واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تكافل انشورنس كا جائز اور حلال متبادل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-06-11, 12:49 AM   #1
تكافل انشورنس كا جائز اور حلال متبادل
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 21-06-11, 12:49 AM

انسان كي زندگي اور اس كے اثاثہ جات چونكہ ہر وقت خطرات سے دوچار رہتے ہيں اس لئے ہر دور ميں اس بات كي ضرورت سمجھي جاتي رہي كہ زندگي ميں پيش آنے والے ان ممكنہ خطرات سے كيسے نبرد آزما ہوا جائے، اگر كوئي حادث ہو جائے جس كے نتيجے ميں موت يا معذوري لاحق ہو جائے، مكان ميں آگ لگ جائے جہاز پاني ميں ڈوب كر غرق ہو جائے تو زندگي كے سارے كام دھرے كے دھرے رہ جائيں ۔ ان خطرات سے نبٹنے كے ليے مختلف ادوار ميں مختلف طور طريقے رائج ہوتے رہے۔۔۔رسك مينج كرنا اور مالي اثرات كو ختم كرنا يا كم كرنے كا تصور نيا نہيں ہے، شريعت اسلاميہ نے بھي اس كو تسليم كيا ہے بشرطيكہ اس كو جائز طريقہ كار سے كيا جائز۔

موجودہ دور ميں ذرائع سفر، كام كاج اور جديد ايجادات ، تعميرات نے جہاں انسان كو بہت سي سہوليات مہيا كي ہيں تو ساتھ ہي اس كي زندگي كو خطرات بھي ماضي كي بنسبت زيادہ لاحق كر ديے ہيں۔۔۔ رہي سہي كسر اسلحہ اور جنگي ايجادات، بد امني كے حالات ، لوٹ كھسوٹ چوري ڈكيتيوں جنگي جنون نے پوري كر دي ہے۔۔۔ اس طرح آج كے انسان كے جان و مال كو ماضي كے انسان كے جان و مال سے زيادہ خطرات لاحق ہو چكے ہيں۔۔۔ جس پر لمبي بحث كي ضرورت نہيں ہے۔ حقيقت ہر شخص كے سامنے ہے۔

اس ليے ضرورت اس بات كي تھي كہ آج كے انسان كے جان و مال كو لاحق خطرات سے پيش آنے والے معاشي اثرات كو ختم كرنے يا كم كرنے كے اقدامات كيے جائيں۔۔۔ چنانچہ اس ضرورت كو پورا كرنے كے ليے انشورنس كے نام سے پوري دنيا ميں ايك نظام قائم ہو چلا۔۔ اور ديكھتے ہي ديكھتے يہ پوري آب و تاب كے ساتھ ايك مضبوط سسٹم كے طور پر دنيا كے سامنے كھڑا ہو گيا۔۔۔۔ اس انشورنس سسٹم نے انسان كے جان و مال كو لاحق معاشي خطرات كو ختم كرنے يا كم كرنے كي ضرورت كو تو كسي طور پر پورا كر ديا۔۔۔ ليكن ايك مسلمان كے ليے اس سسٹم ميں بہت بڑي خامي يہ باقي رہ گئي كہ انشورنس كے اس رسك منيجمنٹ كے طريقے ميں سود، جوا اور غرر كے پائے جانے كي وجہ سے يہ ناجائز اور حرام ہو گيا۔ جس كي وجہ سے كسي بھي مسلمان كے ليے انشونس سسٹم ميں شامل ہونا جائز نہيں ٹھہرتا تھا۔ اسي ليے ہميشہ سے اسلامي سكالرز اور علماء نے انشورنس كو ناجائز ٹھہرايا اور عوام الناس كو اس سے دور رہنے كا ہي مشورہ اور فتوي ديا۔۔

ليكن اس كے ساتھ ہميشہ سے يہ ضرورت بہر حال رہي كہ اگر انشورنس كامروجہ طريقہ كار ناجائز ہے تو اس كا جائز طريقہ كار كيا ہو گا۔۔۔ يہ وہ طويل بحث اور تحقيق ہے جس پر بہت كچھ لكھا اور كہا جا چكا ہے۔۔۔۔۔في الحال اس مختصر مضمون ميں اس كا تذكرہ مشكل ہے۔۔۔۔ مخصر خلاصہ عرض كر ديتا ہوں۔

تكافل كي تاريخ:
تكافل جس تصور پر مبني ہے۔ يعني باہمي امداد ، تعاون اور تناصر ، يہ تصور زمانہ اسلام سے بھي قبل لوگوں ميں پايا جاتا تھا، مختلف قبائلي نظام ميں امداد باہمي كے مختلف طريقے رائج تھے اور جب اسلام طلوع ہوا تو اسلام نے بھي كافي حد تك ان طريقوں كو بر قرار ركھا جس كي دليل ميثاق مدينہ ہے۔۔۔اس كے بعد بھي اس طرح معاہدے مختلف خلفاء اسلام فرماتے رہے۔ ۔۔ اگر وہ تكافل كے نام سے نہيں تھے ليكن تكافل كي روح ميں موجود تھي۔

بعد ميں رسك منيجمنٹ كے پيش نظر كمرشل طريقے رائج ہو گے اور اس طريقے سے مروجہ انشورنس كا تصور وجود ميں آ گيا اور اس نے باقاعدہ ايك بزنس كي شكل اختيار كر لي۔۔۔ ليكن چونكہ امت كي اكثريت نے مروجہ انشورنس كو شرعي نقطہ نظر سے ناجائز كہا اور مسلمانوں كو اس سے منع كيا۔ 1970 ميں مسلمانوں نے مروجہ انشورنس كے جائز اور حلال متبادل كے دريافت كرنے كے بارے ميں غور خوض شروع كيا۔۔۔ اور آخر كار 1979 ميں سوڈان اور بحرين ميں پہلي تكافل كمپني وجود ميں آئي۔

اس وقت ايك اندازے كے مطابق 84 سے زيادہ تكافل كمپنياں 25 سے زيادہ ممالك ميں كام كر رہي ہيں۔۔۔۔ بہر حال تكافل كے ارتقاء كي بحث ميں جانے كے بجائے نفس مضمون پر زيادہ توجہ دينا مفيد رہے گا۔۔۔۔۔ خير اس تحقيق كے نتيجہ ميں مروجہ انشورنس كا جائز اور حلال متبادل سسٹم تكافل كے نام سے متعارف ہوا۔۔

تكافل كا مفہوم:
تكافل عربي زبان كا لفظ ہے جو كفالت سے نكلا ہے ۔ كفالت ضمانت اور ديكھ بھأل كو كہتے ہيں۔ جب يہ بات تفاعل ميں گيا تو اس ميں شركت معني آ گے اب تكافل كے معني ہوئے باہم ايك دوسرے كا ضامن ببنا يا باہم ايك دوسرے كي ديكھ بھال كرنا۔

تكافل كي بنياد بھائي چارہ ، امداد باہمي اور تبرع كے نظريہ پر ہے، جو شريعت كي نظر ميبں پسنديدہ ہے دور جديد ميں تكافل كو روايتي انشورنس كے متبادل اسلامي نظام كے طور پر استعمال كيا جا رہا ہے۔ اس نظام ميں تمام شركاء باہم رسك شيئر كرتے ہيں اور اس طرح شركاء باہمي امداد و بھٗائي چارہ كے اس طريقہ سے مقررہ اصول و ضوابط كے تحت ممكنہ مالي اثرات سے محفوظ ہو جاتے ہيں۔ روايتي انشورنس سسٹم كے مقابلہ ميں تكافل كا نظام ايك عقد تبرع ہے كہ جس ميں شركاء آپس ميں ان معاشي خطرات كو تقسيم كرتے ہيں جو ان كي جان يا مال كو لاحق ہوتے ہيں۔ تكافل نظام كے عقد تبرع كے نتيجے ميں بالواسطہ يا بلا واسطہ اس ميں كسي قسم كے سود غرر اور قمار جيسي خرابياں نہيں پائي جاتيں جو مروجہ انشورنس سسٹم ميں پائي جاتي ہيں۔

تكافل كا عام ماڈل
شروع ميں چند حصہ دار مل كر ايك كمپني بناتے ہيں جسے تكافل كمپني يا اسلامي انشورنس كمپني كہا جاتا ہے۔ جس كي مختصر وضاحت يہ ہے كہ

(1)۔۔۔ كمپني ايك وقف پول بناتي ہے اور جو لوگ تكافل كي سہولت لينے كے خواہشمند ہوتے ہيں ان سے كہاجاتا ہے كہ وہ اس ميں چندہ يعني كنٹربيوشن ديں، جس كے قواعد مقرر ہوں گے وہ ان قواعد كے مطابق چندہ ديتے ہيں اور وقف پول حسب قواعد ان كے نقصانات كي تلافي كرتا ہے۔۔۔ اس مقصد كے ليے كمپني باقاعدہ ماركيٹنل كرتي ہے۔

(2)۔۔۔ كمپني اس وقف پول كي مالك نہيں ہوتي ۔ كمپني كا كردار صرف وقف پول كو چلانا ہے پول كے اموال اور منافع كا حساب ركھتي ہے كمپني كھاتہ اور اس وقف پول كا كھاتہ بالكل الگ الگ ہوتا ہے كمپني كے لئے جائز ہے كہ وہ اپني خدمات كے عوض اس پوس سے فيس وصول كرے جسے وكالہ فيس كہتے ہيں۔ ۔۔

(3)۔۔۔ كمپني پول ميں جمع شدہ رقم كو سرمايہ كاري ميں لگاتي ہے جس ميں كمپني كي حيثيت بعض صورتوں ميں مضارب كي اور پول كي حيثيت رب المال كي ہوتي ہے اور بعض صورتوں ميں پول موكل اور كمپني كي حيثيت وكيل كي ہوتي ہے اور بعض صورتوں ميں وكالہ اور مضاربہ دونوں ہوتے ہيں۔

(4)۔۔۔ شركاء وقت كے ساتھ ساتھ بڑھ سكتے ہيں، نيز مضاربہ ميں منافع بھي حاصل ہو سكتا ہے جس كي وجہ سے پول كا سرمايہ بڑھے گا۔ پھر مختلف خرچوں اور شركاء كو رقم دينے كے بعد اگر كچھ ربچا تو اس كو فائض يا قدر زائد ۔۔۔ سر پلس۔۔۔ كہتے ہيں جس ميں كمپني كو مختلف قسم كے اختيارات حاصل ہوتے ہيں كہ كچھ رقم مختلف ريز روڈ فنڈز ميں ڈالے، كچھ خيرات كرے، كچھ شركاء ميں تقسيم كرے اور كچھ پول ميں واپس ڈال دے۔

(5)۔۔۔ ہر تكافل كمپني كا ايك شرعيہ بورڈ ہوتا ہے جو اسلامي علوم و فنون اور معيشت پر دسترس ركھنے والے علماء پر مشتمل ہوتا ہے جن كي كم از كم تعداد تين ہونا ضروري ہے۔ شرعيہ بورڈ كي ذمہ داري ہوتي ہے كہ وہ اس بات كو يقين بنائے كہ تكافل كمپني ميں كوئي بھي مالي لين دين خلاف شرع نہ ہونے پائے۔ اس ليے تمام مالي لين دين كے ليے شريعہ بورڈ كي منظوري ضروري ہوتي ہے۔

تكافل كي اقساممروجہ انشورنس كي طرح تكافل كي بھي دو قسميں ہے۔
(1)۔۔۔ جنرل تكافل۔
اس تكافل ميں اثاثہ جات يعني جہا۔ موٹر اور مكان وغيرہ كے ممكنہ خطرات سے منٹنے كے لئے تكافل كي ركنيت فراہم كي جاتي ہے اگر اس اثاثہ كو جس كے لئے تكافل كي ركنيت حاصل كي گئي ہے كوئي حادثہ لاحق ہو جائے تو اس نقصان كي تلافي۔۔۔وقف فنڈ۔۔ سے كي جاتي ہے۔ ۔

جنرل تكافل ميں ايك ہي فنڈ ہوتا ہے جيسے پارٹي سپنٹ تكافل فنڈ كہتے ہيں۔ يہ فنڈ وقف ماڈل ميں وقف ہوتا ہے يعني نہ كمپني كي ملكيت ميں ہوتا ہے نہ ممبر كي ملكيت ميں ہوتا ہے ۔ تكافل كمقني اس كو منظم كرتي ہے اور اكو شرعي كاروبار ميں لگاتي ہے جس كي مختلف شرعي شكليں اور صورتيں ہوتي ہيں۔ اس ميں فنڈ رب المال ( انوسٹر) ہوتا ہے اور كمپني مضارب ہوتي ہے۔ نفع كا خاص تناسب طے ہوتا ہے اس تناسب سے كمپني كو اپنا حصہ ملتا ہے۔ اور باقي نفع وقف فنڈ ميں جاتا ہے اور مملوك فنڈ يا مملوك وقف بن جاتا ہے۔ اسي فنڈ سے شركاء يعني ممبرز كو حسب قواعد مقررہ كور ملتا ہے ۔
جنرل تكافل كي بھي مختلف قسم كي پاليساں ہوتي ہيں ان پاليسيوں سے متعلقہ كاغذات مختلف دفعات پر مشتمل ہوتے ہيں جي كي عبادت شرعي اصول كے مطابق ہوتي ہے۔ نيز تمام معاملات شريعہ بورڈ كي نگراني ميں ہو رہے ہوتے ہيں۔

(2)۔۔۔ فيملي تكافل۔۔ يا لائف تكافل
لائف انشورنس كو تكافل سسٹم ميں فيملي كے نام سے جانا جاتا ہے۔ پھر اس فيملي تكافل كي دو بڑي قسميں ہيں۔
گروپ فيملي تكافل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انفرادي فيملي تكافل
گروپ تكافل ميں كسي ادارے كے ملازمين كو كورڈ كيا جاتا ہے۔۔۔۔
انفرادي فيملي تكافل:
اس ميں ہر فرد خود كو كورڈ كرواتا ہے۔ اس ميں اس كے ادارے كا عمل دخل نہيں ہوتا۔ اس فيملي تكافل ميں انساني زندگي كے ممكنہ خطرات سے نبٹنے كے لئے تكافل ركنيت فراہم كي جاتي ہے۔ اس ميں شركاء كو تكافل كے تحفظ كے ساتھ ساتھ حلال سرمايہ كاري كي سہولت بھي فراہم كي جاتي ہے۔ اس ميں وقف فنڈ كے علاوہ ايك اور فنڈ ہوتا ہے جس كا نام پي ائي اے۔ ہے يہ شريك تكافل كا سرمايہ كاري اكاونٹ ہوتا ہے جبكہ جنرل تكافل ميں شريك تكافل كا پي آئي اے اكاونٹ نہيں ہوتا۔

تكافل كي مرحلہ وار تفصيل
(1)۔۔۔ شريك تكافل كي جانب سے دي گئي رقم پہلے اس كے پي آئي اے اكاونٹ ميں آتي ہے جہاں پر اس كي سرمايہ كاري اسلامك ميچل فنڈ كي طرز پر كي جاتي ہے اور اس رقم سے شركاء كے ليے فنڈ ميں يونٹس خريد ليے جاتے ہيں۔

(2)۔۔۔ پھر وہاں سے ايك متعين طريقہ كار كے مطابق مخصوص رقم پي ٹي ايف ( وقف فنڈ) ميں رقم آتي رہتي ہے۔
(3)۔۔۔ وقف پول ميں آنے والي رقم محض تبرع كي بنياد پر ہوتي ہے۔ اور تبرع كي بنياد پر يہ رقم شريك تكافل كي عمر، صحت، پيشہ اور ركنيت پلان كے مطابق مختلف ہو سكتي ہے۔

(4)۔۔۔پي آئي اے ( شريك تكافل كا انوسمنٹ اكاونٹ) ميں موجود رقم سے اخراجات نكالنے كے بعد كمقني بطور وكيل اس رقم كي شريعہ بورڈ كي نگراني ميں سرمايہ كاري كرتي ہے۔

(5)۔۔۔كمپني سرمايہ كاري كے لئے اپني وكالہ فيس وصول كرتي ہے۔

(6)۔۔۔ سرمايہ كاري كے نتيجے ميں حاصل شدہ منافع شريك تكافل كو فراہم كيا جاتا ہے۔۔۔ كمپني اس منافع كي حقدار نہيں ہوتي۔

(7)۔۔۔ اگر شريك تكافل كي زندگي كو كبھي كوئي حادثہ لاحق ہو جائے تو وقف فنڈ سے طے شدہ شراط كے مطابق اس كي تلافي كي جاتي ہے۔

(۔۔۔ خلاصہ يہ ہے كہ شريك تكافل كي جانب سے ادا كردہ زر تعاون دو مقاصدميں تقسيم ہوتا ہے۔ رقم كا كچھ حصہ بطور تبرع وقف فنڈ ميں چلا جاتا ہے اور باقي ماندہ حصہ سرمايہ كاري ميں لگايا جاتا ہے۔

تكافل اور انشورنس ميں چند بنيادي فرق
(1)۔۔۔۔ تكافل محض عقد تبرع ہے جبكہ مروجہ انشورنس عقد معاوضہ ہے۔ اور دونوں كے احكامات بالكل الگ الگ ہيں ۔

(2)۔۔۔۔ تكافل ميں سود، جوا اور غرر جيسے حرام معاملات نہيں پائے جاتے ۔۔۔۔ جبكہ انشورنس ميں يہ تمام امور پائے جاتے ہيں۔

(3)۔۔۔۔تكافل ميں فائض ميں سے ممبرز كو بھي حصہ مل سكتا ہے جبكہ انشورنس ميں سارا فائض كمپني كي ملكيت ہوتا ہے۔

(4)۔۔۔تكافل ميں دي جانے والي رقم فنڈ كي ملكيت ميں جاتي ہے، كمپني اس كي مالك نہيں ہوتي جبكہ انشورنس ميں اس رقم كي مالك كمپني ہوتي ہے۔

(5)۔۔۔۔ تكافل ميں ان جمع شدہ رقوم پر حاصل شدہ نفع فنڈ ميں جاتا ہے كمپني اس كي مالك نہيں ہوتي جبكہ انشورنس ميں اس نفع كي مالك بھي كمپني ہوتي ہے۔

(6)۔۔۔۔ تكافل ميں كمپني كي حيثيت وكيل كي ہے۔ جبكہ انشورنس ميں كمپني اصيل اور مالك ہوتي ہے۔

(7)۔۔۔۔ تكافل كي نگراني باقاعدہ شرعيہ بورڈ كرتا ہے۔ اور اس ميں يہ تاكيد كي جاتي ہے كہ فنڈ كو صرف ان معاملات ميں لگايا جائے۔ جو شريعت كے مطابق ہوں۔ فنڈ كو نا جائز كاروبار ميں ہر گزر لگانا جائز نہيں۔ چنانچہ تكافل رولز 2005 كي رو سے ہر كمپني كيلئے شرعيہ بورڈ ضروري ہے جس ميں كم سے كم تين ممبرز ہوں۔۔۔۔۔ جبكہ انشورنس كمپني ميں نہ كوئي شريعہ بورڈ ہوتا ہے اور نہ ہي ان ميں لگائے جانے والے سرمايے كے حوالے سے اسلام كے اصول تجارت كو مد نظر ركھا جاتا ہے۔۔۔

پاكستان ميں تكافل كمپنياں
پاك قطر فيملي تكافل لميٹڈ
پاك قطر جنرل تكافل لميٹڈ
پاك كويت تكافل كمپني لميٹڈ۔
تكافل پاكستان لميٹڈ
داؤد تكافل


نوٹ: ميں پاك قطر فيملي تكافل ميں جاب كر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس حوالے سے كسي بہن بھائي كو كسي بھي قسم كي معلومات كي ضرورت ہو مجھے يہ معلومات فراہم كرتے ہوئے خوشي محسوس ہو گي۔ نيز آپ كي آراء، تجاويز اور تبصروں كا شدت سے‌انتظار ہے۔۔۔۔

شكريہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 22-06-11 at 02:38 PM..

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1446
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-06-11), فیصل ناصر (21-06-11), کنعان (22-06-11), مرزا عامر (23-06-11), ابوسعد (26-06-11), احمد نذیر (21-06-11), احمد بلال (21-06-11), ارشد کمبوہ (21-06-11), حیدر (21-06-11), راجہ اکرام (21-06-11)
پرانا 21-06-11, 11:58 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,561
کمائي: 315,043
شکریہ: 25,209
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
بہت شکریہ شمشاد بھائی کہ آپ نے تکال کے حوالے سے مضمون لگایا۔ پاک قطر والوں سے گفت و شنید رہتی ہے، میں ابھی تک مکمل مطمئن نہیں ہو سکا بعض چیزوں کے معاملے میں ۔

آپ کا مضمون مکمل پڑھ کر آپ سے گفت و شنید کرتا ہوں ۔
ویسے کوئی خصوصی پیکج بھی نظر میں رکھنا میرے لیے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-06-11), ابوسعد (26-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (21-06-11), شمشاد احمد (21-06-11)
پرانا 21-06-11, 12:07 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,352
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میں ابھی تک مکمل مطمئن نہیں ہو سکا بعض چیزوں کے معاملے میں ۔
جن چیزوں پر آپ مطمئن نہیں ہو سکے، انکو یہاں شئیر کریں۔
شاید ہم کو بھی کُچھ جاننے کا موقع ملے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), شمشاد احمد (21-06-11)
پرانا 21-06-11, 12:12 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,561
کمائي: 315,043
شکریہ: 25,209
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی حیدر بھائی
آج تو ایک بہت اہم پروگرام کروانا ہے اس میں مصروف ہوں ۔۔ رات 10 بجے تک
اس کے بعد شمشاد بھائی کے اس مضمون کو بالاستیعاب پڑھنے کے بعد ہی کچھ لکھ سکوں گا
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), شمشاد احمد (21-06-11)
پرانا 21-06-11, 10:16 PM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
بہت شکریہ شمشاد بھائی کہ آپ نے تکال کے حوالے سے مضمون لگایا۔ پاک قطر والوں سے گفت و شنید رہتی ہے، میں ابھی تک مکمل مطمئن نہیں ہو سکا بعض چیزوں کے معاملے میں ۔

آپ کا مضمون مکمل پڑھ کر آپ سے گفت و شنید کرتا ہوں ۔
ویسے کوئی خصوصی پیکج بھی نظر میں رکھنا میرے لیے
آپ كے اطمينان كے لئے ميں دعا گو ہوں۔۔۔۔۔۔۔ بہر حال جن امور پر آپ كے تحفظات ہيں۔۔۔۔ ضرورت بتائيے‌گا۔۔۔۔۔۔۔ باقي خصوصي پيكج تو ہر وقت حاضر ہيں۔۔۔۔‌پہلے آپ اطمينان كر ليں۔۔۔۔‌پھر پيكيجز پر بھي بات ہو جائے‌گي۔۔۔‌انشاء اللہ۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ابوسعد (26-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), راجہ اکرام (21-06-11)
پرانا 21-06-11, 10:37 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,167
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے بھی آجکل ڈر لگنے لگا ہے
ہوسکتا انشورنس کرنا ہی پڑ‌جائے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (22-06-11), مرزا عامر (23-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (22-06-11), شمشاد احمد (22-06-11)
پرانا 21-06-11, 10:43 PM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انشورنس نہيں بھائي تكافل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج كے دور ميں ويسے بھي يہ بہت ضروري ہو گياہے۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (21-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (22-06-11)
پرانا 21-06-11, 11:06 PM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,167
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی جی وہی تکافل

ذرا اس کی ڈیٹیل بتائیں نا کتنی قسط وغیرہ اور کیا میچورٹی ہے ؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (22-06-11)
پرانا 22-06-11, 12:29 AM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,561
کمائي: 315,043
شکریہ: 25,209
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
مکرمی شمشاد بھائی پہلے تو کچھ اصطلاحات کی تفصیل بتا دیں
عقد تبرع
عقد معاوضہ
مضاربہ
غرر
ذرا آسان انداز میں ان کی تعاریف اور اگر ان میں کچھ فرق ہے تو وہ بتا دیں ۔ تب تک میں باقی سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (22-06-11)
پرانا 22-06-11, 12:52 AM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
جی جی وہی تکافل

ذرا اس کی ڈیٹیل بتائیں نا کتنی قسط وغیرہ اور کیا میچورٹی ہے ؟
كسي بھي تكافل ممبر كے ليے تكافل پلان آفسر كرنے سے قبل ہميں چند بنيادي معلومات دركار ہوتي ہيں۔ ان بنيادي معلومات كي بنياد پر ديكھا جاتا ہے كہ اس متوقع شريك تكافل ممبر كي حقيقي ضرورت كيا ہے۔۔۔‌اور وہ اپنے موجودہ وسائل ميں سے‌اس كو كس حد تك پورا كر سكتاہے۔۔ اس ليے جب تك وہ بنيادي معلومات مجھے معلوم نہيں ہوں گي تو ميں آپ كے ليے بہتر پلان آفر نہيں كر پاؤں‌گا۔۔۔ان بنيادي معلومات كے فارم كے ليے ايك فارم متوقع شريك تكافل كو ديا جاتا ہے۔۔۔ بہر حال اس ميں سے چند بنيادي نوعيت كي معلومات ذيل ميں لكھ رہا ہوں۔۔۔ اگر آپ يہ معلومات مہيا كر ديں تو ميں ايك آپ كے ليے پلان آفسر كر سكتا ہوں۔

ہاں۔۔۔۔ ضروري نہيں‌كہ يہ معلومات آپ يہاں شيئر كريں۔۔۔ آپ پي ايم بھي كر سكتے ہيں۔۔۔۔ اور وہ شايد زيادہ بہتر ہو گا۔

نام:
تاريخ پيدائش
خاندان كے افراد۔ جو آپ كے زير كفالت ہيں۔۔ اگر بچے ہيں تو ان كي عمريں
سالانہ آمدني
آپ كي ماہانہ بچت
اس بچت ميں سے‌كتنے روپے آپ تكافل كي قسط جسے ہمارے ہاں زر تعاون كہا جاتا ہے دے سكتے ہيں۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-06-11), احمد بلال (22-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (22-06-11)
پرانا 22-06-11, 01:22 AM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
مکرمی شمشاد بھائی پہلے تو کچھ اصطلاحات کی تفصیل بتا دیں
عقد تبرع
عقد معاوضہ
مضاربہ
غرر
ذرا آسان انداز میں ان کی تعاریف اور اگر ان میں کچھ فرق ہے تو وہ بتا دیں ۔ تب تک میں باقی سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں
عقود عقد كي جمع ہے، اور معاوضات معاوضہ كي جمع ہے۔ معاوضہ عوض يعنيConsideration سے ماخوذ ہے جس كا معني ۔۔۔ بدل۔۔۔ كے ہيں۔
عقد معاوضہ عقود المعاوضات ان عقود يعني معاملات كو كہتے ہيں ، جن ميں كسي كو عين مال Corpus يا منفعت يعني Usufructكامالك بنايا جاتا ہے كسي عوض كے بدلہ ميں، خوہ وہ عوض مال ہو، يا كوئي اور چيز ہو۔

اس كا مطلب يہ ہے كہ دونوں طرف مال كا ہونا ضروري نہيں بلكہ منفعت بھي بدل بن سكتي ہے۔۔۔ يعني عقد معاوضہ ميں ايك شخص دوسرے شخص كو مال وغيرہ كے بدلہ ميں كسي مال يا مال كي منفعت كا مالك بناتا ہے۔ جيسا كہ خريد و فروخت اور اجارہ يعني كرايہ داري وغيرہ ميں‌ہوتا ہے۔۔ ان عقود معاوضہ ميں۔ خرود و فروخت، كرايہ داري، نكاح، رہن، صلح بالمال اور ہبہ بشرط العوض وغيرہ شامل ہيں۔

عقد تبرع۔۔ ان معاملات كو كہا جاتا ہے جن ميں كسي فرد كو كسي شي كا مفت مالك بناديا جاتا ہے۔۔۔ يعني عبد تبرع ميں ايك طرف سے چيز يا مال ہوتا ہے جس كا دوسرے شخص كو مالك بنايا جاتا ہے۔ ليكن اس كے مقابلہ ميں كوئي بدل نہيں لينا جاتا۔۔۔ عقد تبرع ميں۔۔ ہبہ۔ يعني گفٹ، صدقہ، عطيہ، وصيت، وقف عاريت وغيرہ شامل ہيں۔۔۔۔
تكافل سسٹم ميں چونكہ شريك تكافل كو پيش آنے والے حادثے يا نقصان ميں اس كا تعاون وقف فنڈ سے‌كيا جاتا ہے اس ليے يہ عقد تبرع كہلاتا ہے۔

مضاربہ: يہ ايك قسم كا كاروبار ہے، جس ميں دو فريق ہوتے ہيں ايك فريق سرمايہ فراہم كرتا ہے اور دوسرا فريق محنت كرتا ہے اور جو نفع ہوتا ہے وہ باہمي رضامندي سے‌طے شدہ تناسب سے‌تقسيم كرتے ہيں۔۔۔ جو فريق سرمايہ فراہم كرتا ہے اس كو اصطلاح ميں۔۔۔۔ رب المال۔۔۔۔ كہتے ہيں۔ جو فريق محنت كرتا ہے اس كو اصطلاح ميں۔۔۔۔۔ مضارب۔۔۔۔ كہتے ہيں۔ اور جو سرمايہ كاروبار ميں‌ديا گيا ہے اس كو اصطلاح ميں۔۔۔۔ رأس المال۔۔۔‌كہتے ہيں۔

غرر: غرر كي تفصيل كافي ہے۔۔‌مختصرا عرض كر ديتا ہوں كہ
غرر كے لغوي معني دھوكہ دھي غلط اميد دلانا اور خطر كے ہيں۔۔۔۔ اصلاحا فقہاء نے غرر كي تعريف يوںكي ہے‌كہ۔۔۔ غر اس خطر كو كہتے ہيں كہ جس ميں شك كي طرح وجود اور عدم برابر ہوں۔۔۔۔
يعني ہو سكتا ہے كہ وہ شئي حاصل ہو اور يہ بھي ہو سكتا ہے كہ وہ شئي حاصل نہ ہو۔۔۔
غرر كا حكم:
غرر كا حكم يہ ہے شريعت اسلاميہ ميں يہ حرام و ممنوع ہے۔۔۔۔ اور اس كے موثر ہونے كي بھي چند شراط ہيں۔۔۔۔ ميرا خيال ہے اس وقت ان شرائط كي بحث غير ضروري ہو جائے‌گي۔۔۔ اور شايد بات سمجھنے سمجھانے ميں مشكل بھي ہو جائے۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-06-11), ابوسعد (26-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (22-06-11), راجہ اکرام (22-06-11)
پرانا 22-06-11, 08:54 AM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,352
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شمشاد بھائی قسطوں میں ادائیگی ممکن ہوتی ہے یا محض یکمشت؟
اور کم سے کم پیکج کتنا ہے؟
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ابوسعد (26-06-11), احمد بلال (22-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), راجہ اکرام (22-06-11), شمشاد احمد (22-06-11)
پرانا 22-06-11, 12:33 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,689
کمائي: 31,853
شکریہ: 10,596
1,219 مراسلہ میں 3,224 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شمشاد بھائی مجھے تو یہ بھی انشورنس کی ہی ایک قسم لگی ہے۔ نام بدل کے۔ کچھ سوالات کر رہا ہوں‌شاید میری موٹی عقل میں‌آ جائیں۔
1 کیا اسلامی بینک،میزان بینک وغیرہ بھی اسی طرح کام نہیں کر رہے۔ اپکے سرمائے کو کسی بزنس میں انوسٹ‌ کرتے ہیں‌اور آپ اس پرافٹ‌میں‌حصہ دار ہوتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو کیا وجہ ہے ان بینکوں کے مقابلے میں تکافل کمپنی کو منتخب کیا جائے جبکہ ان بینکوں‌کی شاخیں تقریبا ہر شہر میں ہیں۔
2
اگر میرے پاس ایک 5 مرلے کا مکان ہے۔ آپکی کمپنی اس کے لئے کیا شرائط طے کرے گی؟ مجھے کیا پرافٹ‌ملے گا مطلب پرافٹ‌کی %‌ کس بنیاد پہ طے کی جائے گی؟ کمپنی سروس چاجز کی مد میں‌ کتنے پیسے کاٹے گی۔ نیز اس مکان کے بارے میں کیا ممکنہ خطرات ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے میں تکافل کمپنی کی سروسز حاصل کروں؟
3
آپنے آخر میں جو تکافل اور انشورنس میں فرق لکھا ہے ان میں کون کون سی شرائط ہیں جو انشورنس کمپنی میں‌رائج ہیں لیکن اسلام میں‌حرام ہیں؟ اپنے صرف غرر کا حرام ہونا بتایاہے۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
ابوسعد (26-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), شمشاد احمد (22-06-11)
پرانا 22-06-11, 12:38 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,689
کمائي: 31,853
شکریہ: 10,596
1,219 مراسلہ میں 3,224 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ 5 مرلے والے مکان کو شمجھانے کے لئے اس کی کوئی قیمت فرض کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے پورا پلین تفصیل سے لکھ دیں اگر تفصیل لکھنے میں کچھ اور معلومات چاہییے تو وہ بھی بتا دیں تاکہ پوری بات سمجھی جا سکے۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
احمد بلال کا شکریہ ادا کیا گیا
ارشد کمبوہ (23-06-11)
پرانا 22-06-11, 12:42 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,561
کمائي: 315,043
شکریہ: 25,209
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک ہے ہیلتھ تکافل اور ایک ہے لائف تکافل
ان میں ماہانہ ایک مقررہ رقم ہم کمپنی کو دیتے ہیں ۔۔۔ اس کے بدلے میں کمپنی ہمیں سالانہ صحت کی مد میں ایک خاص رقم آفر کرتی ہے ۔۔ اور زندگی کے معاملے میں یہ ہے کہ اگر طبعی موت تو 2 لاکھ کے قریب اور اگر حادثاتی تو 4 کے قریب ۔
کیا یہ رقم کے بدلے رقم نہیں ؟
فکس رقم کے بدلے فکس رقم ؟؟
اس میں سود نہیں آتا؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (23-06-11), شمشاد احمد (22-06-11)
جواب

Tags
color, قواعد, نظر, موت, مقابلہ, مقصد, متعارف, مسلمان, آج, انسان, تاب, جوا, خلاف, زمانہ, شخص, ضوابط, عوام, عقد, علوم, علماء, عبادت, عرض, غور, غرق, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تكريم الشهيد حسن مسفر القحطاني بتوجيه الأمير نايف تسليم ذويه شيكاً بمبلغ 100 ألف ريال مساعدة عاجلة غلام خان خبریں 7 26-05-11 02:50 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:24 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger