واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


جنرل کیانی کے رول ماڈل، ملا عمر، صدام ، قذافی: آخر کیوں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-10-11, 01:47 AM   #1
جنرل کیانی کے رول ماڈل، ملا عمر، صدام ، قذافی: آخر کیوں؟
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آف لائن ہے 04-10-11, 01:47 AM

Published on 26. Sep, 2011

تحریر: رؤف کلاسرا

پاکستانی فوجی قیادت آخرکار برسوں کی ریاضت اور محنت کے بعد آج امریکہ کو یہ بہانہ دینے کے قابل ہوگئی ہے کہ وہ جاپان، افغانستان، عراق اور لیبیا میں لاکھوں معصوم انسانوں کا خون بہانے کے بعد اپنی توپوں کا رخ ہماری طرف کرے، جہاں پہلے ہی کڑروں لوگ اس ملک میں پیدا ہونے کی سزا روزانہ بھگت رہے ہیں۔

ہم بڑے عرصے سے یہ کوشش کر رہے تھے کہ امریکہ بہادر نے کیوں اب تک ہمیں اس قابل نہیں سمجھا کہ کچھ بم اس طرح ہمارے اوپر بھی گرائے جیسے اس نے لاکھوں جاپانیوں، ویت نامیوں، افغانیوں، عراقیوں اور حال ہی میں لیبیا پر گرائے ہیں۔ ہم اور ہمارے بچے بھی افغانیوں کی طرح دربدر ہوں اور بھیک مانگیں ۔ سب کو مبارک ہو کہ ہماری برسوں کی کوششیں رنگ لائی ہیں۔ فوجی قیادت سے ذیادہ اس وقت پاکستانی میڈیا میں ایک دوڑ لگ گئی ہے کہ جی ایچ کیو پر ثابت کیا جائے کہ وہ سب سے زیادہ محب الوطن ہیں۔ اگر امریکہ کو ٹی وی ٹاک شوز پر باتوں اور گالیوں سے شکست دینے کا مقابلہ ہو تو وہ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ اس دوڑ میں بھلا مولوی حضرات کیوں پیچھے رہتے۔ ایم این اے مولانا فضل کریم نے آج فتوی دے دیا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو پھر قوم پر جہاد فرض ہو جائے گا۔آپ کی یاد دہانی کا بہت شکریہ مولانا صاحب کہ مجھے کم از کم پتہ نہیں تھا کہ ایسی صورت میں جہاد فرض ہو جاتا ہے۔

______________________________________

امریکہ سے تصادم، عامر خاکوانی کا رؤف کلاسرا کے کالم پر تبصرہ

امریکہ، فوجی خارجہ پالیسی اور مسائل کی دلدل

______________________________________

کیا چند جرنیلوں کے کابل کو فتح کرنے کے خواب کی قیمت ہماری نسلوں کو ادا کرنی چاہیے کہ ہمارے انہوں نے سوچ لیا تھا کہ بھارت سے جنگوں کا بدلہ افغانستان میں لیا جائے گا؟

کیا جو کچھ حب الوطنی کے نام پر پاکستانی میڈیا کر رہا ہے، وہ ملک سے محبت ہے یا کڑروں لوگوں سے دشمنی ؟ میں حیران ہوتا ہوں جب بڑے بڑے انیکرز ایسے بات کر رہے ہوتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ اوپر الللا میاں اور نیچے ان کی چلتی ہے۔ درمیان میں اور کوئی نہیں رہتا اور دینا ان کے دم سے چل رہی ہے۔ پاکستان میں بعض انیکرز نے ایک بات سوچ لی ہے کہ ملک تباہ ہوتا ہے ہو جائے ان کی ریٹنگ قائم رہنی چاہیے۔ ریٹنگ کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر وہ بات کی جائے جو پاکستان کی جذباتی عوام سننا چاہتی ہے ۔ جس پر تالی بجتی ہو، وہی بات کرو۔پنجابی فلموں کے مظہر خان کی طرح وہ بھڑک مارو جس پر پورا ہال کھڑا ہو کر پاگل ہوجائے۔ بھڑکوں کا مقابلہ جاری ہے اور مجھے لگتا ہے کہ کم از کم بڑھکوں کے مقابلے میں ہم امریکہ کو شکست دے چکے ہیں۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب دوہزار سات میں لندن سے دی نیوز اور جنگ کے لیے رپورٹنگ کر رہا تھا تو میں نے ایک دن وہاں پاکستانی ہائی کمشنر ملحیہ لودھی سے اپنے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ میرے منہ میں خاک، لیکن دیر یا بدیر ہمارے ملک کا حشر افغانستان اور عراق جیسا ہو گا۔ ملیحہ لودھی بہت ذہین اور سمجھدار خاتون ہیں اور ان کی ذہانت نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ تاہم اس دن انہوں نے جو جواب دیا تھا اس نے مجھے مطمن نہیں کیا تھا۔ ان کے احترام میں چپ تو ضرور رہا لیکن مجھے احساس تھا کہ حالات جس طرف جارہے تھے، بات زیادہ دیر چلے گی نہیں۔

ملیحہ صاحبہ کا کہنا تھا کہ نہیں رؤف امریکہ یا دوسرے ملک پاکستان پر حملہ نہیں کر یں گے کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ ڈائیلاگ سے معاملات طے کرنے پر یقین رکھتے تھے لہذا پریشانی کی بات نہیں تھی۔

میری پریشانی سنڈے ٹائمز میں کرسٹینا لیمب کی کابل سے ایک سٹوری پڑھ کر شروع ہوئی تھی ۔ مجھے ایک صحافی کے طور پر یہ محسوس ہوا تھا کہ ہماری کہانی زیادہ دیر چلنے والی نہیں تھی۔ ہم دنیا کے ساتھ ڈبل تماشہ زیادہ دیر نہیں کر سکیں گے۔ اس سٹوری کے مطابق ناٹو کے افغانستان میں کمانڈر اگلے روز اسلام آباد پاکستانی فوجی قیادت سے ملنے جارہے تھے اور اس دفعہ وہ بہت سارے ثبوت بھی لے کر جار ہے تھے کہ کیسے پاکستان افغانستان میں لڑنے والے طالبان کی مدد کر رہا تھا۔ اس کمانڈر کے پاس ایسی ویڈیوز بھی موجود تھیں جن سے یہ تعلق ثابت ہوتا ہے۔ اس خبر میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ کوئٹہ میں ملاعمر اور ان کے لڑاکا طالبان کی میزبانی کے ثبوت بھی اس کمانڈر کی تحویل میں تھے۔

یہ مغربی قوتوں کا ایک سٹائل رہا ہے کہ وہ پہلے ثبوتوں کی مدد سے کسی بھی ملک کی قیادت کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کی بات مان لیں اور وہ کام نہ کریں جن سے ان کا مفادات کا نقصان ہو رہا تھا۔ وہ کرسٹینا لیمب اور باب ووڈ ورڈ یا کرسٹینا امان پور جیسی صحافیوں کے زریعے یہ خبریں لیک کراکے پلانٹ کراتے رہتے ہیں کہ وہ کسی ملک یا قوم کو کیسے سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ ان سے مذاکرات کے زریعے مسئلے کا حل نکالے۔ ان خبروں کا مقصد اپنے لوگوں اور سب سے بڑھ کر کانگریس، یا پارلیمنٹ کے ممبران کو یہ بھی بتانا ہوتا ہے کہ وہ اپنی کوششیں کر رہے تھے۔ وہ اپنے میڈیا کے زریعے یہ خبریں بھی لگواتے ہیں کہ صدام اور طالبان امریکہ کو ایک ہے ہلے میں کھا جائیں گئے اس لیے ان کا تدارک نہ کیا گیا تو وہ پورے امریکہ کو اڑا دیں گئے۔ یوں ان خبروں کے بعد پہلے امریکی فوجی لیڈرشپ ثبوتوں کے ساتھ بھیجی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی زبان میں اپنے فوجی دوستوں کو سمجھائیں۔ اس کے بعد کانگریس کی فارن افیئرز کمیٹی کے ارکان اس ملک کا دورہ کر کے وہاں کی سیاسی قیادت کو اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آخر ایک الٹی میٹیم اور پھر طیاروں اور میزائلوں پر سوار مغربی صحافی پوری دینا کو لایؤ کوریج دکھانا شروع کرتے ہیں اور دکھاتے ہی چلے جاتے ہیں۔

یہ سلسلہ افغانستان سے شروع ہوا۔بات ثبوتوں سے مذاکرات، الٹی میٹیم اور آخر حملوں پر ختم ہوئی۔ آئی ایس ائی کے سربراہ جنرل محمود کو بھیجا گیا کہ وہ ملاعمر کر راضی کریں کہ وہ اسامہ کو ان کے حوالے کردیں کیونکہ اس نے گیارہ ستمبر حملوں کی زمہ داری الجایزہ ٹی وی کو ایک ویڈیو پیغام میں قبول کر لی تھی۔ الللہ بھلا کرے جنرل محمود کا انہوں نے بعد میں انکشاف کیا کہ ان کا دل نہ مانا کہ وہ ملا عمر سے کہیں کہ وہ ایک مسلمان بھائی کو امریکہ کے حوالے کردیں۔ تاہم جنرل محمود کا دل اس بات پر مان گیا کہ امریکہ لاکھوں افغانی مرد، عورتیں اور بچے مار دے ان کی خیر ہے۔

ملا عمر اپنی ریاست اور اپنے لوگوں کو بچا سکتے تھے۔ دینا کی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوگا کہ کسی ایک شخص کے لیے لاکھوں لوگوں کی جان قربان کر دی گئی ہو یا پھر ریاست ہی داؤ پر لگا دی گئی ہو۔ ریاست کے لیے لوگ ہمیشہ جانیں دیتے چلے آئے ہیں، اور یہاں ایک شخص کے لیے پوری ریاست قربان کر دی گئی۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کی جنگ ہیلن آف ٹرائے کے لیے لڑی گئی تھی۔ ایک ہیلن کے نام پر پتہ نہیں کتنی ہیلن بیوہ ہوئیں! لہذا ہیلن کی کہانی پڑھ کر ملاعمر سے لاکھوں افغانیوں کو مروانے اور اپنی ریاست تباہ کرانے کا گلا جاتا رہا کہ ہزاروں سال پہلے بھی اس طرح کے فیصلے کیے جاتے تھے اور نتائج بھی ایک جیسے !

اربوں کی دولت جیبوں میں پھرنے والے شیخ اسامہ سے بھی اتنا نہ ہوا کہ اپنے میزبانوں کے ظرف کا جواب لاکھوں افغانیوں کی جان بچوانے اور ان کی ریاست بچا کر دیتا اور خود ہی ہاتھ کھڑے کر دیتا۔ یہ سلسلہ پھر عراق میں شروع ہوا۔ پھر وہی صحافیوں کو خبریں لیک ہونا شروع ہوئیں کہ صدام ایسے ہیتھار بنا رہا تھا جس سے دینا کو خطرہ تھا۔ کانگریس کے عہدیداروں نے بغداد کے دورے شروع کر دیے ۔ صدام حسین نے نہ ماننا تھا اور نہ ہی وہ مانا کہ تمام ڈکٹیٹر اپنی ذات سے محبت کرتے ہیں نہ کہ اپنے لوگوں سے۔

مغربی قوتیں بھلا کب صدام کو منوا نے کے لیے یہ سب کچھ کر رہی تھیں۔ ان کا مقصد تو اپنے لوگوں کو قائل کرنا تھا کہ یہ حملہ کتنا ضروری تھا۔ صدام کو بھی الٹی میٹیم دیا گیا کہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر بیوی بچوں کو لے کر چلے جاؤ۔ موصوف نے ایک بل میں چھپ کر بیٹھنا مناسب سمجھا۔ اپنے جوان بچے مروا دیے اور اس سے پہلے لاکھوں عراقی مروا دیے۔ صدام کی انا اور اپنی ذات سے محبت کی قیمت، لوگوں نے ادا کی۔ اگر وہ چاہتا تو یہ سب کچھ بچ سکتا تھا۔ لیکن پھر اسے صدام کون کہتا۔ کہانی ختم نہیں ہوئی۔ یہ کام لبیا کے ساتھ شروع کیا گیا۔ کرنل قذافی کے لیے چالیس سال کی حکومت کوئی چیز نہیں تھی۔ اپنے بچے اور پوتے مروا دیے اور خود ملاعمر کی طرح مفرور ہے۔

ہمارے جنرل کیانی کے پاس مسلمان ورلڈ میں سے یہ تین رول ماڈلز موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ ان میں سے جس کا راستہ بھی اختیار کرنا چاہیں گے، نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔

بہتر ہوگا کہ اب یہ فیصلہ کر ہی لیا جائے کہ جس ملک سے ہم بھارت کے خلاف لڑنے کے لیے پچھلے ساٹھ برسوں سے اسحلہ اور امداد لیتے آئے ہیں، کیا آج اس سے ہم لڑنے کی پوزیشن میں ہیں کہ ملک میں ایک جنگ کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ کیا بہادری وہ ہے جو ملاعمر، اسامہ، صدام، کرنل قذافی نے دکھائی اور اپنے ساتھ ساتھ لاکھوں لوگ بھی مروائے؟ کیا اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لیے مرنا ضروری ہے یا عقل نام کی چیز جو خدا نے مفت میں عنایت کی ہوئی ہے اس کا استمعال بھی کرنا چاہیے، کہ اگر پاگل دشمن سر پر سوار ہو جائے تو کیسے بچا جائے۔ہمارے آخری پیغمبر نے بھی ساتھیوں کی تلخی کے باوجود، صلح حدیبیہ کرکے ہمارے لیے ایک مثال چھوڑی تھی کہ اپنے سے طاقتور دشمن سے لڑنا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی۔

کیا ہمارے کورکمانڈرز کو بیٹھ کر یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر افغانستان میں امریکی کی موجودگی سے چین، ایران، روس، سینٹرل ایشیاء، بھارت، وغیرہ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے جو کہ ہم سے بڑے اور زیادہ طاقتور ملک ہیں، تو پھر ہمارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ ہم کب تک کابل فتح کرنے کے نام پر اپنے ملک کو تباہ کرتے رہیں گے۔ کیا ہم اس بات پر غور کر نے کے لیے تیار ہیں کہ وہ امریکہ جس نے انیس سو ننانوے میں کارگل اور بھارت میں دوہزار آٹھ کے حملوں کے بعد، انٖڈیا کو پاکستان پر حملہ نہیں کرنے دیا تھا وہ آج خود پاکستان پر براہ راست حملہ کرنے کے لیے کیوں تیار ہو گیا ہے؟

ان تین برسوں میں کیا بدل گیا ہے؟ امریکہ کے منہ کو خون لگ گیا ہے لہذا وہ پاکستانیوں کو مارنا چاہتا ہے جیسے اس نے جاپان، ویت نام، افغانستان اور عراق میں مارے ؟ یا ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ چاہے ہمارے لوگ بھارت میں حملہ کر یں ، ایران شکایت کرے کہ ہم جندولہ گروپ کی حمایت کر رہے تھے، چین کہے کہ ان کے سینکنگ صوبے میں مداخلت کر رہے تھے، روس کہے کہ چیچنیا میں ہم لڑاکوں کو تربیت دے رہے تھے، یا پھر دینا بھر میں بم چلانے والوں کا تعلق ہم سے نکل آئے ، پھر بھی کسی مائی کے لعل میں جرات نہیں کہ وہ ہم سے سوال کر سکے؟

تو پھر خرابی کس کے ساتھ ہے؟

کیوں کہ میں نے پاکستان میں رہنا ہے لہذا کہنا ہی پڑے گا کہ خرابی پوری دینا کے ساتھ ہے جو ہمیں دہشت گردوں کا ساتھی سمجھتی ہے اور اب حملہ کرنے کی دھمکیا ں بھی دے رہی ہے۔ ہم عقل کل ہیں۔ ہم جو چاہیں کرتے رہیں گے کیونکہ ہم غلط ہو ہی نہیں سکتے۔ بھلا ملا عمر، صدام، قذافی یا ہزاروں برس قبل سپارٹا کے حکمرانوں نے کب اپنے لوگوں سے پوچھا تھا کہ ان کی بھلائی کس میں تھی، کہ اب ہمارے بہادر سپوت ہم سے پوچھیں گے، جن کے رول ماڈلز جو حشر ہوا، وہ سب کے سامنے ہے۔اس سے پہلے کہ قارئین مجھے بزدلی اورامریکہ سے ڈرنے کے طعنے دیں، میں اپنے آپ کو یہ خطاب خود دے دیتا ہوں۔

مجھے اپنے لیے بزدلی کا خطاب منتخب کرتے ہوئے، اپنے پسندیدہ ڈائریکڑ اور اداکار میل گبسن کی شہرہ آفاق فلم The Patriot کا وہ سین یاد آ رہا ہے جب وہ ریٹائرڈ فوجی ہونے کے باوجود ، حملہ آور فوج سے یہ کہہ کرلڑنے سے انکار کر دیتا ہے کہ سات بچوں کا باپ، جنگ کی عیاشی افورڈ نہیں کر سکتا !!
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,988
4,981 مراسلہ میں 14,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 266
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (04-10-11), حیدر (04-10-11), حسن قادری (04-10-11), شمشاد احمد (08-10-11)
پرانا 04-10-11, 08:09 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,461
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,505 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کلاسرا صاحب غصہ جانے دیں
امریکہ کی اتنی طرف داری چہ معنی است
ملا عمر کا کردار ایک غیور مسلم حکمران کا کردار ہے
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (04-10-11), احمد نذیر (04-10-11), حیدر (04-10-11), حسن قادری (04-10-11), سیفی خان (09-10-11)
پرانا 04-10-11, 10:34 AM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,353
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

باتیں "ہاکس" کی بھی ٹھیک ہیں اور باتیں "ماڈریٹس" کی بھی غلط نہیں۔

لیکن حقیقت ان دونوں کے بیچ میں کہیں چھپی ہوئی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے ہمیشہ منافقانہ کردار ادا کیا۔ نہ یہ لوگ دل سے افغانستان کے ہوئے نہ امریکہ کے۔ انہوں نے ہر کسی کے ساتھ دوغلی پالیسی کھیلی۔۔۔۔حتیٰ کہ پاکستانی عوام کے ساتھ بھی۔

میں نے 6 سال پہلے ایک امریکی سے بحث کے دوران کہا تھا کہ امریکی پہلے ایک "مونسٹر" پیدا کرتے ہیں۔۔۔پھر اس مونسٹر کو ہلاک کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں اور انہی کوششوں کے دوران وہ مزید مونسٹرز پیدا کر دیتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے"

یہی صورت حال کُچھ پاکستانیوں کی بھی ہے۔ ہم نے ہر کسی کے اعتماد کو دھوکا دیا۔ ہم نہ صلیبیوں و یہودیوں کے ہوئے اور نہ ہم مسلمانوں کے۔ جب ہم کو مار پڑنے لگتی ہے تو کبھی ہم امریکا کی گود میں جا کر چھپ جاتے ہیں اور کبھی چین کے سامنے واویلا کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کبھی سعودی عرب کو دہائیاں دیتے ہیں کہ ہمیں بچاؤ تو کبھی اپنی شکستوں پر پردہ ڈالنے کے لیے "عجب تاریخ کی عجب کہانیاں" تخلیق کر لیتے ہیں۔

ہم خؤد نفرتو ں کی آگ میں جھلس رہے ہیں۔ اگر ہم امریکہ پر فتح یاب ہو بھی جاتے ہیں تو یہ فتح نہیں ہو گی۔ فتح تو تب ہو کہ ہم اپنی کھوئی ہوئی منزل پہچان لیں۔ ہم اپنے بھولے ہوئے راستے پر دوبارہ چل دیں۔ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں یہ منافقتوں کا راستہ ہے، اس راستے کا مول نفرتیں ہیں، بد اعتمادی ہے، تباہی ہے۔ یہ کُچھ بھی نہیں۔۔۔۔بس خود فریبی ہے۔

وہی خود فریبی جو 1948 کی جنگ سے لے کر آج تک ہم کو مبتلا کیا جا رہا ہے۔ ہمیں مایا جال میں پھنسا دیا گیا ہے۔ ہمیں اُس مایا جال کو توڑنا ہوگا۔
شاید یہ فلمی جملہ ہے۔ لیکن ہمارے لیے سچ ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (04-10-11), wajee (04-10-11), احمد نذیر (04-10-11), احمد بلال (07-10-11), رضی (07-10-11), سیفی خان (09-10-11), شمشاد احمد (08-10-11)
پرانا 04-10-11, 08:36 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیدر اپنا مراسلہ سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (08-10-11)
پرانا 07-10-11, 08:48 AM   #5
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
۔ہمارے آخری پیغمبر نے بھی ساتھیوں کی تلخی کے باوجود، صلح حدیبیہ کرکے ہمارے لیے ایک مثال چھوڑی تھی کہ اپنے سے طاقتور دشمن سے لڑنا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی۔
کیا دلیل ہے افسوس ھوتا ہے ایسے کلاکاروں کی کلاکاریاں دیکھ کر۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (07-10-11), حیدر (08-10-11), عبداللہ آدم (08-10-11)
پرانا 08-10-11, 12:39 AM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,510
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میری ایک بار ایک پاکستانی فوجی افسر جو میجر ہے بات ہوئی ۔
اس نے کچھ باتیں کی تھیں اس وقت تو مجھے کافی بُری لگیں تھیں لیکن اب آپ لوگوں کے مراسلات دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ وہ بھی سچ ہی کہہ رہا تھا ۔
اس نے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے ملک کو بیچا ، پاکستانی فوج نے ملک کو بیچا ۔
ٹھیک ہے لیکن ایک بات یہ بھی سچ ہے کہ پاکستانی عوام بھی پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ۔
اگر عوام جو محب وطنی کے راگ الاپتی ہے اگر اس کو بھی اختیار دیا جائے ملک کو بیچنے کا تو وہ دیر نا لگائے گی ۔
اگر آپ لوگ حکومت کو عوام کا حصہ نہین سمجھتے تو ٹھیک ہے ، فوج کو عوام کا حصہ نہیں سمجھتے وہ بھی ٹھیک ہے ۔ لیکن میڈیا تو عوام کا حصہ ہے ۔ وہ بکنے میں کتنا وقت لیتا ہے ۔ اور ملک کو بیچنے میں کو نسا عمل نہیں کرتا ہے ۔ ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ۔
اگر کسی کی استعداد نا بھی ہو تو وہ مایوسی پھیلاکر اس ملک کے تابوت میں آخری کھیل ٹھوک کر اپنا حصہ ڈالتا ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (08-10-11), رضی (08-10-11)
پرانا 08-10-11, 01:27 AM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ملا عمر اپنی ریاست اور اپنے لوگوں کو بچا سکتے تھے۔ دینا کی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوگا کہ کسی ایک شخص کے لیے لاکھوں لوگوں کی جان قربان کر دی گئی ہو یا پھر ریاست ہی داؤ پر لگا دی گئی ہو۔ ریاست کے لیے لوگ ہمیشہ جانیں دیتے چلے آئے ہیں، اور یہاں ایک شخص کے لیے پوری ریاست قربان کر دی گئی۔
اقتباس:
کیا اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لیے مرنا ضروری ہے یا عقل نام کی چیز جو خدا نے مفت میں عنایت کی ہوئی ہے اس کا استمعال بھی کرنا چاہیے، کہ اگر پاگل دشمن سر پر سوار ہو جائے تو کیسے بچا جائے۔ہمارے آخری پیغمبر نے بھی ساتھیوں کی تلخی کے باوجود، صلح حدیبیہ کرکے ہمارے لیے ایک مثال چھوڑی تھی کہ اپنے سے طاقتور دشمن سے لڑنا کوئی عقلمندی نہیں ہوتی۔
اب اس حضرت جي سے كون پوچھے جس ملا عمر نے ايك شخص كي خاطر اپني رياست داؤ پر لگا دي اور ايك شخص كے لئے لاكھوں لوگوں كي جان داؤ پر لگا دي۔۔۔ اسي ملا عمر كو غلط ثابت كرنے كے لئے جس صلح حديبيہ كو بطور مثال موصوف، پرويز مشرف اينڈ كو، پيش كرتے ہيں وہ صلح حديبيہ كي ابتدا ہوئي ہي ايك شخص حضرت عثمان رضي اللہ تعالي عنہ كي شہادت كا بدلہ بے سرو ساماني كے عالم ميں لينے سے ہوئي تھي۔۔۔
رسول مقبول صلي اللہ عليہ والہ وسلم نے صرف ايك شخص جي ہاں صرف ايك شخص حضرت عثمان رضي اللہ تعالي عنہ كي شہادت كا بدلہ لينے كے لئے تمام عمرہ كے لئے آئے ہوئے 1400 جان نثار جو حقيقت ميں اس وقت كل امت تھے۔ (كيوں كہ باقي پيچھے رہ جانے والوں ميں عورتيں بچے بوڑھے ور بيمار لوگ تھے) كو قربان كرنے سے دريغ نہيں كيا تھا۔۔۔ وہ تو قسمت اچھي تھي كافروں كي كہ حضرت عثمان كي شہادت كي خبر غلط تھي۔۔۔۔

افغان امور كے ماہرين كے بارے ميں عزيزي كي ذيل كے لنك سے دوسري ويڈيوں ضرور ديكھيں۔

Hasb e haal – 7th october 2011 Latest
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (08-10-11), حیدر (08-10-11), راجہ اکرام (08-10-11), رضی (08-10-11), سحر (08-10-11), عبداللہ آدم (08-10-11)
پرانا 08-10-11, 04:39 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,562
کمائي: 315,044
شکریہ: 25,210
16,385 مراسلہ میں 41,615 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

افغان امور کے ماہرین کی صحیح کلاس لی ہے عزیزی آپے زئی نے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (08-10-11), حیدر (08-10-11), شمشاد احمد (09-10-11)
پرانا 08-10-11, 10:02 AM   #9
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,883
شکریہ: 23,988
4,981 مراسلہ میں 14,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ لوگ میرے جیسوں کو جذباتی کہہ کر منہ پھیر لیتے ہیں لیکن اس تحریر میں سب ہی نے دیکھ لیا ہو گا کہ کس طرح طاقت کے مزعومہ خدا لوگوں کی سٹی گم کر دیتے ہیں !!!

اسی لیے یقینا دجال کی امد پر بھی اس کے کیمپ میں جانے والے بھی اپنے پاس "ٹھوس دلائل" اور "زمینی حقائق" کا وافر ذخیرہ رکھتے ہوں گے.
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (08-10-11), حیدر (08-10-11), رضی (08-10-11), شمشاد احمد (09-10-11)
پرانا 09-10-11, 12:26 AM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبد اللہ بھائي اس ميں كوئي شك ہے كہ دجال كے پيرو كار اس كي پيروي كے حق ميں ايك سو ايك دلائل ركھتے ہوں گے۔۔۔۔۔ اور دلائل بھي دندان شكن
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
رضی (11-10-11), عبداللہ آدم (09-10-11)
جواب

Tags
فرض, کوئٹہ, کارگل, پاگل, پسندیدہ, ورڈ, لوگ, لندن, نیوز, مفت, مقابلہ, محبت, مسائل, آج, امریکہ, اسلام, بھائی, بچوں, جواب, خون, خان, خدا, راستہ, طالبان, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اسلام ہی ہمارا انتخاب کیوں؟ Hina4malik کتاب گھر 8 07-11-11 08:40 AM
نام کے چوہدری ، اسلم خان نشانے پر کیوں؟ کنعان خبریں 0 21-09-11 03:12 AM
قانون سے بالا تر ! آخر کیوں؟ Zullu230 سیاست 1 15-10-10 12:02 AM
شادی دیر سے کیوں؟ بھائی عمومی بحث 15 07-01-09 09:36 AM
امت مسلمہ مدد الہیٰ سے محروم کیوں؟ چیتا چالباز اسلامی عقیدہ 7 18-12-08 08:16 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:44 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger