واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تعلیمی نظام کی قباحتیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-02-11, 02:15 PM   #1
تعلیمی نظام کی قباحتیں
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 12-02-11, 02:15 PM

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

انسان کی تخلیق سے لیکر اب تک تقریباً پوری انسانیت کا اس بات پر کامل یقین ہے کہ زمین، آسمان، سورج، چاند اور ستاروں سے مزین اس پوری کائنات کا جس میں پہاڑ صحرا اور سمندر بھی ہیں‘ کوئی خالق ضرور ہے‘جس نے نہ صرف اس سارے نظام کو کُن کہہ کر پیدا کر دکھایا بلکہ انسانوں، چرندوں ،پرندوں اور حیوانوں کیلئے ایک ایسا نظام بھی وضع کیا جس میں یہ سب حیات ہیں اور نسل در نسل ان کا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے جس سے زندگی قائم و دائم ہے اس سارے نظام کو وضع کرناقدرت کی صناعی کا ایک بہت ہی بڑا شاہکار تو ہے ہی لیکن اس کو چلانا اس سے بھی زیادہ حیران کن عمل ہے جس کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی نے ممکن بنایا ہے۔

قرآن کریم کے ستائیسویں پارے میں اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ آپ کو نظر نہیں آتا کہ ہم نے اونٹ کی تخلیق کیسے کی‘‘۔قارئین سچی بات تو یہ ہے کہ ہم اونٹ کو غور سے دیکھیں یا کسی چیونٹی کو۔ہر تخلیق میں خالق حقیقی کی ذات کا جلوہ نظر آتا ہے۔جب ہم اس پر یقین کرلیتے ہیں کہ کائنات کا خالق ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں حضرت آدمؑ پہلے نبی اور حضرت محمدؐ آخری رسول ہیں یہ دنیا فانی ہے اور ہر انسان کو روزِ آخرت اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا تو دراصل ہم روحانیت کے پاکیزہ عمل سے دنیاوی کاموں کی طہارت کر رہے ہوتے ہیں دین اور دنیا کے اسی خوبصورت سیلاب کا دوسرا نام مذہب ہے جسے ہم مذہب اسلام کہتے ہیں یعنی امن اور سلامتی کا مذہب۔ یہ مذہب پوری کائنات کیلئے ہے۔

مذہب اسلام کی کوئی جغرافیائی حدودوقیود نہیں یہ سیکولر سوچ سے بھی متصادم ہے اور دوسرے مذاہب کو آزادی دیتا ہے۔ اسلام ، مذہب اسی وقت وجود میں آگیا تھا‘ جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور یہ مذہب تا ابد انسانیت کیلئے مشعلِ راہ رہیگا اسلام میں روحانی اتھارٹی صرف اللہ کے انبیاء ؑکے پاس رہی ہے اس کے علاوہ قرآنِ کریم آنکھیں بند کرکے کسی اور بشر کی تقلید یا عقیدت یعنیBlind faith سے روکتا ہے اس پسِ منظر میں ہمارے کئی نیم حکیم علماء کے جذباتی فتووں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔

اسلامی فلاسفی کو ماننے والے لوگوں کیلئے اپنی زندگی گذارنے کیلئے جو نظام اپنانا ضروری ہے اس کو شریعت کہتے ہیں جس کے تین پہلو ہیں۔ایک حقوق اللہ دوسرا حقوق العباد اور تیسرا شریعت کے اپنے قوانین۔ بدقسمتی سے اللہ کے نام پر حاصل کئے جانیوالے ہمارے ملک پاکستان کے وجود میں آجانے کے بعد سے لیکر آج تک شریعت کو اپنانا تو دور کی بات ہے ہم موجودہ نظامِ تعلیم کو اسلامی اصولوں کے ساتھ مربوط کرنے سے بھی قاصرہیں۔ جماعت اسلامی کے بانی مولاناابو الاعلی مودودی ایک عالمی سطح کے محقق، عالم، دانشور اور اسلامی سکالر مانے جاتے ہیں۔ وہ 1941 سے 1972 تک جماعت اسلامی کے امیر رہے اور اسلام پر تقریباً 100سے زیادہ کتابیں لکھیں۔
انکی بعض کتابیں مصر اور دوسرے عرب ممالک میں تعلیم کے نصاب میں شامل ہیں۔ اُنکی کتابوں کا تقریباً چالیس زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے جس سے پوری دنیا مستفید ہورہی ہے اور ہوتی رہیگی لیکن بدقسمتی سے ہم نے پاکستان میں مودودی صاحب کی تحقیق کی روشنی میں اپنے سیکولر نظام تعلیم کو اسلامی نظامِ تعلیم میں ڈھالنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی۔ 25 فروری 1952 کو مولانا ابو الاعلی مودودی نے لاہور کے برکت علی محمڈن ہال میں اسلامی نظام تعلیم کے خدوخال پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں حیران ہوں کہ پاکستان بنے ہوئے بھی چار سال گذر چکے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے تعلیمی نظام کو اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منور نہیں کرپائے۔ آج تریسٹھ سال گذرنے کے بعد بھی وہی حال دیکھ کر مولانا کی روح بھی تڑپتی ہوگی۔اس وقت بھی پاکستان میں دو نظامِ تعلیم موجود ہیں ایک سیکولر نظام تعلیم ہے تو دوسرا خالصتاً روائتی مذہبی جس کا سارا انحصار اسلامی مدرسوں پر ہے سیکولر نظام سے ہمیں تاریخ، جغرافیہ، معاشیات، سائنس اور دوسرے علوم میں تعلیم یافتہ سکالر مل جاتے ہیں جو ملک کا نظام چلاتے ہیں‘ ان میں سے بہت سارے اسلامی تعلیم کی اے بی سی سے بھی آشنا نہیں ہوتے بلکہ کچھ نے تو قرآنِ کریم بھی نہیں پڑھا ہوتا لیکن بدقسمتی سے حکومتی مشینری کو چلانے اور ملک کی تعلیم سمیت ساری بنیادی پالیسیوں کے یہی لوگ خالق ہوتے ہیں دوسری طرف بہت سے دینی مدرسوں میں بہترین اسلامی تعلیم کے باوجود دوسرے دنیاوی اہم ترین مضامین مثلاً مختلف زبانیں فلاسفی، معاشیات، لاجک لٹریچر، جغرافیہ، سائنس اور تاریخ کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی اس لئے موجودہ مدرسوں کا نظامِ تعلیم اتنا ہی ناکافی اور نامکمل ہے جتنا موجودہ سیکولر تعلیمی نظام اسلامی تعلیمات کی مہک کے بغیر بے معنی ہے ۔

کسی بھی تعلیمی نظام کو اپنانے سے پہلے ہمارے ذہن میں چند واضح مقاصد ہونے چاہئیں جو ہم تعلیم سے حاصل کرناچاہتے ہیں اب آپ سوچیں کہ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف دنیاوی تعلیم کے سکالر بناناچاہتے ہیں یا اسکے ساتھ ساتھ ہم ان کو پختہ عقیدے اور اعلیٰ کردار والے اچھے انسان اور مسلمان بھی بناناچاہتے ہیں‘ جو نظام ہمارے لئے انگریز نے وضع کیا ہے وہ ہمارے نظام تعلیم کو ہماری مذہبی سوچ اور فلاسفی سے ہم آہنگ کیوں کریگا اس لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم سیکولر نظام تعلیم اور اسلامی تعلیمات کو آپس میں ہم آہنگ کرکے ان میں مطلوبہ ربط پیدا کریں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کوئی بھی نام نہاد روشن خیال یہ نہیں کہے گا کہ ٹی وی کے قابل اعتراض اشتہارات نیم برہنہ فیشن شوز، جوابازی، شراب نوشی اور دوسری بد کاریاں لوگوں کے ذاتی فعل ہیں اس لئے ان میں ملوث اگر ہمارے اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان اہم ترین شخصیات بھی کیوں نہ ہوں اُن کو برا کہاجائے نہ ان پر انگلی اٹھائی جائے۔

قارئین! چھوٹے سے کالم میں سب کچھ سمونا مشکل ہوتا ہے اس لئے اپنے کالم کے آخری حصے میں یہ عرض کرونگا کہ موجودہ نظامِ تعلیم کو جدید اسلامی نظامِ تعلیم بنانے کیلئے ہمیں کونسے مختلف اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ موجودہ سیکولر نظام کے نصاب کو سارے ملک کیلئے یکساں بنانا ضروری ہے جس میں سائنس اور سوشل سائنس دونوں کے سارے مضامین پر زور دیناچاہئے۔جہاں تک اس میں اسلامی رنگ بھرنے کا تعلق ہے تو اس کیلئے مندرجہ ذیل پہلوئوں کو اجاگر کرناہوگا۔

(1) پرائمری تعلیم میں جو کچھ روائتی اور مذہبی مضامین پہلے سے موجود ہیں وہ بہت اچھے ہیں اس کیساتھ ساتھ تمام سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں اور اردو یا انگریزی میڈیم سکولوں کے پرائمری کے نصاب میں اسلامی اخلاقیات پر زور دیا جائے۔ دوسری زبانوں کیساتھ ساتھ قرآن کی عربی زبان بھی پڑھائی جائے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کو بتایا جائے کہ اس کائنات کا خالق اللہ کی ذات ہے۔اللہ اور اسکے بندوں کے حقوق کیا ہیں۔استاد کا مقام کیا ہے اور والدین کا احترا م کیوں ضروری ہے۔لباس گفتگو اور عمل میں اعتدال کیوں بہتر ہوگا پڑوسی سے کیسا سلوک روا رکھناچاہئے اسکے حقوق کیا ہیں اولاد کو نیک اور باعمل مسلمان بنانے کیلئے والدین کو مذہب کیا تلقین کرتا ہے۔غریبوں کی مالی امداد کا تصور کیا ہے نماز پڑھنا اور روزے رکھنا کیوں ضروری ہے کیا تعلیم کیساتھ تربیت بھی ہونی چاہئے یا نہیں۔ کیا صرف علم حاصل کرنا کافی ہے یا اچھا انسان بننا ضروری ہے۔معاشرے کیلئے اچھے انسان کیوں سود مند ہوتے ہیں۔ اسلامک عقیدے کے بنیادی اصول کیا ہیں انسان کا اصلی زیور مال و دولت کی بجائے اعلیٰ کردار کیوں کہا جاتا ہے۔اعلیٰ اخلاق والا با اصول عام انسان بہت مالدار لیکن بدکردار حاکم پر کیوں فوقیت رکھتا ہے اور آخر میں اسلامی شریعت کے بنیادی اصول کیا ہیں؟ اور اُن میں اخلاقی اقدار کی کیا حیثیت ہے۔

(2) سکینڈری لیول کے طلبا کو ایک تو عرب زبان میں مہارت حاصل کرنی چاہئے اور دوسرا مولانا ابوالاعلی مودودی کی سفارشات کیمطابق کم از کم قرآن کریم کے پہلے دو پاروں کو معنوں اور تفسیر سے پڑھایا جائے۔ اسلامی اقدار اور اُنکے عملی زندگی پر اثرات کی وضاحت کی جائے۔(3) اعلیٰ تعلیم کے سیکولر نصاب کیساتھ ساتھ قرآن کریم کا معنوں کیساتھ مطالعہ اور تشریح احادیث کا گہرا مطالعہ اور اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں سے آشنائی پر زور دیاجائے۔

(4) اسلامی قانون اور قرآن کریم، سنتِ رسولؐ، احادیث اور شریعت کے مختلف پہلوئوں پر ریسرچ کروائی جائے۔ نوجوان نسل کے افراد اسلامی تعلیمات کے مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی کریں اور دین کے سنہری اصولوں کی روشنی میں عام زندگی میں مستفید ہونے کیلئے پوری قوم کو راہ دکھائیں۔
قارئین! ہمارے موجودہ تعلیمی نظام کو اسلامی تعلیمات کے سنہری اصولوں کی ’’مونٹری‘‘ لگانے سے یونیورسٹیوں،کالجوں، سکولوں اور مدرسوں کا کلچر بالکل تبدیل کیاجاسکتا ہے۔سیکولر سکولوں کو اسلامی تعلیمات سے منور کرنے کے بعد اور دینی مدرسوں میں بھی دوسرے مضامین شامل کر لینے سے ہمارے نظامِ تعلیم میں یکسوئی آجائیگی۔ مساجد کے امام ہر لحاظ سے خواندہ اور موزوں لوگ ہونگے۔ اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فوقیت ملے گی ، قرآن و سنت کی عظیم تر فلاسفی سے ہماری نوجوان نسل فائدہ اٹھا سکے گی جس سے اسلام خوشحال ہوگا۔اللہ کرے ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائیں (آمین)۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,559
شکریہ: 25,208
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 210
Reply With Quote
جواب

Tags
faith, کوشش, کلچر, کتابوں, پاکستان, قرآن, نماز, نظر, موجودہ, ممکن, اللہ, امیر, اردو, اسلام, اعلیٰ, بہترین, بچوں, تعلیم, حال, حضرت محمدؐ, زندگی, سال, سائنس, صحرا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرورق سے متعلق چند باتیں حیدر تجاویز اور شکایات 18 10-12-10 03:00 PM
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ راجہ اکرام شعر و شاعری 15 29-10-10 04:06 PM
سرکاری اسکولوں کاتعلیمی معیار اب گرتا جا رہا ہے، وزیر تعلیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:24 AM
سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق پالیسی یکسر تبدیل،پروموشن بورڈز بڑی حد تک غیر متعلق کردیئے گئے,,,,رپور ٹ:… انصار عباسی خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:57 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:20 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger