واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تبدیلی کیوں نہیں آتی!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-02-11, 10:22 PM   #1
تبدیلی کیوں نہیں آتی!
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 13-02-11, 10:22 PM

وسعت اللٰہ خان

مصریوں کی اٹھارہ روزہ تحریک کا کوئی لیڈر نہیں تھا۔ لوگوں نے کسی مسیحا کو سٹیج کا ٹھیکیدار نہیں بننے دیا۔ آنسو گیس اور پانی کی دھار پھینکنے والی گاڑیوں پر ضرور پتھراؤ کیا لیکن کسی نجی گاڑی، موٹر سائیکل، بس یا وین کو آگ نہیں لگائی۔ استبداد کی نشانی حکمراں پارٹی کے دفتر کو آگ لگادی لیکن کسی اور عمارت کے شیشے نہیں توڑے۔ فائرنگ کرنے والوں کو پکڑ کر فوج کے حوالے ضرور کیا لیکن خود تاک تاک کر مخالفین کو نہیں مارا۔ گلی محلوں میں لوٹ مار روکنے کے لیے ازخود حفاظتی کمیٹیاں ضرور تشکیل دیں لیکن نہ تو کوچے میں ٹائر جلا کر راستہ بند کیا۔ نہ ہر سڑک پر دھرنا دیا اور نہ ہی ریلوے لائن اکھاڑنے کی کوشش کی۔

اٹھارہ روزہ تحریک میں سکیورٹی دستوں اور مبارک نواز غنڈوں نے چار سو کے لگ بھگ پرامن مظاہرین کو ہلاک کیا۔ لیکن کسی نے یہ نعرہ بلند نہیں کیا کہ ہم تختہ الٹنے کے بعد ان ہلاکتوں کا انتقام لیں گے۔ کسی تنظیم نے کسی اور جماعت کو غیر ملکی ایجنٹ قرار نہیں دیا۔ التحریر سکوائر میں جمع کسی شخص نے کسی سے نہیں پوچھا کہ تم مسلمان ہو کہ عیسائی۔

کسی نے سوائے قومی پرچم کوئی اور جھنڈا نہیں اٹھایا۔ کسی نے حسنی مبارک کے علاوہ کسی اور کے خلاف نعرہ بلند نہیں کیا۔ کسی نے مبارک کے محل کی جانب مارچ کی کال نہیں دی۔ کسی نے التحریر سکوائر کے علاوہ قاہرہ کے کسی اور چوک میں دھرنا دینے یا جلسہ کرنے یا ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی کوشش نہیں کی۔اس کے باوجود ایک دن حسنی مبارک چلا گیا۔اس کے جانے کے بعد جن لوگوں نے اٹھارہ دن التحریر سکوائر میں دھرنا دیا انہوں نے ہی پانی کی بالٹی اور جھاڑو پکڑ لی اور جمع شدہ کوڑے کی صفائی شروع کردی۔

پاکستان ہو کہ بھارت کہ بنگلہ دیش۔ عام آدمی یہی رونا روتا ہے کہ ہم تو تیار ہیں لیکن کوئی مخلص قیادت ہی نہیں۔ اتنی تحریکیں چلا لیں لیکن زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔مگر ایک نہ ایک دن کوئی مسیحا ضرور آئے گا جو ہمارے دلدر دور کردے گا اور بامِ عروج تک پہنچا دے گا۔
پاکستان ہو کہ بھارت کہ بنگلہ دیش۔ سب جگہ بھانت بھانت کے لیڈروں اور تنظیموں کی بھرمار ہے۔ ان میں سے ہر لیڈر اور جماعت کا دعویٰ ہے کہ اگر انہیں ایک بار پورا موقع مل جائے تو وہ قوم و ملک کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔

پاکستان ہو کہ بھارت کہ بنگلہ دیش۔ عام آدمی یہی رونا روتا ہے کہ ہم تو تیار ہیں لیکن کوئی مخلص قیادت ہی نہیں۔ اتنی تحریکیں چلا لیں لیکن زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔مگر ایک نہ ایک دن کوئی مسیحا ضرور آئے گا جو ہمارے دلدر دور کردے گا اور بامِ عروج تک پہنچا دے گا۔

پاکستان ہو کہ بھارت کہ بنگلہ دیش۔ یہاں خود سے رنجش ہو تو اس کا اظہار محلے کے کھمبے کا بلب توڑ کر کیا جاتا ہے۔ حکومت پر غصہ ہو تو سرکاری عمارت پر پتھراؤ ہوجاتا ہے، امریکہ کو سبق سکھانا ہو تو اپنی ہی بسیں اور کاریں نذرِ آتش کر دی جاتی ہیں۔ کسی پر نظریاتی یا نسلی غصہ ہو تو اس کا ازالہ ٹارگٹ کلنگ میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنا ہو تو اپنی ہی دوکانوں کے شٹر گروا دیے جاتے ہیں۔

لوڈ شیڈنگ پر طیش ہو تو امتحانی پرچے پھاڑ دیے جاتے ہیں۔ آٹے چینی کی قلت کا رونا ہو تو اپنے ہی کسی بھائی بند کے پٹرول پمپ کو آگ لگ جاتی ہے۔ بس تلے کچلے جانے پر غم کا اظہار ہو تو پولیس وین ٹوٹ جاتی ہے۔ تھانے میں کسی بے گناہ کی ہلاکت پر غصہ ہو تو ریلوے لائن پر دھرنا دے کر ٹرین روک دی جاتی ہے۔پھر بھی کچھ تبدیل نہیں ہوتا۔ زندگی مسائیل کی کنفیوز دلدل میں اور دھنستی چلی جاتی ہے۔

شائد تبدیلی آگ لگانے سے نہیں، آگ کو مشعل کا روپ دینے سے آتی ہے۔

بی بی سی اردو
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 148
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
saraah (13-02-11), ناصحی (14-02-11), محمدعدنان (13-02-11), مرزا عامر (13-02-11), طاھر (13-02-11), عبداللہ آدم (13-02-11)
پرانا 13-02-11, 10:29 PM   #2
Senior Member
 
saraah's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مسولینی کہتا ہے ''خود کو بدل دو قسمت خود بخود بدل جائے گی''

ہم دوسروں میں تبدیلی چاہتے ہیں خود کو نہیں بدلتے ،باہر تبدیلی چاہتے ہیں اندر نہیں
__________________
''اک مِٹی دے باوے تے پا چُنی
سانہوں یار دے ہون دا مان لبھا''
saraah آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے saraah کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (14-02-11), محمدعدنان (13-02-11)
پرانا 13-02-11, 11:11 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,883
شکریہ: 23,988
4,981 مراسلہ میں 14,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

مصر میں چہرہ تبدیل ہوا ہے نظام نہیں...............اور یہ ادھوری کامیابی اللہ نہ کرے ادھوری رہ جائے!!

دراصل مسلم دنیا میں عملی سے پہلے ایک ذہنی تبدیلی کی ضرورت ہے.

نیچے کا مضمون اسی طرف اشارہ کرتا ہے::

""اس سب کے باوجود اسلامی تحریکوں سے سوال ہے کہ کیا انہوں نے باطل نظام کے ساتھ وہ نظریاتی معرکہ لڑا ہے جس کے بعد ہر خاص و عام اس کی طرف دیکھنے لگیں؟ کیا بات ہے کہ حسنی مبارک کو ایک پرانی اور ناپسندیدہ چیز قرار دے کر رد کرنے والے بھی واضح طور پر اسلام کو ایک متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہے ہیں؟ باطل کے ایجنڈا بردار مہرے توکہنگی کی علامت ہیں ہی، لیکن کیا وحی کی حامل یہ اُمت پھر سے دنیا کی امامت کے لئے تیار ہے؟ یا پھر آدم کی اس ذریت کو ایک اندھیرے سے دوسرے اندھیرے کی طرف ہی پلٹنا ہے؟

٭٭٭٭٭

ہماری اسلامی تحریکیں جو ”متبادل“ کا سوال پوچھ پوچھ کر تھکتی اور تھکاتی رہی ہیں.... جب ایسے مواقع آتے ہیں، جیسے کہ اِس وقت مصر میں، اور جن کو کہ پاکستان میں آنے کیلئے بھی ہرگز کوئی جھجک نہیں، تو ان پر واضح ہوتا ہے کہ ”عدم تیاری“ اور ”معاشرے کے اندر کوئی کام نہ ہونے“ کا مسئلہ ایک خاصا بڑا اور حقیقی مسئلہ ہے! مصر ودیگر مسلم خطوں کے یہ حالات یہاں کے عمل پسند طبقوں کیلئے کیا ایک بہت بڑی گتھی سلجھا کر نہیں دے دیتے؟""


عائشہ جاوید. ایقاظ جنوری تا مارچ2011

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (13-02-11), مرزا عامر (13-02-11)
جواب

Tags
pakistan, ہے۔, کوشش, کلنگ, پولیس, نواز, موقع, مسلمان, مسجد, مشعل, آدمی, امریکہ, اردو, بھائی, خلاف, روتا, روزہ, راستہ, زندگی, شخص, شروع, عمارت, عروج, غم, غصہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تبدیلی کیوں نہیں آتی! ahadar002 عمومی بحث 0 14-02-11 10:20 AM
بھارتی فوجیوں کو راشن سپلائی میں بدعنوانیوں کا انکشاف جاویداسد خبریں 0 04-08-10 07:13 PM
اللہ کی مدد کیوں نہیں آتی ؟ sahj تاریخ و عبر 0 27-09-09 01:40 PM
قومی یہکجحتی میں صحافیوں کا کردار ایس اے نقوی صحافت 6 10-04-09 10:13 AM
سکھر:میڈیا پر پابندیوں کیخلاف صحافیوں کی چوتھے روز بھی علامتی بھوک ہڑتال خرم شہزاد خرم خبریں 0 20-11-07 09:08 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:17 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger