جستجو / طنز و مزاح
محبّت کا ایک پراسرار میچ
اب ایک ’انڈین۔پاکستانی پریم لیگ‘ بھی قائم کرناضروری ہوگیا ہے
محمد بن قاسم

پاکستانی کرکٹر حضرات وہ واحد پروفیشنلز ہیں جو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف وعدے وعید کے بل بوتہ پر پیسہ کماتے ہیں۔ میچ ہرائیں، یا غلطی سے جتائیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ایک اچھے لیڈر کی جو صفات اور اقدار ہونی چاہئیں وہ ان میں ناپید ہیں۔ موجودہ پاکستانی قومی کرکٹ کیپٹن صاحب سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی یہ چھکّا لگا دیتے ہیں کہ ہم جیتنے کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ جب یہ حضرت ابتداء ہی غلط کریں گے، اور اہداف و مقاصد کے لیے عزم کا اظہار نہیں کریں گے تو دیگر ٹیم کے ارکان کو کس طرح ترغیب، حوصلہ اور بڑھاوا دیں گے؟ چنانچہ اس پس منظر میں شعیب ملک کا یہ بیان خاصہ معنی خیز اور سمجھ میں آنے والا ہے کہ بھئی، ہندوستانی لڑکی، عائشہ صدیقی، سے صرف شادی کا وعدہ ہی تو کیا تھا، کوئی شرعی اسلامی شادی تو نہیں کی تھی۔ گویا کہ ان کرکٹیوں کے وعدے تو ہوتے ہی کچے ہیں۔ یہ ایک شرمناک صورت حال ہے۔ ایک مثالی نظم و ضبط کے ماحول میں ایسے بیانات کی قوم کو شدید مذمّت کرنی چاہیے، اور اس معاملہ کا فیصلہ ہونے تک شعیب ملک کو خود ہی ٹیم کی رہنمائی سے گریز کرنا چاہیے۔ فی الحال تو یہ صاف لگ رہا ہے کہ شعیب ملک گگلی پہ گگلی پھینک رہے ہیں اور وہ گیندیں ہندوستانی صدیقی خاندان کو سمجھ نہیں آرہی ہیں۔ دیکھیں، آخر میں ایکشن ری پلے اور میچ ریفری کیا فیصلہ دیتے ہیں۔ اگر اس ہندوستانی لڑکی کا بقول شعیب ملک صاحب کے ایک بلائنڈ کیچ لیا تھا، اور گیند کو اپنی جانب آتے دیکھا ہی نہیں تھا، اور یہ کہ جسے وہ کرکٹ کی چمکتی ہوئی سرخ و سفید چست گیند سمجھے تھے وہ ہاتھوں میں آنے پرایک پھولی ہوئی فٹ بال نکلی، تب بھی وہ خود ہی اس وکٹ کے لینے کے ذمّہ دار ہیں۔ انہیں چاہیے تھا کہ اس اہم موقع پر اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھتے۔ مگروہ اپنے آپ کو کسی ایسے کرکٹ میچ میں پچ پر محسوس کررہے تھے جہاں ایک محدود اوورز کے میچ کے دوسرے روز ہی تماشائی اس میچ کے نتیجہ کے بارے میں بھول جاتے ہیں۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ایسے میچ زندگی بھررلاتے ہیں۔ اس واقعہ کے پیش منظر میں اور ہمارے دیگر کھلاڑیوں کے’ کرکٹتوت‘ دیکھ اور سن کریہ امکان نظر آتا ہے کہ چونکہ ہمارے خاصے بوڑھے اور نظرانداز کردہ جوان کھلاڑی بھی انڈین پریمیئرکرکٹ لیگ میںجوق درجوق شمولیت اختیار کررہے ہیں، اب ایک عدد ’انڈین۔پاکستانی پریم لیگ‘ کا قیام بھی عمل میں آہی جانا چاہیے، جہاں اسی نوعیت کے دل چسپ روز و شب (ڈے اینڈ نائٹ) لائیو میچ کرائے جائیں۔
دوستو، ہم آپ کے لیے ابھی پاکستانی کرکٹ پر یہ سطور لکھ ہی رہے تھے کہ ہم پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی ویژن) دیکھ بیٹھے۔ پی سی بی (پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے پی ٹی وی کے ایک مذاکراتی پروگرام، سلیم صافی کے ساتھ، میں یہ استدلال پیش کیا کہ ہماری ٹیم کے کھلاڑی غیرملکی کوچ کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اور یہ کہ اگر کوچ پاکستانی ہو تو وہ سفارش اور تعصبات کے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ اگر یہ دلیل مان لی جائے تو نہ صرف تمامتر پی سی بی، بشمول چیئرمین، بلکہ ٹیم بھی غیرملکیوں پر مشتمل ہونی چاہیے۔ یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستانیوں پر کسی بھی معاملہ میں اعتبار کرنا دشوار امر ہے۔ اگر اس استدلال کو تجزیہ کے ساتھ معاشرہ کے تمام طبقات پر منطبق کردیا جائے تو پاکستان کے تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ پاکستان میں صرف غیرملکیوں کو لا بسایا جائے۔ ابن انشاء تو اپنی ’اردو کی آخری کتاب‘ میں یہ کہہ کر ہی چل بسے کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں پاکستانی قوم کے علاوہ تمام قومیت کے لوگ ہنستے بستے ہیں۔۔۔ جس کا مطلب آپ میں سے جو عقلمند ہیں وہ سمجھ ہی گئے ہوں گے، اور احمقوں کو ہم سمجھا دیتے ہیں کہ جو پاکستانی ہیں وہ ہنستے بستے نہیں بلکہ روتے دھوتے ہیں۔ واقعی کتنا کڑوا سچ ہے یہ۔ اب آپ اپنی رائے اس بارے میں ہمیں بتائیں۔ اور جب تک ہم ستم ظریف ابن انشاءمرحوم کا یہ مصرعہ گنگناتے ہیں :
انشاءجی اٹھو، اب ”کوچ“ ُ کرو ، اس شہر میں جی کولگانا کیا
جاتے جاتے ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ انشاءجی کوشاعری کے مقابلہ میں برسوں پہلے ہی کرکٹ کوچنگ جیسے پرکشش اورذمہ داریوں سے مبرّا محفوظ پیشہ کا خیال کیسے آگیا تھا !
٭
منگل،19 فروری 2008 ء
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
دیکھیے اب ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں
Copy Right © 2008 - A syndicated essay by Justuju Research and Publishing - All Rights Reserved
The Intellectual Property Rights are asserted under the Pakistani and International Copyright Laws -- The writer and the syndicating agency, Justuju Research and Publishing Agency, hereby grant a permission for publication and reproduction of this article under a "Fair usage" universal license non commercial agreement. This piece must be published "as is" to qualify for this license
٭