واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


بے نظیر کا قتل,,,,,نگاہ شوق…محمد جاوید اقبال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-01-08, 09:34 AM   #1
بے نظیر کا قتل,,,,,نگاہ شوق…محمد جاوید اقبال
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 05-01-08, 09:34 AM

بے نظیر کا قتل,,,,,نگاہ شوق…محمد جاوید اقبال



لیاقت باغ کے خونین جائے وقوعہ سے چند قدم کے فاصلے پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی اندوہناک شہادت کا المیہ اچانک یاغیر متوقع ہرگز نہیں تھا۔ 18 اکتوبر کو ان کے آتے ہی کراچی میں خوفناک دھماکہ ہوا تھا جس میں 150 سے زیادہ قیمتی جانیں تلف ہوئی تھیں یقیناً ان کے خیر خواہوں نے انہیں واپسی کا مشورہ دیا ہوگا لیکن ایک طویل جبری بے دخلی کے بعد وہ ملکی سیاست میں آمد کے امکان سے محروم ہونے کیلئے تیار نہ ہوئیں اور جابجا بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، سیکورٹی کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام میں گھل مل جاتیں۔ میں نے کئی بار سوچا کہ ان کے اس اطمینان کی وجہ کیا ہے؟ کیوں وہ اس بے خوفی سے خود کو خوفناک قاتلوں کی بے رحمانہ مہارت کے سامنے پھینک رہی ہیں؟ ان کے ایک انٹرویو سے معلوم ہوا کہ انہیں یہ اطمینان اس یقین سے حاصل ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان خواتین کو نشانہ نہیں بناتے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ پرویز مشرف نے ازخود دعوت دے کر انہیں پاکستان بلایا تھا لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بھی انہیں کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا تھا کاش وہ جانتیں کہ موت کے ان گنت چہرے اور بے شمار بازو ہیں۔ الیکشن میں کامیابی کیلئے انہیں مہم چلانے کی ضرورت نہ تھی پھر بھی وہ ملک کے کونے کونے میں بذات خود جاکر عوام سے خطاب کرتیں ، کارکنوں کا دل بڑھاتی رہیں۔ بے شمار چینلز اور اخبارات کے ہوتے ہوئے انہیں پاکستان کے طول و عرض کی خاک چھاننے کی ضرورت نہ تھی ان کا ایک اہم حریف مقابلے سے باہر ہو چکا تھا۔ وہ اپنی کوٹھی کے لان سے بھی پاکستانی عوام سے خطاب کر سکتی تھیں لیکن وہ ہر روز ایک نئے شہر میں رونق افروز ہوتیں، مجمع سے خطاب کرتیں اور عوام میں گھل مل جاتیں۔ ان کی سلامتی کے متعلق سر اٹھاتے خدشات کو اس وقت کچھ قرار آیا جب عدلیہ کے خلاف روا رکھے گئے ظلم پر الیکشن کے بائیکاٹ کا نعرہ لگا۔ اگر الیکشن ملتوی ہو جاتے تو شاید ان کی جان کو لاحق خطرہ ٹل جاتا لیکن انہوں نے اسے یکسر نظر انداز کرکے الیکشن مہم جاری رکھی اور بائیکاٹ کے متعلق سوچا تک نہیں ۔ بعض مقامات کی سرشت ہی خونچکاں ہوتی ہے جلیانوالہ باغ کی طرح لیاقت باغ ظلم و تشدد کی آماج گاہ بنتا رہا ہے۔ کمپنی باغ کی ایک شام نے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک افغان پیشہ ور قاتل سید اکبر کی گولی کھا کر گرتے دیکھا منٹوں بعد ایک پولیس افسر نے اسے ہلاک کرکے قتل کے محرکات پر ہمیشہ کیلئے پردہ ڈالا یا پھر بھٹو دور میں جمہوری اتحاد کے ایک جلسے پر فیڈرل سیکورٹی فورس کے جوانوں نے گولیاں برسائیں اور ولی خاں بال بال بچے۔ واضح رہے کہ فیڈرل سیکورٹی فورس براہ راست وزیراعظم کو جواب دہ تھی آج اسی لیاقت باغ سے پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم بننے والی خاتون اور تیسری مرتبہ کی متوقع وزیراعظم کا لاشہ اٹھا ہے۔ لیکن یہ خون خاک نشیناں نہیں جو رزق خاک ہو جائے یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی قائد کا لہو ہے وہ جو پاکستان کی دو مرتبہ وزیراعظم رہیں اس لہو کی ایک ایک بوند کا حساب دینا پڑے گا ان کو قبل از وقت انجام سے دوچار کرنے والے خود بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ یہی قانون قدرت ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہے جو تلوار سے کسی کو قتل کرے گا وہ خود بھی تلوار سے مارا جائے گا اور جو کسی کو تیر مار کر ہلاک کرے گا خود بھی تیر ہی سے قتل ہو گا یہ اسی طرح صحیح ہے جس طرح یہ بات کہ دن کے بعد رات آتی ہے اور رات کے بعد دن۔ لیکن یہ بات ان مظاہرین کو کون سمجھائے جو صرف کراچی میں ایک ہزار سے زیادہ کاریں جلا چکے ہیں، ملک میں درجنوں بے گناہوں کا خون بہہ چکا ہے،کتنے سرکاری دفاتر اور ریلوے اسٹیشن نذر آتش کئے جا چکے ہیں اور کتنے بینک لوٹے جا چکے ہیں۔ آزادی کو 60 سال ہونے کو آئے مگر ابھی تک ہمیں احتجاج ریکارڈ کرانے کا طریقہ نہ آیا بینک تو خیر پرائیویٹائیز ہو چکے ہیں ان کو جلانا یوں بھی غیر ضروری ہے اور بے مقصد فعل لیکن لوگوں نے انہی پر اکتفانہ کرتے ہوئے دکانیں اور کارخانے جلانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو شاید انتقام کیلئے موقع کی تلاش میں تھے۔ معاشرے سے گلہ شکوہ رکھنے والے اور بے روزگار جوان جو تصویر کا دوسرا رخ دکھا رہے تھے۔ پولیس اور قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے حسب معمول غائب تھے یہ وہ عناصر ہیں جو ہر غم کو المیہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، قتل بے نظیر تو یوں بھی ایک المیہ تھا۔ محترمہ کے منظر سے ہٹتے ہی حسب سابق انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور وضاحتی بیانوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہر بیان دوسرے سے مختلف تھا کوئی کہتا بی بی بم کا ٹکڑا لگنے سے شہید ہوئی ہیں، کسی کا دعویٰ تھا کہ ان کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں اور وہ صدمے کے باعث حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئیہیں اور کوئی دعویٰ کرتا کہ ان کے سر میں لیور لگ جانے سے ان کی موت واقع ہوئی ہے۔ یہ بوکھلاہٹ اور تضاد بیانی، شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث بنی اور بیرون ملک اور اندرون ملک حکومت کی ساکھ متاثر ہوئی۔ صدر پرویز کی انتظامیہ نے ہر طرف سے مایوس ہو کر انہیں دعوت دی تھی وہ الیکشن کا معرکہ سر کرکے ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے والی تھیں ان کے ذریعے جنرل مشرف صدارت کے عہدے پر مزید 5 سال فائز رہ سکتے تھے۔اکثر لوگ قتل کا شبہ فوجی حکومت پر کررہے ہیں حالانکہ یہ ایک گہری سازش ہے امریکی انتظامیہ بصد اصرار محترمہ بھٹو کو پاکستان واپس لائی ان کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا جب امریکی انتظامیہ بے نظیر بھٹو کو برسراقتدار دیکھنا چاہتی تھی تو صدر مشرف یا ان کے ماتحت اہلکاروں کی جرأت نہیں ہو سکتی تھی کہ ان کی راہ میں روڑے اٹکائیں چہ جائے کہ انہیں قتل کر گزریں۔ حملے کا محرک یہ تھا کہ صدر مشرف کو ایٹمی قوت تک امریکہ کو رسائی دینے پر مجبور کیا جائے جب تک پاکستان ایک ایٹمی قوت رہے گا اسرائیل اور ان کے امریکی حامی چین کی نیند نہ سو سکیں گے ۔اگر صدر مشرف اور ان کے رفقاء یہ دباؤ جھیل گئے تو پاکستان انشاء اللہ بحران سے نکل آئے گا اور آئندہ بھی سرخرو رہے گا۔معلوم ہوا ہے کہ امریکی فوج کو پاکستان کے اندر کارروائی کرنے اور اس کی ایٹمی تنصیبات کو ناکارہ بنانے کے احکام دے دیئے گئے ہیں۔ اللہ پاکستان کی ایٹمی قوت کی حفاظت فرمائے۔آمین آمین آمین بینظیر کے بعد رسائی دل تک…عقیل دانش آخر محترمہ بینظیر بھٹو بھی دہشت گردی کی نذر ہو گئیں، سیاست کا ایک مینار اور منہدم ہو گیا، ذہانت اور فطانت کا ایک چراغ اور بجھ گیا۔ عالم اسلام کی وہ پہلی خاتون تھیں جو وزیراعظم کے عہدے تک پہنچیں اور ایک بار نہیں دو بار۔ اس ذیل میں وہ ایشیاء کی ایک اور اہم رہنما اندرا گاندھی کی ہم پلّہ تھیں اگر ایک طرف اندرا گاندھی کی سیاسی تربیت ان کے والد پنڈت جواہر لال نہرو نے کی تھی تو دوسری طرف بینظیر نے سیاسی فطانت اپنے ذہین باپ ذوالفقار علی بھٹو سے حاصل کی تھی۔ اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی تو سیاست سے وابستہ ہی نہیں رہے اور ہندوستانی عوام میں سے کروڑوں لوگ ان کا نام تک نہیں جانتے لیکن بینظیر کی آصف علی زرداری سے وابستگی بہت سے گفتہ اور ناگفتہ حالات کی حامل رہی لیکن اب جب کہ بینظیر ہم میں نہیں ہیں یہ وابستگی بھی اختتام کو پہنچی۔ بلاشبہ بینظیر کی وفات پاکستان کے لئے، ہماری قوم کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ اور عظیم نقصان ہے۔ پاکستان، جہاں ذہین سیاستدانوں کا پہلے سے کال تھا اور اس ” کال “ سے فائدہ اٹھا کر بار بار ہماری فوج برسراقتدار آتی رہی، ایک اور اہم سیاستداں سے محروم ہو گا۔ اس قومی اور خاندانی نقصان پر ہم بینظیر کے اہل خانہ، اعزاء اور احباب سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور ان کے غم میں برابر شریک ہیں۔ خدا بینظیر کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے اور لواحقین کو دولت صبر عطا فرمائے۔ سبزئہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے بینظیر کے بعد پاکستان کی سیاست میں بنیادی تبدیلیاں آئیں گی۔ محترمہ کے بعد انتخابات ہوں گے اور یقیناً ہوں گے کہ اب حکومت کے سامنے انتخابات کو مدت تک ملتوی یا منسوخ کرنے کا کوئی عذر نہیں ہے۔ نہ صرف پاکستان کی سیاسی قوتیں اور عوام بلکہ بین الاقوامی بڑی طاقتیں بھی انتخاب، انتخاب کا نعرہ لگا رہی ہیں۔ پاکستان کی اہم جماعت پی پی پی کو اگر ایک طرف محترمہ کی وفات سے یہ فائدہ پہنچ سکتا ہے کہ عوامی ہمدردیاں اس جماعت کے ساتھ ہو جائیں تو دوسری طرف جماعت کی اہم ترین رہبر کی غیر موجودگی جماعت کی کارکردگی پر اثر انداز بھی ہو سکتی ہے۔ پاکستان بھر میں بینظیر کی وفات کے ردعمل میں جو کچھ ہوا، وہ پی پی پی کے لئے نیک فال نہیں ہے۔ خصوصاً سندھ میں جو افراتفری مچی ہے اس کا ایک نتیجہ پی پی پی کے ووٹ بینک پر بھی پڑ سکتا ہے۔ سندھ میں ہزاروں کاریں نذر آتش ہوئیں اور ٹرینیں جلائی گئیں۔ تقریباً 400 بنک لوٹے گئے، 30 سے زیادہ پٹرول پمپ نذر آتش کئے گئے۔ ہر چند اس میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ غنڈہ عناصر بھی شریک ہوں گے لیکن معترضین کو تو اعتراض کا مواد فراہم ہو گیا اور جس طرح لوگ کہتے تھے کہ بینظیر کے پاس سندھ کارڈ موجود ہے اسی طرح اب مسلم لیگ (ق) کے سربراہ پنجاب کارڈ استعمال کر سکتے ہیں۔ آج ہی پرویز الٰہی نے فرمایا ہے کہ سندھ میں مسلم لیگیوں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی کیلئے ہم نے ایک ” سیل “ قائم کر دیا ہے۔ اس موقع پر وہ بھی گوناگوں کا شکار ہے۔ ہمارے خیال اور تجزیئے کے مطابق انتخابات میں قابل ذکر اکثریت کوئی بھی جماعت حاصل نہیں کر سکے گی اور نتیجتاً سیاسی گٹھ جوڑ کے بعد ایک کمزور حکومت دوسرے الفاظ میں ” ہنگ پارلیمنٹ “ وجود میں آئے گی اور اگر ہمارے سیاستداں فہم و فراست سے کام نہ لیں گے تو یہ کمزور حکومت بھی کسی وقت اپنے وجود سے محروم ہو جائے گی۔ اس وقت عوام کا مسئلہ سیاست نہیں ہے۔ قوم جو اس وقت بینظیر کے سوگ میں مبتلا ہے اس سوگ سے نکل آئے گی کہ اس کے لئے سب سے بڑا سوگ مہنگائی ہے۔ جس ملک میں زندہ رہنے کا بنیادی عنصر آٹا 30/35 روپے کلو ہو وہاں جمہوریت، سیاست، رائے دہندگی اور سیاسی وفاداری کے متعلق پیٹ بھروں کے علاوہ کون سوچے گا۔ اکبر الہ آبادی کے شعر میں تھوڑے سے تصرف کے ساتھ اس وقت عالم یہ ہے کہ اس نے جب کی مجھ سے بس اک ووٹ ہی کی بات کی یہ نہ بتلایا کہاں رکھی ہے روٹی رات کی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ” ووٹ “ نہیں ” روٹی “ ہے۔ ہر چند کہ اس وقت نگراں حکومت تمام معاملات کی ذمہ دار ہے، لیکن چند ہفتے قبل تک مسلم لیگ (ق) اور ان کی حلیف جماعتیں حکومت کا حصہ تھیں لہٰذا عام آدمی آج بھی اس مہنگائی کا ذمہ دار انہیں سمجھتا ہے اور اس ” سمجھ “ کا اثر موجودہ انتخاب پر بھی پڑ سکتا ہے۔ محترمہ کی وفات کے بعد ایک اور پہلو ان کا خاندانی پہلو ہے جو پی پی پی کی کامیابی پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس پہلو کی نمائندہ ہیں فاطمہ بھٹو اور غنویٰ بھٹو۔ پی پی پی کے ذمہ داروں کو اس پہلو کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ محترمہ کی وفات سے سیاست میں یقیناً ایک خلا پیدا ہوا ہے اور اس خلا کا نتیجہ ہماری دانست میں یہ نکلے گا کہ رائے دہندگان کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو جائے گی۔ اکتوبر سے اب تک جو کچھ ہوا ہے عوام میں اس کا ردعمل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھا لیا اس کی بلا سے بوم رہے یا ہما رہے

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 270
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پاکستان, پاکستانی, وزیر, وزیراعظم, لیاقت علی خان, نیند, مہنگائی, موت, موجودہ, امریکہ, احتجاج, بے نظیر, تلاش, جاوید اقبال, خواتین, خدا, دھماکہ, ذوالفقار علی بھٹو, راستہ, زرداری, طالبان, عیسیٰ, علی, صدارت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ڈیرہ اسمٰعیل خان میں تباہی کی چند تصاویر ام طلحہ میرا پاکستان 12 25-12-11 12:41 AM
اوبامہ انڈیا میں ۔۔۔۔۔۔۔ نایاب تصاویر راجہ اکرام دلچسپ اور عجیب 21 09-08-11 01:20 AM
وکی پیڈیا ویب سائٹ پر پیغمبرِ اسلام کی خیالی تصاویر شائع کرنے پر مسلمانوں کا شدید احتجاج champion_pakistani خبریں 18 21-12-10 09:29 AM
انڈیا میں عید الفطر ( تصاویر ) نورالدین عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ 2 20-09-10 05:50 PM
ویب سا ئیٹ پروفشنل کمپنی سے بنوائیں ، ویب ہوسٹنگ اور ڈومین ۔۔۔۔۔۔ محمد عامر ریاض آپکے کاروباری اشتہارات 23 20-04-09 01:22 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger