طوق گلے میں پہنے ہوں ۔ اکثریت جو پڑھ لیں یا جو سن لیں اسی پر یقین کی بنیاد کھڑی کر لیتے ہیں ۔ پھر کوئی نظریہ کوئی فلسفہ زبر سے زیر نہیں کر سکتا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں ہے تو اپنے مکمل کوائف اور تفصیلات تیار رکھے ۔ کیونکہ ڈگریوں کی طرح انہیں بھی ردی کی ٹوکری انعام میں ملنے کی توقع ہے ۔
ہر انسان کو اپنا کام کرتے جانا چاہیئے ۔ پڑھنے والے پڑھتے جائیں ۔ لکھنے والے لکھتے جائیں ۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں ۔ بھولنے والے بھول جائیں ۔ لینے والے لے جائیں کیونکہ مال واسباب تو یہ ہے نہیں لٹنے کا خوف نہیں کھونے کا ڈر نہیں ۔

تحریر ! محمودالحق
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 246
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-07-11), ھارون اعظم (22-07-11), ننھا بچہ (22-07-11), محمدعدنان (22-07-11), احمد نذیر (22-07-11)
پرانا 22-07-11, 03:08 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,173
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

محمود بھائی ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت تحریر ہے ماشاء اللہ
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-07-11), بزم خیال (25-07-11)
پرانا 23-07-11, 09:32 AM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,441
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی تحریر ہے

شکریہ
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (25-07-11)
پرانا 25-07-11, 12:38 PM   #4
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدعدنان مراسلہ دیکھیں
محمود بھائی ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت تحریر ہے ماشاء اللہ
آپ کا شکریہ عدنان بھائی
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-07-11, 12:39 PM   #5
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیفی خان مراسلہ دیکھیں
اچھی تحریر ہے

شکریہ
آپ کی پسندیدگی کا شکریہ
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, قید, لوگ, چینل, نظر, مکمل, منتقلی, ممکن, محبت, مسائل, معاشرہ, آج, افطاری, انسان, انعام, بچپن, جیسی, رمضان, زمانہ, سفر, شہر, ظالم, عوامی, عدم, غریب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تین پٹھانوں کے پولٹری فار م تھے انسپیکشن میں انسپکٹر نے پوچھا The Great قہقہے ہی قہقے 6 29-08-11 11:26 AM
قذافی کے اقتدار نہ چھوڑنے پر عوام مزید مشتعل، وزیرداخلہ اور کئی سفیر ساتھ چھوڑ گئے گلاب خان خبریں 7 24-02-11 09:20 PM
ایک بچہ اپنی ماں سے بچھڑ گیا پولیس والے نے اسے روتے دیکھا تو پوچھا “تمھاری ماں کی پہچان کیا ہے“ بچے The Great قہقہے ہی قہقے 1 28-01-11 02:55 PM
پولیس، پولیٹیکل پارٹیز اور پارلیمنٹ کرپشن میں سرفہرست گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:40 AM
چیف جسٹس کی برہمی پر وکلاءپر پولیس تشدد کی تمام ایف آئی آرز بحال ،بے قابو پولیس کسی کی نہیں سنتی جاویداسد خبریں 0 24-11-10 05:25 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger