|
تمہارے رستے میں روشنی!

14-08-11, 03:10 PM
عطا ءالحق قاسمی
آج سے 37سال پہلے کا کالم آپ کی نذر ہے اپنی ایک کتاب کی ورق گردانی کے دوران یہ کالم میری نظروں سے گزرا تو میں آج کے اور آج سے 37سال پہلے کے پشاور اور درہ آدم خیل کا موازنہ کرتے ہوئے دل گرفتہ ہوگیا۔ میں آپ کو اپنی اس کیفیت میں شریک کرنے کے لئے یہ کالم ذیل میں درج کر رہا ہوں ملاحظہ فرمائیں:
پشاور میں ایک روز قیام کے دوران درہ آدم خیل کی سیر کے لئے افتخار عارف، عبید اللہ بیگ، محسن احسان، ایوب صابر اور میرے رفیق پروفیسر احمد حسن حامد ایک ”سالم“ویگن میں بیٹھے اور پھر باریش پٹھان ڈرائیور نے اس کا رخ درے کی طرف موڑ دیا۔ افتخار عارف اور عبید اللہ بیگ ”کسوٹی“پروگرام کی ریکارڈنگ کے لئے کراچی سے یہاں آئے ہوئے تھے ہماری ان سے ملاقات کنور آفتاب کے کمرے میں اچانک ہوگئی تھی اور ایوب صابر اس پروگرام میں مہمان کی حیثیت سے شرکت کے لئے کوہاٹ سے پشاور پہنچے تو درے سے انہوں نے کوہاٹ چلے جانا تھا اور ہم دوستوں کا پروگرام درے سے واپس پشاور آنے کا تھا۔
قریباً پندرہ بیس میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہماری ویگن آفریدیوں کے علاقے درہ آدم خیل میں داخل ہوگئی آزاد علاقے کی حدود شروع ہو چکی تھیں۔ محسن احسان نے بتایا کہ یہاں پاکستان کا قانون نافذ نہیں ہوتا۔ چنانچہ اگر کسی کو قتل کرکے یہاں پھینک دیا جائے تو پولیس کوئی مداخلت نہیں کر سکتی۔ یہ بات پہلے سے ہمارے علم میں تھی اور ہم اسے یاد کرکے خواہ مخواہ اپنے رونگٹوں کو زحمت ایستادگی نہیں دینا چاہتے تھے سو محسن احسان ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا لیکن وہ یہ احسان کر چکے تھے۔ ہمیں تو چپ لگ گئی افتخار عا رف نے یہ سن کر مسرت کا اظہار کیا اور محسن سے کہا ”تو پھر ہم کراچی کے کچھ شاعر آپ کے پاس بھیجیں گے۔ آپ براہ کرم انہیں یہاں چھوڑ جائیں“۔
ویگن اپنی منزل کی جانب بڑھتی جا رہی تھی۔ پہلے ہمارے دونوں جانب پہاڑ تھے اب سامنے بھی پہاڑ تھے اور ہم نے پیچھے نظر ڈالی تو سڑک کہیں بیچ میں گم ہوگئی تھی اور وہاں بھی سرسبز پہاڑ کسی غیور پٹھان کی طرح سینہ تانے کھڑے تھے۔ پختون ادیب ایوب صابر نے کہا ”فرنگیوں نے پٹھانوں کو غلام بنانے کے لئے کئی حربے آزما دیکھے۔مگر وہ اپنی کسی چال میں کامیاب نہ ہو ئے یہ جو آپ کو یہاں پکی سڑک نظر آرہی ہے تو یہ پاکستان کی کرامت ہے دیگر صوبوں کے مسلمانوں کی طرح پٹھانوں کو بھی قیام پاکستان سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔ اب یہاں کے لوگ خاصے خوشحال ہیں۔ ا س آزاد علاقے میں اب لڑکیوں کا کالج، ہائی سکول ہیں اور لڑکیوں کے لئے ایک پرائمری سکول بھی ہے“۔ میں نے کھڑکی میں سے باہر جھانک کر دیکھا تو نئے اور پرانے ماڈل کی کاریں، سوزوکیاں اور موٹر سائیکل فراٹے بھرتے ہوئے ہمارے قریب سے گزر رہے تھے اور میں سرخوشی کے عالم میں ایک کھلنڈرے بچے کی طرح پکے کچے گھروندے اور سرسبز و شاداب پہاڑوں کے نظارے میں محو تھا۔ افتخار عارف ہم سفروں کو نئی نسل کے معروف شعراءکا کلام سنانے میں مشغول تھے۔ ایسا کرتے وقت انہیں دھڑا یا دنہیں رہتا تھا، صرف اچھا شعر یاد رہتا تھا ادب اور ادیبوں کے ضمن میں بے تعصبی میں نے ذرا کم ہی دیکھی ہے ان کی زبان سے کراچی کے نوجوان اور بعض کمسن شعراءکے یکسر نئی سینیسیبلٹی کے حامل متعدد اشعار سن کر احساس ہوا کہ یہ شہر ایک بالکل نئی شاعری کی لہر میں ہے! وجد او رسرشاری کے عالم میں اشعار سناتے سناتے وہ ایک دم خاموش ہو گئے۔ انہوں نے ایک نظر بلند و بالا پہاڑوں پر ڈالی جن کے دامن میں کھڑے لوگ بونے بونے سے لگ رہے تھے اور کہا ”عطا بھائی! یہ مولانا احتشام تھانوی اور فیض احمد فیض کیا ہیں؟ جب کوئی نئی حکومت آتی ہے مولانا احتشام الحق امام ضامن اور فیض احمد فیض کلچر پہن کر اس کے حضور پہنچ جاتے ہیں“ اور اس کے بعد انہوں نے دوبارہ اسی سرشاری کے عالم میں شعر سنانا شروع کر دیئے۔
تھوڑی دور چلنے کے بعد اچانک یوں محسوس ہوا جیسے چاروں طرف سے لوگ اپنے مکانوں سے نکل کر سڑک پر جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ان کے گلے میں رائفلیں اور کارتوسوں سے بھری ہوئی ہوئی پیٹیاں تھیں اور وہ سینہ تانے تیز تیز قدم اٹھاتے کھنچے ہوئے چہروں کے ساتھ ایک ہی جانب رواں تھے۔ ویگن کے باریش ڈرائیور نے خطرے کی بو سونگھی اور کہا ”کچھ گڑ بڑ ہے“ جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے ہمیں دو دو چار چار کی ٹولیوں میں قبائلیوں کے گروہ دکھائی دیتے جن کے چہروں پر ناراضگی کے آثار تھے اور وہ مسلح ہو کر سڑک کے کنارے کنارے چلتے سامنے کی جانب جا رہے تھے بعض ٹولیوں میں ایک ایک دو دو عورتیں بھی تھیں جنہوں نے کھلے کھلے لباس پہن رکھے تھے ایک بڑی حویلی کے باہر سینکڑوں لوگ کھڑے تھے اور انہوں نے اپنی بندوقیں گلے میں ڈالی ہوئی تھیں راستے میں جو قبائلی ہمیں ملے تھے وہ بھی ٹولیوں کی صورت میں جمع ہو رہے تھے ڈرائیور نے یہاں پہنچ کر بریک لگائی اور مجمع میں سے ایک شخص کو پاس بلا کر صورت حال دریافت کی تھوڑی دیر تک وہ دونوں پشتو میں گفتگو کرتے رہے اور پھر ڈرائیور نے ویگن کو اس کی منزل کی طرف ڈال دیا۔
”معمولی بات ہے“ ڈرائیور نے گیئر بدلتے ہوئے کہا ”یہاں ایک گھر میں جوا ہوتا تھا۔ علاقے کے لوگوں نے اسے منع کیا وہ باز آگیا مگر کچھ دنوں بعد اس نے پھر سے کام شروع کر دیا اس پر لوگوں نے اسے پکڑ کے جرگے کے سپرد کر دیا اب اس حویلی میں جرگہ بیٹھا ہوا ہے اور لوگ فیصلہ سننے کے لئے جمع ہو رہے ہیں“۔
”آپ کو شاید ایک بات کا علم نہیں ہے“ ڈرائیور نے بات ختم کی تو ایوب صابر نے اپنا بیان شروع کیا ”یہ اگرچہ آزاد علاقہ ہے لیکن یہاں کے قوانین بہت سخت ہیں۔ اس علاقے میں بہت کم زناءکی واردات ہوتی ہے کیونکہ زنا کے مرتکب کو شدید ترین سزا دی جاتی ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے اور بعض صورتوں میں اس کے مکان کو بھی آگ لگا دی جاتی ہے“ ایک بار پھر ویگن میں خاموشی طاری ہوگئی! دریں اثنا ہم درے کے ایک بارونق بازار میں پہنچ گئے تھے۔ ایوب صابر کو یہاں سے کوہاٹ کے لئے بس پکڑنا تھی جو یہاں سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گیا تھا۔ ہمارا ارادہ ابھی مزید کچھ دور جانے کا تھا۔ مگر شام ہونے کو تھی اور ہمیں ابھی پشاور پہنچنا تھا۔ سوہم نے ایوب صابر کو یہاں اتارا اور واپس لوٹنے ہی کو تھے کہ پٹھانوں کے روایتی لباس میں ملبوس ایک نوجوان نے کھڑکی میں سے اندر جھانکا، یوں لگتا تھا وہ کسی کو پہچاننے کی کوشش کر رہا ہے اور ہم نے جان لیا کہ اس کی توجہ کا محور افتخار عارف اور عبید اللہ بیگ تھے ٹی وی دیکھنے والے اس قبائلی نے بالآخر انہیں پہچان لیا تھا اور پھر اس نے محبت آمیز ضد کرکے ہمیں ویگن سے اتارا اور ہمیں قہوہ پلانے کے لئے اپنی دوا ئیوں کی دکان پر لے گیا۔ بازار میں سے گزرتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ دکانوں پر تمام بورڈ اردو میں لکھے ہوئے تھے یا کہیں کہیں انگریزی نظر آتی تھی ایک حیرت انگیز منظر میں سے یہ دیکھا کہ سڑک کنارے تخت پوش پر کوکا کولا کے کریٹ پڑے ہوئے تھے اس کے قریب پیسے ڈالنے کے لئے لکڑی کا بنا ہوا ایک بکس دھڑا تھا تخت پوش کے برابر والی دیوار پر لکھا تھا ”بوتل پی کر پیسے بکس میں ڈال دیں۔ اگر کوئی پیسہ ڈالے تو بھی فائدہ، نہ ڈالے تو بھی فائدہ“ اس کے نیچے ”ضربت خان“ لکھا ہوا تھا۔ جو اس دکان کا ”غائبانہ“ مالک تھا میں نے یہ منظر ”مہذب“ بستیوں میں بھی بہت کم دیکھا تھا!چینی کے بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے گول پیالوں میں ہم نے قہوے کی چسکیاں لینا شروع کیں اور چاروں طرف سے سرسبز پہاڑوں میں گھر ی ہوئی اس وادی کی فضاﺅں میں کھو گئے سورج پہاڑوں کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا اور ہر طرف شفق کے رنگ بکھر گئے تھے، فطرت کی ان دم بخود خاموشیوں میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد فضا میں ایک جانب سے کارتوس چلنے کے باعث ارتعاش سا پیدا ہوتا، جس کے کچھ دیر بعد پہاڑوں میں اس کی با زگشت سنائی دیتی اور پھر خاموشی چھا جاتی، دکان کے پچھواڑے میں ایک شادی تھی اور یہ فائرنگ اس تقریب کا روایتی حصہ تھی۔
خلوص آمیز قہوے کا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہم نے میزبانوں سے ہاتھ ملایا اور واپس پشاور جانے کے لئے ویگن میں سوار ہوگئے۔ ایک نوجوان بھی ہمارے ساتھ آن بیٹھا تھا اس نے راستے میں اتر جانا تھا۔ ایک بار پھر خوبصورت راستوں سے گز رتے ہوئے میں اپنے لوگوں کی اس سرزمین کو محبت سے دیکھا اور اس کے ایک ایک منظر کو سجا لیا۔ سڑک کے کنارے کھلے میدان میں ایک قبائلی اپنے خدا کے حضور سجدہ ریز تھا اور اس کی پیشانی خاک میں اٹی ہوئی تھی ڈرائیور نے راستے میں ایک اور جگہ بریک لگائی۔ نوجوان کو یہیں اترنا تھا، اس نے ہم سے باری باری مصافحہ کیا اور ”تمہارے راستے میں روشنی“ کہہ کر چھوٹے چھوٹے کھیتوں میں سے ہوتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
”تمہارے راستے میں روشنی“ میرے ہونٹوں سے بھی یہ الفاظ ادا ہوئے اور پھر مجھے چار سوں پہاڑوں میں اس کی بازگشت سنائی دی”تمہارے راستے میں روشنی، تمہارے راستے میں رو شنی“ مجھے یوں لگا یہ دعائیہ الفاظ پھول کی پتیوں کی طرح میرے وطن کی فضاﺅں میں پھیل گئے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی 13اگست2011ء
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|