واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


جانے ہو کون ہیں۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-01-08, 02:56 PM   #1
جانے ہو کون ہیں۔
بلال عباسی بلال عباسی آف لائن ہے 13-01-08, 02:56 PM

یوں تو ہزاروں افراد روزانہ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ کوئی قدرتی طور پر اجل کا نشانہ بنتے ہیںاور کوئی روز مرہ ذندگی میں مختلف قسم کے حادثات کا شکارہوتے ہیں اور اس دنیا فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جو اپنی اجل کا باعث خود بنتے ہیں ۔ اسلام میں ایسے افراد کو حرام کی موت قرار دیا ہے اور ایسے افراد کے لیے بہت ہی عبرت ناک اور درد ناک عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان سمیت پوری دنیا میں خود کش دھماکوں کا خوف زور پکڑگیا ہے۔ یہ خود کش دھماکے کب اور کیسے شروع ہوئے تاریخ میں اس کے لیے کوئی خاص شواہد موجود نہیں ہیں۔ میری کم علمی کے مطابق سری لنکا کی باغیوں کی تنظیم تامل ٹائیگرز نے ان دھماکوں کی ابتداء کی ۔ بعض ماہرین کے مطابق دوسری جنگ عظیم میں کامی کازا پائیلٹس نے دشمن کو زیر کرنے کے لئے خود کش حملے کیے۔ یہ حملے کیسے اور کب شروع ہوئے اب یہ بحث پرانی ہو گئی ہے۔ ان خودکش دھماکوں میں آٓئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور پوری دنیا ان سے بچنے کے لیے کوشاں ہے۔ پچھلے چند سالوں سے ہمارے پیارے ملک پاکستان کو ان دھماکوں سے ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے اور آئے دن ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تاحال ان سے بچنے کا کوئی جامر یا اعلٰی دریافت نہیں ہوا جو ان کو روک سکے۔ جیسا کے میں بیان کر چکا ہوں کے ہمارا پیارا دین اسلام خودکشی کرنے والے کو حرام موت قرار دیتا ہے اور خودکشی کرنے والے کا جنازہ تک پڑنا جائز نہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ اسلام نے خود کشی کرنے والے کو سخت عذاب کی وعید سنائی ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی مرضی سے اس دنیا میں بھیجا ہے اور صرف اللہ پاک ہی کی ذات کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ انسان کو اپنی مرضی سے موت کے حوالے کرے۔جب کوئی انسان اپنی جان لینے کے کوشش کرتا ہے اور اسکے بدلے میں اگر وہ اپنی جان سے جاتا ہے تو ایک طرح سے وہ اللہ کے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے جو کہ اللہ کوہر گز پسند نہیں کہ انسان اسکے مقرر کردہ حدود سے آگے جائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب جب انسان نے اللہ سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی تو وہ فنا ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی جان لینا اسلام میں سخت ممنوع ہے اور ایسا کرنے والے کو دین اسلام میں کوئی جگہ نہیں ملتی۔
خودکشی اور خودکش دھماکہ کرنے والاایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں فرق صر ف اتنا ہوتا ہے کہ خودکشی کرنے والا صرف اپنی جان سے جاتا ہے جبکہ خودکش دھماکہ کرنے والاخود کشی کرنے والے سے کئی ہزار گنا ذیادہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے وہ نہ صرف اپنی جان سے جاتا ہے بلکہ اپنے ساتھ ساتھ بہت سی اور معصوم ذندگیوں کے چراغ بھی گل کردیتا ہے ۔ اگر خود کشی کرنے والے جہنمی ہوتے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب ہے تو ایسے بدنصیب کے لیے کیا عذاب ہو گا جو اپنے ساتھ ساتھ اور بہت سی بے گناہ ذندگیوں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔یہ کون لوگ ہیں جو اپنے آپ پر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ایسی گنائونی حرکت کرتے ہیں کیا یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے کا حق رکھتے ہیں کیا ان کاتعلق ایسے مذہب کے ساتھ ہو سکتا ہے جو نہ صرف اسکے ماننے والوں کی جانوں کی حفاظت کی ترغیب دیتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی جانوں کی بھی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ اگر اسلام میں خودکشی کرنا حرام ہے تو خودکش دھماکے کرنا کہاں جائز ہو گیا۔کیا ایسے لوگو ں کا تعلق پیارے نبی کو امت سے بنتا ہے ۔ کیا قیامت کے روز وہ یہ بات کہنے کا حق رکھتے ہیں ۔ کیا وہ آخرت میں پیارے نبی کی شفاعت حاصل کر سکیں گے۔ ایک کم علم ہونے کے ناطے میں ایسے افرا د کو مسلمان ماننے سے انکار کرتا ہوں
جوایسے بہت سے بے گنا ہ لوگوں کی جانوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں جو بہت سے گھرانوں کے چراغ گل کردیتے ہیں جو اپنے بوڑھے ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارہ ہوتے ہیں ۔ جنکی موت سے بہت سی بہنیں شادی کی آس توڑ بیٹھتی ہیں ۔ بہت سی بیوگی کی دلدل میں چلی جاتی ہیں ۔ جنکی موت سے ہزاروں کی تعداد میں بچوں کو یتیمی کی مہر لگ جاتی ہے۔ایسا شخص نہ تو کسی مسلمان سے مماثلت رکھ سکتاہے اور نہ ہی دین اسلام سے اسکا کو ئی واسطہ ہو سکتا ہے۔
ہمارا دین اسلام امن کا پیغام دیتا ہے اپنی جان مال عزت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی جان مال اور عزت کی حفاطت کا درس دیتاہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
"اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اورجس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی اورہمارے رسولوں ان کے پاس کھلے حکم لا چکے ہیں پھر بھی ان میں سے بہت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں" المائدہ آیت نمبر 32
مندرجہ بالا آٓیت کریمہ کسی مسلمان کی جان کی حفاظت کی ترغیب نہیں دیتی بلکہ تمام بنی نوع انسانی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ چاہے انسان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو اگر وہ بے گناہ ہے تو اسکی جان کسی نے لی تو گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔
مسلمانوں پر ہر گز یہ جائز نہیں کہ وہ بغیر اعلان جنگ کے کسی پر حملہ کریں اگر مسلمانوں اور کافروں کے درمیان کوئی جنگ ہو رہی ہو تومسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ عورتوں ، بوڑھوں ، بچوں اور فصلوں کو نقصان نہ پہنچاہیں۔ ایک ذہن یہ مانتا ہے کہ دوران جنگ دشمن پر حملہ کرنے اور اپنے دین کی حفاظت اور ناموس کی خاطر دشمن پر اس طرز کے حملے کیے جا سکتے ہیں لیکن یہ ظالم لوگ جب کسی جگہ پر خودکش دھماکے کرتے ہیں تو وہاں پر معصوم بچے ہوتے ہیں۔ عورتیں بھی اور بوڑھے بھی جبکہ دشمن کا کہیں پر دور دور تک نشان بھی نہیں ہوتا۔
پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں جو دھماکے ہو رہے ہیں ان میں ہزاروں بے گناہ ب افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ آخر ایسا شخص کیسے اپنے آپ کو راضی کر لیتا ہے کہ جوبہت سے بے گناہوں کی موت کا باعث بنتا ہے ۔میں کوئی عالم تو نہیں اور نہ کوئی فتویٰ جاری کر رہا ہوںلیکن نہ جانے میرا دل کیوں ایسا کرنے والے کو مسلمان ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کہ ہدایت دے جو دین کے نام پر ایسا قتل عام کر رہے ہیں اور اپنے آپ کے لیے درد ناک عذاب کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ تو وہ باتیں تھیں جو کسی خود کش بمبار کے متعلق کہی یا سنی جا سکتی ہیں اس کے علاو ہ اگر ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو ہمیں کچھ اور بھی نظر آئے گا۔بہت سے لوگ شاہد مجھ سے اتفاق نہ کریں اور نہ ہی میں انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہوں ۔ ایک سوال جو میرے ذہن میں بار بار اٹھ رہا ہے وہ یہ کیا واقعی خود کش دھماکے ہوتے ہیں یا کو ئی ان کو کرتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان میں ریموٹ کنٹرول اور ٹائم بم کے دھماکے ہوا کرتے تھے لیکن جب سے خودکش دھماکے شروع ہوئے ہیں یہ دونوں منظرعام سے غائب ہو گئے ہیں یا پھرکر دیے گئے ہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں ہر دھماکے کو خودکش دھماکے کا نام دے کر فائل ہمیشہ ہمیشہ بند کر دی جاتی ہے تاکہ ہماری پولیس کو اس میں مزید ٹائم پاس کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔کیا یہ خودکش دھماکے صرف پاکستان ، عراق اور افغانستان کی قسمت میں ہی لکھیں ہیں ۔یہ دھماکے امریکہ ، یورپ ، بھارت یا پھر اسرائیل میں کیوں نہیں ہو رہے میرا لکھنے کا ہر گزمقصد نہیں کہ ان ممالک میں بھی ایسا ہونا چاہیے۔ آپ ذرا اس بات پر غور کریں کہ اگر کسی جگہ پر کوئی دھماکہ ہوتا ہے ذرا پچھلے ہونے والے دھماکوں کو ہی لے ہی جیئے۔ اگر کسی بھی بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر ایسا ہول ناک دھماکہ ہو جس میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہوں تو ہماری پولیس بغیر تفتیش کیے بڑے آرام سے اسے خود کش قرا ر دے دیتی ہے اور الزام اس بچارے پر لگادیا جاتا ہے جو اس بم کے بہت قریب مو جود ہو اور شدید دھماکے کی وجہ سے اس کا سر دھڑ اور پورے کا پورا جسم تقسیم ہو گیا ہو تو ہماری پولیس اس بچارے کا سر لے کر ایک فرضی خاکہ بنا کر اس مرنے والے کو خود کش بمبار بنا کر مرنے والوں کے ساتھ ساتھ فائل کو بھی ہمیشہ ہمیشہ بند کر کے اپنی جان چھڑا لیتی ہے۔
شاہد آپ بھی اتفاق کریں کہ کرہ ارض پر پاکستان کو اگر کوئی ختم کرنا جاہتا ہے تو وہ بھارت ، امریکہ اور اسرائیل ہیں جنکی نظر میں ایک پرامن ملک پاکستان ان ممالک کے لیے مستقبل قریب میں خطرناک ہو سکتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کے بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیا ب نہیں ہو سکا۔ کسی ملک کو ختم کرنے کے لیے دشمن ملک کیا کیا تدابیر اختیا رکرتا ہے اس سے آپ سبھی واقف ہوں گے۔ ہر دشمن ملک کی خواہش ہوتی ہے کے اس کے دشمن ملک کو بدامنی ، نصل پرستی کی ہوا تیز کرے۔ اسکی کوشش ہوتی ہے کہ متعلقہ ملک مین کسی طور پر بھی امن نہ ہو تو وہ اس ملک میں اپنی ایجنسیوں کے ذریعے دھماکے کرواتا ہے، دھنگے کرواتا ہے، نصل پرستی کو اور ہوا دیتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اس کے لیے اس وقت بہت مشکل ہوتا ہے جب کسی ملک کے محافظ ادارے مکمل چاک و چوبند ہر ممکن طریقے سے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے تیار رہتے ہیں ۔ انکی بند آنکھیں بھی آنے والے خطرات کو بھانپ لیتی ہیں اور وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جس سے دشمن کی ہر چال الٹی ہو جاتی ہے اور دشمن بھی پھونک پھونک کر قدم رکھتاہے۔ لیکن جب دشمن کو یہ یقین ہو جائے کے اسی منعلقہ ملک کے محافظ ادارے بجائے ملک کی حفاظت کرنے کے سیاست میں بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں انکی کھلی آنکھوں کو بھی صاف صاف نہیں دیکھائی دیتا تو بھلا اس ملک کو دشمن ملک کے اندر افرا تفری ، ند امنی، اور دھماکے کرنے میں بھلا کیا مشکل پیش آئے گی۔ جس ملک کے محافظ ادارے اور خفیہ ایجنسیاں بجائے ملک کی حفاظت کرنے کے بجائے ملک کے مفاد پرست حکمرانوں کے کہنے پر مخالفین کی جاسوسی پر لگی ہوں۔بھلا دشمن ملک کو اس ملک میں ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے کیا مشکلات ہوں گی۔
ہمارے ملک پاکستان کے ساتھ بھی تقریباٌ یہی ہو رہا ہے دشمن پوری تیاری کے ساتھ بیٹھا ہے اور جب جب اسے موقع ملتا ہے وہ اپنا منصوبہ آرام سے پورا کر کے سار ی کی ساری ذمہ داری ہم پر ڈال کرخود بڑے مزے کے ساتھ تماشہ دیکھتا ہے۔ حالیہ دھماکوں کا اگر ہم بغور جائزہ لیں تو ان میں سرا سر پاکستانی سیاست کو ذمہ دار پاہیں گے۔ اگر ہماری حکومت پوری ذمہ داری سے اان کی تحقیقات کرے تو مجھے یقین ہے کہ ہم اصل مجرموں تک بہ آسانی پہنچ سکتے ہیں اور ان کی جڑوں کو کات سکتے ہیں جو پیارے ملک پاکستان کو ختم کرنے پر تلے ہیں۔لیکن ہماری حکومت ایسا کرنے سے قاصر ہیں کیوں کے حکومتی ارکان اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے سے قاصر ہیں انھوں نے ایک آسان طریقہ نکال لیا ہے کہ جب بھی کوئی دھماکہ ہوتا ہے اسے بڑے آرام سےآنکھیں بند کر کے خود کش دھماکے کا نام دے کر اور مرنے والوں کے لئے دو ہمدردی کے لفظ کہہ کر اپنے آپ کو بری ذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ آخر یہ سب کچھ کب تک چلتا رہے گا۔ کب تک پاکستانی عوام کا خون پانی کی طرح بہایا جائے گا۔ کب تک غریب فاقہ کشی سے تنگ آکر خودکشی کرتا رہے گا۔ کب تک ہم یوں ہی اپنی قسمت پر روتے رہیں گے۔ان سب کے پیچھے کون ہے اور کون اسکا ذمہ دار ہے۔اایک طرح سے اس سب کے ذمہ دار ہم خود پاکستانی عوام ہیں ۔ پاکستانی محافظ ادارے ہیں، پاکستانی خفیہ ایجنسیاں ہیں ، پاکستانی سیاست دان ہیں، پاکستانی بیورو کریٹس ہیں ہم سب نے مل کر پاکستان کے ساتھ غداری کی ہے ہم سب کے سب پاکستان کی تباہی کے ذمہ دار ہیں اور ہم ہی ہیں جنھوں نے پاکستان کو تبائی کے دھانے پر پہنچایا ہے۔ہم بڑی آسانی کے ساتھ حقیت سے آنکھیں چرا کر فرضی باتوں کا سہارہ لے لیتے ہیں لیکن ہم حقیقت کو چھپا نہیں سکتے ایک نہ ایک دن حقیقت کھل کر سامنے آہی جاتی ہے لیکن اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہو چکا ہوتا ہے اور ہم سوائے ہاتھ پاوٗں مارنے کے کچھ نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا آئے دن ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے اور ہم ہیں کہ دن بدن تزلی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ جب بھی پاکستان پر کوئی آنچ آئی تو اس کی قیمت غریب عوام نے چکائی اور پاکستان کے حکمران بڑے مزے سے بیرون دنیا بیٹھ کر تماشہ دیکھتے رہے۔ اب بھی وقت ہے کہ پانی سر سے اونچا نہیں ہوا ہمیں کچھ کرنا ہو گا نہیں تو ایک دفعہ پھر ہم ہاتھ پیر مارتے رہ جاہیں گے اور دشمن اپنا کام کر کے نکل جائے گا۔
ایک دفعہ پھر الیکشن کا دھونگ رچایا جا رہا ہے ۔ میری التجا سے ان طالبعلموں سے ، ان سیاسی و سماجی افرا د سے، اپنی بہنوں سے ، اپنی قوم کی ماؤں سے، ملک کے نوجوانوں سے کہ خدا را اس بار سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھائیں اپنے فائدے کو ملک پر ترجی نہ دیں۔ ووٹ دینے سے پہلے یہ سوچ لیجئے گا کہ یہ ووٹ قوم کی امانت ہے اور اسکے ساتھ خیانت نہ کیجے گا اسکی بار ایسے ملکی نمائندے چنئے گا جو کسی کسی نہ کسی طرح سے پاکستان کی خدمت کر سکیں۔ خداراہ اپنے ووٹ کا صیح سوچ سمجھ کر استعمال کیجے گا۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق دے اور ہماری آنکھوں پر بندہی لالچ کی پٹی کو اتارے۔ ہمارے ملک کی حفاظت کرے اور ہم سب کو صحیح معنوں میں اپنے ملک کی خدمت کرنے کا موقع دے۔

آمین۔

بلال عباسی
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 39
شکریہ: 5
14 مراسلہ میں 26 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 388
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بلال عباسی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (13-01-08), عرفان حیدر (14-01-08)
جواب

Tags
ٹائم بم, پیارے, پولیس, پاکستان, پاکستانی, پسند, قدم, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منصوبہ, ممکن, ماں, امریکہ, بچوں, خودکش, خودکشی, خدا, دھماکہ, دریافت, دعا, سیاست, سری لنکا


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی خارج از امکان نہیں۔ امریکہ ھارون اعظم خبریں 0 25-02-11 07:31 PM
پروفیشنل لوگو بنائیں۔ محمدخلیل سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 5 14-12-09 10:52 PM
پشاور میںہونے والے چند خوفناک دھماکے! دل پشاور خبریں 0 09-10-09 01:56 PM
معلومات درکار ہیں۔ مدثر محمود طالب علموں کی بیٹھک 2 15-09-08 02:28 AM
معالومات درکار ہیں۔۔ مدثر محمود طالب علموں کی بیٹھک 1 25-08-08 07:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:32 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger