واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


تیونس...اسلامی انقلاب کی پہلی دستک

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-10-11, 01:30 PM   #1
تیونس...اسلامی انقلاب کی پہلی دستک
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 31-10-11, 01:30 PM

تیونس...اسلامی انقلاب کی پہلی دستک

تیونس میں ابن علی کی آمرانہ حکمرانی کے خاتمے کے بعد 24اکتوبر2011ءکو پہلی بار عام انتخابات ہوئے ۔ان کے نتائج کے مطابق راشد الغنوشی کی جماعت النہضة الاسلامیہ117نشستیں حاصل کر کے اکثریت حاصل کرنے میں کا میاب ہوگئی ہے۔گزشت23 برس میں پہلی بارہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نوے فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے حصہ لیااور باون فی صد نے اسلام کے حامیوں کے حق میں ووٹ ڈالے۔سیکولر عناصر کی شکست پرمغربی نظریات سے متاثر جماعتیں خاصی پریشان ہیں۔دراصل سیکولر جماعتوں کو انتخابات سے قبل اپنی کامیابی کا پکایقین تھا۔ شکست سے دوچار ہونے کے بعد انہوں نے الزامات لگانے اور تیونس کے مستقبل کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرنے شروع کردیے ہیں۔ٍیورپ اور امریکا کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کہا جارہا ہے کہ النہضہ کی کامیابی کے بعد شدت پسندی بڑھے گی اور اس بات کا خطرہ ہے کہیں القاعدہ تیونس پرقبضہ نہ کرلے۔ان کی طرف سے ایک دلچسپ الزام یہ بھی لگایاگیاہے کہ عبوری حکومت انتخابات پر اثرانداز ہوئی ہے، حالانکہ جب تک نتائج نہیں آئے تھے،یہی لوگ ان انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ قرار دینے میں رطب اللسان تھے ۔ النہضہ اور اس کے راہنما شیخ راشد الغنوشی کو جاننے والے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اس طرح کے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں۔پوری عمر اسلام کی جنگ لڑنے والے غنوشی عالمی اسلامی تحریک کے جانے پہچانے رہنما ہیں، پاکستان بھی آچکے ہیں۔تیونس کی سابق حکومت نے انہیں ربع صدی تک جلا وطن کیے رکھا،ان کے پیچھے انہیں سزائے موت بھی سنائی گئی۔تاہم اللہ کے دشمن خائب وخاسرہوئے اورراشد الغنوشی کے سر پر کامیابی کاتاج رکھا گیا۔تیونس میں بہت سی مختلف الخیال جماعتیں ہیں اور عالمی دخل اندازی بھی زوروں پرہے۔تیونسی عوام کے دلوں اوران کی فطرت میں دین سے محبت موجودہے،لیکن دین پر گونا گوں پابندیوں کے معاملے میں تیونس کمال اتاترک کے ترکی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔اصل قوت یہاں بھی فوج کے پاس ہے اور فوج کی سوچ کیا ہے اوراس کے کمانڈر کس حد تک دین کو برداشت کرنے پر آمادہ ہوں گے ،اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
الجزائر کا تلخ ترین تجربہ بھی ہمارے سامنے ہے، جہاں دسمبر1991ءمیں اسلامک سالویشن فرنٹ نے انتخابات کا پہلا مرحلہ جیت لیا تھا، مگرسیکولر فوج نے مداخلت کرتے ہوئے دوسرا مرحلہ منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد فوج نے اس وقت کے صدر بن جدید کو معزو ل کر کے مذہب کی بنیاد پر بننے والی ہر سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دے دیا۔ سیاسی چپقلش پیدا ہوئی اورفسادات شروع ہو گئے۔ جنوری1992ءسے جو2002ءتک کے عشرے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگ مارے گئے۔ اس قتل وغارت گری کے پیچھے فرانس اور امریکہ کا ہاتھ کام کر رہا تھا۔بہت سے افریقی ممالک کی طرح تیونس بھی فرانس کے زیرِاثر اور اس کی تمام حکومتیں فرانس کی کٹھ پتلی رہی ہیں۔ امریکہ اور فرانس آج تیونس میں بھی اپنے شیطانی تہذیبی اثرات کے ساتھ موجودہیں۔سابقہ حکومت کے تمام مغرب نوازعناصر ابھی تک سوسائٹی کے مرکز میں موجود ہیں، اسلام کے مکمل نفاذ کے لیے ان کا صفایا ضروری ہے جو آسان کام نہیں۔ اسی لیے راشد الغنوشی نے طیب اردگان کی اسلام پسند ترک اکثریتی جماعت کا لائحہ عمل اپنا کر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نہضہ اسلامی کی کامیابی عالم اسلام میں اسلامی انقلاب کی پہلی دستک ہے۔مشکلات کے باوجود تیونس میں اسلامیت کی فتح عظیم الشان واقعہ ہے۔ تیونس کے لیے بڑا اعزاز ہے کہ اسلامی دنیامیں جن تبدیلیوں کا مشاہدہ ہم کر رہے ہیں، ان کی شروعات یہاں سے ہوئی اوریہیں اسلام دوست قوتوں کی کامیابی سے نظام کی تبدیلی کے امکانات ہویدا ہوئے۔ لیکن ابھی یہاں استعمار کی گرفت ڈھیلی پڑی ہے استعمار کا قبضہ ختم نہیں ہوا۔ بالکل اسی طرح افغانستان اور عراق کی آزادی بھی بظاہرسامنے دکھائی دے رہی ہے، امریکہ وہاں سے بھاگنے کی فکر میں ہے، لیکن جانے سے پہلے استعماری قبضے کے نشانات اوراثرات چھوڑ کر جاناچاہتا ہے۔ یعنی ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ یہی حال عرب ممالک کی آزادی کا ہے۔ فرق صرف ناموں کا ہے افغانستان میں کرزئی اورعراق میں المالکی ہے اور جو قطر میں ہے اس کا نام حمد ہے۔ نام مختلف ہیں، مگر امریکی غلاموں کے عہدے اورذمے داریاں ایک ہی ہیں۔ کمزورافریقی ملکوں کو اپنی غلامی میں لینے کے معاملے میں امریکا اور فرانس کے درمیان چپقلش کسی سے مخفی نہیں۔ امریکہ افریقہ میں قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ لیبیا میں بھی نیٹو کی کامیابی کو کیش کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔فرانس تیونسی عوام کا ہیرو رہنا چاہتا ہے، تاکہ مستقبل میں اپنے چیلے چانٹوں کو بغیر کسی مشکل کے وہاں تعینات کرسکے۔ اسی طرح امریکی کوشش ہو گی کہ فرانس سے کھیل کی بساط چھیننے کے لیے تیونس میں مداخلت کرے، اسے اپنی سرپرستی میں لے لے اوراکیلا تمام خطے پر حکمرانی کرے۔ امریکا اور فرانس سے کیا گلا، یہاں تو مسلمانوں کے قاتل ابن علی کا استقبال کرنے والے مسلمان بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ان کی تمنا بھی یہی ہے کہ تاریخ کا پہیہ الٹا گھومے اور ابن علی پھر تیونس کے اقتدار پر فائز ہو جائے۔ اس لیے کہ مسلم دنیا کے باقی حکمران پنے ملکوں میں تیونس اور مصر جیسی تبدیلیوں کے دہرائے جانے سے ڈرے ہوئے ہیں۔ تیونسی عوام نے اسلام کو ووٹ دے کراپنے اوپر بڑی ذمہ داری لے لی ہے، اب ان کو بن علی کے تمام چیلے چانٹوں کو بھی راستے سے ہٹانا ہو گا۔ ابھی ظلم کے نظام کا صرف ’سر‘ گرا ہے، خود نظام اور اس کا ڈھانچہ باقی ہے۔ تیونسی مسلمانوں کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانا ہوں گے مگر ان کویہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت کے نفاذ کے بغیر آزادی کی کوئی حقیقت نہیں۔ تیونسی عوام جب تک شریعت کے نفاذ کی منزل پر نہیں پہنچیں گے، انقلاب ادھورا رہے گا۔
تیونس میں مغربی تہذیب کے پرستاراسلامی تہذیب کو روکنے کے لیے بڑے عرصے سے سازشیں کرتے رہے ہیں۔ آج بھی تقریباً تمام ٹی وی چینل اور اخبارات مغربی طرز زندگی اور نظام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ اس لیے نہضتہ الاسلامیہ کو اس صورت حال سے بڑی حکمت سے نمٹنا ہے۔ اسلام دوست لوگوں کے جیتنے باوجود اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ مغربی طاقتیں مداخلت کرکے یہاں بھی وہی کچھ کرائیں جو الجزائر کے ساتھ کیا گیاتھا؛ لہٰذا تیونسی قوم کواپنے دین کے راستے میں ہر قربانی کے لیے تیار رہنا ہو گا ۔وہ انتخابات جیت چکے ہیں،اب اللہ کی شریعت کے نفاذکا مطالبہ بھی انہیں ہی کرنا ہو گا۔ اس لیے کہ اللہ کے بندوں پر اس کی شریعت کا نفاذ اللہ تعالی کی تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے اور یہ نعمت اسی کو ملتی ہے جوخود کواس کا مستحق ثابت کرے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ خون بہائے بغیر اور جسم کے ٹکڑے کروائے بغیر اللہ تعالیٰ کی شریعت کا نفاذ کبھی ممکن نہیں ہوا۔ اس میں شبہ نہیں کہ تیونس میں گہرااسلامی جذبہ اور احساس موجود ہے، مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ نوجوان نسل نے ایک چوتھائی صدی تک ان ہی لادینی اسکولوں میں تعلیم وتربیت پائی ہے، جو نہ صرف آج بھی باقی ہیں بلکہ ان کا ہدف بھی اسلام کے خلاف جنگ اور اسلام کی تصویر کو مسخ کرنا ہے۔ لہٰذا ان دماغوں کوبتدریج بدلنے کا زبردست چیلنج موجود ہے۔ اب نہضہ میں شامل علماءکا کام ہے کہ وہ بڑی حکمت سے دلوں اور دماغوں کو بدلنے کا کام شروع کریں اور مساجد کو اور میڈیا کو یکساں طور پر اس کام کے لیے استعمال میں لائیں۔نیا آئین بناناایک اہم سنگ میل ہے جسے عبور کرنے کے لیے مومنانہ بصیرت اور فراست درکار ہو گی۔ ہو سکتا ہے ایک مسلمہ اسلامی آئین بنانے کے لیے النہضہ کو آئندہ انتخابات تک انتظار کرنا پڑے۔اسی طرح عدالتوں کو اسلام دوست بنانااورآزاد کرانا ہو گا، تاکہ اسلام کا راستہ روکنے والے مغرب کے غلاموں اوراسلام کے دشمنوں کوآئین و قانون کے ذریعے نشانِ عبرت بنایا جا سکے اور ان سے کوئی رو رعایت نہ کی جائے، تاکہ شیطان کا غلبہ چاہنے والے دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن جائیں۔ابن علی جیسے قاتلوں اور ڈاکوئوں کا انجام بھی عبرت ناک ہونا چاہیے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْن ( ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ،ان کے حواس باختہ ہو جائیں۔ توقع ہے کہ بد عہدوں کے اِس انجام سے وہ سبق لیں گے۔انفال:75)
ابن علی، حسنی مبارک اور مشرف جیسے لوگوںکا ہرگز یہ استحقاق نہیں کہ خلقِ خدا کے خلاف ایسے بدترین جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد عیش وآرام کی زندگی گزاریں، بلکہ ان کی زندگی تو ہمیشہ خوف اور ڈر کے سائے میں گزرنی چاہیے۔ کوئی بھی حاکم جو ظلم کرتا ہے اور مسلمانوں کو قتل کرتا یا کئی ارب کی چوری کرنے کے بعد اپنا منصب چھوڑ کر بھاگتاہے، تو اسے بھاگنے سے پہلے معلوم ہو نا چاہیے کہ اپنے ملک سے باہر جا کرلوٹی ہوئی رقم سے وہ اور اس کا خاندان عیش کی زندگی نہیں گزار پائیں گے، بلکہ ان کو واپس آکر کٹہروں میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ قتل کے بدلے قتل کیے جائیں گے اور لوٹ مار ثابت ہونے پر ان کے ہاتھ پائوں بھی کاٹے جائیں گے۔ ابن علی تو چوتھائی صدی تک تیونسی عوام کا خون چوستا رہا، پندرہ بیس ارب ڈالر کا مالک بن چکاتھا، اس کی بیوی بھی سرکاری خزانے سے دیڑھ ٹن سونا چرا کربھاگی ہے۔ اہل تیونس کو چاہیے کہ نئی حکومت سے پہلامطالبہ یہی کریں کہ بن علی، اس کے خاندان اور اس کے ساتھ بھاگنے والے سارے ٹولے کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان کے قبضے سے اتنا مال برآمد ہو گا کہ تیونس میں کوئی غریب باقی نہ رہے گا۔نام نہاد مسلمان حکمرانوں میں کرپشن کا باقاعدہ مقابلہ ہے ،اس دوڑ میں کوئی پیچھے نہیں رہتا۔سوئیکارنو اور سہارتوسے لے کرمشرف اور قذافی تک سب ملک وقوم کے مال پرعیش اڑاتے رہے۔ یاسر عرفات کو دیکھ لیں جسے دوسرے حکمرانوں کے مقابلے میں فقیر سمجھا جاتا تھا، مگر اس کی بیوی کو اس کی وراثت سے8 ارب ڈالر ملے ۔ خلیفہ بن حمد آل ثانی کے بیٹے نے انقلاب کے ذریعے اپنے باپ کومعزول کر دیا، تویہ لٹا پٹا شخص بھی قطر سے40 ارب ڈالرلے کر ہی ٹلا۔ یہ تو وہ رقم ہے جس کا باقاعدہ اعلان کیا گیاہے، غیر اعلان شدہ کیا کچھ ہو گا اللہ ہی جانتا ہے۔ اس کے بیٹے کی دولت کا حساب آپ خود لگا لیں۔ حقیقت یہ ہے ان طواغیت نے مسلمانوں کے اموال پر ہزاروں بلین کا ڈاکا ڈالا ہے، اس وقت جب ان ملکوں کے لوگ بھوکے مر رہے تھے، ان بد بختوں نے اس مال کو کھیل کود، رقص وسرود اور فحاشی وعیاشی پر اڑایا ہے۔ مشرف نے خود اعتراف کیاہے کہ میں سینکڑوں بندگان خدا کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کرچکا ہوں ۔ فوربس میگزین کے مطابق حسنی مبارک کے پاس بغیر کسی کاروبار کے تقریباً70 بلین ڈالر موجود ہیں لیکن ابھی تازہ خبر یہ ہے کہ سوئس بنکوں نے اس کے اثاثوں کو منجمد کر دیا ہے گویا چوروں کا مال بھی چور کھا گئے۔قذافی کی معلوم دولت ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ ہے،ظاہر ہے یہ مال غنیمت بھی فاتحین میں بٹ جائے گا۔
راشدالغنوشی اور ان کے کامیاب ساتھیوں کونفاذِاسلام کے راستے پر بڑھنے سے پہلے وہی اصول کام میں لانے ہوں گے جو حضور سرور کائنات ﷺنے پہلی اسلامی ریاست کے قیام کے وقت اپنائے تھے۔ آپ کا زادِ راہ تقویٰ تھا،اس لیے النہضہ کو آگے بڑھنے سے پہلے اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے کہ ہم صرف خدائے واحد سے ڈریں گے، تاکہ کسی اور کا ڈر باقی نہ رہے۔صرف اللہ کی خوشنودی مطلوب ہوگی تاکہ امریکہ یا فرانس کی ناراضی کی پروا نہ رہے۔ النہضہ کو فورا اور پوری قوت سے تیونسی معاشرے میں اپنا منفرد وجود ثابت کرنا ہوگا،تاکہ آئندہ انتخابات میں اسے دو تہائی ووٹ مل سکیں۔حتمی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب تیونسی قوم میں وحدتِ فکر و عمل پیدا ہوجائے۔ تعلیم کے میدان میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے ،ان لوگوں کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے جو دین کے پیاسے ہیں۔اختلاف سے بچنا ہو گا کہ اس سے ہواکھڑ جاتی ہے۔اوپر سے نیچے تک مشاورت کا نظام رائج ہونا چاہیے،شورائی نظام اختلاف و افتراق کو ختم کر دیتا ہے۔ اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، صرف اسی پر یقین رکھیں اور ان پڑوسی حکمرانوں سے دور رہیں جواسلام نہیں چاہتے۔ باہر دیکھنے کے بجائے تیونسی عوام کے دل جیتیں۔ تیونس ہو یا مصر، پاکستان ہو یاانڈونیشیااسلام کے نفاذ کے لیے خالص اسلام ہی کار آمد ہے،آدھا تیتر آدھا بٹیر نہیں چلے گا ۔جیسا کہ مولانا سید ابوالاعلٰی مودودیؒ نے اپنی کتاب ’’تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘‘ میں لکھا ہے:
’’بعض لوگ یہ خیال ظاہرکرتے ہیں کہ ایک دفعہ غیر اسلامی طرز ہی کا سہی، مسلمانوں کاقومی اسٹیٹ قائم تو ہوجائے، پھر رفتہ رفتہ تعلیم و تربیت اور اخلاقی اصلاح کے ذریعہ سے اس کو اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کردیا جاسکتا ہے۔ مگر میں نے تاریخ، سیاسیات اور اجتماعیات کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر اس کو ناممکن سمجھتا ہوں اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجائے تو میں اس کو ایک معجزہ سمجھوں گا، جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں، حکومت کا نظام اجتماعی زندگی میں بڑی گہری جڑیں رکھتا ہے۔ جب تک اجتماعی زندگی میں تغیرو اقع نہ ہو، کسی مصنوعی تدبیر سے نظام حکومت میں کوئی مستقل تغیر پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ عمر ابن عبدالعزیز جیسا فرما ں روا جس کی پشت پر تابعین و تبع تابعین کی ایک بڑی جماعت بھی تھی، اس معاملے میں قطعی ناکام ہوچکا ہے، کیونکہ سوسائٹی بحیثیت مجموعی اس اصلاح کے لیے تیار نہ تھی۔ محمد تغلق اور عالم گیر جیسے طاقت ور بادشاہ اپنی شخصی دین داری کے باوجود نظام حکومت میں کوئی تغیر نہ کرسکے۔ مامون الرشید جیسا با جبروت حکمران نظام حکومت میں نہیں بلکہ صرف اس کی اوپری شکل میں خفیف سی تبدیلی پیدا کرنا چاہتا تھا اور اس میں بھی ناکام ہوا۔ یہ اس وقت کاحال ہے جب ایک شخص کی طاقت بہت کچھ کر سکتی تھی۔ اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو قومی اسٹیٹ جمہوری طرز پر قائم ہوگا وہ اس بنیادی اصلاح میں آخر کس طرح مددگار ہوسکتا ہے۔ جمہوری حکومت میں اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے جن کو ووٹر کی پسندیدگی حاصل ہو، ووٹروں میں اگر اسلامی ذہنیت اور اسلامی فکر نہیں ہے، اگر وہ صحیح اسلامی سیرت و کردار کے عاشق نہیں ہیں، اگر وہ اس بے لاگ عدل اور ان بے لچک اصولوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جن پر اسلامی حکومت چلائی جاتی ہے ، تو ان کے ووٹوں سے کبھی ’مسلمان‘ قسم کے آدمی منتخب ہوکر پارلیمنٹ یا اسمبلی میں نہیں آسکتے۔ اس ذریعے سے تو اقتدار انہی لوگوں کو ملے گا جو مردم شماری کے رجسٹر میں چاہے مسلمان ہوں، مگر اپنے نظریات اور طریق کار کے اعتبار سے جن کو اسلام کی ہوا بھی نہ لگی ہو۔ اس قسم کے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں جس پر غیر مسلم حکومت میں تھے۔ بلکہ اس سے بھی بد تر مقام پر، کیونکہ وہ ’’قومی حکومت‘‘ جس پر اسلام کا نمائشی لیبل لگا ہوگا، انقلاب کا راستہ روکنے میں اس سے بھی زیادہ جری اور بے باک ہوگی جتنی غیرمسلم حکومت ہوتی ہے۔‘‘

Last edited by عبدالہادی احمد; 31-10-11 at 01:36 PM..

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 197
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-10-11), ھارون اعظم (31-10-11), ننھا بچہ (03-11-11), نبیل خان (03-11-11), تبتیلا انجم (02-11-11), راجہ اکرام (31-10-11), سام (03-11-11), سحر (01-11-11), عبداللہ آدم (03-11-11)
پرانا 31-10-11, 10:45 PM   #2
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ بات تو آج کے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے، اگر اسلام پسند الیکشن جیت جائیں تو ہمارے نام نہاد روشن خیالوں کو ان کی کامیابی ہضم نہیں ہوتی۔ ان کو صرف وہ جمہوریت پسند ہے جس میں ان کی مرضی کے نتائج آئیں۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (03-11-11), راجہ اکرام (31-10-11)
پرانا 31-10-11, 11:42 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,562
کمائي: 315,044
شکریہ: 25,210
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ
عرب دنیا میں انقلاب کا آغاز بھی تیونس سے ہوا اور پھر پوری عرب دنیا کے آمروں کو ہلا کررکھ دیا
اب اسلام پسندوں کی فتح کا آغاز بھی یہیں سے ہوا ہے۔ اللہ کرے یہ بھی انقلاب کی طرح پھیل جائے اور سارے عالم اسلام کو بالخصوص اور ساری دنیا کو بالعموم اپنی لپیٹ میں لے لے۔

لیکن جیسا کہ آپ نے ذکر کیا۔ اگر شفاف انتخابات ہوئے ہیں اور کامیابی دشمنوں نے بھی تسلیم کی ہے لیکن پھر بھی اسے جمہوریت کہہ کر ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لینا جمہوریت پسندوں اور جمہوریت کے چیمپین لوگوں کے لیے بہت مشکل ہے۔ جیسا کہ الجزائر میں ہم نے دیکھا اور اس کے بعد حماس کی کامیابی کے بعد جو کچھ ہوا وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔
شکر ہے کہ ترکی میں ایسا کچھ نہیں ہوا اور اسلام پسندوں کو اپنا آپ ثابت کرنے کا موقع مل گیا
اب دیکھیے تیونس میں کیا ہوتا ہے ۔۔ اللہ تعالیٰ انہیں استقامت دے اور اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (02-11-11), قاسمی (04-11-11), نبیل خان (03-11-11), رضی (01-11-11)
پرانا 03-11-11, 09:25 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,883
شکریہ: 23,988
4,981 مراسلہ میں 14,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سید صاحب کی بات اگر ہم دوبارہ غور سے پڑھیں تو ہمیں یہی نظر اتا ہے کہ اسلامی جماعتوں نے اس تیاری پر توجہ نہیں دی جو حکومت کی طرف برھنے سے پہلے مطلوب ہے، اور اب حکومت میں آنے کے بعد بھی حالات تبدیل ہوتے نظر نہیں آرہے.
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
ہادی (03-11-11)
پرانا 03-11-11, 11:03 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,461
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,505 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب ان کو اپنے غلام چاہیے اور بس
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
قاسمی (04-11-11)
پرانا 04-11-11, 06:28 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,276
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 789 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مکمل اسلامی انقلاب صرف جہاد ہی سے ممکن ہے
قاسمی آف لائن ہے   Reply With Quote
قاسمی کا شکریہ ادا کیا گیا
نبیل خان (04-11-11)
جواب

Tags
Al Ghanoshi, Islam, revolution, Tunisia, فروخت, کمال, پاکستان, قدم, لوگ, چینل, مکمل, موت, مقابلہ, منصوبہ, ممکن, محبت, معلوم, معجزہ, آج, آدمی, اللہ, امریکہ, اسلامی, تعلیم, خدا, دوست, راستہ, علی, عشق


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تحریک انصاف کا مصراورتیونس جیسی انقلابی تحریک چلانے کا اعلان گلاب خان خبریں 0 07-02-11 06:31 AM
تیونس کے بعد کون کون؟ ALI-OAD خبریں 6 02-02-11 08:57 PM
تیونس میں غلبہ اسلام کی نئی لہر ALI-OAD اپکے کالم 0 30-01-11 07:23 AM
تیونس کے بعد مصر؟ کیا ہونے جا رہا ہے؟ رائے دیجئے ھارون اعظم عمومی بحث 16 30-01-11 12:32 AM
تیونس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 8مظاہرین ہلاک ALI-OAD خبریں 0 10-01-11 08:15 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:31 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger