South Asian News Agency (SANA) ⋅ September 17, 2011 ⋅
عرفان صدیقی
کوئی سنجیدہ خو پاکستانی یہ نہیں چاہے گا کہ عدلیہ جمہوری نظام کی تاخت و تاراج کا ذریعہ بنے۔ طفلان سیاست کا ایک دھرنا گروپ، جس نے 2008ء میں انتخابی بائیکاٹ کو ترجیح دی، آج انگاروں پر لوٹ رہا ہے کہ کسی نہ کسی طور آئینی بندوبست کی بساط لپیٹ دی جائے اور کوئی ایسا دریچہ کھلے جس سے وہ اقتدار کے ٹھنڈے ایوانوں میں آبیٹھے۔ سیاست کے ان بارہویں کھلاڑیوں کی آرزو ہے کہ کوئی حادثہ ہو جائے۔ کوئی سانحہ ہو جائے تاکہ ان کی قسمت بھی جاگے اور وہ تالیوں کی گونج میں میدان میں اتریں۔ یہ لوگ عدلیہ کو ہشکار رہے ہیں کہ وہ فوج کو آواز دے جو چھاؤنیوں سے نکلے اور ملک کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے معاملات انہیں سونپ دے جو سیدھی راہوں اور جمہوری دروازوں سے اقتدار کے ایوانوں میں داخل نہیں ہوسکتے۔ مقام شکر ہے کہ عدلیہ نے اس پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی فوج نے اس جال میں پھنسنے کے لئے کسی بے کلی کا مظاہرہ کیا۔ اب بھی عدلیہ کو ثابت قدمی کے ساتھ اپنے مستقیم آئینی راستے پر چلتے رہنا چاہئے اور فوج کو بھی طفلان بازار سیاست کے نعروں پر زیادہ توجہ نہیں دینی چاہئے۔ اگر یہاں ایک آئین موجود ہے تو اصلاح احوال کی راہیں بھی اسی سے نکالی جانی چاہئیں۔
دھڑکا اس بات کا ہے کہ اگر کراچی کے معاملے کا ازخود نوٹس لینے، لامحدود تلخ حقیقتوں سے آشنا ہونے، کراچی کی بدامنی کے اسباب و محرکات بھانپ لینے، کراچی کی دعویدار سیاسی جماعتوں کے کردار و عمل سے آگاہ ہو جانے اور حکومت کے منافقانہ طرز عمل کو جان لینے کے بعد بھی عدالت کوئی واضح نقشہ کار نہیں دے پاتی تو ناامیدی بڑھے گی۔ عدلیہ سے وابستہ توقعات کا کھونٹا ٹوٹ گیا تو فوج آخری امید کی علامت کے طور پر سامنے آکھڑی ہوگی۔ اس صورت میں انہونی کا راستہ روکنا مشکل ہو جائے گا۔ جو لوگ فوج کی نفسیات اس کے اندرونی میکانزم اور قومی سلامتی کے حوالے سے اس کی حساسیت کو جانتے ہیں، انہیں یہ اندازہ بھی ہوگا کہ جب ایک خاص نقطہ ابال آجاتا ہے اور درجہٴ حرارت ایک مخصوص درجے پہ پہنچ جاتا ہے تو فوج خارجی عوامل یا عمومی نزاکتوں کا لحاظ کئے بغیر وہ کچھ کر گزرتی ہے جسے وہ اپنے تئیں اصلاح احوال کا کارگر نسخہ خیال کرتی ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا؟ وہی جو پہلے چار فوجی انقلابات کے بعد ہوچکا ہے لیکن پانچویں بار میدان میں کودتے وقت فوج بتیس سالہ فوجی حکمرانی کے تباہ کن اثرات کو ذہن میں نہیں رکھے گی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی ایک نئے کلچر کو پروان چڑھانے میں سنجیدہ ہیں۔ اب تک انہوں نے حالات کے بگاڑ کو آرزوئے اقتدار کی سیڑھی نہیں بننے دیا۔ انہوں نے طفلان سیاست کی چہکار کو بھی لائق توجہ نہیں سمجھا۔ لیکن کراچی کی غارت گری کے حوالے سے عدلیہ کوئی توانا فیصلہ نہ دے سکی یا راستہ نہ سجھا پائی تو فوج پر یقیناً دباؤ بڑھے گا اور ممکن ہے جنرل کیانی اپنے ادارے کی اندرونی تپش کا مقابلہ نہ کرسکیں۔
یہ ایک مشکل صورتحال ہے۔ عدالت کو بہرحال آئین و قانون کے متعین دائرے میں رہنا ہے اور یہ دائرہ اتنا وسیع نہیں کہ عدلیہ خود انتظامیہ کے اختیارات سنبھال لے۔ اسے جو کچھ کہنا ہے انتظامیہ ہی سے کہنا ہے اور انتظامیہ کا احوال یہ ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین برس سے اس نے مجرموں کی سرکوبی کے بجائے ان کی سرپرستی اور تحفظ کا وظیفہ اپنا رکھا ہے۔ گزشتہ روز کی سماعت کے دوران جسٹس سرمد جلال عثمانی نے آئین کے آرٹیکل سترہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایک سیاسی جماعت اس آرٹیکل کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے لیکن حکومت خاموش ہے۔ میں نے یہ کالم لکھنے سے قبل آئین کی کتاب کھول کر اس کے آرٹیکل 17 کی ذیلی شق 2 کا مطالعہ کیا جو کہتی ہے کہ
”ہر شہری کو جو سروس آف پاکستان میں شامل نہیں، اپنی سیاسی جماعت بنانے یا کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا حق حاصل ہے لیکن یہ حق ان پابندیوں کے ساتھ مشروط ہوگا جو قانون کے تحت پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور سلامتی کے لئے عائد کی گئی ہوں اور یہ قانون اس امر کو یقینی بنائے گا کہ اگر کوئی ایسی سیاسی جماعت بنائی گئی ہے یا کام کر رہی ہے جو پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور سلامتی سے متصادم سرگرمیوں میں ملوث ہے تو وفاقی حکومت اس ضمن میں ایک ڈیکلریشن جاری کرے گی۔ اس ڈیکلریشن کے اجراء کے بعد پندرہ دن کے اندر اندر سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے گا جس پر عدالتی فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔“
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ، اہم ایجنسیوں اور مشترکہ تفتیشی ٹیموں کی رپورٹس دیکھنے، ڈی جی رینجرز کا بیان سننے اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لینے کے بعد، اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کراچی میں واقعی ایک ایسی سیاسی جماعت سرگرم ہے جس کا کردار پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور سلامتی کے منافی ہے تو وہ کیا کرسکتی ہے؟ آئین کے تحت یہ اختیار صرف وفاقی حکومت کے پاس ہے کہ وہ قومی مفادات سے متصادم کسی سیاسی پارٹی کے خلاف ڈیکلریشن جاری کر کے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرے۔ اگر وفاقی حکومت سب کچھ جاننے کے باوجود اس جماعت کے ساتھ مفاہمت اور شراکت، اپنے اقتدار اور سیاسی مفادات کے لئے ضروری خیال کرتی اور عدالت میں کوئی ریفرنس دائر نہیں کرتی تو کیا ہوگا؟ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت ایسی کئی مثالیں قائم کرچکی ہے۔ سب سے بڑی مثال پرویز مشرف کی ہے۔ عدالت نے اسے غاصب قرار دیا لیکن حکومت نے اس کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ دائر نہ کیا۔ این آر او مفاہمت، آئینی تقاضوں پہ غالب رہی، شطرنجی سیاست نے قومی مفاد کو پس پشت ڈال دیا۔
یہی ہے وہ المیہ جس سے کراچی ہی نہیں پورا ملک دو چار ہے۔ شطرنجی سیاست کے پھندے میں پھنسا اور مفاداتی مفاہمت کے شکنجے میں کسا موجودہ نظام، قانون و انصاف کے تقاضوں کو محترم سمجھتا ہے نہ ملکی حاکمیت اعلیٰ یا سلامتی کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے لئے پانچ سال تک اپنے اقتدار کو قائم رکھنا تمام دوسری ترجیحات سے بڑی ترجیح ہے۔ لہٰذا پی پی پی سے یہ توقع عبث ہے کہ سپریم کورٹ کے توجہ دلانے کے باوجود وہ آرٹیکل 17 کی زد میں آنے والی کسی سیاسی جماعت کا محاسبہ کرتے ہوئے اس کے خلاف کوئی ریفرنس دائر کرے گی۔ ایسا وہی حکمران جماعت کرسکتی ہے جسے قومی مفاد اپنے سیاسی مفاد سے کہیں زیادہ عزیز ہو۔ خفیہ ایجنسیوں اور مشترکہ تفتیشی ٹیموں کی مرتب کردہ چونکا دینے والی جو رپورٹس آج سپریم کورٹ کے سامنے ہیں، وہ پرویز مشرف کے علم میں بھی تھیں۔ اس نے اس ”انبار غلاظت“ پر ”سب سے پہلے پاکستان“ کا ڈھکنا رکھ دیا اور صدر زرداری نے اس پر”مفاہمت“ کی ریشمی چادر ڈال دی۔ دونوں نے اپنے سیاسی مفادات کو پاکستان کے مفادات سے مقدم جانا۔
کوئی کچھ بھی کہتا رہے، حقیقت یہی ہے کہ حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انتظامیہ پر قابض کل پرزوں نے ریاستی رٹ کی نگہبانی سے کہیں زیادہ پیپلز پارٹی کے مفادات کی پاسبانی شروع کر رکھی ہے۔ کراچی کی صورت حال، بگاڑ کی ساری حدیں پھلانگ چکی ہے۔ سبب وہی کہ پیپلز پارٹی ریاستی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو رہی۔ وہ اصلاح احوال کے جوہرہی سے محروم ہے۔ جسٹس عثمانی کا یہ جملہ اپنے اندر جہان فکر رکھتا ہے کہ ”حکومت ایک سیاسی جماعت کی نہیں ریاست کی نمائندگی کرے“۔ آئی جی سندھ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 1947ء سے 2001ء تک 54 برس کے دوران سندھ میں اسلحہ کے پچاس ہزار لائسنس جاری کئے گئے جبکہ 2001ء سے 2011ء تک کے دس سالوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ اسلحہ لائسنس جاری ہوچکے ہیں۔ ان دس سالوں میں مشرف کے ساڑھے چھ اور پی پی کے ساڑھے تین برس شامل ہیں۔ اندازہ لگا لیجئے کہ پاک فوج کو اپنی طاقت کا مرکز و محور بنانے والے ایک کمانڈر نے کراچی سے کیا سلوک کیا اور عوام کو طاقت کا سر چشمہ قرار دینے والی سیاسی جماعت کا طرز عمل کیا ہے؟
جناب چیف جسٹس کے یہ ریمارکس حوصلہ افزا ہیں کہ ”ہمارے فیصلے سے کراچی میں بہتری آئے گی“۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن کراچی کو محض ”بہتری“ سے آگے بھی بہت کچھ چاہئے۔ جب تک شہر کو لاقانونیت، تشدد اور جبر کے چنگل سے نجات نہیں ملتی اور غارت گری کے حقیقی محرکات کا مکمل سدباب نہیں کیا جاتا اس وقت تک عارضی اور جزوقتی بہتری ”ساحل کی ریت پہ بنے کسی گھروندے سے زیادہ نہ ہوگی جسے کوئی شریر سی موج آب ایک لمحے میں نابود کر دیتی ہے۔
Courtesy jang
SANA (South Asian News Agancy) | جانے کیوں دھڑکا سا لگا ہے؟ …