واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والوں کا یہی انجام ہوگا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-04-11, 04:36 AM   #1
تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والوں کا یہی انجام ہوگا
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 08-04-11, 04:36 AM

حامد میر
بڑے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی بڑے بڑے نقصانات کا باعث بنتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو بہت بڑے آدمی تھے لیکن ان سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں۔ ان غلطیوں کا اعتراف بھٹو صاحب نے اپنی تحریروں میں کرلیا تھا اور پیپلزپارٹی یقیناً ان غلطیوں سے سبق سیکھ سکتی تھی لیکن افسوس کہ آج کی پیپلزپارٹی اپنے بانی چیئرمین کی عظیم تحریروں سے بالکل بے خبر ہے۔ ایسی ہی ایک تحریر کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1993ء میں الطاف احمد قریشی کے ذریعہ انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرایا اور ”افواہ اور حقیقت“ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کرایا۔ یہ پہلو قابل غور ہے کہ محترمہ بے نظیربھٹو نے اپنے والد کی کتاب ”اگر مجھے قتل کردیا گیا“ کو بھٹو صاحب کی پھانسی کے فوراً بعد شائع کروا دیا تھا لیکن ”افواہ اور حقیقت“ کو والد کی پھانسی کے 14 سال بعد شائع کرایا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس کتاب میں کچھ ججوں اور جرنیلوں کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال کئے تھے اور یہ سب کے سب جنرل ضیاءالحق کے دور میں بہت طاقتور تھے اور محترمہ بے نظیر بھٹو یہ تاثر قائم نہیں کرنا چاہتی تھیں کہ ان کی پارٹی کی لڑائی ایک فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ نہیں بلکہ پوری فوج اور عدلیہ کے ساتھ ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے اس کتاب میں ان آئینی ترامیم کا پس منظر بیان کیا تھا جن کے ذریعے انہوں نے مولوی مشتاق حسین جیسے ججوں کو لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے روکا کیونکہ بھٹو صاحب کے خیال میں ”جالندھر کے ایک قصاب کا یہ بے شرم بیٹا انصاف کی عصمت دری کیلئے بدنام تھا“۔ بھٹو صاحب نے مولوی مشتاق حسین کے ساتھ اپنی ذاتی مخاصمت کی پوری تفصیل لکھی اور بتایا کہ 1966ء میں جب وہ وزیرخارجہ اور مولوی مشتاق وفاقی سیکریٹری قانون تھا تو دونوں میں سرد جنگ شروع ہوگئی۔ پھر ایوب خان نے مولوی مشتاق کو جج بنوایا اور 1968ء میں بھٹو کو گرفتار کرکے مولوی مشتاق کی عدالت میں پیش کرا کے ان کی تضحیک کرائی۔ جب بھٹو وزیراعظم بن گئے تو دسمبر 1971ء میں مولوی مشتاق نے ان کے ساتھ ملاقات کی اور پیشکش کی کہ اگر انہیں چیف جسٹس بنادیا جائے تو وہ حکومت کی مدد کریں گے لیکن بھٹو نے اسے نظر انداز کردیا۔ اسی کتاب میں جیل سے بھٹو کی طرف سے چیف جسٹس انوارالحق کے نام لکھے گئے دو خطوط بھی شامل ہیں جس میں چیف جسٹس پر الزام لگایا کہ وہ اپنے جالندھری دوست جنرل ضیاءالحق کو خوش کرنے کیلئے پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کو انصاف نہیں دیں گے اس لئے وہ مولوی مشتاق حسین کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ میں نہ بیٹھیں۔ کتاب کے مطالعے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنی تمام تر سیاسی مقبولیت کے باوجود عدلیہ اور فوج کے ہاتھوں بے بس تھے۔ انہوں نے جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے لائے ہوئے ججوں کو بے بس کرنے کیلئے آئینی ترامیم کا سہارا لیا اور بعد ازاں انہی ججوں نے جرنیلوں کے ساتھ مل کر بھٹو کا عدالتی قتل کیا۔ اس کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ذوالفقارعلی بھٹو وزیراعظم کی حیثیت سے بعض جرنیلوں کے جرائم پر پردہ نہ ڈالتے اور ان پر اندھا اعتماد نہ کرتے تو ان جرنیلوں کو 1977ء میں امریکہ کی خفیہ آشیر باد سے پاکستان میں مارشل لاءنافذ کرنے کا موقع نہ ملتا۔
بھٹو صاحب نے اپنی کتاب کے تیسرے باب میں رونگھٹے کھڑے کردینے والے حقائق بیان کئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ 1976ء کا نہیں بلکہ 2011ء کا کوئی قصہ بیان کررہے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ جنرل ضیاءالحق کو نیا چیف آف دی آرمی سٹاف نامزد کردیا گیا تھا اور پرانے آرمی چیف جنرل ٹکاخان اپنے عہدے کی میعاد پورا ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ عملاً جنرل ضیاءالحق آرمی چیف بن چکے تھے ٹکا خان برائے نام اس عہدے پر اپنے دن پورے کررہے تھے۔ 6 فروری 1976ء کوعطاءاللہ مینگل کے صاحبزادے اسداللہ مینگل کو کراچی میں میر بلخ شیر مزاری کے گھر سے اغوا کرلیا گیا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ غلام مصطفی جتوئی نے اپنے آئی جی سے پوچھا کہ اسداللہ مینگل کو کس نے اغوا کیا تو آئی جی صاحب نے لاعلمی ظاہر کردی۔ وزیراعظم سخت پریشان تھے کیونکہ انہوں نے چند سال پہلے بلوچستان میں عطاءاللہ مینگل کی حکومت ختم کی تھی اور اسداللہ مینگل کے اغوا کا الزام ان پر بھی آسکتا تھا۔ اس دن وزیراعظم پشاور میں تھے۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل ٹکا خان کو پشاور کے گورنمنٹ ہاﺅس میں بلایا اور ان کے سامنے وہ تمام اخبارات رکھ دیئے جو اسداللہ مینگل کے اغوا کی خبروں سے بھرے ہوئے تھے۔ جنرل ٹکاخان نے بڑی افسردہ آواز میں وزیراعظم کو بتایا کہ فوج نے جھالاوان اور ساراوان میں شرانگیزی کے خاتمے کے لئے اسداللہ مینگل کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لئے ایس ایس جی کی ایک ٹیم نے کراچی میں انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو انہوں نے فائرنگ کردی، جوابی فائرنگ میں اسداللہ مینگل اور ان کا ایک ساتھی زخمی ہوگئے۔ ایس ایس جی کی ٹیم نے انہیں گاڑی میں ڈالا اور ٹھٹھہ کی طرف چل دی، راستے میں دونوں دم توڑ گئے تو ٹھٹھہ کے قریب دونوں کو دفن کردیا گیا۔ بھٹو صاحب کے بقول یہ سن کر وہ غضب ناک ہوگئے اور کہا کہ اگر فوج کو اسداللہ مینگل سے پوچھ گچھ کرنی تھی تو سندھ حکومت سے وارنٹ گرفتاری لے کر قانون کے مطابق کارروائی کیوں نہ کی گئی؟ جنرل ٹکاخان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ یہ المناک واقعہ بلوچ مزاحمت کاروں کی بغاوت سے کہیں زیادہ باغیانہ ہے۔ وزیراعظم نے پوچھا کہ یہ کارروائی کس کے حکم پر ہوئی؟ جنرل ٹکاخان نے بتایا کہ یہ کارروائی جنرل ضیاءالحق، جنرل ارباب جہاں زیب اور جنرل اکبر کے علاوہ ڈی جی آئی ایس آئی کی مرضی سے ہوئی۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر مقتولین کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کرو۔ اگلے دن راولپنڈی میں جنرل ضیاءالحق نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور کہا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں اس واقعے کو منظر عام پر نہ لایا جائے کیونکہ فوج کی بدنامی ہوگی اس لئے حکومت اسداللہ مینگل کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کردے اور کہہ دے کہ مقتولین افغانستان بھاگ گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسداللہ مینگل کی وہ گاڑی کدھر جائے گی جس پر کراچی میں فائرنگ ہوئی اور جس میں خون کے دھبے میڈیا دیکھ چکا ہے؟ جنرل ضیاءالحق نے جواب میں کہا کہ جناب اس واقعے کو اپنے ذہن سے کھرچ ڈالیں۔ بھٹو جیسا بڑا آدمی قومی مفاد کے نام پر خاموش ہوگیا، جنرل ضیاء اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی، عطاءاللہ مینگل کو ان کے بیٹے کی قبر کا آج تک پتہ نہیں چلا۔ اگر بھٹو 1976ء میں اسداللہ مینگل کے قتل کے الزام میں چند جرنیلوں کے خلاف کارروائی کر ڈالتے تو پاکستان میں بار بار جمہوریت قتل نہ ہوتی۔ افسوس کہ یہ سلسلہ 2011ء میں بھی جاری ہے۔
جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان میں جنرل ضیاءالحق کی پالیسی کو برقرار رکھا اور اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے بلوچوں کو غدار قرار دے کر قتل کرتا رہا۔ جنرل پرویزمشرف کی حکومت ختم ہوچکی ہے لیکن بلوچستان میں آج بھی مشرف کی پالیسی چل رہی ہے۔ اکبربگٹی کے قتل کے بعد سے بلوچستان میں صوبائی و لسانی نفرتوں کی آگ چاروں طرف پھیل چکی ہے۔ ایک طرف پنجابی قتل ہورہے ہیں تو دوسری طرف پڑھے لکھے بلوچ نوجوانوں کو ایف سی والے گھروں سے اٹھا کر لے جاتے ہیں اور چند دن بعد ان کی لاشیں کسی ویرانے سے ملتی ہیں۔ مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی بجائے روزانہ کسی نہ کسی اسد اللہ مینگل کو قتل کیا جارہا ہے۔ مرکز اور بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت سب جانتی ہے کہ اس قتل و غارت میں کون ملوث ہے لیکن حکومت خاموش ہے، میڈیا بھی خاموش ہے۔ میڈیا سے اگر کوئی آواز اٹھتی ہے تو اسے بھارت کا ایجنٹ یا طالبان کا ایجنٹ قرار دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ افسوس تاریخ سے سبق نہیں سیکھا جارہا ہے۔ جو حکمران اپنے شہریوں کی قتل و غارت پر آنکھیں بند کرلیں انہیں ایک دن فوج او عدلیہ مل کر قتل کردیتی ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
7 اپریل 2011ء
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 72
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-04-11), منتظمین (08-04-11), عارف اقبال (08-04-11)
جواب

Tags
کورٹ, کراچی, پاکستان, وزیراعظم, قصہ, آج, آدمی, اکبر, الزام, امریکہ, اردو, اغوا, بے نظیر, تلاش, جیل, حکم, خون, خوش, خلاف, خان, خبر, دوست, ذوالفقار علی بھٹو, طالبان, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رنگوں اورسیکڑوں انسانوں کے ذریعے تخلیق کیے گئے پورٹریٹ زارا دلچسپ اور عجیب 0 26-02-11 12:03 PM
بینظیر کے قاتلوں سے واقف ہوں عدالت میں انکشاف کروں گی، عابدہ حسین گلاب خان خبریں 2 17-12-10 01:11 AM
خیبر پختونخواہ، بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی۔ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 300 سے زائد ہو گئی، لاکھوں پاکستانی خبریں 4 30-07-10 08:07 PM
تھانوں اور ٹارچرسیلوں میں بند کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے،آصف زرداری خرم شہزاد خرم خبریں 0 01-01-08 10:47 AM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger