واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


جستجو / طنز و مزاح : محبت کا ایک پراسرار میچ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-03-08, 11:05 PM   #1
جستجو / طنز و مزاح : محبت کا ایک پراسرار میچ
Hashims Hashims آف لائن ہے 02-03-08, 11:05 PM

جستجو / طنز و مزاح

محبّت کا ایک پراسرار میچ

اب ایک ’انڈین۔پاکستانی پریم لیگ‘ بھی قائم کرناضروری ہوگیا ہے

محمد بن قاسم


پاکستانی کرکٹر حضرات وہ واحد پروفیشنلز ہیں جو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف وعدے وعید کے بل بوتہ پر پیسہ کماتے ہیں۔ میچ ہرائیں، یا غلطی سے جتائیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ایک اچھے لیڈر کی جو صفات اور اقدار ہونی چاہئیں وہ ان میں ناپید ہیں۔ موجودہ پاکستانی قومی کرکٹ کیپٹن صاحب سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی یہ چھکّا لگا دیتے ہیں کہ ہم جیتنے کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ جب یہ حضرت ابتداء ہی غلط کریں گے، اور اہداف و مقاصد کے لیے عزم کا اظہار نہیں کریں گے تو دیگر ٹیم کے ارکان کو کس طرح ترغیب، حوصلہ اور بڑھاوا دیں گے؟ چنانچہ اس پس منظر میں شعیب ملک کا یہ بیان خاصہ معنی خیز اور سمجھ میں آنے والا ہے کہ بھئی، ہندوستانی لڑکی، عائشہ صدیقی، سے صرف شادی کا وعدہ ہی تو کیا تھا، کوئی شرعی اسلامی شادی تو نہیں کی تھی۔ گویا کہ ان کرکٹیوں کے وعدے تو ہوتے ہی کچے ہیں۔ یہ ایک شرمناک صورت حال ہے۔ ایک مثالی نظم و ضبط کے ماحول میں ایسے بیانات کی قوم کو شدید مذمّت کرنی چاہیے، اور اس معاملہ کا فیصلہ ہونے تک شعیب ملک کو خود ہی ٹیم کی رہنمائی سے گریز کرنا چاہیے۔ فی الحال تو یہ صاف لگ رہا ہے کہ شعیب ملک گگلی پہ گگلی پھینک رہے ہیں اور وہ گیندیں ہندوستانی صدیقی خاندان کو سمجھ نہیں آرہی ہیں۔ دیکھیں، آخر میں ایکشن ری پلے اور میچ ریفری کیا فیصلہ دیتے ہیں۔ اگر اس ہندوستانی لڑکی کا بقول شعیب ملک صاحب کے ایک بلائنڈ کیچ لیا تھا، اور گیند کو اپنی جانب آتے دیکھا ہی نہیں تھا، اور یہ کہ جسے وہ کرکٹ کی چمکتی ہوئی سرخ و سفید چست گیند سمجھے تھے وہ ہاتھوں میں آنے پرایک پھولی ہوئی فٹ بال نکلی، تب بھی وہ خود ہی اس وکٹ کے لینے کے ذمّہ دار ہیں۔ انہیں چاہیے تھا کہ اس اہم موقع پر اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھتے۔ مگروہ اپنے آپ کو کسی ایسے کرکٹ میچ میں پچ پر محسوس کررہے تھے جہاں ایک محدود اوورز کے میچ کے دوسرے روز ہی تماشائی اس میچ کے نتیجہ کے بارے میں بھول جاتے ہیں۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ایسے میچ زندگی بھررلاتے ہیں۔ اس واقعہ کے پیش منظر میں اور ہمارے دیگر کھلاڑیوں کے’ کرکٹتوت‘ دیکھ اور سن کریہ امکان نظر آتا ہے کہ چونکہ ہمارے خاصے بوڑھے اور نظرانداز کردہ جوان کھلاڑی بھی انڈین پریمیئرکرکٹ لیگ میںجوق درجوق شمولیت اختیار کررہے ہیں، اب ایک عدد ’انڈین۔پاکستانی پریم لیگ‘ کا قیام بھی عمل میں آہی جانا چاہیے، جہاں اسی نوعیت کے دل چسپ روز و شب (ڈے اینڈ نائٹ) لائیو میچ کرائے جائیں۔
دوستو، ہم آپ کے لیے ابھی پاکستانی کرکٹ پر یہ سطور لکھ ہی رہے تھے کہ ہم پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی ویژن) دیکھ بیٹھے۔ پی سی بی (پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے پی ٹی وی کے ایک مذاکراتی پروگرام، سلیم صافی کے ساتھ، میں یہ استدلال پیش کیا کہ ہماری ٹیم کے کھلاڑی غیرملکی کوچ کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اور یہ کہ اگر کوچ پاکستانی ہو تو وہ سفارش اور تعصبات کے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ اگر یہ دلیل مان لی جائے تو نہ صرف تمامتر پی سی بی، بشمول چیئرمین، بلکہ ٹیم بھی غیرملکیوں پر مشتمل ہونی چاہیے۔ یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستانیوں پر کسی بھی معاملہ میں اعتبار کرنا دشوار امر ہے۔ اگر اس استدلال کو تجزیہ کے ساتھ معاشرہ کے تمام طبقات پر منطبق کردیا جائے تو پاکستان کے تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ پاکستان میں صرف غیرملکیوں کو لا بسایا جائے۔ ابن انشاء تو اپنی ’اردو کی آخری کتاب‘ میں یہ کہہ کر ہی چل بسے کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں پاکستانی قوم کے علاوہ تمام قومیت کے لوگ ہنستے بستے ہیں۔۔۔ جس کا مطلب آپ میں سے جو عقلمند ہیں وہ سمجھ ہی گئے ہوں گے، اور احمقوں کو ہم سمجھا دیتے ہیں کہ جو پاکستانی ہیں وہ ہنستے بستے نہیں بلکہ روتے دھوتے ہیں۔ واقعی کتنا کڑوا سچ ہے یہ۔ اب آپ اپنی رائے اس بارے میں ہمیں بتائیں۔ اور جب تک ہم ستم ظریف ابن انشاءمرحوم کا یہ مصرعہ گنگناتے ہیں :

انشاءجی اٹھو، اب ”کوچ“ ُ کرو ، اس شہر میں جی کولگانا کیا

جاتے جاتے ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ انشاءجی کوشاعری کے مقابلہ میں برسوں پہلے ہی کرکٹ کوچنگ جیسے پرکشش اورذمہ داریوں سے مبرّا محفوظ پیشہ کا خیال کیسے آگیا تھا !
٭
منگل،19 فروری 2008 ء

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
دیکھیے اب ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں

Copy Right © 2008 - A syndicated essay by Justuju Research and Publishing - All Rights Reserved
The Intellectual Property Rights are asserted under the Pakistani and International Copyright Laws -- The writer and the syndicating agency, Justuju Research and Publishing Agency, hereby grant a permission for publication and reproduction of this article under a "Fair usage" universal license non commercial agreement. This piece must be published "as is" to qualify for this license
٭

Last edited by Hashims; 02-03-08 at 11:09 PM..

 
Hashims's Avatar
Hashims
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 54
شکریہ: 0
27 مراسلہ میں 61 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 306
Reply With Quote
Hashims کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (22-03-08)
پرانا 03-03-08, 03:20 AM   #2
Senior Member
 
وجدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 30
مراسلات: 1,284
کمائي: 25,146
شکریہ: 919
594 مراسلہ میں 1,518 بارشکریہ ادا کیا گیا
وجدان کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں وجدان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جستجو / طنز و مزاح : محبت کا ایک پراسرار میچ

بہت خوب جناب، اچھا لکھا بلکہ چھکا لکھا۔
وجدان آف لائن ہے   Reply With Quote
وجدان کا شکریہ ادا کیا گیا
احمدنواز (08-12-09)
پرانا 22-03-08, 03:51 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: جستجو / طنز و مزاح : محبت کا ایک پراسرار میچ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Hashims مراسلہ دیکھیں
جستجو / طنز و مزاح

محبّت کا ایک پراسرار میچ

اب ایک ’انڈین۔پاکستانی پریم لیگ‘ بھی قائم کرناضروری ہوگیا ہے

محمد بن قاسم


پاکستانی کرکٹر حضرات وہ واحد پروفیشنلز ہیں جو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف وعدے وعید کے بل بوتہ پر پیسہ کماتے ہیں۔ میچ ہرائیں، یا غلطی سے جتائیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔
ایک اچھے لیڈر کی جو صفات اور اقدار ہونی چاہئیں وہ ان میں ناپید ہیں۔ موجودہ پاکستانی قومی کرکٹ کیپٹن صاحب سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی یہ چھکّا لگا دیتے ہیں کہ ہم جیتنے کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ جب یہ حضرت ابتداء ہی غلط کریں گے، اور اہداف و مقاصد کے لیے عزم کا اظہار نہیں کریں گے تو دیگر ٹیم کے ارکان کو کس طرح ترغیب، حوصلہ اور بڑھاوا دیں گے؟ چنانچہ اس پس منظر میں شعیب ملک کا یہ بیان خاصہ معنی خیز اور سمجھ میں آنے والا ہے کہ بھئی، ہندوستانی لڑکی، عائشہ صدیقی، سے صرف شادی کا وعدہ ہی تو کیا تھا، کوئی شرعی اسلامی شادی تو نہیں کی تھی۔ گویا کہ ان کرکٹیوں کے وعدے تو ہوتے ہی کچے ہیں۔ یہ ایک شرمناک صورت حال ہے۔ ایک مثالی نظم و ضبط کے ماحول میں ایسے بیانات کی قوم کو شدید مذمّت کرنی چاہیے، اور اس معاملہ کا فیصلہ ہونے تک شعیب ملک کو خود ہی ٹیم کی رہنمائی سے گریز کرنا چاہیے۔ فی الحال تو یہ صاف لگ رہا ہے کہ شعیب ملک گگلی پہ گگلی پھینک رہے ہیں اور وہ گیندیں ہندوستانی صدیقی خاندان کو سمجھ نہیں آرہی ہیں۔ دیکھیں، آخر میں ایکشن ری پلے اور میچ ریفری کیا فیصلہ دیتے ہیں۔ اگر اس ہندوستانی لڑکی کا بقول شعیب ملک صاحب کے ایک بلائنڈ کیچ لیا تھا، اور گیند کو اپنی جانب آتے دیکھا ہی نہیں تھا، اور یہ کہ جسے وہ کرکٹ کی چمکتی ہوئی سرخ و سفید چست گیند سمجھے تھے وہ ہاتھوں میں آنے پرایک پھولی ہوئی فٹ بال نکلی، تب بھی وہ خود ہی اس وکٹ کے لینے کے ذمّہ دار ہیں۔ انہیں چاہیے تھا کہ اس اہم موقع پر اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھتے۔ مگروہ اپنے آپ کو کسی ایسے کرکٹ میچ میں پچ پر محسوس کررہے تھے جہاں ایک محدود اوورز کے میچ کے دوسرے روز ہی تماشائی اس میچ کے نتیجہ کے بارے میں بھول جاتے ہیں۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ایسے میچ زندگی بھررلاتے ہیں۔ اس واقعہ کے پیش منظر میں اور ہمارے دیگر کھلاڑیوں کے’ کرکٹتوت‘ دیکھ اور سن کریہ امکان نظر آتا ہے کہ چونکہ ہمارے خاصے بوڑھے اور نظرانداز کردہ جوان کھلاڑی بھی انڈین پریمیئرکرکٹ لیگ میںجوق درجوق شمولیت اختیار کررہے ہیں، اب ایک عدد ’انڈین۔پاکستانی پریم لیگ‘ کا قیام بھی عمل میں آہی جانا چاہیے، جہاں اسی نوعیت کے دل چسپ روز و شب (ڈے اینڈ نائٹ) لائیو میچ کرائے جائیں۔
دوستو، ہم آپ کے لیے ابھی پاکستانی کرکٹ پر یہ سطور لکھ ہی رہے تھے کہ ہم پی ٹی وی (پاکستان ٹیلی ویژن) دیکھ بیٹھے۔ پی سی بی (پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے پی ٹی وی کے ایک مذاکراتی پروگرام، سلیم صافی کے ساتھ، میں یہ استدلال پیش کیا کہ ہماری ٹیم کے کھلاڑی غیرملکی کوچ کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اور یہ کہ اگر کوچ پاکستانی ہو تو وہ سفارش اور تعصبات کے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ اگر یہ دلیل مان لی جائے تو نہ صرف تمامتر پی سی بی، بشمول چیئرمین، بلکہ ٹیم بھی غیرملکیوں پر مشتمل ہونی چاہیے۔ یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستانیوں پر کسی بھی معاملہ میں اعتبار کرنا دشوار امر ہے۔ اگر اس استدلال کو تجزیہ کے ساتھ معاشرہ کے تمام طبقات پر منطبق کردیا جائے تو پاکستان کے تمام مسائل کا حل یہی ہے کہ پاکستان میں صرف غیرملکیوں کو لا بسایا جائے۔ ابن انشاء تو اپنی ’اردو کی آخری کتاب‘ میں یہ کہہ کر ہی چل بسے کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں پاکستانی قوم کے علاوہ تمام قومیت کے لوگ ہنستے بستے ہیں۔۔۔ جس کا مطلب آپ میں سے جو عقلمند ہیں وہ سمجھ ہی گئے ہوں گے، اور احمقوں کو ہم سمجھا دیتے ہیں کہ جو پاکستانی ہیں وہ ہنستے بستے نہیں بلکہ روتے دھوتے ہیں۔ واقعی کتنا کڑوا سچ ہے یہ۔ اب آپ اپنی رائے اس بارے میں ہمیں بتائیں۔ اور جب تک ہم ستم ظریف ابن انشاءمرحوم کا یہ مصرعہ گنگناتے ہیں :

انشاءجی اٹھو، اب ”کوچ“ ُ کرو ، اس شہر میں جی کولگانا کیا

جاتے جاتے ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ انشاءجی کوشاعری کے مقابلہ میں برسوں پہلے ہی کرکٹ کوچنگ جیسے پرکشش اورذمہ داریوں سے مبرّا محفوظ پیشہ کا خیال کیسے آگیا تھا !
٭
منگل،19 فروری 2008 ء

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
دیکھیے اب ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں

Copy Right © 2008 - A syndicated essay by Justuju Research and Publishing - All Rights Reserved
The Intellectual Property Rights are asserted under the Pakistani and International Copyright Laws -- The writer and the syndicating agency, Justuju Research and Publishing Agency, hereby grant a permission for publication and reproduction of this article under a "Fair usage" universal license non commercial agreement. This piece must be published "as is" to qualify for this license
٭
اپ نے چھکا نہیں بلکے چھکو کی ہیٹ ٹرک کر دی ہے۔ جس دن ہماری قوم کا حافظہ ٹھیک ہو گیا اس دن ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
احمدنواز (08-12-09)
جواب

Tags
com, commercial, images, pakistani, لوگ, موقع, موجودہ, مقابلہ, محبت, مزاح, مسائل, معاشرہ, الزام, اسلامی, جواب, حل, حال, حضرات, دل, زندگی, شہر, صفات, صاف, صافی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 2 23-02-12 06:09 PM
اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد کنعان دیس ہوئے پردیس 4 12-12-09 11:55 PM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger