واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


جنسی جرائم میں تیرہ فیصد اضافہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-12-10, 04:10 AM   #1
جنسی جرائم میں تیرہ فیصد اضافہ
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 31-12-10, 04:10 AM

منو بھائی
این جی او ”مددگار“ کے حوالے سے 13اگست کے گریبان میں بتایا گیا تھا کہ سال 2010 کے دسمبر تک کے گیارہ مہینوں میں پاکستان میں کم از کم 665خواتین خودکشی پر مجبور ہوئیں۔ 1672 کو قتل کیا گیا۔ اس عرصہ میں آبروریزی اور اجتماعی عصمت دری کی وارداتوں میں اضافہ وحشت اور بربریت کی نئی حدوں کو چھونے لگا ہے۔ اس عرصہ میں 530 عورتوں کی عزت لوٹی گئی اور 35 کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ 296عورتیں اور لڑکیاں ”کاروکاری“ کی بھیانک روایت کا نشانہ بنائی گئیں۔ عورتوں پر تشدد کی 683 وارداتیں ذرائع ابلاغ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ 115دلہنوں کو نذر ِ آتش کیا گیا۔ 530 عورتوں کو اغوا کیا گیا،441پولیس تشدد کے دوران وفات پاگئیں ۔17 خواتین کو حدود اور زنا کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ 41خواتین غیرملکی بردہ فروشوں کے ہتھے چڑھ گئیں۔ 46زبردستی کی شادی اور 29”ونی“ کا نشانہ بنیں۔ مجموعی طور پر عورتوں پر خوفناک تشدد کے واقعات میں سے دو ہزار دو، 32ملک کے سب سے ترقی یافتہ، مہذب صوبے پنجاب میں ہوئے جو ملک کا تہذیبی اور ثقافتی دارالحکومت یونیورسٹیوں، ادیبوںاور شاعروں کا صوبہ کہلاتا ہے۔
پولیس کے فراہم کردہ اعداد و شما ر میں بھی بتایا گیا کہ سال 2010 کے دوران عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف تشدد، زیادتی اور درندگی کی وارداتیں 2009 کی ایسی وارداتوں سے 13 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔ سب سے زیادہ وارداتیں پنجاب میں بلکہ اس کے دارالحکومت لاہور اور گوجرانوالہ ریجن میں ہوئی ہیں۔ اجتماعی آبروریزی کی زد میں آنے والی 2427 عورتوں میں سے 358 کا تعلق بھی لاہور ریجن سے بتایا گیا ہے۔ ایک لاکھ 80ہزار کی نفری پر مشتمل پنجاب پولیس کے پاس عدالتوں اور افسروں کے سامنے جنسی جرائم میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے علاوہ اور کچھ کرنے کاکام دکھائی نہیں دیتا۔
سرکاری رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب پولیس کے دائرہ اختیا رمیںپنجاب کے 35اضلاع میں اجتماعی آبروریزی کے 271واقعات ہوئے جو گزشتہ سال کی ایسی وارداتوں سے 13 فیصد زیادہ ہیں۔ ا س میدان میں ڈیرہ غازی خانکاعلاقہ راجن پور، مظفرگڑھ، لیہ میں ایسی وارداتیں سب سے کم ہوئیں یا سرداری نظام کے چنگل میں ظلم کا نشانہ بننے والوں کو شکایت کرنے کی اتنی بھی اجازت نہیں جتنی پنجاب میں پائی جاتی ہے۔ لاہور ریجن میں اجتماعی آبروریزی کے 49 واقعات رپورٹ کئے گئے۔ شیخوپورہ میں ایسی وارداتیں 30 ، قصور میں 25رپورٹ ہوئیں۔ گوجرانوالہ کا سکور 16تھا اور راولپنڈی، فیصل آباد میںایسی گیارہ گیارہ واردتیں ہوئیں۔
پنجاب پولیس نے اجتماعی آبروریزی کی 643 وارداتوں میں سے 385 کی تفتیش مکمل کی ہے 47ابھی زیرتفتیش بتائی جاتی ہیں۔ 125 وارداتوں کے چالان عدالتوں میں گئے ہیں۔ 2010کے گیارہ مہینوں میں 2427 عورتوں اورلڑکیوں کو زبردستی بے آبرو کیا گیا جبکہ اس عرصہ میں گزشتہ سال 2184 آبروریزیاں رپورٹ ہوئی تھیں اور بہاولپور ریجن میں ایسی وارداتوں کی تعداد 496 تھی۔
لاہور شہر میں عورتوں کی عزت لوٹنے کی وارداتیں سال 2010 میں 161رپورٹ ہوئیں جوگزشتہ سال کی ایسی 71وارداتوں سے 55 فیصد زیادہ تھیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق اس نوعیت کے جرائم تین زرعی ضلعوں میں زیادہ ہوئے ہیں فیصل آباد 200، رحیم یار خان میں 189اور بہاولپور میں 180وارداتیں رپورٹ کی گئیں۔ پنجاب میں لوگوں کی جان و مال ، آبرو کی حفاظت کے ذمہ دار اداروں نے 3709 جنسی مجرموں میں سے 2839 کوگرفتار کیا مگر چالان صرف 1396 کے مکمل ہو کر عدالتوں میں گئے۔ 680 مقدمات ثابت نہ ہونے پرداخل دفتر کئے گئے جبکہ آبروریزی کے 328 مقدمات ابھی زیرتفتیش ہیں۔
پنجاب کے ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے بتاتے ہیں کہ جنسی جرائم میں اضافے کی درجنو ں وجوہات ہیں جن میں سے ایک وہی ہے جو جنرل ضیاءالحق بیان کیا کرتے تھے کہ یہ عورتیں اورلڑکیاں ہی ہوتی ہیں جو مردوں کو دعوت ِ گناہ دیتی ہیں۔ اے آئی جی پولیس پنجاب کاکہنا ہے کہ مجرموں کو جنسی جرائم کی ترغیب دینے والی وجوہات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
طالبانی فلسفے کے مطابق ہمیں عورتوں اورلڑکیوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے اور اپنے بچوں کو ہوش سنبھالنے اور شعور حاصل کرنے سے پہلے ہی بیاہ دینا چاہئے تاکہ وہ مجرموں کی نگاہوں میں آنے سے پہلے ہی محفوظ ہوچکی ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کالی بھیڑوں کاوجود تو قومی زندگی کے ہر شعبہ میں ہے تو ان کی پولیس کے اندر موجودگی اتنی زیادہ حیران کرنے والی کیوں ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 242
Reply With Quote
پرانا 31-12-10, 07:51 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,353
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
ا س میدان میں ڈیرہ غازی خانکاعلاقہ راجن پور، مظفرگڑھ، لیہ میں ایسی وارداتیں سب سے کم ہوئیں یا سرداری نظام کے چنگل میں ظلم کا نشانہ بننے والوں کو شکایت کرنے کی اتنی بھی اجازت نہیں جتنی پنجاب میں پائی جاتی ہے
نہیں ابھی یہاں ایسا رواج عام نہیں ہوا۔ اس لیے ایسا بھی نہیں کہ انکو اجازت نہیں۔ ان علاقوں میں خال ہی کسی کو ایسی جرات ہوتی ہے۔
ہاں یہ ہے کہ جب بھی یہاں کوئی واقعہ ہوتا ہئ وہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان تھرا اٹھتا ہے۔مثلاً مختاراں مائی کیس
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-12-10, 12:00 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 761
کمائي: 15,387
شکریہ: 2,135
582 مراسلہ میں 1,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فری میسنری اور دجالی نظام کے نفاذ کے لئے جنسی بے راہ روی ہونا اشد ضروری ہے۔ اور پاکستان میں اسی مقصد کے تحت موبائل پیکج و دیگر کئی ڈرامے اور عورتوں کے حقوق کے نام پر مخلوط طرز زندگی کی طرف دھکیلنے کا کام زور و شور سے ہورہا ہے۔

کبھی کبھی تو مجھے تمام کے تمام سیاستدانوں پر بھی فری میسونک ہونے کا شبہہ ہوتا ہے۔
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پولیس, پاکستان, واقعات, مکمل, مجرموں, اغوا, بھائی, بچوں, جواب, خواتین, خودکشی, خلاف, زندگی, سال, شہر, عورتیں, عدالتوں, عرصہ, عزت, عصمت, غیرملکی, غازی, صوبہ, صوبے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آر جی ایس ٹی کے نفاذ سے 95 فیصد دوائیں 20 فیصد تک مہنگی ہوجائیں گی گلاب خان خبریں 0 26-11-10 03:24 AM
مایا "ماں "کوسلا م ،اسی فیصدبھارتی کر پٹ ہیں جاویداسد خبریں 0 09-09-10 02:04 PM
انٹری ٹیسٹ میں ایف ایس سی کے نمبر60 فیصد کیے جائیں :ہائیکورٹ جاویداسد خبریں 0 06-09-10 04:38 PM
پی ٹی سی ایل نے انٹرنیٹ چارجز میں 450 فیصد اضافہ کر دیا champion_pakistani خبریں 40 02-07-08 09:12 PM
کے ای ایس سی کے 50فیصد شیئرز أبراج کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط اسلام عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:44 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger