| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | ||||
|
|||||
|
مناظر: 191
|
|||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سزائے موت کی منسوخی........ ؟ انگریز نے یہ ملک پلیٹ میں رکھ کر ہمیں پیش نہیں کیا بلکہ ہمارے آباءواجداد نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ۔ اور خون کا دریا تھا جسے عبور کر کے پاکستان کی منزل مراد کو حاصل کیا گیا ۔ بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کو تار تار ہوتے بدنصیب آنکھوں نے دیکھا ۔ نونہالوں کو نیزوں پر لٹکتے اور نہتے جوانوں کو کرپانوں سے کٹتے دیکھا ۔ مسلمان اپنی جائیدادیں ، آباءکے مساکن اور نہ جانے کیا کیا قربان کر کے کلمہ توحید کے نام پر بننے والے ملک میں لٹے پٹے آئے ۔ انہوں نے یہ سب بھیانک مصائب اور تکالیف اس لیے برداشت کیں کہ وہ بندے ماترم گانے کی بجائے قال اللہ وقال الرسول کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے ۔ اسے شومی قسمت کہئیے یا کچھ اور ان کے یہ سب خواب چکنا چور اور امید اور آس کے بندھن اس وقت ٹوٹ گئے جب گزشتہ حکومت نے امریکی ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے حقوق نسواں کے قانون میں تبدیلی سے زنا کاروں کو تحفظ فراہم کر کے قہر الٰہی کو دعوت دی ۔ ابھی حکمرانوں کی اس شر انگیزی کی چبھن اور درد کی ٹیسوں کی تکلیف ماند نہ پڑی تھی ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسلام اور قرآن سے جنگ کا نیا محاذ کھول دیا ۔استعماری قوتوں اور ان کی پروردہ این جی اوز کے دباؤ پر حکومت نے بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر اس کی جمہوریت کے لیے کی جانے والی کوششوں پر اسے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ پاکستان پینل کوڈ کے تحت موت کی سزا دفعہ 302 کے تحت کسی شخص کو کسی دوسرے شخص کا ناحق قتل کرنے پر سنائی پشتیباں ہے ۔ تاہم قتل کے علاوہ آئین کو معطل کرنے ، منسوخ کرنے والے شخص کے علاوہ ملک سے غداری کرنے والے ، منشیات کی مخصوص مقدار میں تیاری ، خرید و فروخت یا سمگلنگ کرنے والے اور توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو پاکستان میں موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی آئین کی آرٹیکل 45 صدر پاکستان کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ سزائے موت یا کسی بھی قیدی کی سزا کو معاف کر سکتا ہے ۔ اسی آرٹیکل کے تحت وزیراعظم نے اعلان کیا تو ملک کی 90 جیلوں میں پھانسی کے منتظر 7 ہزار دو سو افراد اور پینتیس عورتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ ان کے عزیز و اقارب اور پشتیابانوں نے بھنگڑے ڈالے اور مقتولین کے دلوں کو گھائل کرنے کے لیے فائرنگ کرتے ہوئے مٹھائی تقسیم کی ۔ ایک معروف اخبار نے اپنے اداریہ میں اسے حکومت کا مستحسن قدم گردانتے ہوئے لکھا کہ سزائے موت کے مجرموں کو ریلیف ملے گا ۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ مقتول کے ورثاءکی اکثریت بھی معاشرتی اقدار ، سماجی ماحول اور رسم و رواج کے مطابق قاتل کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرنے اور اسے پھانسی کے پھندے پر دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس سے خاندانی عداوت کا دائرہ وسیع ہوگا ۔ یہ حقائق کو مسخ کرنے کا زہریلا پراپیگنڈہ ہے تجربات نے ہمیشہ اس انوکھے فلسفے کی تردید کی ہے ۔ معاشرے میں قتل کیوں ہوتے ہیں ؟ اس کا سب سے بڑا سبب عدالتوں اور انصاف کرنے والوں کا قاتلوں اور مجرموں کو ان کے جرم کی سزا نہ دینا ہے ۔ اکثر نسل در نسل کے قتل عام کے سلسلوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مقتول کے وارث نا امید ہو کر خود ہتھیار اٹھا کر بدلہ یا انصاف کا اختیار اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ عداوت کا دائرہ عدالت کے انصاف سے بند ہو گا اور لاقانونیت اور سزائے موت کے خاتمہ سے آگ کی طرح ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ آج یہ اجرتی قاتل جنہوں نے چند ٹکوں کی خاطر پورے پورے خاندان صفحہ ہستی سے مٹا دئیے ، جنہوں نے گینگ ریپ اور حوا کی بیٹی سے شیطانی کھیل کھیل کر اسے ٹشو کی طرح مسل کر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا ۔ جنہوں نے ڈکیتی اور قتل سے نونہالوں کے سہاروں سے سہارا چھین کر انہیں کرب کی بھٹی میں پھینک دیا ۔ جنہوں نے ہنستے مسکراتے پھولوں کو چند کوڑیوں کے تاوان کی خاطر جنسی تشدد کے بعد تڑپتی ممتا کو تعفن زدہ بوری بند لاش کا تحفہ دیا ۔ آج یہ سب معاشرے کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے تو مظلوم ، ہمدردی اور آزادی کے مستحق ہیں لیکن ان کے ہاتھوں سے ڈسے ہوئے کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ۔ جب قاتلوں اور مجرموں کو معلوم ہو گا کہ ہمارے حکمرانوں کے اور ان کے لیڈروں کے ہر سال یوم پیدائش سے اسلام اور قرآن بدلتا ہے بے بس اور بے کس معصوموں کے قاتلوں کی پھانسی کی سزائیں عمر قید میں بدل جاتی ہیںتو پھر اس سے قتل کا سلسلہ رکنے کی بجائے بڑھے گا ۔ خاندانوں ، قبیلوں اور علاقوں کے درمیان حرب مجاز چھڑ جائے گی ۔ تاریخ اسلام کو کھنگال کر دیکھ لیں کسی خلیفہ یا مسلم حکمران کو حتیٰ کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ایسا خراج عقیدت پیش نہیں ہوا ۔ خاتم الانبیاءقاضی القضاۃ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سفارشی سے کرخت رویہ کے ساتھ صاف صاف کہہ دیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیں گے ۔ اسی طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں یمن میں کچھ لوگوں نے ایک نوجوان کو ہجوم کی صورت میں مل کر قتل کیا ۔ دس آدمی جنہوں نے ہجومی قتل کیا کوئی بھی قتل کا ذمہ لینے پر تیار نہ ہوا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دس کے دس افراد کا سرقلم کرا دیا اور فرمایا اگر پورا یمن اس جرم میں ملوث ہوتا تو میں سب کو قصاص میں قتل کرا دیتا ۔ یہ ملک کتنا بدنصیب ہے کہ یہاں کا صدر اسلامی قوانین کو بدلنے میں مطلق العنان ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے ” ولکم فی القصاص حیاۃ “ بدلے میں زندگی ہے ۔ قرآن قتل کا بدلہ قتل بناتا ہے لیکن صدر پاکستان مجرم کو معافی کا اختیار رکھتا ہے ۔ حالانکہ یہ اختیار تو مقتول کے ورثاءکا ہے کہ وہ بدلہ لیں ۔ معاف کر دیں یا دیت لے لیں ۔ سزائے موت کی منسوخی سے جہاں قاتلوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں وہیں اس ملت میں مار آستین قادیانی کی ذریت اور توہین رسالت کے مرتکبین بھی اسلام اور بنی آخر الزماں پر طعن و تشنیع کے نیزوں سے حملہ آور ہونے کے لیے نئے سرے سے صف بندی کر رہے ہیں ۔ بدنام زمانہ دہشت گرد سربجیت سنگھ کو اس قانون کی منسوخی سے خصوصی ریلیف ملے گا ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ صرف اس دہشت گرد کے لیے قانون بدل دیا گیا ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا ۔ ہم امریکہ کے حضور سجدہ ریز حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ اس دنیا کے بعد بھی ایک دنیا ہے جہاں کی عدالت میں ذرہ بھر کسی سے زیادتی نہ ہو گی اس دن ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس ملک کے جاہ و اقتدار کا مالک اس لیے بنایا کہ تم بندگان خدا کو انصاف مہیا کرو ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دو ۔ اس کام کے لیے آزاد ملک کی حیثیت سے عدالتوں کو آزادی اور خود مختاری سے فیصلے کرنے کا اختیار دو ۔ جس ملک میں عدل و انصاف ہو وہ کبھی بحرانوں کا شکار نہیں ہوتا ۔ سعودی عرب کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں اسلامی سزاؤں پر پوری طرح عمل ہوتا ہے اس لئے وہاں قتل و غارت کی وارداتیں پوری دنیا سے ریکارڈ کم ہوتی ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس امریکہ ، یورپ میں قتل اور دیگر جرائم کی شرح پوری دنیا سے زیادہ ہے ۔ ( عبداللہ بخش ) بحوالہ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سزائے موت کی لنکا کون ڈھائے گا؟ از اسد مفتيدنیا بھر میں سزائے موت کے قوانین کو ختم کرنے کے لیے 70 سے زائد ممالک نے ایک قرار داد کے مسودے پر دستخط کیے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور کئی ممالک سزائے موت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجرم کو سزائے موت دینے سے دنیا میں جرائم ختم نہیں کیے جاسکتے۔ امریکی میگزین فارن پالیسی نے سزائے موت اور پھانسی دینے کے حوالے سے ایک مضمون سپرد قلم کیا ہے، جس میں دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک کی ایک فہرست ترتیب دی ہے، جس میں کشور حسین شاد باد اپنے شہریوں کو پھانسی دینے والوں میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ پہلے نمبر پر پاکستان ہی کا دوست ملک چین ہے، جس میں گزشتہ برس ایک ہزار دس افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔ دوسرے نمبر پر ایران کو قرار دیا گیا ہے، جہاں 177 افراد کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا۔ چوتھے نمبر پر عراق کا نام آتا ہے، جس میں 65 افراد کو پھانسی دی گئی۔ عراق نے 2004 میں سزائے موت پر پابندی لگا دی تھی، لیکن اس کے بعد تقریباً 270 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ پانچویں نمبر پر خود امریکہ کا نام ہے، جہاں 53 افراد کو موت کی وادی میں دھکا دیا گیا۔ امریکہ میں پھانسی کی سزا مختلف ریاستوں میں صرف قاتلوں کو دی جاتی ہے، لیکن کچھ ریاستوں میں جرائم پر بھی پھانسی دی جاسکتی ہے۔ ادھر پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ پاکستان میں پھانسی کی سزا کی موجودگی میں ممکن نہیں کہ برطانیہ میں سزائے موت نہیں ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ برطانیہ سے پاکستان کے حوالے کیے جانے والے لوگوں کو سزائے موت دی جائے۔ پاکستان میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ متعدد بین الاقوامی ادارے سزائے موت کو ختم کرنے کے سلسلے میں کوششوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ دنیا کے 90 ملکوں میں موت کی سزا کو ختم کردیا گیا ہے، جب کہ تقریباً اتنے ہی ملکوں میں ابھی تک مجرموں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں ان قیدیوں کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، جنہیں گزشتہ بارہ برس کے دوران موت کی سزا دی گئی ہے، جب کہ صرف پنجاب میں ایسے قیدیوں کی تعداد 8 ہزار کے قریب ہے۔ سب سے زیادہ پھانسیاں صوبہ پنجاب میں دی گئیں۔ اس وقت مملکت خداداد کی جیلوں میں قید پھانسی کے منتظر قیدیوں میں 42 عورتیں اور تین بچے بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور ایران کے بعد پاکستان سب سے زیادہ موت کی سزائیں دینے والا ملک بن گیا ہے۔ پاکستان میں 2004 میں 41 افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور 15 کو پھانسی دی گئی، جب کہ 2005 میں 481 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور 52 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ 2006 میں 448 افراد موت کی سزا کے حق دار ٹھہرے جب کہ 82 کو پھانسی دے دی گئی۔ 2007 میں پہلے 9ماہ کے دوران کم از کم 109 افراد کو پھانسی کے پھندے میں جکڑا گیا، جب کہ پورے ایک سال میں 133 افراد پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔ 2006 میں صدر پاکستان نے 257 رحم کی اپیلوں کو نمٹایا اور صرف ایک شخص کی رحم کی اپیل منظور ہوئی اور وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر محمود تھا۔ پاکستان بھر میں 184 خواتین کو موت کی سزا سنائی جاچکی ہے، جن میں 2007 تک 9 خواتین کی سزا پر عمل درآمد بھی ہوچکا ہے۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ایک قیدی بنام ذوالفقار علی کی سزائے موت پر عمل درآمد 8 اکتوبر کے دن عین وقت پر صدر زرداری کے حکم پر روک دیا گیا، اس بات سے عندیہ ملتا ہے کہ موجودہ حکومت سزائے موت کے قانون کو عمرقید میں تبدیل کرنے کی اپنی کوششوں میں سنجیدہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایسے جرائم میں اضافہ ہوا تھا، جن کی سزا موت ہے اور مشرف کے عہد میں ہی زیادہ تر پھانسی کے قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد ہوا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 21 جون 2009 کو قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں سزائے موت کے قانون کو عمرقید میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان قابل تعریف اور حوصلہ افزا تھا، لیکن شاید مذہبی شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور ہنوز قانون کی تسلیم شدہ اور تحریری شکل میں موجود بنیادی خامیوں کے ہوتے ہوئے بھی سزائے موت کے فیصلے سنائے جارہے ہیں اور اس امر کا قوی امکان ہے کہ مقدمات میں منصفانہ نتائج حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکے گی اور وسیع پیمانے پر سزائے موت کے اطلاق نے قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے کی بجائے اسے کافی حد تک کمزور کیا ہے، لیکن ایک خبر جسے ہم امید کی کرن قرار دے سکتے ہیں، وہ سنیٹ میں دیے جانے والے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کا ایک بیان ہے جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت سزائے موت کے قیدیوں کی سزا عمرقید میں تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ میں وزیرداخلہ کو یہ بھی بتانا چاہتاہوں کہ اس ’’زیر غور‘‘ معاملہ کو جلد از جلد قانونی شکل دے دیجیے کہ بعض کال کوٹھریوں میں سزائے موت کے دس سے بارہ قیدیوں کو مبینہ طور پر ایک چار میٹر ضرب تین میٹر کی کوٹھری میں بند کیا گیا ہے، جو صرف ایک قیدی کے لیے بنائی گئی تھی۔ سزائے موت پر عمل درآمد کے انتظار میں بہت سے قیدی پچیس، تیس سال سے اپنی موت کے منتظر ہیں جن میں سے بعض تو سو برس کی عمر کو چھونے والے ہیں۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ جس ملک میں پانچ ہزار روپے کے عوض قرآن اٹھا کر جھوٹی گواہی دینے والے آسانی سے مل جاتے ہوں اور روایتی قبائلی دشمنی کی بنیاد پر مخالفین کو قتل کے جرم میں بے گناہ پھنسا دیا جاتا ہو، وہاں سزائے موت انسانیت کا قتل نہیں تو کیا ہے؟ میں بھی سوچتا ہوں، آپ بھی سوچی بحوالہ Last edited by شمشاد احمد; 07-09-11 at 01:11 AM. |
|
|
|
|
|
#4 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سزائے موت کی تبدیلی کااعلان!
الحمدللہ وسلام علی عبادہ ا لذین اصطفی! پی پی پی کو بڑے دنوں بعد لیلائے اقتدار سے ہم آغوش ہونے کی سعادت اور خوشی نصیب ہوئی ہے۔ خدا کرے اسے وصلِ محبوب کی خوشیاں راس آئیں اور وہ اس موقع پر شادی مرگ کا شکار نہ ہو، مگر ان کے بڑوں کے انداز و اطوار سے اس بات کاشدید احساس ہونے لگا ہے کہ وہ بدترین بدحواسی کا شکار ہیں۔ اس لئے اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ کہیں ان کو سوئے ہضم کا عارضہ نہ لگ جائے، اور وہ اپنی ساکھ بنانے یا اپنا مورال بلند کرنے کے شوق میں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی نہ مار بیٹھیں۔ چنانچہ گزشتہ کچھ دنوں سے ان کے کئی ایک اقدامات اس اندیشے کو تقویت پہنچارہے ہیں، مثلاً: وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی ”مظلوم“ لیڈر اور پی پی پی کی شریک چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر عوام کو سالگرہ کا تحفہ دیتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ: اقتباس:
الف :․․․سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے جن جرائم میں سزائے موت مقرر کی ہے، وہ حدود و قصاص کے دائرے میں آتے ہیں اور حدود و قصاص میں کسی فرد ،افراد اور بڑے سے بڑے انسان حتی کہ کسی حکمران اور بادشاہ کو اس میں کسی قسم کی کمی زیادتی کی اجازت و اختیار نہیں ہے، یہاں تک کہ حدود و قصاص کے معاملات میں سفارش کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے برداشت اور گوارا نہیں فرمایا، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کے قبیلہ بنو مخزوم کی ایک خاتون نے چوری کی، اس کا کیس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد سرقہ ...ہاتھ کاٹنے...کا فیصلہ فرمایا، قریش کو اس سے بہت پریشانی ہوئی، انہوں نے چاہا کہ اس سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرکے اس سزا میں کوئی تخفیف کرادے ،تاکہ یہ خاتون اس سزا سے اور ہم بدنامی سے بچ جائیں، سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ کام حضرت اسامہ بن زید ہی کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات کو رد نہیں کریں گے، چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم حدود اللہ میں سے ایک حد کی تبدیلی کے بارہ میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے ،خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! تم سے پہلے والے اس لئے گمراہ ہوئے کہ جب ان میں کا کوئی معزز چوری کرتا تووہ اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمتر چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے تھے، اللہ کی قسم! اگر اس مخزومی خاتون کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔“ (صحیح بخاری، ص:۱۰۰۳، ج:۲) دیکھئے! نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم جو صاحبِ شریعت نبی ہیں اور ان کا ہر قول و فعل شریعت ہے، اگر انہیں چوری کی سزا کے معاملہ میں تبدیلی اور ترمیم و تنسیخ گوارا نہیں یا دوسرے الفاظ میں ان کو اس کا اختیار نہیں تو دنیا کے کسی نام نہاد بڑے کو کیونکر اس کا اختیار ہوگا؟ ب:… اسلام نے جن جرائم میں سزائے موت تجویز فرمائی ہے، ان میں سے قتلِ عمد، ارتداد، شادی شدہ مرد و عورت کا زنا کرنا، محاربہ یعنی سر عام مال لوٹنا اور قتل کرنا یا پھر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی بھی مقدس نبی کی توہین و تنقیص کا ارتکاب کرنا، ان تمام جرائم میں سے صرف قتل عمد ہی ایسا جرم ہے جس میں شریعت نے مقتول کے ورثاء کو معاف کرنے کا حق دیا ہے، باقی کسی بھی جرم میں کسی انسان کو ان سزاؤں کو بدلنے، تخفیف کرنے یا ان کو ختم کرنے کا قطعاً کوئی حق نہیں دیاگیا۔ لہٰذا جناب وزیر اعظم صاحب کا یہ ا علان کہ بی بی کی سالگرہ کے موقع پر پاکستانی جیلوں میں قید سزائے موت کے مجرموں کی سزا عمر قید میں تبدیل کی جاتی ہے، کسی مسلمان، دین دار اور اللہ و رسول اور قرآن و سنت کے ماننے والے مسلمان کے لئے ناقابل فہم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی گہری سازش کا پیش خیمہ ہے اور پی پی پی حکومت کو ناکام و بدنام کرنے کا حربہ ہے، ورنہ کیا کوئی مسلمان یہ گوارا کرسکتا ہے ،یا سوچ سکتا ہے کہ وہ اللہ، رسول، قرآن، سنت اور دین و شریعت کی آہنی دیوار سے ٹکراکر اپنی د نیا وآخرت برباد کرے؟ اسی طرح کیا کوئی عقل مند اس کو برداشت کرسکتا ہے کہ وہ دین و شریعت کے واضح احکام اور قطعی نصوص میں تحریف و تبدیلی کا ارتکاب کرکے امت مسلمہ کی مخالفت کرے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس حماقت و جہالت کا کیا معنی؟ ہمارے خیال میں عزت مآب وزیر اعظم جناب گیلانی صاحب جو ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے خود قصداً ایسا نہیں کیا ،بلکہ غیر مرئی اور اسلام دشمن قوتوں نے ان سے یہ اقدام کرایا ہے، اور اس اقدام یا اعلان کے پیچھے یہ غلیظ اور گھناؤنی سازش کارفرما ہے کہ جن بدبختوں نے آزادیٴ اظہار، آزادیٴ ضمیر کے نام نہاد فلسفہ کی آڑ، اسلام دشمنوں کے مقاصد کی تکمیل، معمولی دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے مقدس انبیاء اور شخصیات کی شان میں بے ادبی، گستاخی، توہین و تنقیص کا ارتکاب کیا ہے اور پاکستان کے غیور و دین دار مسلمانوں نے انہیں عدالتوں میں گھسیٹا ہے اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے قانون توہین رسالت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کے اس شرمناک جرم کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی ہے، اس اعلان و اقدام سے ان کو فائدہ پہنچایا جائے اور ان کو سزائے موت سے بچایا جائے۔ جناب گیلانی صاحب! آپ خود ہی فیصلہ فرمایئے ،کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں کہ آپ کے اس اعلان سے آپ کے نانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو فائدہ پہنچے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو فوراً اس اعلان و اقدام کا ازالہ کیجئے اور وضاحت فرمائیے کہ اس اعلان سے ان بدبختوں کو قطعاً کوئی فائدہ اور ریلیز نہیں ملے گا جنہوں نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے۔ اگر آپ نے یہ وضاحت نہ کی تو اندیشہ ہے کہ کہیں کل قیامت کے دن آپ کا شمار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں اور توہین رسالت کے مرتکبین میں نہ ہو۔ جناب گیلانی صاحب! شفقت و رحمت اور وسعت ظرفی ضرور کیجئے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کے بجائے عام مجرمین کے ساتھ۔ ایک طرف تو آپ اپنی قائد اور پارٹی راہنما کے قاتلوں کے سلسلہ میں ذرہ بھر نرمی دکھانے کو تیار نہیں اور پوری کوشش فرماتے ہیں کہ اس کے قاتل کیفر کردار کو پہنچیں، حتی کہ اس سلسلہ میں آپ بین الاقوامی انصاف کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں، اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ذریعہ تحقیقات پر مصر ہیں اور دوسری طرف اتنی بے حسی کہ جو مردود و بدبخت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی ہیں اور ان کو سزائے موت ہوچکی ہے ،آپ ان کو ریلیف دینے کے لئے ہلکان ہیں۔ اگر آپ کو انسانیت کے ساتھ خیر خواہی ہے تو اپنے حقوق معاف کیجئے اور اپنے مقدمات و خصومات میں عفو و درگزر کیجئے ،مگر جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کے ساتھ نرمی اور عفوومعافی کا تعلق ہے، تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی کو معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ خدا کرے !ہماری یہ صدا آپ کے کانوں تک پہنچ جائے اور آپ کو اس پر غوروفکر کا موقع مل جائے، ورنہ آپ کی د نیاو آخرت تباہ ہونے کا شدید اندیشہ ہے۔ نامناسب نہ ہوگا اگریہاں تمام مسالک کے راہنماؤں اور ذمہ داروں کا وہ بیان بھی درج کردیا جائے، جس میں انہوں نے متفقہ طور پر اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سزائے موت معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے، ملاحظہ ہو: اقتباس:
اقتباس:
واللہ یقول الحق وہبو یہدی السبیل وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمدوآلہ وصحبہ اجمعین بحوالہ |
|||
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سزائے موت کا قانون
June 23rd, 2008 مصنف ميرا پاکستان ذمرہ پاکستان وزیراعظم نے بینظیر بھٹو کی ۵۵ ویں سالگرہ پر تمام قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی سمری صدر مشرف کو بھیج دی ہے۔ وزیراعظم کے اس عمل سے یہی لگتا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی۔ سزائے موت کے بارے میں دنیا میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق سزائے موت جرائم میں کمی کیلیے ضروری ہے اور دوسری رائے کے مطابق سزائے موت سے جرائم میں کمی نہیں ہوتی۔ یورپ کے بہت سارے ممالک میں سزائے موت نہیں دی جاتی۔ اس کےمقابلے میں پاکستان سمیت مسلم ممالک میں سزائے موت برقرار ہے اور اس کا جواز اسلامی قوانین کو پیش کیا جاتا ہے۔ اسلامی قانون تو آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح اسلام میں زناہ کا جرم بھی ثابت ہونے پر سنگساری کی سزا دی جا سکتی ہے یہ الگ بات ہے کہ اکثر مسلم ممالک میں کئی دھائیوں سے اس سزا پر عمل معطل ہے۔ جو لوگ سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں وہ سعودی عرب کی مثال دیتے ہیں کہ دیکھو وہاں پر قتل کے مجرم کو سرعام موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے اس لیے وہاں پر جرائم کی تعداد بہت کم ہے۔ مگر یہ دلیل دینے والے دوسرے ممالک کو بھول جاتے ہیں جہاں سزائے موت دی جاتی ہے مگر جرائم کم نہیں ہوتے۔ اسی طرح امریکہ میں سزائے موت کا اختیار ریاستوں کو حاصل ہے یعنی کچھ ریاستوں میں سزائے موت دی جاتی ہے اور کچھ میں اس پر پابندی ہے۔ دنیا کی انسانی حقوق کی تنظيمیں بھی سزائے موت کے خلاف ہیں اور وہ ہر اس ملک کو سزائے موت ختم کرنے کیلیے کہتی رہتی ہیں جہاں سزائے موت دی جاتی ہے۔ اسی طرح اب امریکہ سمیت یورپ کے تمام عیسائی ممالک اسلامی قوانین کی کھل نہ صرف مخالفت کرتے ہیں بلکہ مسلمان ملکوں پر ان قوانین کو معطل کرنے کیلیے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو سزائے موت کو چھوڑ کر امریکہ اور یورپ میں دوسرے جرائم پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ زناہ کی سزا زیادہ سے زیادہ عمر قید ہے۔ یہاں تک کہ جھوٹ بولنے پر بھی کئی سال جیل کاٹنی پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح قتل کی سزا عمر قید ہے اور جج مجرم سے سزا مکمکل ہونے سے پہلے پیرول پر رہائی کا حق بھی چھین سکتا ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس کو قتل کیا گیا کیا اس کا خاندان مجرم کو سزائے موت کی بجائے عمرقید کی سزا کے حق میں ہے۔ کیا کبھی سزا سنانے سے پہلے مقتول کے لواحقین سے رائے لی گئ کہ وہ مجرم کو سزائے موت دینا چاہتے ہیں یا پھر عمرقید۔ اسی سال وکلاء تحریک کے دوران کراچی میں جلائے جانے والوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مرنے والوں کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ ان میں سے کئی اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے بعد اب لواحقین زندگی کی جن تلخیوں سے گزریں گے کیا وہ مقتولین کو سزا ئے موت دینے کیلیے کافی نہیں ہیں۔ کیا مقتول اور اس کے لواحقین کے ساتھ زیادتی نہیں ہے کہ قاتل کو اس سلوک سے مبرا قرار دے دیا جائے جو اس نے قاتل کیساتھ کیا۔ یورپ اور امریکہ سزائے موت کے مخالف ہیں کیونکہ وہ سزائے موت کی سزا کو ظلم سمجھتے ہیں۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ وہ جو سلوک مبینہ دہشت گردوں کیساتھ کر رہے ہیں کیا وہ ظلم نہیں ہے۔ وہ جو تفتیش کے طریقے استعمال کر رہے ہیں کیا وہ ظلم نہیں ہے۔ اگر سزائے موت ظلم ہے تو پھر عمر قید کیا ہے۔ ایک آدمی کو ساری عمر قید کی کوٹھڑی میں بند کر دینا کیا ان کے نزدیک تفریح ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر دنیا میں قوانین نہ ہوتے اور ان پر عمل نہ ہو رہا ہوتا تو یہ دنیا مظالم کا اکھاڑہ ہوتی۔ اس دنیا میں اگر تھوڑا سا سکون ہے تو وہ سزا کے قانون کی وجہ سے ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ اگر انہوں نے زناہ کیا تو وہ ساری عمر جیل میں سڑتے رہیں گے اس لیے وہ زناہ نہیں کرتے۔ اسی طرح دھوکہ، فراڈ، قتل، چوری، ڈاکے ان ممالک میں نہ ہونے کے برابر ہیں جہاں قانون کی عمل داری ہے۔ دوسری طرف ان ممالک میں جرائم پر قابو نہیں پایا جا رہا جہاں قوانین تو سخت بنائے گئے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کیا جارہا۔ اسلام کا مطالعہ اگر کیا جائے تو اسلامی سزاؤں کی بنیادی وجہ بھی معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا ہے۔ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ جس جرم کی سزا سخت ہو گی وہ جرم لوگ کرم کریں گے۔ اس لیے اسلام نے اگر جرائم کی کڑی سزائیں رکھی ہیں تو ان کا مطلب یہ نہیں کہ مجرم پرظلم کیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کو سخت سزا دے کر اسے باقی لوگوں کیلیے عبرت بنا دیا جائے تا کہ وہ جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچیں۔ ہم سزائے موت کے حق میں ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مجرم نے جو کچھ دوسرے کیساتھ کیا وہی کچھ اس کیساتھ ہونا چاہیے۔ اگر اس نے قتل کیا تو پھر اسے بھی سزائے موت ہونی چاہیے۔ ہاں اگر مقتول کے لواحقین مجرم کو معاف کرنا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔ لواحقین سے مراد مقتول کے انتہائی قریبی عزیز یعنی اس کے ماں باپ، بہن بھائی اور بیوی بچے جو اس کی موت کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں بحوالہ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان میں سزائے موت کے مقدمات کی کارروائی پر تنقید ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی عدالتوں میں چلائے جانے والے مقدمات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ عدالتی عمل بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اُترتی ہے۔ لندن میں قائم انسانی حقوق کی علم بردار اس غیر سرکاری تنظیم نے پیر کو جاری کی گئی اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں تشدد کے ذریعے ملزمان کو اقبال جرم کرنے پر مجبور کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس وقت پاکستان میں آٹھ ہزار ایسے مجرمان ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے تاہم اس پر عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ اب تک ان سزاؤں پر عمل درآمد نا ہونے کی بظاہر بنیادی وجہ صدر آصف علی زرداری کا گذشتہ سال اگست میں جاری ہونے والا وہ حکم نامہ تھا جس کے ذریعے ما سوائے دہشت گردی اور ریاست کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے دوسرے مجرمان کی پھانسی کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ پاکستان میں بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں سزائے موت کے قانون کے خلاف احتجاج اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتی آئی ہیں۔ لیکن حکمران پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رکن جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالنسا کھوکھر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں جہاں غیر منصفانہ عدالتی عمل کے الزام کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا ہے وہیں اُنھوں نے سزائے موت ختم کرنے کے مطالبے کو بھی رد کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی موجودہ صورت حال اور آئے دن دہشت گردی کے واقعات کی موجودگی میں کوئی حکومت سزائے موت ختم کرنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتی۔ ”میری ذاتی رائی یہ ہے کہ جس طرح قانون کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور لوگوں کو مارا جا رہا ہے ، لوگوں کی زندگی اور آزادی (کے تحفظ) کے لیے اس قانون میں کوئی رعایت نہیں رکھنی چاہیئے۔“ مزید برآں فخرالنسا کھوکھرنے کہا کہ پاکستان میں خصوصاً قتل کے مقدمات کا بنیادی انحصار پوسٹ مارٹم رپورٹ، ٹھوس شواہد اور گواہوں کے بیانات پر ہوتا ہے۔ ”اگر گواہ استغاثہ سے تعاون ہی نہیں کرنا چاہتے تو آپ کیا کر سکتے ہیں، ملزمان نے تو پھر بری ہونا ہے۔ میرے اپنے خیال کے مطابق غیر منصفانہ عمل تحقیقات میں تو ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ مقدمے کی عدالتی کارروائی میں نہیں ہوتا۔“ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کے تحت نومبر 2010ء میں سزائے موت پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کا بھی ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اُس کیخلاف عدالتی کارروائی غیر منصفانہ تھی بحوالہ |
|
|
|
| شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (07-09-11) |
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,353
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سزاؤں کے مخالفین کے دلائل کیا ہیں۔ وہ تو پتا چلے۔ اب اس قسم کے دلائل پر تو مُسکرایا ہی جا سکتا ہے
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | رضی (10-09-11), شمشاد احمد (07-09-11) |
![]() |
| Tags |
| color, com, death, گئی, یا, وقت, موت, مطابق, world, آبادی, اللہ, اردو, ترک, جرم, خواتین, دی, دنیا, سال, شخص, شروع, عوامی, عائد, عدالتی, عظیم, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| موت پر رقص ڈھول باجے كے ساتھ۔۔۔ جہالت كي يہ انتہاء بھي ہمارے ملك ميں ہے | شمشاد احمد | خبریں | 8 | 22-08-11 10:28 PM |
| اخلاق ہيں اسلام كا ايك جزو مسلم بڑھ جائے گر بات تو پھر احد و بدر ہے | شمشاد احمد | خبریں | 0 | 22-08-11 01:57 AM |
| مشركوں كي عيدوں اور تہواروں ميں شركت اورانہيں مباركباد دينا | چیتا چالباز | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 2 | 25-01-11 11:52 AM |
| تحريك پاكستان ميں علماء حق كا فيصلہ كن كردار | sahj | تاریخ کا آئینہ | 27 | 23-06-10 09:38 PM |
| ايك گدھا كسي گھر كي ديوار سے | The Great | قہقہے ہی قہقے | 2 | 12-10-09 11:03 AM |