واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


جوتے کا سفر جاری ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-02-11, 07:16 AM   #1
جوتے کا سفر جاری ہے
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 09-02-11, 07:16 AM

جوتا اتارنے کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی جوتا پہننے کی ہو سکتی ہے۔ پہلا جوتا کس نے بنایااور اس جوتے کو پہن کر سب سے پہلے خراماں خراماں کون چلا ۔اس کے قدموں کے نشان تاریخ میں ملنا مشکل ہیں ۔لیکن جتنی کہاوتیں، مثالیں اور محاورے جوتے کی شان میں کہے گئے ہیں ۔ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ جوتے کا بنی نوع انسان کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔اور ہر دور میں جوتے کاایک سماجی، معاشرتی، معاشی ، اخلاقی اور سیاسی کرداربھی رہاہے۔ جوتے کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں۔یہ ایک ایسا پہناوا ہے جسے گوریاں بھی خوشی سے پہنتی ہیں۔جوتے کا جادو اس وقت سر چڑھ کر بولتا ہے۔جب آ پ دولہا بنے بیٹھے ہوں اور” دودھ پلائی“ کے بہانے ”جوتا چھپائی “کا کھیل شروع ہو جائے۔جوتوں کی اہمیت اس وقت کچھ اور بڑھ جاتی ہے جب آپ نماز پڑھنے جاتے ہیں اورواپس آتے ہیں تو اپنے جوتے غائب پاتے ہیں۔جوتاچوروں کا شمارتوپہلے بھی مشکل تھا۔اب جوتا خور بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں ۔جوتا چھپائی کی رسمیں بھی صدیوں سے چلی آرہی تھیں لیکنجوتیوں سمیت آنکھوں پر بیٹھنے کا چلن اب جا کر عام ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے ، پوری قوم کوجوتیوں سے لگا دیا گیا ہے۔سادہ لوح عوام جس کی جوتیاں سر پر رکھتے ہیں ۔وہی انہیں جوتیاں مار کر اپنی راہ لیتا ہے۔جوتے کی مردانگی اور جوتی کی نسوانیت بھی اب جاکر کھلنے لگی ہے۔ اللہ بخشے شاعرِ باکمال جمال احسانی کو،اکثر کہا کرتے تھے۔پیارے صاحب ،ہم تو تخلیہ ملتے ہی عرض گزار دیتے ہیں۔جوتی شرما کر ہلنے لگے تو سمجھو بات بن گئی۔اور اگرجوتی پڑ گئی تو کس نے دیکھا؟۔

لیکن اب جو جوتی پڑی ہے۔خلوت میں نہیں ، جلوت میں پڑی ہے۔ جوتی کو کیا غرض ۔وہ تو ویسے ہی پاؤں کی جوتی ہے۔جو لوگ اسے جوتی کے برابر بھی نہیں سمجھتیاورکسی کو جوتی پر رکھ کر روٹی بھی نہیں دیتے۔کبھی انہیں بھی یہ جوتیاں سرپررکھنی ہی نہیں ۔سر پر کھانی بھی پڑجاتی ہیں۔اور اچھے دنوں میں ان کی جوتیاں سیدھی کرنے والے، جوتے چلتے اور جوتے برستے دیکھ کراپنی جوتیاں بغل میں دبا کرایسے غائب ہو جاتے ہیں ۔جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ پہلے رشتوں کے لیے بھی لڑکے والے جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے۔ اور جب تک جوتا گھِس نہ جائے ، لڑکی والوں کی طرف سے ہاں نہیں ہوتی تھی۔اب تورشتہ بعد میں ہوتا ہے۔جوتے پہلے پسند کیے جاتے ہیں۔ مرزاغالب کو بھی ایک دکان میں جوتے پسند آگئے تھے۔لیکن قیمت پرتکرار ہوگئی۔دکاندار سے کہنے لگے۔میاں صیحیح صیحیح قیمت لگاتے ہو یا اتاروں جوتا؟غالب کے جوتا اتارنے کا مفہوم سمجھ میں آسکتا ہے کہ ان کا پیشہ ء آباسپہ گری تھا۔ہو سکتا ہے ۔آج جوتے جن کے گلے کا ہار بنے ہیں۔ ان کے آبا ء و اجداد میں کوئی جوتیاں گانٹھا کرتا ہو۔

جوتے کو شہرت ِدوام مکیش کے گانے ”میرا جوتا ہے جاپانی “سے ملی ۔پھر اس کے بعد ایلوس کا گانا”Blue Suede Shoes“ آیا۔جس نے پوری ایک نسل کو جوتے کا دیوانہ بنادیا۔رنگ برنگے جوتے مارکیٹ میں آنے لگے۔الہڑ دوشیزائیں جوتی پر کاجل پارتیں اور کھلنڈرے نوجوان دن بھر جوتے اچھالنے کے بعد جب گھروں کولوٹتے تو بزرگ ان کی جوتے سے خبرلیا کرتے تھے ۔لیکن کون جانتا تھا کہ آگے چل کر جوتی کی انی اتنی تیز ہو جائے گی کہ جوتی کے تلے سے ناک کاٹ لی جائے گی۔جوتے کے کردار کو پولیس نے ملزمان کی چھترول کے ذریعے بھی برقرار رکھا ہے۔لیکن بھارت میں 1998ء میں میرٹھ کی جیل میں بدھا سمرتی سنستھان (بی ایس ایس) کے کارکنوں نے جیلر کی چھترول کر کے جوتے کی آن ، بان اورشان میں کچھ اور اضافہ کر دیا ۔بی ایس ایس کے کارکنوں کا یہ ہتھیار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ انہوں نے بعد میں ”راشٹریہ جوتا بریگیڈ“ تشکیل دے کر احتجاج اور مزاحمت کا رنگ اور ڈھنگ ہی بدل دیا۔جوتا بریگیڈ اتنی مقبول ہوئی کہ شیوسینا کے کارکن بھی ایک دن ممبئی میں پرانے جوتے جمع کرتے دکھائی دیے۔لوگ سمجھے ،پرانے جوتوں کی نمائش ہو رہی ہے لیکن شیوسینا کے کارکنوں نے ”جوتا مار ریلی “ نکال کر سب کو حیران کر دیا۔پتلے جلانے اور مردہ باد کے نعرے لگانے کا فیشن پرانا ہوگیا ہے اور اس کی جگہ اب پرانے جوتوں نے لے لی ہے۔

کیونکہ جوتا پرانا ہو یا نیا۔ اس کو پہننے یا اتارنے کے لیے پولیس یا ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ لینے کی قید نہیں۔ بوقت ضرورت اس کے استعمال پر اضافی رقم بھی خرچ نہیں ہوتی۔جوتا مارنا کوئی قابل تعزیر جرم بھی نہیں۔ یہ توایک ایسا قابل اعتماد ساتھی ہے جو چوبیس گھنٹے آپ کے ساتھ رہتا ہے۔اور جب جب بھی یہ آپ کا ساتھ چھوڑ کراچانک کسی کے سرپرٹوٹتا ہے تو دلوں اور ذہنوں پر ایسا نقشکندہ کر جاتا ہے ۔جسے وقت کا مرہم بھی نہیں مٹا سکتا۔جوتے کا استعمال کرنے والے کو آپ دہشت گرد قرار دے کر امریکہ کے حوالے بھی نہیں کرسکتے۔ یہ ایک ایساہتھیار ہے جو گولی سے زیادہ کارآمد اورموثر ثابت ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جیالوں اور متوالوں نے اپنی جوتیاں سیدھی ہوتے ہی اسے اپنانے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ سرکاری دفتروں اور اداروں ، یہاں تک کہ اسمبلیوں میں بھی جوتی پر جوتی چڑھنے کے دن ہیں۔ جو لوگ انہیں جوتی پر بھی نہیں مارتے تھے۔اب یہی سلوک وہ انہیں جوتیاں مار مار کر کر رہے ہیں۔کہیں یہ جوتیاں گرج رہی ہیں اور کہیں اشاروں ، کنائیوں میں برس رہی ہیں۔جو سمجھے اس کا بھی بھلا۔جو نہ سمجھے ، اس کی بھی خیر۔جوتیوں کا صدقہ ہے، نکل رہا ہے۔جب تک جوتیوں میں دال نہیں بٹتی ۔”جوتا دکھائی “پر آنکھیں دکھانے کا فائدہ؟؟۔

اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا

بوٹ ڈاسن نے بنایا ، میں نے اک مضموں لکھا

ملک میں مضموں نہ پھیلا اور جوتا چل گیا

سنا ہے اب یہ جوتا لندن میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف پر چلا ہے۔ جوتے کا سفر جاری ہے ۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔

Jang Blog - Best blogspot of Pakistan - Discuss issues, news, problems, sports - Pakistani forum - Pakistan's best Discussion Forum
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 124
Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
ابوسعد (09-02-11)
پرانا 09-02-11, 07:45 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ھائیں ،یہ کیسا سفرنامہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-02-11, 07:31 PM   #3
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

،
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
blog, color, com, pakistan, pakistani, گانے, پولیس, پسند, قید, لوگ, لڑکی, لندن, نماز, آبادی, اللہ, انتظامیہ, انسان, امریکہ, احتجاج, جیل, جرم, سفر, غائب, صدیوں, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جوتے جوتے پر لکھا ہے۔۔۔ جاویداسد خبریں 0 26-10-10 11:31 PM
کرپشن سکینڈل نہ ہوتے تو آج حکومت کیساتھ ہوتے ، نواز شریف جاویداسد خبریں 2 11-09-10 12:36 PM
سورج طلوع ہوتے وقت اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنا منع ہے۔ میاں شاہد صحیح المسلم 0 14-08-10 11:07 PM
بوتل اور زندگی طاھر گپ شپ 9 12-01-10 01:59 AM
منتظر کے جوتے کی حوصلہ افزائی کے لیےجوتےکامجسمہ راجہ اکرام خبریں 0 30-01-09 04:53 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:50 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger