واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


بیت المقدس پر یہودی تسلط کے 44 سال اور ہم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-06-11, 09:14 PM   #1
بیت المقدس پر یہودی تسلط کے 44 سال اور ہم
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 11-06-11, 09:14 PM

آج چھ جون نے 44 سال پرانے زخم پھر تازہ کر دیئے جبکہ گزشتہ روز ہی بدبخت اسرائیلی یہودیوں کے ایک گروہ نے ہمارے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں گھسنے کی پھر کوشش کی جسے جانباز فلسطینی نمازیوں نے ناکام بنا دیا۔ اگست 1969ء میں یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کو نذرآتش کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ وہ مسجد اقصیٰ کے آس پاس اور اس کی دیواروں کے نیچے کھدائی کر کے اسے مسمار کر دینا چاہتے ہیں مگر مسلمانان عالم بے بسی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی اس بے بسی کا آغاز 6 جون 1967ء کو ہوا جب اسرائیلی درندے ٹینکوں اور طیاروں سے بیت المقدس اور غرب اردن پر حملہ آور ہوئے تھے۔ دوسرا محاذ ان کے سامنے مصری صحرائے سیناء کا تھا اور تیسری طرف انہوں نے شام کے سرحدی علاقہ جولان (Golan Heights) پر ہّلا بول دیا تھا۔ اس سے پہلے صبح دم اسرائیلی بمبار طیاروں نے مصری فضائی اڈوں کے رن وے اور ہینگروں میں کھڑے طیارے تباہ کر دیئے تھے۔ یہودیوں نے جنگ میں پہل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مصری فضائیہ کے 350 طیارے تباہ کر کے پورے خطے میں فضائی برتری حاصل کر لی تھی۔ یوں مصری فضائیہ کی کمر ٹوٹ گئی اور فضائی کور کے بغیر مصری فوج کیونکر جم کر لڑتی؟ اور یوں اسرائیلی فوجی ٹینکوں پر صحرائے سیناء میں دندناتے نہر سویز تک چلے آئے۔
دوسری طرف اردن کا شاہ حسین بار بار فون پر صدر مصر جمال عبدالناصر سے فضائی مدد طلب کر رہا تھا مگر وہ نعرہ بازعاقبت نااندیش آمر حقیقت حال بتانے کے بجائے اسے طفل تسلیاں دے رہا تھا، چنانچہ اردنی فوج نے اگرچہ بیت المقدس کی ایک ایک گلی کے لئے جان کی بازی لگائی مگر اسرائیلی طیاروں کی خوفناک بمباری کے باعث ان کی پیش نہ چلی۔ اردن کی فضائی طاقت نہ ہونے کے برابر تھی، لہٰذا چھ دن کی جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نہ صرف بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ چھن گئے بلکہ پورا غرب اردن (West Bank) اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا جہاں حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور دیگر انبیاء علیھم السلام کا مسکن جرون (الخلیل) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت لحم(Bethelem) واقع ہیں۔ بیت المقدس، جسے 780 سال پہلے مجاہد اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے یورپی صلیبیوں کے 88سالہ قبضے سے چھڑایا تھا، وہ اب نام نہاد مسلم حکمرانوں کی بدکاریوں اور بے تدبیریوں کے باعث راندہ عالم یہودیوں کے ظالمانہ تسلط میں چلا گیا تھا۔ یہی نہیں اسرائیل نے غزہ کی فلسطینی پٹی بھی چھین لی تھی، وہ غزہ جہاں نبی کریمۖ کے پردادا ہاشم فوت ہو کر دفن ہوئے تھے، اسی لئے اسے غزہ ہاشم بھی کہا جاتا تھا اور یہ 1948ء سے مصر کے کنٹرول میں تھا، نیز اسرائیل نے شام سے جولان کی پہاڑیاں بھی ہتھیا لی تھیں۔
یہ شکست ہلاکو خاں کے ہاتھوں بغداد کی تباہی (1258ئ) سے کم نہ تھی۔ اس بدترین شکست کا سب سے بڑا ذمہ دار کرنل جمال عبدالناصر تھا جو 1952ء کے مصری فوجی انقلاب میں عوام کی گردنوں پر سوار ہو گیا تھا۔ وہ امریکی سی آئی اے کی مدد سے برسراقتدار آیا مگر چند سال بعد روس کا ہمنوا بن کر اور اکتوبر نومبر 1956ء کی جنگ بظاہر ''جیت'' کر (جس میں اسرائیل، برطانیہ اور فرانس مصر پر حملہ آور ہوئے تھے) عرب عوام کا ''ہیرو'' بن گیا تھا۔ وہ عرب قومیت کا علمبردار اور اسلام سے دور تھا۔ اس نے مصر کی وسیع الاثر اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے چھ سرکردہ رہنمائوں کو 1954ء میں شہید کر دیا تھا اور اگست 1966ء میں اخوانی رہنما اور تفسیر ''فی ظلال القرآن'' کے مصنف سید قطب کو پھانسی دینے کا ابلیسی اقدام کیا تھا۔ اس کا نعرہ تھا: نحن ابن الفراعنہ (ہم فرعونوں کی اولاد ہیں)۔ عرب اتحاد کا علمبردار ہوتے ہوئے اس نے عرب ممالک کو متحد نہ ہونے دیا۔ ادھر مصری گلوکارہ ام کلثوم صوت العرب ریڈیو پر ''یا جمال یا مثال الوطنیہ'' کے گیت گاتی تھی۔ عالم اسلام کے اتحاد سے اسے ویسے ہی چڑ تھی لیکن جمال عبدالناصر کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ اس نے غاصب اسرائیل کے خلاف نعرے تو بہت لگائے مگر مصریوںکے اسلامی جذبے کو کچلنے کی اپنی سی کوشش کر کے نہ صرف مصر کو دفاعی لحاظ سے کمزور کیا بلکہ اسرائیل کو مضبوط تر ہونے دیا اور جب آزمائش کا وقت آیا تو جمال عبدالناصر کا کھوکھلا بت زمین پر آ رہا۔ اسرائیل نے اس کی ظالمانہ آمریت کی کمزوریوں سے کس طرح فائدہ اٹھایا، اس کی تفصیل ہوشربا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے:
ایک اسرائیلی یہودی ''آرام انور'' کے نام سے 1956ء کے اواخر میں مصر میں داخل ہوا جب جمال عبدالناصر شہرت کے گھوڑے پر سوار تھا۔ آرام انور دراصل اسرائیلی جاسوس تھا جو بظاہر ارجنٹینا سے ریس کے گھوڑے مصر منگواتا تھا۔ اس نے مصری افواج بالخصوص فضائیہ کے اعلیٰ افسروں سے یارانہ گانٹھ رکھا تھا۔ مصری فضائیہ کا سربراہ ایئر مارشل صدقی محمود تو اس کا خاص دوست تھا۔ اس نے ساڑھے دس سال مصر میں رہ کر جاسوسی کا جال پھیلایا مگر جمال عبدالناصر کی فوجی آمریت بے خبر رہی۔ جیسے پاکستان میں جنرل یحییٰ خاں قزل باش اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی آمریتیں پاکستان کے لئے تباہی لائیں، اسی طرح ناصری آمریت مصر اور فلسطین کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ یہودی جاسوس آرام انور نے مصری افواج کی اعلیٰ قیادت کو رقص و سرود اور شراب و کباب میں غلطاں کر کے اسرائیلی حملے کے لئے اسٹیج تیار کر لیا تھا۔ 5 اور 6 جون کی درمیانی رات اس نے مصری فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر میں رقص و سرود اور نائونوش کا خصوصی اہتمام کر رکھا تھا۔ یہودی اور عیسائی فاحشہ عورتیں باری باری اسٹیج پر آتیں اور اپنے نیم برہنہ جسموں کے زاویے بنا بنا کر فضائیہ کے اعلیٰ افسروں اور ایئر مارشل صدقی محمود سے داد لے رہی تھیں۔ آخری رقص مصر کی مشہور ترین رقاصہ سہیر زکی کا تھا۔ حاضرین سہیر کے ہوشربا رقص میں کھوئے ہوئے تھے کہ آرام انور کے اشارے پر سٹیج سے اعلان ہوا، ''حضرات! اب مگ طیاروں اور میراج طیاروں میں فائٹ ہو گی''۔ اس کے ساتھ ہی ہال کی بتیاں بجھا دی گئیں۔ یاد رہے ان دنوں مصری فضائیہ میں روسی ساختہ مگ طیارے شامل تھے اور اسرائیلی فضائیہ فرانسیسی ساختہ میراج طیارے استعمال کرتی تھی، چنانچہ آرام انور کی چھیڑی ہوئی بدکاری کی اس جنگ میں ''مگ طیارے'' تو مصری فضائیہ کے اعلیٰ افسر تھے اور ''میراج'' کا استعارہ فاحشہ عورتوں کے لئے تھا، حالانکہ اصل جنگ تو اختتام شب کے بعد شروع ہونے والی تھی جس کا اذن آرام انور پہلے ہی تل ابیب کو دے چکا تھا۔
قارئین کرام! یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مصری فضائی ہیڈ کوارٹر کے ہال کی بتیاں بجھنے کے بعد کیا ہوا، بس یہ جان لیں کہ جب سینکڑوں اسرائیلی میراج طیاروں کی ٹکڑیاں صبحدم مصری فضائی اڈوں پر حملہ آور ہوئیں تو رتجگے سے مدہوش مصری فضائیہ کے بیشتر جوان اس قابل نہیں تھے کہ وہ اپنے طیارے اڑا کر یہودی حملہ آوروں کے مقابل آتے۔ اگر چند ایک پائلٹ طیاروں تک پہنچ پائے تو وہ انہیں اڑاتے کیونکر جبکہ رن وے تباہ ہو چکے تھے۔ نتیجہ اس تباہ کن شکست کی صورت میں نکلا جس نے بیت المقدس ہم سے چھین لیا جہاں مسجد اقصیٰ میں رسول اللہۖ نے معراج کی رات انبیائے کرام کی امامت فرمائی تھی اور پھر صخرہ سے جبریل علیہ السلام کے ہمراہ آپ معراج آسمانی کو تشریف لے گئے۔ یہی نہیں بعثت کے بعد پندرہ سال تک رسول اللہۖ اور مسلمان مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے تھے کیونکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے سے وہی قبلہ چلا آ رہا تھا حتیٰ کہ رجب 2 ھ میں وحی کے مطابق کعبہ (مکہ) قبلہ قرار پایا۔ مکہ مکرمہ میں 13 برس تک نبیۖ نماز کے لئے اس طرح کھڑے ہوئے تھے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں سامنے رہتے مگر مدینہ منورہ میں یہ ممکن نہ تھا، لہٰذا 16 ماہ تک آپ شمال کو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے تھے۔ آہ! آج وہ مسجد اقصیٰ اور قبة الصخرہ یہود کی دست برد سے محفوظ نہیں۔ ان دنوں اسرائیلی پارلیمنٹ کے ذریعے بیت المقدس کی مساجد میں بہ آواز بلند اذان پر پابندی لگانے کی سعی کی جا رہی ہے۔
ابھی آرام انور کی کہانی باقی ہے۔ چھ جون کو جنگ چھڑوا کر وہ مصر سے فرار ہونے کی فکر میں تھا کہ اس کی مشکوک حرکات پر ایک مصری انٹیلی جنس افسر نے اسے گرفتار کر لیا مگر کچھ دیر بعد ایئر مارشل صدقی محمود کا فون آ گیا کہ یہ تو ہمارا دوست ہے اور یوں صدقی محمود کا ''دوست'' اسی شام پراسرار طور پر مصر سے نکل گیا اور تل ابیب جا کر اس نے اپنی گیارہ سالہ کارکردگی کی جو رپورٹ اسرائیلی حکومت کو دی، اس کی ایک کاپی ایک فلسطینی کے ہاتھ لگی جو اگلے سال ترجمہ ہو کر عربی میں ''تحمطت الطائرات عندالفجر'' (طیارے صبح دم تباہ ہو گئے) کے نام سے شائع ہوا۔ 1968ء میں روزنامہ ''کوہستان'' نے اس کا اردو ترجمہ ''عالم اسلام'' ایڈیشن میں چھاپا تھا جس کے مندرجات لوح ذہن پر نقش ہیں۔ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کو بدکردار صدقی محمودوں، یحییٰ خانوں اور مشرفوں کے شر سے بچائے!
ملحوظہ: ایک گزشتہ شمارے میں ایک قاری (عبدالمنان، اوکاڑہ) نے راقم کی کتب کے نام پوچھے ہیں جو یہ ہیں: اطلس القرآن، اٹلس سیرت نبوی، اٹلس فتوحات اسلامیہ، اسلام کی سچائی اور سائنس کے اعترافات (دارالسلام 36 لوئر مال لاہور)، آزادی کی شاہراہ پر (تخلیقات، مزنگ روڈ لاہور)، جوڑوں کا درد (رابعہ بک ہائوس، اردو بازار لاہور)



بشکریہ ہفت روزہ ۔۔۔ جرار
والسلام ۔۔۔ علی اوڈ راجپوت

ali oadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

Last edited by ALI-OAD; 11-06-11 at 09:17 PM..

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 72
Reply With Quote
جواب

Tags
کمر, کباب, پولیس, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, قصہ, لوگ, مکہ, مکمل, منصوبہ, ممکن, مسجد, معراج, آپریشن, آج, امریکہ, اردو, جرم, دوست, روزہ, سائنس, طالبان, عیسیٰ, غزہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
غلطی تسلیم کرلے اخترحسین ایس ایم ایس 1 18-10-09 04:59 PM
جہاد کا نا قا بلِ تسِخیر سامان sahj جہاد 0 16-10-09 05:42 PM
کیری لوگر بل ۔۔ سامراجیت کا تسلسل راجہ اکرام اپکے کالم 19 13-10-09 05:57 AM
’چاہتے ہیں جیت کا تسلسل قائم رہے محمدعدنان کرکٹ 2 07-06-08 06:10 AM
تسلی ابن ضیاء قہقہے ہی قہقے 0 02-01-08 11:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:11 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger