واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


جرمنی سے ایک نصیحت آموز سبق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-08-11, 10:16 AM   #1
جرمنی سے ایک نصیحت آموز سبق
al-hashim al-hashim آف لائن ہے 13-08-11, 10:16 AM

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ


جرمنی سے ایک نصیحت آموز سبق



مال تمہاری ملکیت مگر وسائل معاشرے کی ملکیت ہوا کرتے ہیں



جرمنی ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔

میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔ ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ، اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو دل چاہ رہا ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔

ہم سب کی بھوک اپنے عروج پر تھی اور اسی بھوک کا حساب لگاتے ہوئے میرے دوستوں نے کھانے کا فراخدلی سے آرڈر لکھوایا۔ ریسٹورنٹ میں گاہکوں کے نا ہونے کی وجہ سے ہمارا کھانے لگنے میں زیادہ وقت نا لگا اور ہم نے بھی کھانے میں خیر سے کوئی خاص دیر نا لگائی۔

پیسے ادا کر کے جب ہم جانے کیلئے اُٹھے تو ہماری پلیٹوں میں کم از کم ایک تہائی کھانا ابھی بھی بچا ہوا تھا۔ باہر جانے کیلئے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ریسٹورنٹ میں موجود اُن بڑھیاؤں نے ہمیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔ ہم نے مڑ کر دیکھا تو وہ ساری اپنی جگہ کھڑی ہو کر زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اور ہم نے یہی اندازہ لگایا کہ اُنکا موضوع ہمارا ضرورت سے زیادہ کھانا طلب کرنا اور اس طرح بچا کر ضائع کرتے ہوئے جانا تھا۔ میرے دوست نے جواباً اُنہیں کہا کہ ہم نے جو کچھ آرڈر کیا تھا اُس کے پیسے ادا کر دیئے ہیں اور تمہاری اس پریشانی اور ایسے معاملے میں جس کا تم سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا میں دخل اندازی کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ ایک عورت یہ بات سُنتے ہی ٹیلیفون کی طرف لپکی اور کسی کو فوراً وہاں آنے کو کہا۔ ایسی صورتحال میں ہمارا وہاں سے جانا یا کھسک جانا ہمارے لیئے مزید مسائل کھڑے کر سکتا تھا اس لئے ہم وہیں ٹھہرے رہے۔

کچھ ہی دیر میں وہاں ایک باوردی شخص آیا جس نے اپنا تعارف ہمیں سوشل سیکیوریٹی محکمہ کے ایک افسر کی حیثیت سے کرایا۔ صورتحال کو دیکھ اور سن کر اُس نے ہم پر پچاس مارک کا جرما نہ عائد کر۔ اس دوران ہم چپ چاپ کھڑے رہے۔ میرے دوست نے آفیسر سے معذرت کرتے ہوئے پچاس مارک جرمانہ ادا کیا اور اس نے ایک رسید بنا کر میرے دوست کو تھما دی۔

آفیسر نے جرمانہ وصول کرنے کے بعد شدید لہجے میں ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ : آئندہ جب بھی کھانا طلب کرو تو اُتنا ہی منگواؤ جتنا تم کھا سکتے ہو۔ تمہارے پیسے تمہاری ملکیت ضرور ہیں مگر وسائل معاشرے کی امانت ہیں۔ اس دنیا میں ہزاروں لوگ ایسے بھی ہیں جو غذائی کمی کا شکار ہیں۔ تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کھانے پینے کی اشیاء کو اس طرح ضائع کرتے پھرو۔

بے عزتی کے احساس اور شرمساری سے ہمارے چہرے سرخ ہورہے تھے۔ ہمارے پاس اُس آفیسر کی بات کو سننے اور اس سے اتفاق کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ذہنی طور پر ہر اُس بات کے قائل ہو چکے تھے جو اُس نے ہمیں کہی تھیں۔ مگر کیا کریں ہم لوگ ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جو وسائل کے معاملے میں تو خود کفیل نہیں ہے مگر ہماری عادتیں کچھ اس طرح کی بن گئی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مہمان آ جائے تو اپنا منہ رکھنے کیلئے یا اپنی جھوٹی عزت یا خود ساختہ اور فرسودہ روایات کی پاسداری خاطر دستر خوان پر کھانے کا ڈھیر لگا دیں گے۔ نتیجتاً بہت سا ایسا کھانا کوڑے کے ڈھیر کی نظر ہوجاتا ہے جس کے حصول کیلیئے کئی دوسرے ترس رہے ہوتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی ان بری عادتوں کو تبدیل کریں اور نعمتوں کا اس طرح ضیاع اور انکا اس طرح سے کفران نا کریں۔

ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر میرے دوست نے سامنے کی ایک دکان سے جرمانے کی رسید کی فوٹو کاپیاں بنوا کر ہم سب کو اس واقعہ کی یادگار کے طور پر دیں تاکہ ہم گھر جا کر اسے نمایاں طور پر کہیں آویزاں کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ آئندہ کبھی بھی اس طرح کا اسراف نہیں کریں گے۔

جی ہاں! آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔

 
al-hashim's Avatar
al-hashim
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مقام: Islamabad
مراسلات: 72
شکریہ: 81
44 مراسلہ میں 85 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 343
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے al-hashim کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-11), فیصل ناصر (13-08-11), فاروق سرورخان (14-08-11), پاکستانی (14-08-11), ھارون اعظم (13-08-11), ننھا بچہ (14-08-11), نبیل خان (13-08-11), محمدمبشرعلی (16-08-11), مرزا عامر (14-08-11), معظم (14-08-11), حسن قادری (13-08-11), راجہ اکرام (13-08-11), شمشاد احمد (14-08-11), طاھر (14-08-11)
پرانا 13-08-11, 12:09 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,562
کمائي: 315,044
شکریہ: 25,210
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
واقعی بہت زبردست بات کی اس آفیسر نے
’’ آپکا مال یقیناً آپکی مِلکیت ہے مگر وسائل سارے معاشرے کیلئے ہیں۔‘‘

اس بات کو اگر پلو سے باندھ لیا جائے تو کتنے ہی وسائل بچائے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر شادی بیاہ کی رسموں میں اس بات کو یقینی بنانے کی زیادہ ضرورت ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
al-hashim (13-08-11), shafresha (14-08-11), فاروق سرورخان (14-08-11), شمشاد احمد (14-08-11), عروج (14-08-11)
پرانا 13-08-11, 12:10 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,562
کمائي: 315,044
شکریہ: 25,210
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 13-08-11, 01:50 PM   #4
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,569
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
مال تمہاری ملکیت مگر وسائل معاشرے کی ملکیت ہوا کرتے ہیں
السلام علیکم

اس کو ساتھ ملانے کے لئے جو کہانی لکھی گئی ھے وہ درست نہیں لگتی، یہ واقعہ سلیم کے بلاگ سے ھے اور اس نے اسے کسی عربی سائٹ سے ٹرانسلیٹ و نقل کیا ھے۔ یہاں پر یہ واقعہ بھی ھے اور تصویر بھی لگی ہوئی ھے۔

اگر اجازت ہو تو اس کہانی پر تبصرہ کیا جائے۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-11), ھارون اعظم (13-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 13-08-11, 03:10 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,461
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,505 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب واقعہ کہیں بھی پیش آیا ہو۔ ہے عبرت امیز
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
al-hashim (13-08-11), shafresha (14-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 13-08-11, 03:18 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,461
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,505 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب کہانی جہاں کہیں کی بھی ہو ہے سبق آموز
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 13-08-11, 03:37 PM   #7
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
کمائي: 22,536
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مال تمہاری ملکیت مگر وسائل معاشرے کی ملکیت ہوا کرتے ہیں

Name:  image-01.jpg
Views: 91
Size:  60.7 KB
مجھے کل ہی اس کالم کی میل ریسیو ہوئی تھی
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-11), کنعان (14-08-11), مرزا عامر (14-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 14-08-11, 02:39 PM   #8
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,731
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہتاب مراسلہ دیکھیں
مال تمہاری ملکیت مگر وسائل معاشرے کی ملکیت ہوا کرتے ہیں

مجھے کل ہی اس کالم کی میل ریسیو ہوئی تھی
اس سمیت دیگر تصاویر اس فورم پر پہلے ہی شیئر کی جاچکی ہیں!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 14-08-11, 02:54 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بات وزن رکھتی ھے
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
al-hashim (14-08-11), شمشاد احمد (14-08-11)
پرانا 14-08-11, 03:37 PM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
سر ورق کے لیے اپلائی کریں
پير صاحب خير ہے ۔۔۔۔يوں غير كي سلطنت ميں دخل اندازي كہيں نزلہ نہ گر جائے كم از كم الفاظ كے‌انتخاب سے‌تو محسوس ہونے‌ديتے كہ سركار آخر كو سركار ہے
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-08-11, 03:40 PM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

اس کو ساتھ ملانے کے لئے جو کہانی لکھی گئی ھے وہ درست نہیں لگتی، یہ واقعہ سلیم کے بلاگ سے ھے اور اس نے اسے کسی عربی سائٹ سے ٹرانسلیٹ و نقل کیا ھے۔ یہاں پر یہ واقعہ بھی ھے اور تصویر بھی لگی ہوئی ھے۔

اگر اجازت ہو تو اس کہانی پر تبصرہ کیا جائے۔

والسلام
اجازت ہے جي۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (14-08-11)
پرانا 14-08-11, 04:44 PM   #12
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,569
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

جو پروفیشنل کہانی نویس ہوتے ہیں وہ جب بھی کسی کی حقیقت کو کیچ کرتے ہیں یا موحول کو سامنے رکھ کر کوئی کہانی لکھتے ہیں تو اس کی تحریر میں ہر طرح کا بیلنس ہوتا ھے کہیں بھی کوئی بات دائرہ سے باہر نہیں ہوتی۔

اب یہ آپ بیتی جو عربی نے بیان کی ھے ہم عربی کا لفظ نکال کر مسلمان لکھ دیتے ہیں جو کسی بھی ملک کا ہو سکتا ھے، ایک مسلم طالب علمی کے زمانہ میں فارن تعلیم اور سفر کے حوالہ سے اگر میں اسے دیکھتا ہوں تو حقیقت کم اور کہانی زیادہ اور وہ بھی ایسی کہ جس پر یقین کرنا میرے لئے مشکل ھے۔ اس پر میں مختصر حوالہ پیش کروں گا جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا اور اگر میری تحریر بھی سمجھ نہ آئے تو اسے بھی ریجیکٹ کر سکتے ہیں۔

------------------------------------

آپ کسی بھی ملک میں پہلی مرتبہ جائیں اگر آپکا وہاں پر کوئی رشتہ دار ہو اگر نہیں تو کوئی دوست اگر وہ بھی نہیں تو کوئی کسی کی وساطت سے ہی دس ہاتھ سے ہی جانتا ہو وہ آپکو ائرپورٹ میں لینے آئے یا آپ ائرپورٹ سے ٹرین میں اس کے گھر چلے جائیں وہ آپکو اگر ریسٹورنٹ میں کھانے کے لئے لے کر جاتا ھے تو وہ پاکستانی ریسٹورنٹ میں آپکو لے کر جائے گا کیونکہ وہاں حلال کھانا ملتا ھے۔ وہ وہاں پر پہلے سے رہائشی ھے اور وہاں کے قانون جانتا ھے اس لئے اسے معلوم ھے کہ کھانا کھانے پر جرمانہ ہوتا ھے کہ نہیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ جو کچھ جانتا ھے وہ لازمی آپ کو اس پر بیسک انفارمیشن فراہم کرے گا کہ یہاں‌ کیا کیا کس طرح ھے اور کن باتوں سے پرہیز کرنا ھے اور کونسی میں کوئی مشکل نہیں۔

جو پہلے سے جرمنی یا یورپ کی کسی بھی سٹیٹ میں رہ رہا ھے وہ آپکو مسلمز ریسٹورنٹس میں لے کر جائے گا کبھی بھی جرمنی، یا یورپئن ریسٹورنٹس میں نہیں لے کر جائے گا کیونکہ وہ جانتا ھے کہ آنے والا بھی مسلمان ھے۔

اگر یہ خیال کریں کے اس کے دوست چیٹ والے جرمنی بھی ہو سکتے ہیں اور وہ اسے جرمنی ریسٹورنٹس میں لے گئے تو یہاں ریسٹورنٹس میں بیٹھتے ہی مینیو فراہم کی جاتی ھے جس پر تمام کھانوں کی تفصیل لکھی ہوتی ھے اس لئے کوئی بھی کھانا ایسا نہیں جس کا آرڈر دیا جائے ماسوائے انڈا فرائی کے اور وہ بھی اسی تیل میں فرائی ہو گا جس میں پگ کے سلائس بھی فرائی ہوتے ہیں اور انڈا کی پلیٹ ٹیبل پر رکھتے ہی اتنی بدبو آئے گی کہ ہو سکتا ھے وہیں قے آ جائے۔

ریسٹورنٹس ہوں، سٹورز و شاپس یہاں پر کسٹمرز سروس اولین ترجیع ھے۔ جس پر جابز کے حوالہ سے مالکان اپنے ورکرز کو کسٹمر سروس کے حوالہ سے سپیشل ٹریننگ فراہم کرتے ہیں کہ کوئی بھی سٹاف ممبر ہو یا مالک اپنے کسٹمر کے کسی بھی رویہ کو ہر حال برداشت کرتا ھے اور جھگڑا کی صورت میں بی پولائٹ 3 وارننگ ہوتی ہیں اس کے بعد پولیس کال کی جا سکتی ھے ورنہ اسے بھی خود ہی اچھے طریقہ سے حل کرتے ہیں بلکہ 20 کسٹمرز کو کھانا فری میں ہی کیوں نہ دینا پڑے۔

ریسٹورنٹ کے حوالہ سے جس عورت نے کہیں فون کیا اور کسی کو وہاں آنے کو کہا، کسٹمر سروس ابیوز کہتے ہیں اسے یہاں پر۔

کوئی باوردی آیا اور اس نے اپنا تعارف سوشل سکیورٹی سے کروایا اس پر پہلی بات یہ کہ سوشل سکیورٹی کا اس میں کوئی کام نہیں یہ محکمہ فنڈز، بینیفٹس اور اسی جیسے اور کام کی ڈیل کرتا ھے اور عام کپڑوں میں ہوتے ہیں ان کا کوئی وردی سسٹم نہیں۔ ریسٹورنٹس کے حوالہ سے ریسٹورنٹس بلڈنگ و کھانا پر کسی بھی قسم کی کوئی شکایت ہو تو اسے کونسل/ میونسپیلیٹی ڈیل کرتی ھے بھلہ جرمانہ ہی کیوں نہ ہو مگر وہ ریسٹورنٹس آنر کو نہ کہ کسٹمرز کو۔ اور جرمانہ پر بھی کچھ ٹرمز ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-11), فیصل ناصر (14-08-11), پاکستانی (14-08-11), ننھا بچہ (14-08-11), مہتاب (14-08-11), منتظمین (14-08-11), محمدمبشرعلی (16-08-11), طاھر (14-08-11)
پرانا 16-08-11, 11:39 AM   #13
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,442
کمائي: 21,445
شکریہ: 2,638
1,001 مراسلہ میں 2,160 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نہایت اچھی اور شبق آموز تحریر ہے سرورق کے لیے اپلائی کیا جائے
محمدمبشرعلی آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, کیلئے, کتنے, یقینی, یقیناً, ورق, وسائل, لیا, مگر, مال, معاشرے, آفیسر, آپکی, آپکا, السلام, باندھ, جائے, خاص, رسموں, زیادہ, زبردست, سارے, شادی, ضرورت, طور


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تمام انسانوں تک نبی ا کا پیغام پہنچایاجائے،پیرنصیر الدین نصیر عبدالقدوس خبریں 1 19-05-11 09:12 AM
اہم تنصیبات اور شخصیات پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے لشکر جھنگوی کے سات دہشت گرد گرفتار جاویداسد خبریں 0 14-10-10 03:08 PM
نصیب اپنا تیرے نصیب سے شیراز احمد شاعری اور مصوری 2 24-07-09 10:01 AM
نصیحت آموز کہانی خرم شہزاد خرم اردو کہانیاں 7 27-10-08 10:52 AM
فرخ نصیر کے انتقال پر ممتاز شخصیات کا اظہار تعزیت عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 01:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger