|
جن راہوں کو ہم نے چھوڑ دیا!

14-08-11, 03:11 PM
نجم سیٹھی
ساٹھ برس پہلے ہم نے ایک جدید ریاست کا خواب دیکھا تھا، ایک ایسی ریاست جس میں تمام شہری تحفظ، انصاف اور خوشحالی سے لطف اندوز ہو سکیں، جس میں مذہب کے نام پر تشدد نہ ہو اور یہ ریاست خود بھی امن سے رہے اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی پر امن تعلقات قائم کرے۔ مگر غلط آغاز، بدعنوانی اور مسخ شدہ تصورات و عزائم کے باعث ہم نے ایک جنت نظیر ملک کو جہنم میں بدل دیا ہے۔ یہ سب اس وجہ سے ہوا ہے کہ ہم نے جن راہوں پہ چلنا تھا اُن کو تو چھوڑ دیا اور اُن راہوں پر چل نکلے جن سے اجتناب کرنا تھا۔ آزادی کے فوراً بعد ہمارے رہنما امریکہ کے ساتھ دوستی کرنے پر کمربستہ تھے اور اس دھن میں پاکستان اس کی ماتحت ریاست بن گیا۔ اس تعلق کے دو تباہ کن نتائج برآمد ہوئے، اس نے ہمیں معاشی طور پر امریکہ کا بھکاری بنا دیا اوردوسرے ، اس نے فوج کو ملک کے سیاسی معاملات میں بالا دستی عطا کر دی ۔ اس کے نتیجے میں سیاسی ادارے ترقی نہ پا سکے اور نہ ہی سیاسی رہنما سیاسی اقدار سے آشنا ہو سکے۔ سرحد پارانڈیا میں اس کے رہنماﺅں نے اس کے برعکس اقدامات کئے اور کسی ملک کا حمایتی بننے کی بجائے باعزت غیر جانبداری کا راستہ اپنایا اور اس نے ان کو اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کے قابل بنا دیا، آزاد معیشت کو ترقی ملی اور سب سے بڑی بات یہ کہ اُنہوں نے ہر حال میں جمہوری روایات کو مقدم رکھا۔ آج ہم امریکہ دشمنی میں بھی پاگل ہو رہے ہیں اور اُس سے مدد لینے کیلئے بھی بے قرار ہیں۔ پاکستان کو تقسیم کے وقت پانچ صوبے اور چند ایک ریاستیں ملی تھیں۔ انڈیا کے حصے میں نو صوبے اور بیسیوں ریاستیں آئی تھیں۔ اِس نے ریاستوں کو آئینی ڈھانچے میں سمو لیا اور لسانی بنیادوں پر28 صوبے تخلیق کیے جنہوں نے عوام کو زیادہ سے زیادہ ثقافتی خودمختاری کا تاثر دیا جبکہ ہم اس سے مخالف سمت میں چل پڑے۔ پہلے تو ہم نے ریاستوں کو مجبور کیا وہ مرکز کے ساتھ وابستہ ہو جائیں اور پھر پانچ صوبوں کو ختم کر کے دو یونٹ بنائے۔ اس کے نتیجے میں بڑے یونٹ بنگال کا استحصال ہوا ۔ اس غلط آغاز نے ملکی یکجہتی پارہ پارہ کر دی اور 1971ءمیں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ برداشت کرنا پڑا۔ اسی نے موجودہ پاکستان میں قوم پرستی اور علیحدگی کے بیج بوئے ہیں۔ آج بھارت کے امریکہ کے ساتھ صحت مندانہ تعلقات ہیں اور وہ اس کا بے حد فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ ہمیں کبھی گاجروں سے اور اکثر ڈنڈوں سے ہانکا جا رہا ہے۔
ان دوغلط فیصلوں کے نتیجے میں اور متواتر اسی راستے پر چلتے ہوئے، ہم سے اور بھی سنگین غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ ان میں سے سب سے غلط فیصلہ امریکہ کی خاطر افغانستان میں دو جنگیں لڑنا تھا، پہلی اسّی کی دہائی میں روس کے خلاف اور دوسری موجودہ دور میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف۔ ان دونوں جنگوں کے نتیجے میں اسلام میں بنیاد پرستی در آئی اور مسلح جنگجوﺅں کے جہادی کلچر کو فروغ ملا۔پہلی جنگ نے ایک آزاد اور جمہوری ملک بننے کے تصور کی دھجیاں بکھیر دیں جبکہ دوسری جنگ نے ہمیں خانہ جنگی کے مہیب شعلوں کی نذر کر دیا۔ غلط ترجیحات اور التباسات کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے ہم سے سماجی تحفظ اور فلاح و بہبود کے امکانات چھین لئے۔ یہ ہماری فاش غلطی تھی جب ہم نے1948ءمیں پختونوںکا لشکر بھیج کر کشمیر آزاد کرانے کی کوشش کی،کیونکہ اس کے نتیجے میں کشمیر تقسیم ہو گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہو سکتا ہے کہ متحدہ کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوتا۔ اسی غلطی نے ایک اور غلطی کو جنم دیا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور اس سے ہماری سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، چنانچہ ہمارے معاشرے میں سماجی بہبود کے تصورات قومی سلامتی کی نذر ہو گئے۔ بھارت کے ساتھ دوسری، تیسری اور چوتھی جنگ ہم نے شروع کی اور ہارے جبکہ قومی سلامتی کے ٹیکسٹ بک نصاب کے مطابق ہم بھارت کے جارحانہ عزائم کا نشانہ تھے۔ آج باسٹھ سال بعد ہم نے شاید درست سمت میں سفر کا آغاز کیا ہے۔ ہم امریکہ پر معاشی اور فوجی انحصار کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج ہمیں احساس ہو چلا ہے کہ ہمیں طاقت کی تقسیم کیلئے مزید صوبے چاہئیں۔ اب ہم بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کیلئے اپنے تنازعات مذاکرات کی میز پر طے کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہمارے تعلقات کی قطب نما اب لائن آف کنٹرول یا بین الاقوامی بارڈر نہیں ہے۔ ہماری سول سوسائٹی، سیاست دان، جج صاحبان، سرکاری ملازمین اور میڈیا کو آخرکار احساس ہو چلا ہے کہ جنرلوں کے احکامات پر چلنا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تھیوری کے مطابق، صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ بے شک ہرمسئلے کے دامن میں امکانات کا پہلو بھی ہوتا ہے۔ فوج کی طرف سے پاکستان کے نامساعد حالات کا حل ڈھونڈنے میں ناکامی نے ہمیں باور کرا دیا ہے کہ اب ملک میں سیاسی قوتوںکو بالادستی حاصل کرنی ہے اور بھارت کے ساتھ امن کو استحکام بخشنا ہے۔ فوجی قوت سے دوستی اور امن کی کوئی راہ نہیں نکلتی ہے۔
انتظامی، لسانی، معاشرتی اور علاقائی خواہشات کے مطابق نئے صوبوں کی تخلیق کے لیے اتفاق ِ رائے ریاست اور عوام کے درمیان نئے سماجی روابط کی بنیاد ہو نی چاہئے۔ اگر ہم اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سیکھ لیتے ہیں تو معاشی خود انحصاری ہمیں امریکہ اور آئی ایم ایف کی بیساکھیوں سے نجات دلا دے گی اور ہم بہتر انداز میں ٹیکس اور نمائندگی کے نظام کو ترقی دے کر قومی ساکھ اور بین الاقوامی اعتماد کو بحال کر سکتے ہیں اور جو سرمایہ اور ہنر مند افراد بیرونی دنیا کا رخ کر رہے ہیں انکو بھی روکا جا سکے گا۔ تاریخ سے ہمیں دو بڑے سبق سیکھنے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کوئی قوم بھی تنہائی میں نہیں جی سکتی ہے۔ اگر کسی ملک میں اندرونی طور پر امن نہیں ہے تو وہ دوسروں کے خلاف جنگ پر کمربستہ ہو جائیگا اور اس کے نتیجے میں شکست و ریخت کا شکار ہو جائے گا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی 13اگست2011ء
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|