| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 221
|
||||
| 7 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | shafresha (28-06-10), یاسر عمران مرزا (27-06-10), مرزا عامر (05-07-10), احمد بلال (27-06-10), حیدر (29-06-10), عبداللہ آدم (18-09-10), عبداللہ حیدر (27-06-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ڈنمارک کے کرٹ ویسٹ گارڈ کے متعلق ابھی لکھ کر فارغ ہی ہوا تھا کہ پتہ چلا کہ اس نے جیلینیڈ پوسٹن نامی اخبار چھوڑ دیا ہے اور نوکری ختم کر دی ہے۔ ملعون کارٹونسٹ کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کے جذبات شاید اسی طرح ٹھنڈے پڑ جائیں او وہ اس کی جاں بخشی کر دیں اور وہ دوبارہ سے عام انسانوں کی سی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے لیکن.... کیا اب ایسا ممکن ہے....؟ یقینا نہیں یہ تو اس کا اب خواب ہی ہے جو شاید کبھی پورا نہ ہو گا۔ ہمیں تو یقین ہے کہ اب اس ملعون کو بھی امن و سکون تب ہی ملے گا جب وہ اس نبی مکرم محمدﷺ کا حکم پڑھ کر ان کا امتی بننے کا اعلان کرے گا جن کی اس نے اپنے طور پر توہین کی کوشش کی تھی (ہمارا تو ایمان ہے کہ نبی مکرمﷺ کی کافر توہین کرنے میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتے) ابھی یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ مولانا امیر حمزہ صاحب بتانے لگے کہ ہالینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک صحافی ان کے پاس انٹرویو کے لئے آ رہا ہے لہٰذا آپ بھی پاس تشریف رکھیں۔ ہالینڈ کے سب سے بڑے نیوز گروپ GDP کے اس صحافی نے بتایا کہ ان کے ملک کا ایک بڑا سیاستدان جس کا نام ویلڈر ہے نے ”فتنہ“ نامی فلم بنائی تھی اور اسلام، قرآن اور نبی کریم محمدﷺ کے بارے میں نازیبا انداز و الفاظ استعمال کر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا تھا آج کل شدید مشکلات سے دوچار ہے، اس کے چار اطراف پولیس کا پہرہ ہتا ہے۔ آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتا، ہالینڈ میں کسی کو معمولی سے معمولی اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں، ملک دنیا کے پرامن ترین خطوںمیں شمار ہوتا ہے لیکن ویلڈر کو محسوس ہوتا ہے جسے موت اس کے ساتھ سائے کی طرح چل رہی ہو۔ اس پر چھوٹے موٹے حملے بھی ہوئے۔ وہ ملک سے باہر جانے سے خوفزدہ ہے۔ روپ بدلتا رہتا ہے.... اس کی زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے، یہیں سے سویڈن کا خیال آیا۔ یہ ملک بھی دنیا کے پرامن ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں بھی اسلحہ کے حوالے سے ہالینڈ کا ہی قانون لاگو ہے۔ اس ملک کے دارالحکومت کا نام سٹاک ہوم ہے، جہاں کی اوپسالا یونیورسٹی میں لارس ولکس نامی شخص کا 11 مئی 2010ءکو خصوصی لیکچر رکھا گیا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے 2007ءمیں ایک گستاخانہ بنایا تھا اس وقت سے لے کر آج تک اس کے چار اطراف پولیس کے پہرے رہتے ہیں۔ خفیہ ایجنسیاں اس کی خیرگیری رکھتی ہیں۔ یہاں آتے وقت بھی اس کے ساتھ زبردست سکیورٹی کا اہتمام کیا گیا اور وہ حفاظتی انتظامات کی مکمل کلیئرنس کے بعد یہاں پہنچا تھا۔ اس نے ہال میں پہنچ کر لیکچر کا آغاز کیا ابھی 20 منٹ بیتے تھے کہ اس کی زبان سے ”اسلام“ کا لفظ نکل گیا۔ جس کے ساتھ کوئی توہین آمیز لفظ استعمال کیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی پہلی لائن میں بیٹھے ایک شخص نے آﺅ دیکھ نہ تاﺅ، دیوانہ وار ولکس پر حملہ کر دیا۔ ولکس کے چہرے پر مکا لگا، چشمہ ٹوٹ گیا، چکرا کر گر پڑا۔ مزید کئی نوجوان اٹھے انہوں نے لاتوں، مکوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ پولیس کے اہلکار جو تمام تر سازوسامان سے لیس بڑی تعداد میں کھڑے تھے نے مل کر بڑی مشکل سے ولکس کو باہر نکالا، ہجوم قابو میں نہیں آرہا تھا، پولیس نے آنسو گیس چھوڑنا شروع کی اور ولکس کو بکتر بند گاڑی میں ڈال کر محفوظ مقام کی طرف لے گئی۔ دو روز بعد اسے گھر منتقل کر دیا گیا جہاں پہلے ہی سخت ترین پہرہ لگایا گیا تھا۔ یہاں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیئے گئے تھے۔ یہاں دو روز ولکس نے جاگتے جاگتے گزار دیتے۔ 16 مئی کی شب اچانک دھماکہ ہوا گھر کی کھڑکیاں ٹوٹیں اور گھر میں آگ لگ گئیں۔ پولیس نے دوڑیں لگا دیں۔ فائر بریگیڈ کو طلب کر کے آگ بجھائی گئی، پتہ چلا کسی نے گھر پر یہ پٹرول بموں سے حملہ کر کے آگ لگا دی تھی۔ سٹاک ہوم کا میڈیا بھی پہنچ گیا، ولکس رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا
Probabey i cant live there any more ”بلا شک و شبہ اب میں یہاں مزید کسی صورت نہیں رہ سکتا“۔ ولکس کو اسی وقت یہاں سے غائب کر دیا گیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ یونیورسٹی پر حملے کرنے والے دو مسلمان گرفتار کر لئے گئے۔ اس سے قبل آئر لینڈ سے بھی چار مسلمانوں جن میں دو خواتین تھیں کو گرفتار کیا گیا تھا جو سب کے سب ولکس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ مارچ میں ہی ایک امریکی مسلمان جس نے اپنا نام ”جہاد جین“ رکھا تھا کو بھی ولکس کے قتل کی سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ولکس اب تک نامعلوم مقام پر ہے، کسی کو پتہ نہیں وہ کہاں ہے؟ کیا کرتا ہے....؟ اس کے شب و روز کیسے ہیں؟ (جاری ہے THR |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | shafresha (28-06-10), مرزا عامر (05-07-10), احمد بلال (27-06-10), حیدر (29-06-10), عبداللہ آدم (18-09-10), عبداللہ حیدر (27-06-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وہ گھرمیں تنہا بیٹھی تھی، 7 ماہ بیت گئے تھے، اس نے کسی انسان سے ملاقات کی نہ اسے آسمان یا کبھی دنیا کو دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ کوئی قیدی بھی نہیں تھی۔ نہ اس کو کسی نے نظر بند کیا تھا۔ کہنے کو تو اسے دنیا کے کروڑوں انسان جانتے تھے اسے اس کے مداحوں نے بہت سے ایوارڈ دے رکھے تھے۔ جہاں وہ اپنی خود ہی نظربندی کئے بیٹھی تھی اس سے نکل کر اگر دوسری دنیا میں پہنچے تو اسے بہت سے لوگ عزت دینے کے لئے تیار تھے لیکن وہ ان عزت دینے والوں کے پاس بھی جانے سے خوفزدہ تھی کیونکہ نجانے ان تک اسے پہنچنے کا موقع بھی ملتا ہے کہ نہیں کیونکہ بے شمار لوگ ایسے تھے جو اس کے خون کے پیاسے تھے اور اسے مار دینا اپنی زندگی کا سب سے بڑا مشن اور مقصد سمجھتے تھے۔ ان سب کے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ اگر وہ اس عورت کو مارنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لئے وہ دنیا کی ہر مشکل و پریشانی کو بالائے طاق رکھے ہوئے تھے۔ یہ خاتون کون تھی.... اس کا نام دنیا میں تسلیمہ نسرین مشہور تھا۔ وہ 25 اگست 1962ءکو بنگلہ دیش میں پیدا ہوئی۔ انتہائی ذہن و فطین تھی۔ چند کلاسیں پڑھنے کے بعد ہی تحریر کے میدان میں آ گئی۔ نظم و نثر لکھنا شروع کر دی۔ ناول لکھے، اخبارات میں مختلف موضوعات پر کالم اور مضامین لکھے اور خوب نام کمایا۔ 1986ءسے 1993ءتک اس کی نصف درجن کتب بھی شائع ہوئیں، لیکن 1993ءمیں لکھے ناول ”لجا“ یعنی ” بے شرمی“ نے اس کی زندگی بدل دی۔ اس کے ذہن میں یہ فتور آ گیا تھا کہ وہ برصغیر میں مسلمانوں اور ہندوﺅں کو ایک کر سکتی ہے اور اس کے لئے اسلام پر حملے کرنے چاہئیں تاکہ مسلمان ہندوﺅں کی بالادستی تسلیم کرلیں۔ اپنے ناول ”لجا“ میں اس نے ایک ہندو خاندان کو مسلمانوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتا دکھایا اور مسلمانوں اور اسلام کو ظلم و جابر ثابت کیا اور شعائر اسلامی کو بدلنے کی رائے دی اور نبی مکرمﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے۔ پھر کیا تھا.... اس کے گھر کے باہر ہزاروں لوگ جمع تھے، اس نے پولیس کو پہلے ہی طلب کر رکھا تھا۔ حکومت نے اس کو بڑی مشکل سے بچایا۔ صورتحال جب بگڑنے لگی تو اسے روپ بدل کر انتہائی خفیہ طور پر سویڈن روانہ کر دیا گیا۔ تسلیمہ نے اگلے 10 برس سویڈن اور یورپی ممالک میں چھتے چھپاتے گزار دیئے۔ کافر دنیا اسکو اس کی جرا ¿ت پر اعزازات سے نوازتی اور مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کراتی رہی لیکن تسلیمہ کو چین نصیب نہ ہو سکا۔ جنوبی ایشیا کو چھوڑے اسے 10 برس بیت گئے تھے۔ وہ واپس آنا چاہتی تھی لیکن آنہ سکتی تھی۔ چارو ناچار اس نے بھارت آنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اسے سب سے بڑی پناہ یہی نظر آئی، کیونکہ بنگلہ دیش حکومت مسلمانوں کے غیظ و غضب کو دیکھتے ہوئے اس کی شہریت منسوخ کرنے پر مجبور ہو گئی تھی اور وہ اب یہاں کبھی نہیں آ سکتی تھی۔ وہ خفیہ طور پر بھارت منتقل ہو گئی۔ یہ 2004ءکی بات تھی یہاں تین سال انتہائی خاموشی اور خفیہ زندگی گزارتے ہوئے بسر کئے کہ اس دوران میں مسلمانوں کو خبر ہو گئی۔ اس پر اس نے بھی کھل کر سامنے آنے کا فیصلہ کیا اور کئی اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کئے، وہ دن رات بھارت کی تعریف کرتی، کلکتہ کو اپنی پہلی گود قرار دیتی، ہندوﺅں سے راہ و رسم بڑھاتی لیکن بھارت نے پھر بھی اسے شہریت دینے سے انکار کر دیا اور اسے مرحلہ وار ویزا جاری کرنے کا فیصلہ کیا لیکن کچھ ہی دنوں بعد اس نے ایک بار پھر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف کچھ الفاظ لکھ دیئے۔ کلکتہ میں واقع ٹیپو سلطان مسجد کے امام مولانا سید نورالرحمان برکاتی نے اعلان کیا کہ جو اس پر سیاہی پھینکے گا اس کو خصوصی انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان نے بھی تسلیمہ کے چھکے چھڑا دیئے لیکن آل انڈیا پرسنل بورڈ نے مارچ 2007ءمیں اس کے قتل پر انعام کا اعلان کردیا۔ تسلیمہ پھر نامعلوم مقام پرمنتقل ہو گئی اور ساری دنیا سے پوشیدہ رہ کر زندگی کی سانسیں پوری کرنے لگی۔ اگست 2007ءکو ایک بار بھارتی مسلمانوں کو اندازہ ہواکہ وہ یہی کہیں چھپی ہوئی ہے کہ کلکتہ میں مسلم علماءنے مشترکہ طور پر ایک مرتبہ پھر اسے ڈھونڈ نکال کر مارنے والے کے لئے منہ مانگے انعام کا اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ بھارت کو یہ دھمکیاں ملیں کہ اگر تسلیمہ اس ملک میں رہیں تو مجاہدین ہر جگہ حملے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس دھمکی کو neo-jihadis کی طرف منسوب کیا گیا جس کا اہتمام بھارتی مسلمانوں کی تنظیم آل انڈیا مائینارٹی فورم نے کیا تھا صورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ شہر میں مسلح افواج متعین کر کے حالات کو قابو کیا گیا۔ تسلیمہ کو کلکتہ سے جے پور پہنچایا گیا۔ بھارتی مسلح افواج کے دستے اس کے ہمراہ تھے لیکن وہاں بھی مسلمانوں نے اس کو قدم نہ رکھنے دیا جس کی وجہ سے وہ نئی دہلی منتقل کرنا پڑی۔ یہاں اسے حکومت ہند نے ایک خفیہ مقام پر رہائش دیدی۔ اسے یہاں سات ماہ تک ساری دنیا سے مکمل طور پر الگ تھلگ اور یکہ و تنہا رہنا پڑا۔ وہ یہاں مختلف امراض کا شکار ہوئی لیکن کوئی علاج کے لئے دستیاب نہ ہوا کیونکہ حکومت کو ڈر تھا کہ کہیں مسیحا ہی اس کا قاتل نہ بن جائے، انتہائی اعتماد کے لوگوں کو علاج کے لئے بلایا جاتا، تنہائی نے اس کے سر کے بال تک اڑا دیئے۔ نیند اڑ گئی دیواروں کو گھورنا اس کا معمول بن گیا کہ اسی دوران میں فرانس سے بھارت کو پیشکش ہوئی کہ وہ اسے اس کے ہاں بھیج سکتا ہے، بھارت سرکار نے اس پر سکون کا سانس لیا اور راتوں رات اسے برطانیہ روانہ کر دیا گیا، جہاں سے اس کی اگلی منزل فرانس تھی کیونکہ اب ایمنسٹی انٹرنیشنل نامی ادارہ بھی اس کی مدد کے لئے میدان میں آ چکا تھا۔ نئی دہلی میں اس کی زندگی اس قدر جہنم بنی کہ اس نے اپنی سوانح حیات کی آخری جلد چھپوانے سے انکار کر دیا اور یہ بھی کہہ دیا کہ میں بہت کچھ لکھ رہی ہوں لیکن اسلام کے متعلق کچھ نہیں لکھ رہی اور نہ لکھ سکتی ہوں کیونکہ اب یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ اسے اب یورپ میں دوبارہ رہتے ہوئے سوا دو سال ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 16 برس کے عرصہ میں بنگلہ دیش میں اس کے ماں باپ مر گئے لیکن وہ انکی آخری رسومات میں شرکت کر سکی اور نہ ان کی میت دیکھ سکی۔ جنوبی ایشیا آنے کا اس کا خواب کسی صورت پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس کے تمام رشتہ دار اسے برسوں سے چھوڑ چکے ہیں۔ وہ سخت سکیورٹی کے حصار میں آ جکل نیویارک میں مقیم ہے۔ اس نے زندگی میں تین مرتبہ شادی کی لیکن کوئی شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ نیویارک میں رہتے ہوئے اس نے اپنا حلیہ تبدیل کر لیا ہے۔ اس کی زندگی جیتے جی ہی اندھیر ہو چکی ہے کیونکہ اس کا کوئی دوست بھی نہیں، ہر کوئی اس کے پاس جاتے یا اپنے پاس بلاتے ڈرتا ہے کہ کہیں موت اسے ہی نہ آئے۔
اسلام کی توہین اور محمد کریمﷺ کی شان میں گستاخی کی کوشش نے اس کے لئے ساری دنیا کو اندھیر کر دیا ہے اب وہ دن رات سکون آور مختلف بیماریوں سے مقابلے کی دوائیں کھا کر زندگی کی سانسیں پوری کر رہی ہے جس پر ہر وقت حملے اور موت کا خطرہ طاری ہے۔ THR |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | shafresha (28-06-10), فیصل ناصر (18-09-10), مرزا عامر (05-07-10), احمد بلال (27-06-10), حیدر (29-06-10), عبداللہ آدم (18-09-10), عبداللہ حیدر (27-06-10) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بھائی اس معلومات شئیرنگ پا میری جانب سے بہت بہت شکریہ قبول فرمائیے
۔اللہ تعالیٰآپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,098
کمائي: 22,894
شکریہ: 3,391
828 مراسلہ میں 2,401 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس تحریر کو جرار نیوز نے شائع کیا۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,713
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جو قران پاک کی توہین کرے گا اس کا حشر بھی انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, data, کوشش, پولیس, پسند, ڈنمارک, قید, قرآن, لوگ, مکمل, موجودہ, مقابلہ, منتقل, آج, انسان, بچوں, خواتین, رات, زندگی, سال, شہر, شخص, طالبان, صورتحال, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|