واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ترقی کی ضمانت ۔۔۔ دین یا لادینیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-09-09, 05:55 AM   #1
ترقی کی ضمانت ۔۔۔ دین یا لادینیت
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 29-09-09, 05:55 AM

ترقی اور کامیابی کی خواہش ہر انسان کے دل میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔ جیسے ہی انسان شعور کے میدان میں قدم رکھتا ہے دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ تعلیمی میدان ہو یا کھیل کا میدان، اچھے روزگار کی طلب ہو یا کاروبار کا ذکر ، یا پھر معاشرے میں اچھے مقام کی تگ و دو، زندگی کے ہر شعبے میں مقابلے اور مسابقت کا سماں ہے۔ یہ ایک فرد کا حال ہے۔ انہی افراد سے معاشرہ اور معاشرے سے قومیں تشکیل پاتی ہیں۔

مسابقت اور مقابلے کا یہ عنصر فرد سے معاشرے میں آجاتا ہے اور دوسروں سے آگے نکلنے کے لئے اجتماعی تگ و دو کا آغاز ہو جاتا ہے۔ قوم کے اجزائے ترکیبی میں رنگ، نسل، زبان، علاقائیت اور مذہب یا نظریہ جیسے عناصر شامل ہیں لیکن ان سب میں اہم اور موثر عنصر مذہب ہے۔ کیوں کہ نظریات اور مذہب پر تشکیل پانے والی اجتماعیت پائیدار اور دیر پا ہوتی ہے۔

مذہب یا نظریہ جو کسی بھی قوم کی بنیاد ہو وہ فطری اور بشری تقاضوں کو اپنی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے، کیوں کہ اگر فطری تقاضوں کا لحاظ نہ کیا جائے تو اجتماعیت تا دیر بحال نہیں رہ سکتی۔ انہی فطری تقاضوں میں ایک ترقی اور کامیابی کا حصول ہے لہذا ہر مذہب اور نظریہ اپنے پیروکاروں کی ترقی کے لئے ایسے اصول وضع کرتا اور انہیں اپنی بنیادی تعلیمات کا حصہ بناتا ہے کہ اگر ان کے مطابق زندگی گزاری جائے تو یقینی کامیابی مقدر ہوتی ہے۔ اور اگر روگردانی برتی جائے تو ایک وقت کے بعد زوال شروع ہو جاتا ہے تباہی مقدر بن جاتی ہے۔ جس کی بے شمار مثالیں انسانی تاریخ میں موجود ہیں جن میں اپنی بنیادی تعلیمات سے روگردانی کرنے والی قومیں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔ اور جو اپنی تعلیمات پر کاربند رہیں انہوں نے دنیا پر حکومت کی۔

لیکن آج کل دنیا میں سیکولرازم کا طوطی بول رہا ہے۔ اہل دانش و بینش ، مغرب کے فاضلین اور سوشلسٹ اکابر کے خوشہ چین اس بات پر ایمان کی حد تک متیقن ہیں کہ کامیابی کی تمام راہیں سیکولر ازم یا لا دینیت کے چوراہے سے گزر کر جاتی ہیں، اور ترقی کی راہ میں واحد رکاوٹ دین یا مذہب ہے۔

ان روشن خیال دانشوروں سے اگر تاریخ انسانی سے کوئی مثال طلب کی جائے تو ہزاروں سال پر مشتمل اس تاریخ میں سے وہ صرف ایک مثال پیش کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔

مذہب کی وجہ سے زوال و ناکامی اور ترک مذہب اور دین بیزاری کے باعث ترقی و کامیابی کی مثال وحید جو آج تک بطور دلیل پیش کی جاتی ہے وہ یورپ کا عصر تاریک (ڈارک ایج) ہے۔

مگر بدقسمتی سے وہ مثال ”سوال گندم جواب چنا“ کے مصداق ان کے دعوے کا بھرم نہیں رکھ سکتی کیوں کہ دلیل دعوے کے مطابق نہیں۔ اصول یہ ہے کسی بھی مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کے اجزاءکا علم ضروری ہے، اور مثال پیش کرتے ہوئے مسئلے کے بنیادی اجزاءکو پیش نطر رکھنا ہی اہل علم کا شیوہ ہے۔

بطور مثال اگر مذہب کی بات ہو، ترقی اور زوال میں اس کے کردار کی ہو تو مذہب اور اس کی بنیادی تعلیمات کے علم کے ساتھ ساتھ قوم کی ترقی کے لئے بتائے گئے اصولوں اور ان کی روشنی میں کار جہاں گیری کا ادراک بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ اس مذہب سے منسوب قوم کے زوال کا جائزہ لینے یا مذہب کو زوال کا سبب قرار دینے سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ آیا مذکورہ قوم بنیادی تعلیمات اور کار جہاں گیری کے اصولوں پر کار بند تھی یا نہیں؟ ورنہ صرف مذہب سے نسبت ترقی کی ضمانت نہیں ۔

عصر تاریک (ڈارک ایج ) کا اگر مختصر جائزہ لیا جائے تو یہ وہ دور ہے جب یورپ کی زمام اقتدار عیسائی رجال دین اور اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھی۔ اہل کلیسا کی بات حرف آخر تھی اور اس سے اختلاف کا مطلب اپنی موت کا جواز مہیا کرنے یا موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ دینی و دنیاوی تمام معاملات میں اہل کلیسا کی رائے وحی سماوی کا درجہ رکتھی تھی۔ سزا و جزا کے تمام اختیارات کا منبع کلیسا تھا۔

ایک جانب انجیل مقدس کی تعبیر و تشریح کا اخیتار اور دوسری طرف زمین کی ہیئت ، اجرام فلکی کی حرکت جیسے خالص دنیوی معاملات مکمل طور پر اہل کلیسا کے ہاتھ میں تھے۔ کئی نامور سائنس دان اور فلسفی صرف اختلاف رائے کی پاداش میں جان سے جاتے رہے اور کئی ایک کو سر عام زندہ جلا دیا گیا۔ فکرو اظہار پر قدغن کا نتیجہ فکری انجماد اور بے عملی کی صورت میں نکلا۔ اور یہی انجماد قوموں کی حیات میں زوال اور موت کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔ ترقی کی راہیں مسدود ہو گئیں، آگے بڑھنے کا جوش و ولولہ دم توڑ گیا اور تاریخ انسانی کا کئی صدیوں پر محیط عرصہ ہمیشہ کے لئے عصر تاریک کے نام سے موسوم ہو گیا ۔

لیکن یہاں جو بات غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ کیا اس وقت اہل کلیسا عیسائیت کی حقیقی تعلیمات پر کاربند تھے؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام کی تعلیمات ہی ان کے تمام معاملات میں مشعل راہ تھیں؟کیا فکرو اظہار پر پابندی اور مرتکبین کے لئے سزائیں انجیل مقدس کی روشنی میں دی جاتی تھیں؟ کیا سیدنا عیسی علیہ السلام جیسا رحمدل انسان اتنی ظالم اور بھیانک تعلیمات دے سکتا ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب یقینا نفی میں ہے۔

در حقیقت اس وقت جو عیسائیت رائج تھی وہ تحریف شدہ تھی، اناجیل اربعہ آسمانی وحی کے بجائے انسانوں کی آراءکا مجموعہ تھیں جو سیدنا عیسی علیہ السلام کی وفات سے سینکڑوں برس بعد تحریر کی گئیں۔ بلکہ اسے عیسائیت کے بجائے پولس کی تعلیمات کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اور سینٹ پولس (سینٹ پال) یہودی الاصل اور عیسی علیہ السلام کے بد ترین دشمنوں میں سے تھا، آپ کی وفات کے بعد عیسائیت قبول کی اور اپنی ذہانت کی بنا پر وہ مقام حاصل کیا کہ عیسائی اسے اپنا امام و پیشوا تصور کرنے لگے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر اس نے عیسائیت کی بنیادیں ہی ہلا دیں۔

توحید کی جگہ تثلیث کا عقیدہ لانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ اپنے مقام و مرتبے اور اپنی ذہانت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیمات کے بجائے ایسی تعلیمات کو عیسائیت میں شامل کر دیا جس نے عیسائیت کو عصر تاریک کی صورت میں ایک مستقل بد نما داغ دیا۔ اور جب عصر تاریک ختم ہوا اور اہل یورپ نے مذہب کا دامن چھوڑ کر سیکولرزم کا سہارا لیا تو ترقی کی منازل طے کرتے بام عروج کو پہنچے۔جسے دلیل بنا کر مذہب کو ترقی کا دشمن کہا جانے لگا۔ مگر ان تعلیمات کو مذہب کہنا اور اس کی ناکامی کو دلیل بنا کر مذہب کو زوال اور ناکامی کا سبب گرداننا سراسر زیادتی اور مذہب بیزاری ہے۔

حقیقت امر یہ ہے کہ دین و مذہب تو ترقی اور کامیابی کا ضامن ہے جس کی مثالیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔ ایک زندہ مثال جو عصر تاریک ہی میں عرب کے ریگزاروں میں قائم ہو ئی۔ جب یورپ تاریک دور سے گزر رہا تھا عین اسی وقت ریگستان عرب میں اسلام کا سورج طلوع ہوا۔ اہل اسلام نے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو مشعل راہ بنایا، بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا، فکرو اظہار کی مکمل آزادی دی گئی۔رنگ و نسل اور امیر و غریب کے تمام امتیازات مٹا دیئے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے عرب کے بدو اپنے وقت کی مہذب ترین اقوام کو تہذہب سکھاتے نطر آئے۔ مختصر عرصے میں دنیا کی امامت ان کے قدموں میں تھی۔ اور جب تک مذہب کی حقیقی تعلیمات پر کاربند رہے حکمرانی کرتے رہے۔ قلیل تعداد ہو کر بھی بڑی بڑی افواج پر فتح حاصل کرتے رہے اور اقلیت میں ہو کر بھی سینکڑوں سال اکثریت پر حکمرانی کی۔

اگر یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ یورپ نے مذہب اور ملائیت سے چھٹکارا حاصل کیا تو ترقی اور کامیابی ملی، تو آخر یہ مثال کیوں نہیں دی جاتی کہ مسلمان جب تک اپنے مذہب پر عمل کرتے رہے دنیا پر حکمرانی کی اس لئے اگر کامیابی چاہیے تو مذہب کی طرف لوٹنا ہو گا۔
لیکن وہ ایسا کون کہے؟ اہل دانش کی فکری خوراک کا سرچشمہ تو مغرب ہے جہاں سے روشن خیالی اور اسلام دشمنی کے پرچار کا معاوضہ ملتا ہے۔

ہمیں بحیثیت مسلمان اپنا انداز فکر اور زاویہ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر اقوام کے عروج و زوال کے قصے عبرت و نصیحت کے لئے ضرور پڑھیں مگر تقلید کے لئے نہیں۔ ہماری اپنی تاریخ اتنی جامع ہے کہ اس میں عروج و زوال کے تمام اسباب موجود ہیں، بس ذرا فکر و تدبر کی ضرورت ہے۔

اللہ ہمیں عقل سلیم کے استعمال اور نقل صحیح کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,559
شکریہ: 25,208
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2044
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
Haya 786 (02-10-09), mama_shalla (30-04-11), پاکستانی لڑکی (30-09-09), ھارون اعظم (19-02-11), منتظمین (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), wajee (29-09-09), ایس اے نقوی (02-10-09), ام طلحہ (29-09-09), حیدر (30-09-09), سحر (08-11-09), عامرشہزاد (30-09-09), عادل سہیل (13-10-09)
پرانا 29-09-09, 08:09 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
لیکن آج کل دنیا میں سیکولرازم کا طوطی بول رہا ہے۔ اہل دانش و بینش ، مغرب کے فاضلین اور سوشلسٹ اکابر کے خوشہ چین اس بات پر ایمان کی حد تک متیقن ہیں کہ کامیابی کی تمام راہیں سیکولر ازم یا لا دینیت کے چوراہے سے گزر کر جاتی ہیں، اور ترقی کی راہ میں واحد رکاوٹ دین یا مذہب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ ہمیں عقل سلیم کے استعمال اور نقل صحیح کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
سیکولر ازم لادینیت نہیں بلکہ عام آدمی کا اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے۔ کیا ہندوستان کو چاہئے کہ تمام مسلمانوں‌ کو کو اسلام پر عمل کرنے سے روک دے یا تمام مغربی ممالک تمام مسلمانوں کو نکال باہر کریں؟

اسی طرح کیا مسلم معاشرہ میں اقلیتی مذاہب کو تباہ و برباد کردیا جائے؟ سیکولر ازم یعنی عام انسان کو مذہبی آزادی حاصل ہو، یہ اسلام کا ہی پیغام ہے۔ دیکھئے

اسلامی فلاحی معاشرہ میں اقلیتی مذاہب کی آزادی

اسلامی فلاحی معاشرہ کے استحکام کے بعد اور مستقل استحکام کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اقلیتی مذاہب ایک مسلم معاشرہ میں موجود رہیں گے۔ ان اقلیتی مذاہب کو اپنی رسومات کی آزادی دینا اسلامی معاشرہ کے لئے کئی وجوہات سے ضروری ہے۔ اقلیتی مذاہب کے پیروکار مسلم معاشرہ سے سبق حاصل کرتے ہیں اور پھر انہی قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہیں جو مسلم معاشرہ کی اساس ہے۔ دوسری طرف غیر مسلم معاشروں کے افراد مسلم معاشرہ میں ہونے والے نرم سلوک کی بناء پر مسلمانوں سے بہتر سلوک روا رکھتے ہیں۔

قران دین میں زبردستی کا قائل نہیں:
سورۃ البقرۃ:2 , آیت:256 دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے


قران ایمان لانے کے لئے آپ کو مناسب موقع دیتا ہے۔ اور مندرجہ بالاء پیغام دوبارہ دیتا ہے:
سورۃ الكھف:18 , آیت:29 اور فرما دیجئے کہ (یہ) حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے، بیشک ہم نے ظالموں کے لئے (دوزخ کی) آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی، اور اگر وہ (پیاس اور تکلیف کے باعث) فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا، کتنا برا مشروب ہے، اور کتنی بری آرام گاہ ہے

اللہ تعالی فرماتے ہیں‌کے وہ خانقاہوں گرجوں کلیسوں اور مسجدوں کی حفاظت فرماتے ہیں جہاں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے۔
سورۃ الحج:22 , آیت:40
(یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے۔

قرآن رنگ و نسل کے فرق کو اہمیت نہیں دیتا:
سورۃ الروم:30 , آیت:22 اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں

قرآن ہم کو دوسری قوموں پر ہنسنے اور ان کا مذاق اڑانے سے منع فرماتا ہے۔ اس طرح قران قوم یعنی Ethnicity کی بنیاد پر لوگوں کو استحصال یعنی Discrimination سے منع فرماتا ہے۔
سورۃ الحجرات:49 , آیت:11 اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں

اللہ تعالی، قرآن میں رسول پاک (ص) کو حکم دیتا ہے کہ وضاحت فرمادیں کے تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین:
سورۃ الکافرون:109 , آیت:4 اور نہ میں ان کی عبادت کرتا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو
سورۃ الکافرون:109 , آیت:5 اور نہ تم اس کی عبادت کرو جس کی میں عبادت کرتا ہوں
سورۃ الکافرون:109 , آیت:6 تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین

قران اس طرح مسلم معاشرہ میں اقلیتی مذہبی آزادی قائم کرتا ہے تاکہ مسلم معاشرہ استحکام پذیر رہے۔ اس طرح مسلم حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مناسب قانون سازی ان اصولوں پر اقلیتی بہبود کے لئے کرے۔


آخر میں آپ کی دعا دہرانا چاہتا ہوں :

اللہ ہمیں عقل سلیم کے استعمال اور نقل صحیح کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), حیدر (30-09-09)
پرانا 29-09-09, 08:39 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سیکولر ازم لادینیت نہیں بلکہ عام آدمی کا اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے۔
فاروق بھائی آپ کی بات آدھی ٹھیک ہے ۔
اسلام بھی ہر شخص کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کی آزادی دیتا ہے لیکن جہاں پر اختلا ف ہے وہ ہے حکومت پر
سیکولر ازم یہ کہتا ہے کہ حکومت ہم اپنی ( انسانوں کے بنائے قوانین سے ) مرضی سے کریں‌گے
جب کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ حکومت کو بھی مسلمان بناؤ (اللہ کے بنائے قوانین کا نفاذ کرو - وہ صرف پڑھنے کیلئے نہیں‌ہیں )
ابرارحسین آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), حیدر (30-09-09), راجہ اکرام (29-09-09), عادل سہیل (13-10-09)
پرانا 29-09-09, 08:53 AM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,559
کمائي: 315,040
شکریہ: 25,208
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
سیکولر ازم لادینیت نہیں بلکہ عام آدمی کا اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے۔ کیا ہندوستان کو چاہئے کہ تمام مسلمانوں‌ کو کو اسلام پر عمل کرنے سے روک دے یا تمام مغربی ممالک تمام مسلمانوں کو نکال باہر کریں؟
اسی طرح کیا مسلم معاشرہ میں اقلیتی مذاہب کو تباہ و برباد کردیا جائے؟ سیکولر ازم یعنی عام انسان کو مذہبی آزادی حاصل ہو، یہ اسلام کا ہی پیغام ہے۔
برادرم مکرم فاروق سرور خان
سب سے پہلے تو اتنے تفصیلی تبصرے پر شکریہ قبول کیجئے۔

سیکولرزم کیا ہے؟
اس کے حدود اربعہ کیا ہیں۔؟
کتابوں میں اس کی تعریف کیا ہے؟
اہل علم و تحقیق اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
ان سب سوالات کے جواب کا اگر خلاصہ نکالا جائے تو مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ آپ نے بالکل درست فرمایا۔
لیکن میں سیکولزم کی اس شکل کی بات کر رہا ہوں جو آج دنیا کے بیشتر ممالک میں نافذ ہے۔ اور جس پر فخر کرتے ہوئے ان کی زبان نہیں تھکتی۔
وہ سیکولرزم جو بر سر زمین ایک حقیقت بن چکی ہے اس سے بالکل مختلف ہے جو کتابوں اور حوالوں میں ملتی ہے۔
ترکی ہی کو لیجئے۔ سیکولرزم کے نام پر اسلامی تعلیمات پر مکمل پابندی رہی۔
فرانس میں مسلم خواتین پر پردہ منع کرنے کی کوششیں ہیں۔ حالانکہ سیکولرازم ہر انسان کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کی اجازت دیتا ہے۔
جرمنی میں ہمار بہن شہیدہ حجاب مروۃ الشربینی کے ساتھ بھری عدالت میں جو ہوا، انصاف مانگنے کی پاداش میں جو سزا ملی یہ سب بھی سیکولرزم کے نام پر ہی ہو رہا ہوگا۔
اس کے علاوہ انگلینڈ میں بھی پردہ زیر بحث ہے۔
کیا یہ تمام مثالیں سیکولرزم کی اس تعریف پر پورا اتر رہی ہیں جس کا ذکر آپ نے کیا یا جو قاموس اور معاجم میں ملتی ہے، جس پر انسائیکلوپیڈیاز کے صفحات کالے کئے جاتے ہیں ؟؟

یقینا اس کا جواب نفی میں ہوگا۔۔۔۔
اس لئے آپ کہاں سکیولرزم سے وہ مراد مت لیں جو کتابوں ہے۔۔

اور جہاں تک اسلام کے عدل اجتماعی، بنیادی حقوق کی فراہمی ، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، مذہبنی آزادی، آزادی فکر و اظہار ، مساوات و برابری کے اصول ہیں ان پر مجھے شرح صدر ہے اور میں یقین رکھتا ہوں ۔
رنگ و نسل کے امتیازات کو میرے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے روند ڈالا تھا۔
قرآن نے عزت و شرف کا معیار تقوی کو قرار دیا۔ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم۔۔
میرے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں اسی بات کو دہراتے ہوئے فرمایا کہ ’’لا فضل لعربي على عجمي ، ولا لعجمي على عربي ، ولا لابيض على أسود ، ولا لاسود على أبيض إلا بالتقوى ، الناس من آدم ، وآدم من تراب‘‘ او کما قال علیہ السلام
کسی عربی کو عجمی پر یا کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر۔۔ مگر تقوی کی وجہ سے۔۔ اور تمام انسان آدم علیہ السلام سے ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے۔
میرے خیال میں رنگ و نسل کے امتیازات کو مٹانے اور مساوات انسانی قائم کرنے کے لئے اس بہتر مثال اور اس سے بہتر تعلیم ہمیں کہیں نہیں مل سکتی۔۔

ضرورت اپنی اصل کی طرف لوٹنے اور اسلاف کا قلب و جگر پیدا کرنے کی ہے۔

اللہ ہمیں عقل صحیح کے استعمال اور نقل صحیح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), ام طلحہ (29-09-09), حیدر (30-09-09)
پرانا 29-09-09, 10:35 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,559
کمائي: 315,040
شکریہ: 25,208
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابرارحسین مراسلہ دیکھیں
فاروق بھائی آپ کی بات آدھی ٹھیک ہے ۔
اسلام بھی ہر شخص کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کی آزادی دیتا ہے لیکن جہاں پر اختلا ف ہے وہ ہے حکومت پر
سیکولر ازم یہ کہتا ہے کہ حکومت ہم اپنی ( انسانوں کے بنائے قوانین سے ) مرضی سے کریں‌گے
جب کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ حکومت کو بھی مسلمان بناؤ (اللہ کے بنائے قوانین کا نفاذ کرو - وہ صرف پڑھنے کیلئے نہیں‌ہیں )
ابرار بھائی آپ نے درست فرمایا
اسلام کا منشور ہی یہ ہے کہ۔۔ جسے کسی نے کیا بڑے خوب پیرائے میں بیان کیا ہے کہ
’’اخراج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ رب العباد‘‘ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی میں داخل کرنا۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انفراد و اجتماعی ہر دو زندگی میں رہنمائی دیتا ہے اور اس کے مطابق زندگی اور نظام کو ڈھالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

اللہ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات کو مشعل راہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔آمین
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), مسافر (29-09-09), ام طلحہ (29-09-09), ابرارحسین (29-09-09), حیدر (30-09-09)
پرانا 29-09-09, 01:53 PM   #6
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 45
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,200
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شاندار تحریر ہے
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں مغرب اپنی مرضی کی اصطلاحات دے کر اپنی مر ضی کے معنی نکا لتا ہے
یہی معاملہ سیکو لر ازم کا ہے۔۔۔
یہی معاملہ دہشت گردی کا ہے
یہی معاملہ روشن خیالی کے ہے
یہی معاملہ جہاد کے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
ہم سوچے سمجھے بغیر ان اصطلاحات کو تو قبول کر لیتے ہیں ۔۔۔
اور اگر کوئی ان کی " جا مع تعریف" مانگے تو آئیں با ئیں شائیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر دہشت گر دی کو ہی دیکھ لیں تو امریکہ سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔۔
مگر مجا ل ہے جو کوئی ملک بولے۔۔
سیکولرازم ۔۔۔ ایک اصطلاح کی حد تک تو اسلام کے بہت قریب ہے مگر اسکی روح کے مطابق کو نسا ملک اسکی تعریف پر پورا اترتا ہے۔۔ کوئی ایک بتائیں۔۔۔
دین کے بغیر کوئی دنیا وی معاملہ نہیں چل سکتا ۔۔۔
لیکن زبردستی نہیں۔۔
ہر سخص کو اپنے مذہب میں آزادی حا صل ہے مگر دوسروں کی آزادی میں حائل ہوئے بغیر۔۔
مذہبی آزادی کے نام پر دوسرے مذاہب کو ڈی گریڈ کر نا۔۔۔۔۔
یا انکے مذہب کو زک پہنچا نا کہاں کا سیکو لر ازم ہے؟
روشن خیالی کے نام پر مسجدوں پر چڑھائی کر نا کہاں تک درست ہے؟
دہشت گردی روکنے کے نام پر خود دہشت گردی کرنا کیوں کر جا ئز ہے؟
ڈاکٹرنور آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), ام طلحہ (29-09-09), حیدر (30-09-09), راجہ اکرام (29-09-09)
پرانا 29-09-09, 02:59 PM   #7
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ آہستہ آہستہ ہماری قوم کے ذہن میں زہر بھرا جا رہا ہے کہ دین پرستی فرسودہ خیال ہے۔ اپنے شعبے کے حوالے سے میں خواتین کے ایسے گروپ کو بھی جانتی ہوں جوخود کو بیگمات کہلوانا پسند کرتی ہیں۔ جن کے سر صرف اسلئے کھلے ہوتے ہیں کہ کوئی انہیں "بیک ورڈ" نہ کہہ دے۔جو ہیروں اور زیورات کی نمائش اور ذکر محض فیشن کیلئے کرتی ہیں اور ہم جیسی خواتین انکے نزدیک "بیچاری بیکورڈ نوکری پیشہ عورتیں" ہیں۔جب عمومی سوچ یہ ہو جائے تو کیسی نسلیں پروان چڑھیں گی۔یہ مغرب کا پراپیگنڈا ہے کیونکہ وہ اسلام کے غلبے سے خوفزدہ ہیں۔کیا سیکولر ازم۔سیکولر ملک بھارت میں جاکر مسلمانوں کا حال دیکھیں۔ یہ سب تصورات ہمارے نہیں ہیں اسلام پسندی ہی ایک ایسی راہ ہے جو دنیا و آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (29-09-09), محمدعدنان (29-09-09), ابرارحسین (29-09-09), حیدر (30-09-09), راجہ اکرام (29-09-09)
پرانا 29-09-09, 05:10 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔۔۔۔۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (29-09-09), حیدر (30-09-09), راجہ اکرام (29-09-09)
پرانا 29-09-09, 06:03 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,526
کمائي: 88,076
شکریہ: 5,188
5,037 مراسلہ میں 11,458 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی تحریر ہے بہت کچھ پڑھنے کو ملا راجہ بھائی لگے رہو
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (29-09-09), حیدر (30-09-09), راجہ اکرام (29-09-09)
پرانا 29-09-09, 06:20 PM   #10
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,173
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی بہت اچھی تحریر ہے
اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (30-09-09), راجہ اکرام (29-09-09)
پرانا 29-09-09, 09:32 PM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,559
کمائي: 315,040
شکریہ: 25,208
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ برادران و خواہران
آپ کی دعاؤں اور رہنمائی کی ضرورت ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-09-09)
پرانا 29-09-09, 10:56 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابرارحسین مراسلہ دیکھیں
فاروق بھائی آپ کی بات آدھی ٹھیک ہے ۔
اسلام بھی ہر شخص کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کی آزادی دیتا ہے لیکن جہاں پر اختلا ف ہے وہ ہے حکومت پر
سیکولر ازم یہ کہتا ہے کہ حکومت ہم اپنی ( انسانوں کے بنائے قوانین سے ) مرضی سے کریں‌گے
جب کہ اسلام یہ کہتا ہے کہ حکومت کو بھی مسلمان بناؤ (اللہ کے بنائے قوانین کا نفاذ کرو - وہ صرف پڑھنے کیلئے نہیں‌ہیں )
ابرار بھائی آپ نے بہت اچھا فرمایا۔ کہ حکومت کو بھی "اسلامی" بناؤ۔ اس "اسلامی" کا تصور مختلف لوگوں‌کے ذہن میں‌ مختلف ہے۔ کچھ لوگ پردہ کو "اسلامی حکومت‌" تصور کرتے ہیں اور کچھ لوگ خواتین کے استحصال کو "اسلامی حکومت" تصور کرتے ہیں۔ کہ جناب دیکھئے یہاں عورتوں نے سر نہیں ڈھکا تو یہ ایک "غیر اسلامی نظام ہے" جبکہ جو لوگ معاشرتی طور پر سر ڈھکنے کے قائل نہیں ہیں ان کو سر ڈھکنے پر مجبور کرنا ان پر اپنا مذہب تھوپنا ہے۔ کیا اسلامی حکومت کا یہ کام ہے کہ وہ لوگوں کو مسلمان بننے پر زبردستی مجبور کرے؟

اصل اسلامی حکومت، ہر شخص کے مساوی حقوق، مساوی عدل، مساوی تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اسی طرح کے دوسرے بنیادی حقوق پر مشتمل ہے۔ پردہ ، آپ کی عبادتیں آپ کے اپنے اعمال ہیں ، ان سے محرومی کی بناء پر آپ کسی کو قتل نہیں کرسکتے ،

ایک تصور جو بہت عام پایا جاتا ہے جو یہاں‌بھی دہرایا گیا ہے کہ اسلامی طرز حکومت میں تمام قانون اللہ کے ہوتے ہیں اور بندے کا بنایا ہوا ایک بھی قانون نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ اس قانون کو صرف اور صرف چند مذہبی لوگ ہی جانتے ہیں۔

کیا یہ تصور درست ہے؟
اگر ایسا ہے تو تمام کا تمام فقہ ردی ہوجاتا ہے، محدثین کی محنت کسی کام کی نہیں رہ جاتی کہ یہ تو صرف اور صرف انسانی کام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی مومنین کو اس ضمن میں واضح حکم دیتا ہے کہ

سورۃ الشورٰی:42 , آیت:38
اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں

بھائی جب خود ہمارے رب کا فرمان ہے کہ یہ عین اللہ کی اطاعت اور اللہ کا فرمان قبول کرنے کے مترادف ہے کہ باہمی فیصلے باہمی مشورہ سے کئے جائیں تو پھر یہ کیوں سمجھا جاتا ہے کہ اللہ کی کتاب کی روشنی میں قانون سازی نہیں کی جاسکتی؟

کیا ایسا کرنا سنت رسول کے خلاف ہے؟ یقیناً نہیں دیکھئے اللہ تعالی کا حکم اپنے برگزیدہ نبی کے لئے:

سورۃ آل عمران: 3 , آیت:159
(اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لئے نرم طبع ہیں، اور اگر آپ تُندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لئے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بیشک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے

کسی ایسے اسلامی نظام یا اسلامی حکومت کا تصور ہی محال ہے کہ جس میں قوانین‌ قران و سنت کی روشنی میں باہمی مشورے سے نہ بنے ہوں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ قوانیں کون بنائے گا؟
ملائیت یا عوام کے منتخب نمائندے۔

ملائیت کا نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر ملاء نے تعلیم حاصٌ کرلی تو بس یہی کافی ہے اور اس میں اب کسی بھی دوسرے شخص سے باہمی مشورہ کی کوئی ضرورت اور اہمیت نہیں۔

جبکہ ایمان لانے والے اس امر کے قائیل ہیں کہ باہمی مشورہ کی ضرورت ہے ، اس ضرورت کو اس طرح پورا کیا جائے کہ عام لوگ اپنے نمائندے چن لیں۔

کیا بیعت کرنا یعنی اپنا نمائندہ چننا سنت رسول سے ثابت ہے؟ جی بالکل، رسول اکرم نے کسی کو نامزد نہیں کیا جبکہ اپنے آخری خطبہ میں رسول اکرم نے واضح‌طور پر یہ فرمایا کہ دوبارہ ایسی ملاقات شاید نہ ہو۔ لیکن اس کے باوجود کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا۔ رسول اکرم سے ڈایریکٹ (بلاواسطہ) تعلیم حاصل کرنے والوں نے بیعت یعنی ووٹنگ کی مدد سے آئندہ خلیفہ کا انتخاب کیا۔

اب جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا نمائندہ کوئی مختلف قسم کا آدمی ہو تو وہ اپنا نمائندہ اس کو چن لیں لیکن دوسروں پر اپنا خیال زبردستی نہ تھوپیں۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 29-09-09 at 11:02 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-09-09)
پرانا 29-09-09, 11:15 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
سیکولرازم ۔۔۔ ایک اصطلاح کی حد تک تو اسلام کے بہت قریب ہے مگر اسکی روح کے مطابق کو نسا ملک اسکی تعریف پر پورا اترتا ہے۔۔ کوئی ایک بتائیں۔۔۔
دین کے بغیر کوئی دنیا وی معاملہ نہیں چل سکتا ۔۔۔
لیکن زبردستی نہیں۔۔
جی آپ قانون ساز اداروں سے ، انتظامیہ سے کس قسم کے دین پر چلنے کی توقع کرتے ہیں؟ آزادی، عدل، مساوات ، تحفظ ؟ جو کہ دینی اصولوں پر بنائے قوانیں کے مطابق ہو؟ یا کچھ اور؟

کیا ان قانون ساز اداروں‌میں غیر مسلموں کی نمائندگی ہونی چاہئیے؟ کیا غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے سات تیسرے درجہ کے شہری جیسا سلوک ہونا چاہئیے؟

آپ کے نزدیک مسلم اور غیر مسلم ملک کی تعریف کیا ہے؟
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (30-09-09)
پرانا 29-09-09, 11:25 PM   #14
Senior Member
 
مسافر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Lahore, Pakistan
مراسلات: 2,069
کمائي: 34,307
شکریہ: 1,693
1,085 مراسلہ میں 2,456 بارشکریہ ادا کیا گیا
مسافر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ابرار بھائی آپ نے درست فرمایا
مسافر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مسافر کا شکریہ ادا کیا
ابرارحسین (30-09-09), حیدر (30-09-09)
پرانا 30-09-09, 03:15 AM   #15
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,352
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وقت مختصر ہونے کی وجہ سے میں فرداََ فرداََ جواب تو نہیں دے پاؤں گا ۔ تاہم فی الوقت اللہ کی مدد و کرم سے جو کچھ لکھ پایا وہ اللہ کی مہربانی ہو گی۔

سب سے پہلے تو میں اس بات کی سختی سے نفی کروں گا کہ "سیکولر ازم لادینیت نہیں " اور اس بات کی بھی مخالفت کروں گا کہ "سیکولرازم ۔۔۔ ایک اصطلاح کی حد تک تو اسلام کے بہت قریب ہے"۔ حالانکہ ان میں سے موخر الذکر کا تذکرہ کرنے والا مجھے بہت عزیز ہے۔

سیکولر ازم کی سب سے واضح تعریف خود سیکولر طبقات کی جانت سے جو کی جاتی ہے وہ یہ ہئے کہ
"ایسا فلسفہ حیات جو مذہب اور مذہبی افکار و خیالات کا انکار کرے"

اسی کی ایک کم شدت پسندانہ تعریف جو کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ
"سییکولرازم ایک ایسی رضامندی ہے جس میں حکومتی افعال اور اداروں کا مذہب اور مذہبی اعتقادات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا"

انسائکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق سیکولر ازم کا مفہوم
"یورپ میں ازمنہ وسطہ میں مذہبی شخصیات عام انسانی معاملات کو حقارت کی نظر سے دیکھتی تھیں اور انکا Focus خدا اور روز آخرت پرتھا۔ ۔ ۔ جس کے رد عمل کے نتیجہ میں سیکورازم کا ظہور ہوا جس میں انسانوں نے ثقافتی اور دنیاوی کامیابیوں اور ضرورتوں کے حصول کا طریقہ کار دیکھا"

چناچہ نہ تو ہم سیکولرازم کو مذہب سے ہم آہنگ کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی یہ اسلام سے کسی طور کوئی مناسبت رکھتا ہے۔ اگر کسی کو اس سلسلہ میں کوئی بھی غلط فہمی ہے تووہ اس سلسلہ میں خوب ریسرچ کر لے۔

دوسرے بات جس پر میں اپنی رائے پیس کرنا چاہوں گا وہ ہے اسلامی حکومت کا تصور۔ اوپر ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ "اصل اسلامی حکومت، ہر شخص کے مساوی حقوق، مساوی عدل، مساوی تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اسی طرح کے دوسرے بنیادی حقوق پر مشتمل ہے۔"
اگر تو محض بنیادی حقوق کے مساوی فراہمی کی بنیاد پر حکومتوں کے اسلامی ہونے کا تعین ہونے لگ پڑے تو تو شاید ناروے اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی فلاحی مملکت ہو گا۔اسلامی فلاحی مملکتوں و حکومتوں کی اس فہرست میں برطانیہ بھی آ جائے گا، امریکہ بھی ہو گا، کینیڈا بھی ہوگا اور فن لیند بھی ہوگا، نیوزی لیند کو بھولنا زیادتی ہو گی، بلکہ نارویجین ممالک سبھی اسلامی فلاحی مملکت و حکومت میں شمار ہوں گے۔
کیا کسی کی عقل مانتی ہے ان ممالک کو اسلامی فلاحی مملکت و حکومت ماننا؟ اگر کوئی ان ممالک کو اسلامی فلاحی ممالک و حکومت سجھتا ہے تو اپنا نام تو بتائے۔
انکو ہم فلاحی مملکت تو کہہ سکتے ہیں اسلامی فلاحی مملکت نہیں۔
اسلامی فلاحی مملکت کو اگر چند الفاظ میں بیان کرنا ہو تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ
"ایک ایسی مملکت جو اللہ کے احکامات کی روشنی میں انسانوں کی فلاح کے لیے کام کرے۔ اس مملکت کے فرائض میں تمام انسانوں کو یکستان بنیادی حقوق مہیا کرنا جیسے روٹی، کپڑا' مکان، تعلیم، امن عامہ، جان و مال اور عزت کی حفاظت، انصاف اورآزادئی رائے اور۔ لیکن اس حکومت /مملکت کے فرائض میں یہ بھی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کوئی فتنہ برپا نہ ہونے پائے، اسلامی قوانین کا اجرا ہو، اور ہر مسلمان کو اس بات کا موقع میسر ہو کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں اچھا مسلمان بن کر پیش ہو کر اپنی نجات حاصل کر سکے"

اسلامی فلاحی مملکت کو سمجھنے کے لیے ہمکو جو چند اسلامی فلاحی مملکتیں گزری ہیں ان کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ لیکن یہ مطالعہ محض داد و تحسین یا معلومات میئں اضافہ کی غرض سے نہ ہو بلکہ کچھ سیکھنے اور اپنی نجات حاصل کرنے کی غرض سے ہو
نبئی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق کا دور مبارک زیادہ تر غربت اور افلاس (مالی لحاظ سے) میں گزر گیا۔ لیکن اس میں فلاحی مملکت وجود میں آ چُکی تھی۔ نبئی پاک کے دور میں ہونے والا انصاف کہ جس میں چور عورت کے ہاتھ باوجود حضرت اسامہ کی سفارش کے کاٹ دئیے گئے۔ ۔ ۔ہر کسی کو تعلیم کے مواقع کا معاملہ جنگ بدر کے قیدیوں کے پڑھانے سے اور نبئی پاک کے ہر امیر و غریب کو یکساں محبت سے ملنے اور سمجھانے سے معلوم ہوتا ہے۔ الغرض نبئی پاک صل اللہ علیہ وسلم کا ہر لمحہ اسلامی فلاحی مملکت کی نشانی ہے۔

تاہم اگر حضرت ابو بکر کا دور دیکھیں تو اس میں ایک بات واضح نظر آتی ہے وہ ہے حکومت پر اسلام کا اثر۔ پورا عرب ہاتھ سے نکل چُکا تھا۔ صرف مکہ اور مدینہ ۔ ۔ ۔اور چند علاقے اسلامی سلطنت میں باقی تھے۔ خدشہ تھا کہ مدینہ بھی کسی وقت ہاتھ سے نکل جائے گا لیکن حضرت ابو بکر کا ہم پر اور ہماری نسلوں پر احسان کہ انہوں نے فرمایا میں اس سے ایک قدم بھی پیچچھے نہ ہٹوں گا جس سے نبی پاک حکم دے گئے ہیں۔ انہوں نے زکواۃ میں ایک رسی کے لیے بھی جنگ کی۔ یہ اسلامی فلاحی مملکت پر دین کے اثرات کا آگاز تھا۔ پھر حضرت عمر اور پھر باقی دو خلفا کا دور ذریں ایا۔ ان تماما ادوار میں مملکت اسلامیہ نے اسلامی فلاحی مملکت کا وجود براقرار رکھا۔

بعد میں انے والے حکمرانوں کی وجہ سے اہستہ آہستہ دین اسلام حکومت سے نکلتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ یا یوں کہہ لیں کہ حکمران ۔ ۔ ۔ اسلام کو حکومت میں سے بے دخل کرتے چلے گئے۔

چناچہ میں یہ پھر کہوں گا کہ اسلام کا اور سیکولرازم کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں۔ سیکولرازم حکومت کو دین سے جُدا کرتا ہے۔ جبکہ اسلام کا مطالبہ ہی یہی ہے ہم سے کہ "اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاو" جس کو اقبال نے کہا تھا کہ "جو ہو دین جدا سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"۔ سیکولرازم مذہب کو انسان کا ذاتی مسئلہ قرار دیتا ہے جبکہ اسلام کا مطالبہ ہے کہ " تم کو دین میں جو چیز اچھی لگتی ہے اسکو تو پکڑ لیتے ہو اور جو ناگوار گزرتی ہے اس کو چھوڑ دیتے ہو"۔ سیکولر حکومت مذہب پر پابندی لگاتی ہے جبکہ اسلامی حکومت دین کی پابندی کرواتی ہے۔ سیکولر حکومت مذہب کے علاوہ ہر بُرے کام کی اجتماعی اجازت دیتی ہے لیکن اسلامی حکومت دین کے علاوہ ہر غیر اخلاقی کام سے بزور قوت روک دیتی ہے۔ سیکولر نظام زندگی میں ۔ ۔ ۔ انسان کا مقصد حیات کمانا اور کھانا اور جینا ہوتا ہے۔ جبکہ اسلامی نظام زندگی میں مسلمان کا مقصد حیات انسانی حیات کو تباہی سے بچانا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے بے شک اس کو کھانے کو کچھ نہ ملے

میں اپنی تائید میں بے شمار قرانی آیات بھی پیش کر سکتا تھا ۔ ۔ ۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں دکھاوا کروں گا۔ ورنہ قران تو آج نہایت مظلوم کتاب بن گئی ہے ۔ کاپی پیسٹ کرنے نے اس پر ظلم کر مزید بڑھا دیا ہے۔ راجہ بھائی آپکی پوسٹ پر تبصرہ میں بعد میں کروں گا۔

دعاؤں کا محتاج ہوں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (30-09-09)
جواب

Tags
قدم, چین, مکمل, موت, مشعل, معاشرہ, ایمان, انسان, امیر, اسلام, توحید, تحریر, جواب, حال, دل, زندگی, سال, سائنس, ظالم, عقل, غریب, صفحہ, صحیح, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger