| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 696
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
اگر یہ لعنت ہے تو نبی اکرم صلی علیہ وا لہ نے اپنی بیٹی کو کیوں دیا تھا؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (03-04-09), تفسیر حیدر (14-04-09) |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
البتہ یہ بات محل نظر ہے کہ اسلام کی باتیں کرنے والے اور دین دار طبقے کے سارے لوگ جہیز کے بارے میںدوغلی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ میرے کئی جاننے والوں کا نکاح بارات اور جہیز کے بغیر منعقد ہوا اور پھر حسب استطاعت ولیمہ کیا گیا۔ تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ حال ہی میں میرا نکاح بھی بٍغیر جہیز اور بارات کے منعقد ہوا الحمدللہ، اور اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد اس کا سارا کریڈٹ ہمارے علماء اور اساتذہ کو جاتا ہے جن کی بتائی ہوئی باتوں سے ہم نے اس بارے میںمسلک اعتدال کو اختیار کیا۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ دین دار طبقے پر آپ کی تنقید صرف جزوی طور پر ہی درست کہی جا سکتی ہے۔ اس بارے میں کوئی خیر باقی ہے تو دین دار لوگوں میںہی اس کی مثالیں ملتی ہیں، آپ کا رخ دوسرے طبقات کی جانب ہو تو زیادہ مناسب ہو گا جو مال کی ہوس میںشدید تر ہیں۔ والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 03-04-09 at 04:00 AM. |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,565
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کس قسم کا سوال ہے یہ؟ بھائی آج آپ جس کو جہیز کا نام دیتے ہیں یہ خالصتا ہندو معاشرے میںرہ کر ان کی رسومات سے اخذ شدہ ہے۔ اس کو اسلامی تعلیمات سے کہاں جوڑرہے ہیں؟ میرے طرز مخاطب سے اگر آپ کو برا لگے تو پہلے ہی معذرت پر آپ کے سوال نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر والسلام طاہر |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
چچا عادل کا مراسلہ
بسم اللہ و صلاۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ ، و اما بعد ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، محترم بھائی ، سب سے پہلے میں آپ کو پاک نیٹ پر خوش آمدید کہتا ہوں ، اور اُس کے بعد جواب میں تاخیر پر معذرت خواہ ہوں ، اِس کے بعد آپ کے سوال کا جواب ::: محترم بھائی ، علی عمران شادی کے وقت بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ شادی کے بعد بہن یا بیٹی کی رخصتی کے وقت اس کو دنیاوی مال اور سامان وغیرہ میں سے کچھ دینا ، جسے ہمارے معاشرے میں """جہیز """ کہا جاتا ہے ، محض پماری معاشرتی عادت نہیں ، جیسا کہ ہمارے کچھ بھائی مختلف فلسفوں کا شکار ہو کر دینی دنیاوی ، معاشرتی اُخروی معاملات میں فرق روا نہیں رکھتے ، اللہ ہم سب پر حق واضح کرے اور اس کو قبول کرنے کی ہمت عطا فرمائے ، بھائی علی عمران ، اب ہم اس """معاشرتی عادت """ کو دین کے روشنی میں سمجھتے ہیں ، کسی بھی عمل کو جائز یا نا جائز قرار دینے کے لیے ہمیں اللہ ، یا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کوئی حکم درکار ہے ، عادات کے امت کے اماموں اور علماء کا یہ قانون ہے کہ """ العادات اصل فیھا الاباحیۃ ::: عادات کا بنیادی حکم جائز ہونا ہے ::: اِلا ما نَھیٰ عنھا اللہ و رسولہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ::: سوائے اس کے جس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو """ اور بھائی علی عمران ، ممانعت کا حکم کئی صیغوں اور انداز میں پایا جاتا ہے ، بہرحال ، وہ عادات جن پر ممانعت وارد نہیں جائز ہیں ان عادات کی تکمیل میں ادا کیے گئے ہر ایک فعل کو دیکھا جائے گا جہاں تک کوئی کام کسی شرعی ممانعت میں داخل نہیں ہوتا اسے ناجائز نہیں کہا جائے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں چار چیزیں عنایت فرمائیں ، جیسا کہ صحیح احادیث میں ملتا ہے کہ ((( أَنَّ رَسُولَ صلى اللَّهِ عليه وسلم لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ من آدم حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا تو ان کے ساتھ ایک مخملی کپڑا (چادر یا پہننے کا )اور تکیہ جس پر پتوں کی رگوں کا غلاف تھا اور دو چکییاں (یعنی دو پاٹ والی چکی ) اور دو چھوٹے مشکیزے بھیجے ))) مسند احمد ، الاحادیث المختارہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس عمل مبارک کی روشنی میں جہیز دینا کوئی """ مقامی کلچر """ نہیں رہتا ، بلکہ اسلامی شریعت میں ایک جائز کام قرار پاتا ہے ، اسے """ کسی معاشرے کا مقامی کلچر""" قرار دینا یا کہنا درست نہیں ، اور نہ ہی اسے یکسر ناجائز کہا جا سکتا جب تک کہ اس کام کی کیفیت میں کوئی اور ناجائز یا حرام کام شامل نہ ہو جائے ، مثلا جہیز ، اگر حرام مال سے دیا جائے ، یا ، اپنی اولاد میں سے دوسروں کا حق مار کر دیا جائے ، یا ، معاملہ فضول خرچی کی حدود میں داخل ہو جائے ، یا بلا ضرورت دیا جائے ، تو یقینا ایسی صورت میں نا جائز ہو گا ، رہا معاملہ سنت ہونے کا تو یہ کہنا کئی طور پر درست نہیں کہ یہ سنت ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی دو بیٹیاں رضی اللہ عنہما جنہیں عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیا تھا ، کو جہیز دیا اس کی کوئی روایت نہیں ملتی ، فاطمہ رضی اللہ عنھا کو دینا ضرورت تھی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گھر کے سامان میں کچھ نہ تھا جیسا کہ خود ان کا فرمان ہے جو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ((( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سےعرض کیا """ یا رسول اللہ أِبتنی ::: اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا """ عندك شيء تعطيها ::: تمہارے پاس اسے (مہر میں ) دینے کے لیے کچھ ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ لا ::: جی نہیں """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا """أين درعك الحطمية ::: تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے ؟ """ میں نے عرض کیا """ عندی ::: میری پاس ہے """ تو فرمایا """ وہ اسے (مہر میں )دے دو """ ))) یہ مندرجہ بالا حدیث ، الاحادیث المختارہ /حدیث 610 /جلد 2 / صفحہ 231 ، مطبوعہ مکتبہ النھضہ الحدیثہ ، میں ہے ، اور مختلف الفاظ اور صحیح اسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل کتب میں بھی ہے ، التعلیقات الحِسان علی صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان/حدیث 6906 /کتاب 60 أخبارہ صلی اللہ علی وعلی آلہ وسلم عن مناقب الصحابہ / ذکر ما أعطی علی رضی اللہ عنہ فی صداق فاطمہ رضی اللہ عنھا ، مطبوعہ دار باوزیر /جدہ /السعودیہ ، سنن النسائی / حدیث 3375 کتاب النکاح / باب 60 ، جز 6 داخل جلد 3 ، مطبوعہ دار المعرفہ ، بیروت ، لبنان ، عون المعبود شرح سنن ابی داود / حدیث 2126 / کتاب النکاح / باب 36 ، مطبوعہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، لبنان ، سنن البیہقی الکبریٰ / مسند ابی یعلی / حدیث 2433 / مسند ابن عباس کی روایت 110 ، جلد 3 ، صفحہ 43 ، مطبوعہ دار القبلہ ، جدہ ، السعودیہ ، مسند احمد / حدیث 603 / مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث 41 ،جلد اول ، مطبوعہ عالم الکتب ، بیروت ، لبنان ، اور دیگر کتب احادیث میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے ، اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں ان کی وجہ """معاشرتی عادت """ تھی نہ یہ """ کسی مقامی کلچر """ کی وجہ سے تھا ،بلکہ ضرورت تھی ، پس اسے سنت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ، اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عملی اجازت کی بنا پر جہیز دینے کو یکسر ناجائز بھی نہیں کہا جا سکتا ، اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی اپنی درع شادی کی تیاری کے لییے نہیں فروخت کی تھی بلکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم کے مطابق بطور مہر دی تھی ، اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس درع کی قیمت سے سامان خرید کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا تھا ، فاطمہ رضی اللہ عنھا کو جو سامان دیا گیا اس کے انتظام یا مہیا کرنے کے بارے میں امام ابن سعد کی طبقات الکبریٰ میں ایک روایت ہے جس میں علی رضی اللہ کی سواری کا جانور فروخت کرنے کا ذکر ہے اور اس کی قیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے تقسیم کیا گیا کہ دوتہائی کو ولیمے کے استعمال ہو اور ایک تہائی کو سامان ضرورت کے لیے ، لیکن علی بھائی مجھے فی الوقت اس روایت کی صحت کا اندازہ نہیں اس لیے میں اس کو اپنی بات کا حصہ نہیں بنا رہا ، صرف معلومات کے لیے ذکر کر رہا ہوں ، اگر یہ روایت صحیح ہو تو معاملہ مرد حضرات کے لیے اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکی والوں کو سامان کی تیاری کے لیے مال فراہم کریں نہ کہ ان سے مانگیں ، یہ معاملہ تو جہیز دینے والے کے لیے ہوا ، اور لینے والے کے لیے خود سے سوال کر کے یا فرمائش کر کے جیسا کہ اب ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے جائز نہیں ، کیونکہ یہ اکثر اوقات ظلم میں شامل ہوتا ہے ، اور دوسری طرف اسلام میں عورت کو اس کی طلب کے مطابق مہر ادا کرنے کا حکم ہے نہ کہ عورت یا وارثین سے مال لینے کا ، یہ غیر اسلامی طریقہ ہے اور غیر ملسموں کی نقالی جائز نہیں ، خاص طور پر ان کی عادات اپنانے کی اجازت نہیں ، اگر میں اس موضوع پر بات کروں تو بات کافی طویل ہو جائے گی ، لیکن اگر آپ جاننا چاہیں تو ان شاء اللہ تعالی کسی اور وقت اس کی تفصیل بیان کردوں گا ، اب اگر کوئی خود سے اپنی بہن یا بیٹی یا کسی بھی اور کو اس کی شادی و رخصتی پر جائز حدود میں رہتے ہوئے کچھ دیتا ہے تو مرد کے لیے وہ لینا جائز ہے ۔ امید ہے کہ بھائی علی عمران یہ معلومات ان شاء اللہ آپ کی سوال کے جواب کے طور پر کافی ہوں گی ، اگر مزید کچھ جاننا چاہیں تو ضرور پوچھیے ، اسی طرح سب یعنی پوچھنے ، بتانے ، سننے پڑھنے والوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے ، اللہ تعالی ہمیں حق جاننے ، پہچاننے ، ماننے ، اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (03-04-09), تفسیر حیدر (14-04-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ اجرعطا فرمائے میرا سوال پوچھنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ حقیقت سامنے آسکے آپ نے تو مسئلہ ہی حل کردیا
عادل بھائی اس معاملے پر ایک مکمل جائزہ پیش کردیا ہے اب کسی سوال کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (03-04-09), عبداللہ حیدر (03-04-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
ایک مخصوص طبقہ کی ترجمانی کریں اور باقی سب اچھا کہتے جائیں شکریہ
محنت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اسلئے وہ سب کچھ ڈیلیٹ کر رہا ہوں جو لکھا ہے خوش رہیں اور اپنا خیال رکھیں اور ان کا بھی جو اپنا خیال خود نہین رکھ سکتے اور مجھے معاف کرنا شکریہ Last edited by ایس اے نقوی; 19-06-09 at 10:20 PM. |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,276
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جہیز کا مسئلہ ہندؤں کی وجہ سے ہے، باقی مسلمان معاشروں میں ایسا کوئی چکر نہیں!
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (03-04-09), ایس اے نقوی (13-04-09) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
محنت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اسلئے وہ سب کچھ ڈیلیٹ کر رہا ہوں جو لکھا ہے خوش رہیں اور اپنا خیال رکھیں اور ان کا بھی جو اپنا خیال خود نہین رکھ سکتے اور مجھے معاف کرنا شکریہ Last edited by ایس اے نقوی; 19-06-09 at 10:20 PM. |
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عارف صاحب کا مطلب برصغیر پاک و ہند میں موجود مسلمانوں میں آئی ہوئی ہندوانہ روایات ہیں جن میں ہم لوگ بری طرح گرفتار ہیں |
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,276
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
محنت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اسلئے وہ سب کچھ ڈیلیٹ کر رہا ہوں جو لکھا ہے خوش رہیں اور اپنا خیال رکھیں اور ان کا بھی جو اپنا خیال خود نہین رکھ سکتے اور مجھے معاف کرنا شکریہ Last edited by ایس اے نقوی; 19-06-09 at 10:21 PM. |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
ایک مخصوص طبقہ کی ترجمانی کریں اور باقی سب اچھا کہتے جائیں شکریہ
محنت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اسلئے وہ سب کچھ ڈیلیٹ کر رہا ہوں جو لکھا ہے خوش رہیں اور اپنا خیال رکھیں اور ان کا بھی جو اپنا خیال خود نہین رکھ سکتے اور مجھے معاف کرنا شکریہ Last edited by ایس اے نقوی; 19-06-09 at 10:21 PM. |
|
|
|
| ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (04-04-09) |
![]() |
| Tags |
| color, فروخت, پاک, قدم, لوگ, لڑکی, نظر, ماں, معذرت, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, جواب, جلد, حکم, حال, حدیث, خوش, دوست, عورت, علی, عبادت, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پلیز پلیز پلیز مددکریں | مشال خان | مائیکروسوفٹ آفس | 9 | 01-03-11 07:00 PM |
| پلیز 25 روپے پلیز! | فیصل ناصر | گپ شپ | 28 | 31-01-11 04:09 PM |
| بھارت کے حیرت انگیز گاؤں کا ہر فرد چور ہے | ALI-OAD | دلچسپ اور عجیب | 8 | 28-01-11 11:23 PM |
| پلیز بتائیے | حسنین ایوب | عمومی بحث | 1 | 30-08-10 11:29 PM |
| الطاف حسین دھمکی آمیز بیانات سے گریز کریں، غوث بخش مہر | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 17-04-08 08:20 AM |