ترقی کس چڑیا کانام ہے؟
ترقی کس چڑیا کانام ہے؟
ابو نثر
وہ بھی کیا دِن تھے کہ بجلی صرف چمکا کرتی تھی‘ کونداکرتی تھی‘ کڑکا کرتی تھی اور گِرا کرتی تھی۔ اب تو بجلی جاتی ہے۔بجلی فیل ہوجاتی ہے (پھرفیل ہوجانے پر مارے شرمندگی کے) بجلی غائب ہوجاتی ہے۔ غائب ہوکر غالباً خودکشی کی (ناکام) کوشش کرتی ہوگی تبھی تو یہ سنسنی خیز خبر بھی سننے میں آتی ہے کہ بجلی بندکردی گئی۔نہ جانے کس تھانے میں؟ اورہاں! کبھی کبھی بجلی آتی بھی ہے۔اُس کے آتے ہی پورے محلے میں ایک غُل سا مچ جاتاہے۔ لوگ اپنی چُندھیائی ہوئی چکا چوند آنکھوں سے اپنے ہی در و دیوار تکنے لگتے ہیں کہ.... دیکھو! دیکھو! اس کے آتے ہی یہ کیا ہوگئی گھر کی صورت! کچھ یہی حال گیس کا بھی ہے۔ اُس گیس کا نہیں جس کا پیہم اخراج ہونے لگے تو ہمارے قارئین پریشان ہوجاتے ہیں ۔اوربھاگم بھاگ کسی حکیم‘ڈاکٹر‘ یاکسی اَتائی کے پاس پہنچ جاتے ہیں کہ: ”حضرت! گیس بہت خارج ہورہی ہے‘ خدارا سدِّ باب کیجیے“۔ مگریہ تو اُس گیس کا ذکرہے‘ جو چولھے سے نہیں‘ چورن سے خارج ہوتی ہے کہ بقولِ شاعر: کھا کے چورن وہ خود سمجھ لیں گے ابر کیا چیز ہے؟ ہوا کیا ہے؟ جب کہ آج کل تومسئلہ اُس گیس کا بنا ہواہے‘ جس کے خارج نہ ہونے سے ہمارے قارئین پریشان پریشان پھر رہے ہیں۔ خواہ مرد ہوں یا خواتین۔ پڑوسنیں تک باہم یہی رونا روتی رہتی ہیں۔اگرایک پڑوسن مُنھ بسورتی ہے: ”اے بہن! کیا کروں؟میری گیس نہیں آرہی ہے!“ تودوسری بھی ناک سِکوڑتی ہے: ”میں کیا بتاوں بہن!خود میری گیس بھی بندہوگئی ہے!“ کل یوں ہی بجلی‘ گیس اورپٹرول وغیرہ وغیرہ کی بندش کاذکر ہورہاتھا کہ حکیم ہاوَن دستہ آن پہنچے۔ اُن سے بھی فریاد کی گئی: ”حکیم جی! آپ ہی کوئی علاج تجویز کیجیے!“ حکیم جی پہلے توزیرِ مونچھ اوربالائے ریش مُسکرائے۔ پھر ہر دوپر ہاتھ پھیرتے ہوئے صرف یہ کہااور چلتے بنے: ” عزیزانِ من ! صرف وطنِ عزیز ہی نہیں‘ پوری دُنیا توانائی کے بحران میں مبتلاہے“۔ ہم توخیر کچھ نہ سمجھے۔ خان معاذاﷲ خان نے سمجھا یاکہ: ”کسی یونانی مرض کا نام لے رہے ہیں“۔ سو‘اُن کے (بجلی کی طرح اچانک) چلے جانے کے باعث مطلب جاننے کے لیے نوراللغات کھولی گئی۔ بحران کے آگے درج تھا: ”بِا لضّم(یعنی پیش کے ساتھ) یونانی ۔مذکر ۔طب کی اصطلاح: بیماری کے زورکا دِن“۔ خان صاحب نے ایک زوردار نعرہ لگایا: ”یارامیں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ کوئی طبِ یونانی کی بیماری ہوگی“۔ ہمیں بھی خان صاحب سے اتفاق کرتے ہی بنی۔سچ پوچھیے توبجلی‘ گیس‘ پٹرول سب ”زورکرنے والی“ یعنی مریض کوکمزورکرنے والی بیماریاں ہیں۔ مثلاً یہی دیکھ لیجیے کہ جب تک بجلی آئی ہوئی رہتی ہے لوگ بستروں اورصوفوں پر پڑے اینڈتے رہتے ہیں اور ریموٹ اُٹھا اُٹھا کر‘ چینل بدل بدل کر لیٹے ٹی وی دیکھا کرتے ہیں۔ سب پرعجیب سی سستی چھائی رہتی ہے۔مگر جب بجلی کا بحران پیدا ہوجاتاہے تو یہی لُدھڑ‘ کاہل اور اَسکتی لوگ یکایک مستعد‘ چُستعد اور چاق وچوبند ہوکر باہر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ نعرے مارتے ہیں۔آگ لگاتے ہیں۔اور نہ جانے کہاں سے ان میں اتنی توانائی آجاتی ہے کہ سیمنٹ کے بھاری بھاری پائپ لُڑھکا کر سڑک کی سڑک بند کردیتے ہیں۔ عام حالات میں‘ جب بجلی موجود ہوتی ہے‘اگرانھی لوگوں کو بلاکر کہیے کہ: ”صاحبو! ذرایہ پائپ تو پرے کردو۔ خطیرمزدوری ملے گی“۔ تویہی لوگ آپ کی طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہیں گے: ”ہمیں اپنا پالتو ہاتھی سمجھ رکھا ہے کیا؟ ارے صاحب پیساخرچ کرنا ہے توکھل کر کیجیے۔ کرائے پر کرین منگوائیے اور جہاں چاہے یہ سنگلاخ پائپ ہٹوائیے“۔ پس جب بجلی‘گیس‘ پٹرول کی توانائی نہ تھی تو ”توانائی کا بحران“ بھی نہ تھا۔ لوگ چراغ کی روشنی میں پڑھتے تھے اوران کی آنکھوں پر بوتل کے پیندے جتنے موٹے شیشوں کی عینک نہیں لگاکرتی تھی۔بلکہ عینک ہی نہیں لگا کرتی تھی۔ لکڑی کے گٹکوں یا کوئلے کی دھیمی دھیمی آنچ پر پکاہوا اِتنا لذیذ کھانا کھاتے کہ بس چٹخارے لیتے اور اُنگلیاں چاٹتے رہ جاتے۔امراضِ شکم کا شکار ہوکر السر یاہرنیا سے نجات پانے کو سرجنوں کے ہاتھوں اپنا پیٹ نہیں پھڑواتے تھے۔میلوں پیدل چلتے تھے اور عمر طویل پاتے تھے۔ شوگرہوتی تھی نہ مُٹاپا۔ تواے قارئینِ کرام! آپ کچھ سمجھے بھی کہ ترقی کس چڑیا کانام ہے؟ یہ بجلی سے چلنے والی‘ گیس سے دوڑنے والی اور پٹرول سے اُڑنے والی چڑیاکانام ہے۔ دُنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک کے ڈسے ہوئے لوگوں کو اگراس ملک سے انتقام لینا ہو تو اس پر بم پھوڑنے کی ضرورت نہیں۔صرف اُس کی بجلی غائب کردیجیے‘ گیس بندکردیجیے اور پٹرول اُڑالیجیے۔ وہ آپ سے آپ ہی پٹ سے گرکرمرجائے گا۔
|