واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تاریخ کیسے بنتی ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 26-11-10, 04:39 AM   #1
تاریخ کیسے بنتی ہے؟
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 26-11-10, 04:39 AM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

Name:  Turkey-Pakistan-Flag-Pins.jpg
Views: 41
Size:  63.1 KB
ڈاکٹر صفدر محمود
نیکلس کو اردو میں گلوبند کہتے ہیں جسے خواتین نہایت شوق سے گلے میں پہنتی ہیں اور عام طور پر جان و دل کی مانند عزیز رکھتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیکلس کے تاریخ میں کئی طرح کے حوالے ملتے ہیں۔ لیکن میں اس نیکلس کا ذکر کر رہا ہوں جو ترکی کے وزیراعظم طیب اردوان نے تین دہائیاں قبل شادی کے تحفے کے طور پر اپنی بیگم ایمن اردوان کو دیا تھا اور اس نے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران لوگوں کی حالتِ زار دیکھ کر سیلاب فنڈ میں دے دیا۔ اس طرح اس ذاتی قسم کے غیرمعروف نیکلس نے تاریخ میںجگہ پالی۔ بعض واقعات تاریخ بناتے ہیںاوربعض واقعات تاریخ پر بھاری ہوتے ہیں۔ ترکی کے وزیراعظم کی حجاب پوش بیگم نے اپنا نیکلس سیلاب فنڈ میں دے کر اپنے لئے ایسی ”تاریخ“ بنائی ہے جو ہمیشہ ترکی او ر پاکستان کی باہمی محبت کے جذبوں کو گرماتی رہے گی اوردونوں ملکوں کی قلبی دوستی کی یاد دلاتی رہے گی۔
میں ستمبر کے اواخر میں ترکی گیا تو استنبول کے مختلف علاقوںمیں پاکستان کے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے قائم کردہ کاﺅنٹر دیکھ کر متاثر ہوا۔ ترکی کی حکومت اور سرکاری اداروں کی مالی مدد کے علاوہ اس وقت تک صرف ترک عوام نے ڈھائی کروڑ ڈالر سیلاب فنڈمیں بھجوائے تھے اور ابھی یہ سلسلہ جاری تھا۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم یوسف گیلانی دادو میں سیلاب زدگان کے کیمپ میں گئے تو انہوں نے یہ نیکلس سولہ لاکھ روپے میں نیلام کرکے اس رقم کو آٹھ بچیوں میں تقسیم کردیا جن کی وہاں شادی ہورہی تھی۔ جس شخص نے نیکلس خریدا تھا اس نے یہ تحفہ وزیراعظم کو دے دیا۔ اب یہ نیکلس وزیراعظم ہاﺅس کے شوکیس میں سجا دیا گیا ہے۔ میں یہ تاریخی واقعہ پڑھ کر سوچتا رہاکہ شادی کا نیکلس خواتین کی قیمتی ترین متاع ہوتی ہے اور اس کی جذباتی قیمت کا اندازہ لگایا ہی نہیں جاسکتا۔ خواتین عام طور پر ایسے تحفے کو مرتے دم تک اپنے آپ سے الگ نہیں کرتیں۔ یہ سوچتے سوچتے میں تاریخ کی وادیوں میں بھٹکنے لگا۔ مجھے یاد آیا کہ کسی دور میں سلطنتِ عثمانیہ سعودی عرب تک پھیلی ہوئی تھی اور ترکی کے سلطان کو دنیائے اسلام میں خلیفہ کااعلیٰ ترین مقام حاصل تھا۔ جنگِ عظیم ہوئی تو ترکی برطانیہ اور اس کے حلیفوں سے شکست کھا گیا۔ چنانچہ فاتح ممالک سلطنت کے حصے بخرے کرنے کی سازشیں کرنے لگے۔ اس جنگ میں ہندوستان کے مسلمانوں نے ہرطرح سے ترکی کی مدد کی حتیٰ کہ ہماری تاریخ ایسے مسلمان مجاہدین کے ذکر سے فروزاں ہے جنہوں نے برطانوی فوج کی ملازمت کے باوجود ترکی کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا یا پھر برطانوی فوج کو چھوڑ کر ترکوں سے مل گئے۔ جنگ عظیم اول کے خاتمے پر ترکی کے سلطان نے فاتح اقوا م کے1920 کے معاہدے کی شرائط مان لی تھیں لیکن ترک جرنیل مصطفی کمال نے بغاوت کا علم بلند کیا، فو ج کودوبارہ منظم کیا اوراپنے علاقوں کو غیرملکی فوجوں سے خالی کرانے کے لئے محاذ کھول دیئے۔ اس نے یونانیوںکو شکست دے کر استنبول میں موجود برطانوی فوج پر دباﺅ بڑھا دیا اور 1923 میں صلح نامے کی شرائط پر نظرثانی کروا کر ترکی کو غیرملکی قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرالیا۔ اس جدوجہد کے نتیجے کے طور پر مصطفی کمال اتاترک قومی ہیرو بن کر ابھرا، 1923 میں خلافت ختم کردی گئی، ترکی کو ری پبلک یعنی جمہوری ملک قراردے دیا گیا اور مصطفی کمال ترکی کا پہلا صدر اوربابائے قوم بن گیا۔
جب 1920 میں مصطفی کمال غیرملکی فوجوںکے خلاف لڑ رہا تھا اور اس نے اپنے جذبے اور ویژن سے ترک قوم میں بیداری کی لہر پیداکردی تھی تو بعینہ اس وقت ہندوستا ن میں ترکی کی حمایت کے لئے خلافت کمیٹی بنی جس نے ہندوستان میں ایک عظیم تحریک منظم کردی۔ اس تحریک کے روح رواں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوعت علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ تھے۔ ان حضرات کی تقریروں اور تحریروں نے مسلمانوں کے جذبات کو آگ لگا دی اور علی برادران کی ماں ”جان بیٹا خلافت پہ دے دو“ کی زندہ علامت بن کر ہندوستان کے افق پر چھا گئیں۔ چنانچہ مولانا محمد علی جوہر ایک وفد لے کر انگلستان بھی گئے جہاں انہوں نے نہ صرف اپنی انگریزی دانی کی دھاک بٹھا دی بلکہ برطانوی اقتدار کی چولوں کو بھی ہلا دیا۔ مولانا محمد علی جوہر ناکام لوٹے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کے باغیانہ موڈ نے حکومت برطانیہ کو ترکی کے حصے بخرے کرنے اور استنبول سے اپنی فوج واپس بلانے میں اہم کردار سرانجام دیا۔ ترکی کے اس ابتلا کے دور میں ہندوستانی مسلمانوں نے نہ ہی صرف ڈاکٹر اور نرسیں ترکی بھجوائیں بلکہ ترکی کے لئے بے پناہ فنڈز بھی اکٹھے کئے۔ جس میں ہندوستان کے ہر مسلمان نے بڑھ چڑھ کر چندہ دیا، عورتوں نے اپنے زیورات اتار اتار کر اس فنڈ میں دے دیئے، بزرگ خواتین نے اپنے گلوبند اور ہار چندہ مانگنے والوں کی جھولیوں میں ڈال دیئے، دلہنوں نے اپنے جہیز اس مقصد کے لئے وقف کردیئے۔ بس محبت اور جذبے کی اک لہر تھی جس نے ہندوستان کے ہر مسلمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور اس جذبے کی لہریں ترکی میں مسلسل محسوس کی جارہی تھیں۔ اندازہ کیجئے کہ اس وقت ہندوستان میںمسلمانوں کی آبادی چند کروڑ ہوگی لیکن سرکاری ریکارڈ کے مطابق تحریکِ خلافت (1920-22) کے دوران 20 ہزار مسلمان گرفتار ہوئے۔ کوئی 32برس قبل استنبول کے ایک پروفیسر صاحب مجھے ملنے آئے۔ دوران گفتگو جب میں نے ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے جذبات میں آکر میرا ماتھا چھوم لیا۔ بہرحال جب مصطفی کمال اتاترک نے خلافت ختم کردی تو ہندوستان میں بھی تحریکِ خلافت ختم کردی گئی لیکن اس دوران دونوں قوموں کے درمیان قلب و روح کا ایک ایسا رشتہ قائم ہوچکا تھا جو تاریخ کا حصہ بن کر دوام حاصل کرگیا۔ تحریکِ خلافت کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے بھیجاگیا چندہ اتنا تھا کہ اس سے انقرہ میں گرینڈ نیشنل ٹرکش اسمبلی کی پرانی عمارت تعمیر کی گئی اور پھر بھی سوا لاکھ پونڈ سٹرلنگ بچ گئے تو اس سے ٹرکش بنک قائم کیا گیا جو آج بھی ترکی پاکستان کی لازوال دوستی کی یاد دلاتا ہے۔ یاد رہے کہ اس دور میں سوا لاکھ پونڈ کی قدر آج کے کئی کروڑ روپوںکے برابر ہوگی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تحریکِ خلافت میں ہندوستان کے تمام مسلمانوں نے حصہ لیا اور ہر طرح کا ایثار کیا لیکن ترک یہ کریڈٹ پاکستان کو دیتے ہیں۔ بقول فرخ صاحب کہ اگر آج بھی آپ ترکی کے دیہاتی علاقوںمیں جائیں تووہاں بزرگوں کو نہ ہی صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی محبت کی کہانیاں یاد ہیں بلکہ انہیں سوا لاکھ پونڈ سٹرلنگ کی رقم بھی یاد ہے جو گزشتہ 90 برس سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے گویا ترک وہ عظیم قوم ہیں جو اپنے محسنوں اور دوستوں کو نہیں بھولتے۔
یہی وجہ ہے کہ جب میں نے سیلاب زدہ علاقوں میں ترکی کے ڈاکٹر، نرسیں اورخیمہ ہسپتال دیکھے تو مجھے 1920 کی تحریکِ خلافت یاد آئی، جب میںنے استنبول میں پاکستان کے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے بنائے گئے بوتھ دیکھے اور ان پر پاکستان کا جھنڈا لہراتے دیکھا تو مجھے ان میں ان چندوں کی خوشبو آئی جو ہمارے بزرگوں نے آج سے نوے برس قبل ترکی بھجوائے تھے اور جب میں نے ترکی کے وزیراعظم جناب طیب اردوان کی حجاب پوش بیگم کو سیلابی کیمپ میں مصیبت زدگان کی زبوں حالی سے متاثر ہوکر اپنی زندگی کی قیمتی ترین شے گلوبند یا نیکلس سیلاب فنڈ میں دیتے دیکھا تو مجھے اس میں اپنی ان بزر گ خواتین کی جھلک نظرآئی جنہوں نے تحریکِ خلافت کے دوران اپنے نیکلس، بُندے اور زیورات دے دیئے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہندوستان میں تحریکِ خلافت نہ چلی ہوتی تو ترکی کا ہماری جانب وہی رویہ ہوتا جوشام، عراق، اردن، تیونس، الجیریا، مصر وغیرہ کا ہے۔
قوموں کی تاریخ اسی طرح بنتی ہے۔ تحریکِ خلافت نے تاریخ بنائی تھی اور ایمن طیب اردوان نے تاریخ کے اسی سفر کو آگے بڑھایا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی

Name:  pak turk.jpeg
Views: 56
Size:  66.1 KB

__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 226
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-11-10), ھارون اعظم (27-11-10), ارشد کمبوہ (26-11-10), رضی (26-11-10), عامرشہزاد (26-11-10), عارف اقبال (26-11-10)
پرانا 26-11-10, 09:04 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,731
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت ہی اچھی شئیرنگ ہے!!!!

تحفہ قبول کیجیئے!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (26-11-10)
پرانا 26-11-10, 10:44 AM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
کمائي: 278,001
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت اچھی شیئرنگ ہے۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-11-10)
پرانا 26-11-10, 05:13 PM   #4
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,197
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہایت اچھی شیئرنگ ہے۔
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (27-11-10)
پرانا 27-11-10, 03:10 AM   #5
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
کمائي: 93,764
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شافریشا بھائی
زارا بہن اور اقبال بھائی کا بہت شکریہ
گلاب خان آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کمال, پاکستان, واقعات, وزیراعظم, لوٹے, مکمل, منتقل, ماں, محبت, آبادی, آج, اردو, اسلام, حضرات, خواتین, خلاف, دل, زندگی, سفر, شخص, عزیز, صفدر, صلح, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہم سب کو یہ بتائیے کہ اسلامی حکومت کیسے بنتی ہے؟ فاروق سرورخان پاک۔نیٹ پراجیکٹس 50 31-08-10 01:00 AM
دہشت گردی کیسے ختم کی جاسکتی ہے؟ اپنی رائے دیجئے نعیم۔ سیاسی رائے شماری 16 03-08-10 04:07 PM
بدلتی ہے زندگی رنگ کیسےکیسے!!! شیراز احمد قہقہے ہی قہقے 0 15-03-10 10:04 AM
Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ Real_Light شعبہ طب 3 03-05-09 12:52 PM
FBI کیسے بندے کی شکل بناتی ہے محمدخلیل گپ شپ 13 24-03-09 09:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:14 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger