واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


جشن آزادی کے ساٹھ سال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-08-07, 07:55 PM   #1
جشن آزادی کے ساٹھ سال
بلال عباسی بلال عباسی آف لائن ہے 18-08-07, 07:55 PM

شروع اللہ کے نام سےجوبہت بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اسلام علیکم۔
زخم کئی طرح کے ہوتے ہیں ان میں سے کچھ زخم تو جسمانی ہوتے ہیں اور کچھ زخم روحانی ہوتے ہیں جسمانی زخم تو ڈاکٹر کی دوائی سے تھیک اور روحانی زخموں کا علاج دعاؤں سے کیا جاتا ہے۔ ہر زخم کی ایک اپنی نوعیت ہوتی ہے کچھ گہرے ہوتے ہیں اور کچھ کم گہرے ہوتے ہیں بعض اوقات معمولی اور کم گہرے زخم گہرے زخموں سے بھی زیادہ نقصانات دے جاتے ہیں بضاہر تو وہ زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں لکین پھر بھی ایسا نشان چھوڑ جاتے ہیں جو رہتی دنیا تک اس تکلیف کی نشاندہی کرتے ہیں اور جب جب اس زخم کے نشان پر نظر پڑتی ہے تو گزرے لمحات کسی تصویر کشی بڑے واضح انداز سے کر جاتی ہے۔ اس طرح کے ہزاروں ایک زخم پاکستانی عوام کے سینوں میں موجود ہیں جو ہر لمحہ اپنے گزرے لمحات کی نہ صرف تصویر کشی کرتےہیں بلکہ ایک بیانک تکلیف کا احساس دلاتے جو وقت آزادی پاکستانی عوام کو دیے گئے تھے۔ آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ بند نہ ہو سکا اور پاکستانی عوام کو ایسے ایسے زخموں سے نوازا گیا جن کی تکلیف کا اندازہ بہت مشکل ہے۔ نہ صرف ہر موڑ پر عوام کو ایسے ہزاروں زخم دیے گئے بلکہ ان زخموں کا علاج کرنے کی بجائے ان پر بری طرح نمک چھڑک کر مزید تکلیف دی گئی۔آج پاکستان کے وجود کو ساتھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس عرصے میں پاکستان اور پاکستانی عوام نے کیا کھویا اور کیا پایا یہ سب کچھ بیان کر کے آپ کے قیمتی وقت کو ضائع نہیں کروں گا۔

لفظ آزادی ہر انسا ن کے لئے چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا سب کے لیے ایک یکساں اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ میری کم علمی کے مطابق لفظ آزادی اردو یا ہندی کا ہے جسکے معنی نجات یا چھٹکارہ کے ہیں ہر عاقل، بالغ اور باشعور انسان لفظ آزادی کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا انسان کی تخلیق سے لے کر آج تک اس آزادی کے لئے بڑے بڑے معرکے لڑے گئے اور ان گنت افراد کے خون سے آزادی کی تحریکوں کا آغازوانجام ہوا۔ انسان تو انسان حیوان بھی آزادی کے لئے لڑ مرنے کو تیار ہوتا ہے اگر کسی پرندے کو کسی پنجرے میں قید کر دیاجائے تو کھانا پینا تو اسے پنجرے کی حد تک بھی میسر آسکتا ہے لیکین وہ کھانے کی آزادی اسے نصیب نہیں ہوتی جو پنجرے کے باہر ہوتی ہے۔ شاہد اسی چیز کو دیکھتے ہوئے ہو اپنے پروں کو پھڑپھڑا کراپنی آزادی کے لئے کوشش کرتا ہے اور موقع ملتے ہی آزادی کی راہ لیتا ہے۔ اسی طرح جب کسی مجرم کو قاضی کی عدالت سے قید کی سزا ملتی ہے تو وہ بھی اپنے شب و روز اسی آس میں بسر کرتا ہے کہ ایک دن رہائی اسکا مقدر بے گی۔ آج دنیا میں بہت سی تنظیمیں مختلف قسموں کی آزادی کے لئے کوشاں ہیں کچھ مذہب کی آزادی کے لئےتو کہیں آزادی نسواں کا دنڈورا پیٹ رہیں ہیں اور کچھ اقوام کو آزادی کا حق دلوانے کے لئے کوشاں ہیں۔
اللہ رب العزت نے انسان کو اسکی مان کے پیٹ سے آذاد پیدا کیا ہے یعنی انسان کوآزادی کا حق پیدائشی اور بنیادی ہے اگر یہ حق انسان سے چھین لیا جائے تو وہ بند پنجرے میں قید اس جانور جیسا ہو جاتا ہے جس کے اوپر اس کا نہیں بلکہ اس کو قید کرنے والے کا حکم چلتا ہے۔

ماہ آزادی یعنی اگست کے شروع ہوچکا ہے اور اس کے شروع ہوتے ہی پاکستانی عوام کا جوش و خروش بھی بھر جاتا ہے کیوں کے 14 اگست 1947ء میں پاکستانی عوام کو انگریزوں اور ہندؤں سے نجات ملی اور پاکستان کے نام سے دنیا میں ایک نئی ریاست کا وجود عمل میں آیا۔ اس ماہ میں پاکستانی عوام مختلف طریقوں سے آزادی کی خوشی مناتی ہے۔ مختلف طبقے مختلف انداز سے آذادی کی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ سرکاری اور غیرسرکاری بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے گاؤں ہو یا شہر محلہ ہو یا قصبہ سکول ہو یا کالج یا پھر کوئی سرکاری یا نیم سرکاری ادارہ ہر جگہ جشن آزادی کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہاے اور ان تقریبات میں قیام پاکستان سے لے کر اس دن تک کے حالات و واقعات دہرائے جاتے ہیں اور ان سب قربانیوں پر بھی لب کشائی کی جاتی ہے جو آذادی کے وقت مسلمانوں نے دی۔ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد ھم اپنی آنے والی نسلوں کو یہ باور کروانے کے لئے کرتے ہیں کے یہ آذادی جو ہم نے لا تعداد قربانیوں کے برعکس حاصل کی ہم کو کسی تھال میں رکھ کرنہیں ملی اور نہ ہی یہ کسی مزاکرات کی میز کے گرد بیٹھ کر ملی بلکہ اس کے لئے ہمارے آباواجداد نے پانی کی طرح اپنا خون بھایا اپنی جانوں کی پرواہ نہ کی ہم نے اپنے بہنوں کی عزت و عصمت کی قربانیاں دیں، وہ ماں جو کبھی اپنے لخت جگر کے جسم میں سوئی کا زخم برداشت نہیں کر سکتی اس ماں نے اپنے لخت جگروں کے سینوں میں پیوست خنجر اور نیزے دیکھے اور مسکرا کر اس بےگوروکفن لاشوں کو اپنے رب کے حوالے کر دیا نئی نویلی دلہنیں جن کے لئے اانکا سہاگ اپنے پیدا کئے ہوے ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے نے اپنے سہاگ کو آزادی کے لئے ہنسی خوشی قربان کر دیا اور اف تک نہ کہا۔ یہ سب کچھ ہم اپنی نصل کو اس لئے بتاتے ہیں کہ وہ آزادی جس میں وہ آج سانس لے رہے ہیں کیسی کیسی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی اور آنے والے دنوں میں جب وہ ہماری جگہ لین تواس آزادی کی حفاظت کریں۔

آزادی کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں آزادی اللہ رب العزت کی جانب سے ہم مسلمانون کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ آزادی ہر قوم کابنیادی حق ہے اور اگر کسی قوم کو یہ حق حاصل نہ ہو تو وہ یہ حق چھیننا اسکی سب سے بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ آج پاکستان کو بنے ہوئے پورے ساتھ سال کا عرصہ بیت گیا اور اس ساتھ سال کے عرصے میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا یہ ایک لمبی داستان ہے۔ ہمارا دیں اسلام ہے اور اسلام آزادی کی ترغیب دیتا ہے لیکن ایسی آزادی کی ترغیب جس میں ہم کفروشرک سے بچ سکیں ہم اپنے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ عیلہ وآلہ وصلم کے بتلاے ہوے طریقے کے مطابق اپنی اور اپنی قوم کی ذندگی گزار سکیں۔ آزادی کے ساتھ اللہ تبارک تعالٰی کی عبادت کر سکیں اور اسکی عبادت میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ بننے دیں۔ اسی چیز کو دیکھتے ہوئے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے آزادی کا مطالبہ کیا کیوں کے وہ جانتے تھے کے یہ سب کچھ ان کےلئے نہایت ضروری ہے نہین تو وہ اپنا سب کچھ گنوا بیٹھیں گے۔ لہٰذا ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے دن رات ایک کرے کے ہزاروں قربانیاں دے کر پاکستان کے وجود کو یقینی بنانے کے لئے تحریک کا آغاز کیا اور آخر کار 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے پر آزاد مسلم ریاست بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

آج پاکستانی عوام پچھلے ساتھ سالوں سے آزادی کی خوشی مناتے آرہے ہیں ۔ گھر گھر، گاؤں گاؤں، شہر شہر، کو پاکستانی جھنڈے اور جھنڈیوں سے سجایاجاتا ہے، مسجدوں میں نوافل ادا کئے جاتے ہیں پاکستان کی لمبی عمر کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں۔ ہر چھوٹے بڑے کو جشن آزادی کی مبارک دی جا تی ہےاور اپنے رب سے دعا کی جاتی ہے کہ پاکستان کو بری نظر سے بچائے۔ ان سب کچھ میں پاکستانی عوام کا کتنا جوش و خروش ہوتا ہے یہ دیکھنے کے لائق ہوتا ہے اور یہ سب کچھ کرنے کا پاکستانی عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ آزادی کی اس خوشی میں اپنے رب العزت کے شکر گزار ہوں جس نے ہمارے آباو اجداد کو آزادی کی جنگ لڑنے کی توفیق بخشی اور ان میں یہ قربانی کا جذبہ پیدا کیا کہ وہ اپنے آنے والی نسلوں کو آزاد کر جائیں اوران کے لئے ایک محفوظ خطہ حاصل کریں اور اللہ تعالٰی نے انکی یہ قربانی رائیگاں نہیں جانے دی جس کی بدولت آج ہم آزاد ہیں اور اگر کسی کو آزادی کی نعمت کے بارے میں پتہ کرنا ہے تو ان قوموں کے افراد سے پوچھے جو آزادی میں ایک سانس لینے کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ اللہ ان تمام مسلمانوں کو آزادی نصیب کرے جو آزادی چاہتے ہیں۔

ہمارے آباو اجداد نے یہ قربانی کیوں دی اور اسکے پیچھے کیا مقصد تھا وہ مقصد تھا کہ جو خطہ ہم انگریزوں اور ہندؤں سے آزاد کرائیں اس میں اللہ اور اسے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم کے طور طریقے نافظ ہوں۔ اسلامی قانون کے بطابق آنے والی نسلوں کو ایسے سانچے میں ڈھال دیں جس سے وہ اپنے دین اسلام اور ملک و قوم کی حفاظت کر سکیں۔ ایک آزاد قوم ہونے کا ناطے مسلمان اپنا قانون اور دستور بنائیں اور اسکی ذمہ داردی وہ آزادی کے بعد آنے والی نسل پر چھوڑ گئے۔
پاکستان کی آزادی کا مقصد یہ تھاکہ اس میں بسنے والا ہرفردچاہےوہ مسلم ہو یا غیر مسلم ہو آزاد ہو گا۔ کسی پر کسی کی زور زبردستی نہیں چلے گی اپنی عدالتیں ہوں گیں، اپنی فوج ہو گی، اپنی کرنسی ہو گی اپنا قانون ہوگا سب کے حقوق چاہے وہ امیر ہو یا غریب وزیر ہو یاکسی ادارے کا معمولی ملازم سب کو ایک ہی قانوں کے تحت ذندگی گزارنا پڑے گی۔ سب کے لئے قانون ایک جیسا ہو گا۔ہر شخص کو انصاف دلیز پر ملے گاہر کسی کو اپنی رائےکے اظہارکے لئے آزادی ہو گی۔ کوئی کسی کے اختیار میں نہیں ہوگاپاکستان کو ایک مکمل اسلامی دھانچے میں ڈھال دیا جائے گا۔ ملک وقوم پرقانون کی بالا دستی ہو گی ایک صحیح اسلامی جمہوریت کو فروغ دیا جائے گا۔اور اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کا نام دیا گیا۔ وہ پاکستان جس کا درخت 14 اگست1947 کو لگا اب ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کی جڑیں کبھی اتنی مضبوط ہوا کرتی تھیں کہ بڑے سے بڑے توفان کا مقابلہ آسانی سے کر لیا کرتا تھا لیکن اس درخت کی جڑیں اتنی ہی کمزورہو چکی ہیں کہ اب وہ کسی بھی توفان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔
ساتھ سال کا عرصہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں اس عرصے میں ہماری کئی نسلیں پیدا ہو کر امر ہو گئیں میں یہ کہتے ہوئے غلظ نہیں سمجھتا کہ ہم نے ساتھ سال پہلے جس سفر کا آغاز کیا تھا آج گما پھرا کر وہیں کھڑے ہیں ہمارے بزرگوں نے جو زمین کا خطہ تو آزاد کروا کر ہمیں دے دیا لیکن افسوس ہم اس کی بھی حفاظت نہ کر سکے نہ صرف اسکے دو دھڑے کر ڈالے بلکہ اب اس کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سوچ بچار کی جا رہی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہماری بدقسمتی ہماری خوش قسمتی پر غالب رہی ہمیں آزاد کرنے کے بعد سے لے کر انگریز بھلا کیسے چپ بیٹھ سکتا تھا اس نے زمین کا خطہ تودےکر ہمیں بظاہر آزاد کر دیا لیکن اندر ہی اندر ہماری قوم کو غلام رکھنے کی کوشش میں لگا ہماری قوم کوتووہ غلام نہ بنا سکالیکن ہمارے خد غرض اور لالچی حکمرانوں کے ذریعے ہماری نوجوان نسل پہ اپنے نظریات غالب کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ آنے والی نسل بے راو روی کا شکارہو گئی اور آزاد ہوتے ہوئے بھی ایک غلامی کی سی ذندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ اگر ہماری قوم آزاد ہے تو ہمارے حکمرانوں نے بھلا چون و چراہ دشمنان اسلام کی غلامی کو گلے کا ہار بنا دیا جو بھلا آخر ان کے لئے پھندے کا سبب بننے والا ہے۔
1947 سے لے کر آج تک اگر دیکھا جائے توجغرافیائی طور پر تو ہم نے آزادی حاصل کر لی لیکن حقیقی آزادی آج تک ہم پاکستانی عوام کو نہ دے سکے۔ پاکستانی عوام نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک ظالم اور جابر حکمرانوں کے ظلم و ستم برداشت کیے۔ ہر 10 سال بعد کسی نہ کسی فوجی سربراہ نے ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کے ساتھ بہیمانہ مذاق کیا اور جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستان تبائی کے ایسے کنارے پر کھڑا ہے جہاں اگر کوئی سوچ سمجھ کر فیصلہ نہ کیا گیا تو پھر یہ کہنا بجا نہ ہوگاکہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی آذادی کا تہوار صرف تاریخ کی کتابوں میں ہی پایئں گے۔

ہم ہر سال آزادی کی جشن بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں‌اور یہ سلسلہ پچھلے ساتھ سال سے جاری ہے لکین کیاآپ کوایسانہیں لگتا کے کہ جتنا آزادی کا جوش و خروش باہر سے نظرآتا ہے اتنا ہی اندر سے کھوکھلا ہے۔ بظاہر تو ہم پرچم کشائی کر کے اور بڑی بڑی تقاریب منعقد کر کے یا پھر چراغاں کرکے دنیا کے سامنے اپنا آزاد ہونےکی خوشی منا رہے ہیں لیکن آپ مجھ سے اتفاق کریں یا نہ کریں ہم سب اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ہر مصیبت میں ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سوچ رہے ہیں کہ ہمارا دشمن ہمیں دیکھ ہی نہیں رہا۔ ہم سب اپنےآپ کو دھوکا دے رہے ہیں جسکا نتیجہ یقیناًبہت بیانک ہو گا۔

میرے عزیز ہم ووطنو اپنے آپ سے پوچھو اپنے ضمیر سے پوچھوکیایہ غلط ہے کہ ہم جغرافیائی آزادی تو ہمیں نصیب ہے لیکن حقیقی آزادی کی راہ ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔ میرے بھائیو اور بہنو کیا یہ غلط ہے کہ جو حکمران آج تک پاکستانی عوام نے اپنے لئے منتخب کیے ہیں کیاانھوں نے کبھی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا ہے؟ کیا پچھلے ساتھ سالوں میں‌ہمارے حکمرانوں نے پاکستانی عوام کے جزبات سے بیانک مزاق نہیں کیا؟ کیا ہمارے حکمرانوں نے پاکستان اور اسکی عوام کو اپنے مفادات پر ترجی دی ہے؟ کیا جو خطہ ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا کیا دور دور تک ہم کو اس میں اسلام نظر آتا ہے؟ کیاآج پاکستانی عوام کی جانوں کو کوئی خطرہ نہیں؟ کیاپاکستانی عوام مکمل آزادی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کر سکتی ہے؟ کیا انصاف کا ترازو سب کے لئے ایک جیسا ہے؟ کیاہمارے حکمرانوں نے دشمنو کے کہنے پر اپنی ہی عوام کا خون پانی کی طرح‌نہیں بھایا؟ کیا سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی پالیسی کے باعث پاکستان کی ساکھ کو پوری دنیا میں متاثر نہیں ہوئی؟ کیا پاکستانی افواج جسکی بہادری کے چرچے پور دنیا میں تھے آج اپنے ہی ملک میں نفرت کا شکار نہیں؟ کیا پچھلے ساتھ برسوں میں پاکستان کی ‌مختلف حکومتوں نے عوام کے لئے کوئی ایساکام کیا ہو جس سے برائے راست عوام کو فائدہ پہنچاہو؟ کیا پاکستان کی عوام کو وہ تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں جو ایک ریاست کی عوام کو ہونے چاہیں؟ کیاپاکستان میں ہونے والے تمام اہم فیصلوں کی رائے عوام یا اسکے منتخب تمائندے کرتے ہیں؟ کیاآج پاکستان کی قسمت کا فیصلہ عوام یا اسکے نمائندوں کی بجائے صرف فرد واحد کے پاس نہیں؟
ایسے ہزاروں سوالات آپ لوگوں کے سامنے ہیں اگرآپ کے پاس ان سوالوں کے جوابات مثبت میں ہیں تو آپ کو حق حاصل ہےکہ آپ آزادی کا جشن جوش جذبے سےمنائیں اگر جوابات منفی ہیں تو خداراہ آپ اپنے آپ کو دھوکا نہ دیں۔ میرے نذدیک ہم نے ابھی تک آزادی کی حقیقی روح سے متعارف ہی نہیں ہوئے اور نہ ہی‌ہم نےاسکو حاصل کرنےکوشش کی۔ میرے نذدیک ہم آج بھی ساتھ سال پرانی غلامی کی ذندگی بسر کر رہے ہیں ساتھ سال پہلے ہم برائے راست انگریز کے غلام تھے اب فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نےانکی غلامی قبول کرلی۔
اس سب کچھ کے پیچھے کون ہے اور ہم آزاد ہوتے ہوئےبھی آزاد نہیں کیوں اس میں کس کا قصور ہے کون اصل وجہ ہے۔ تو جناب اس سب کے پیچھے کوئی ماورائی طاقت نہیں بلکہ اس سب کے ذمہ دار ہم خود پاکستانی عوام ہیں ہم ہیں جس نے آج پاکستان کوایسی حالت میں‌ لا کھڑا کیا ہے جس سے آگے تبائی بربادی ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ ہم ہی ہیں جو ہر بار ان ظالم اور جابر حکمرانوں کو اپنے اوپر بٹھا کر اپنے ملک کے ساتھ زیادتی کی انتہا کرتے ہیں شاہد ہم بہت زیادہ خوش فہمی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہمیں اس خوش فہمی سے باہر نکلنا ہو گا اپنے آپ کو آزاد کروانا ہوگا ایسے نظام کی حمایت کرنا ہو گی جو پاکستان کی فلاح و بہبود کے لئے فائدہ مند ہو۔ ایسا نظام متعارف کروانا ہوگا جو آنے والی نسلوں لے لئے کسی پریشانی کا سبب نہ بنے۔ہمیں ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا اور اس سب کے لئے ہمیں ایک دفعہ پھر ایک بہت بڑی آزمائش سے گزرنا ہوگا۔

آیئے آج مل کر یہ عہد کریں کہ ہم میں سے ہر ایک چاہے وہ کوئی عام ہو یا خاص امیر ہو یا غریب ہر شخص اپنے انفرادی مفادات پر ملک عزیز کے مفادات کو ترجیح دیں گے۔ آج ہم یہ عہد کریں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہم سب مل کر قانون کا احترام کریں گے۔ یہ عہد کریں کے ہم نے پاکستان کو حقیقی اور صحیح معنوں میں آزاد کروانا ہے اور وہ پاکستان بنانا ہے جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ جسکے لئے ہمارے بزرگوں نے قربانی دی تھی۔ نہیں تو بروز قیامت ہم سب اپنے اللہ اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وصلم اور تحریک آزادی کے شہیدوں کے سامنےشرمندہ ہوں گے۔

آئیے مل کراپنے اللہ سے دعا کریں کہ یا اللہ ہم سب کو اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے کی توفیق دے۔ اے اللہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھ۔ اے اللہ تمام پاکستانیوں کی حفاظت فرما۔ ملک سے بد امنی اور دہشت گردی کا خاتمہ فرما۔ نیک اور ایماندار حکمران نصیب فرما۔ پاکستان کی جوشحالی اور ترقی میں‌پاکستانی عوام کی مدد فرما۔ اے اللہ ہم سب کو حقیقی معنوں میں آزادی کا جشن منانےکی توفیق عطا فرما۔ ہماری آنے والی نسل کو بے راہ روی سے بچا۔ اے اللہ ہم کو عملی زندگی میں پاکستان کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق فرما۔اے اللہ تو ہماری قوم کو محبت اخوت اور ایک دوسرے کے ساتھ رحمدلی کرنے کی توفیق فرما اے اللہ ہمارے پیارے ملک کو اسلام کا گہوارہ بنا اے اللہ ہمیں دعا کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کرنے کی توفیق فرما۔ اے اللہ تو ہماری دعا کورحم کی نظر عطا فرما۔(آمین)

اللہ رب العزت ہم سب کا حامی وناصرہو۔

آپ کی دعاؤں کا طلبگار۔

بلال عباسی
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 39
شکریہ: 5
14 مراسلہ میں 26 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 437
Reply With Quote
پرانا 18-08-07, 08:17 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاءاللہ جناب عباسی بھائی! آپ نے نہائت ہی عمدہ لکھا ہے۔ کاش کے اپ اسکو 14 اگست سے ایک دن بھی پہلے ارسال کر دیتے تو میں تمام اراکین کو اس کی میل بنا کر بھیج دیتا۔ ہم اپنے اراکین کو 14 اگست کو کوئی پیغام ای-میل کے ذریعے نہیں بھیج سکے۔ حالاں‌کے اس کے لیے تمام کالم نگار حضرات سے ایک اچھے مضمون کی اپیل کی گئ تھی۔
اللہ اپکو اور زور قلم عطاء فرمائے۔ میں اس کو صفحہ اول پر ڈال دیتا ہوں۔
اپنا بہت سارا خیال رکھئے گا۔ اور دعاوں میں‌یاد رکھئے گا۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-08-07, 09:08 PM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 39
کمائي: 295
شکریہ: 5
14 مراسلہ میں 26 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جناب بہت کوشش کی کہ یہ مضمون 14 تاریخ سے پہلے پیش کرتا لیکن بحالت مجبوری ایسا نہ کر سکا جس کے لئے معزرت خواہ ہوں۔
بلال عباسی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, کتابوں, پیارے, پاکستانی, واقعات, وزیر, قید, نفرت, نظر, مکمل, موجودہ, مقابلہ, ماں, متعارف, محبت, اللہ, انسان, امیر, اردو, اسلامی, بھائی, حقیقی آزادی, حضرات, عبادت, صفحہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کراچی کے دس سال ،دہشت گردی کے آٹھ بڑے واقعات جاویداسد خبریں 1 12-11-10 01:36 PM
علامات قیامت 1۔ علماء کا اٹھ جانا۔ عبداللہ حیدر آخرت 3 22-02-09 03:53 PM
اٹھ جاو چاچا کمال قہقہے ہی قہقے 0 15-01-09 01:49 PM
ساٹھ سالہ انتخاب کہانی! وجدان سیاست 0 19-02-08 09:10 AM
ٹپ چاچا کمال قہقہے ہی قہقے 0 10-01-08 11:00 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger