واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


حدود وقصاص: سزائے موت كے خاتمے كي عالمي تحريك كے تناظر ميں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-09-11, 01:02 AM   #1
حدود وقصاص: سزائے موت كے خاتمے كي عالمي تحريك كے تناظر ميں
شمشاد احمد شمشاد احمد آف لائن ہے 07-09-11, 01:02 AM

سزائے موت، کسی بھی شخص پر عدالتی طور پر سنگین جرم ثابت ہونے پر دی جانے والی ہلاکت یا قتل کی سزا ہے۔

قتل یا سزائے موت ماضی میں تقریباً ہر معاشرے میں مشق کی جاتی رہی ہے، فی الحال صرف 58 ممالک میں یہ سزا قانونی طور پر فعال ہے جبکہ 95 ممالک میں اس سزا پر قانونی طور پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ دنیا کے باقی ممالک میں پچھلے دس سال میں کسی کو بھی موت کی سزا نہیں سنائی گئی ہے اور وہاں صرف مخصوص حالات، جیسے جنگی جرائم کی پاداش میں ہی سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
سزائے موت ترك كرنے والے ممالك اور سزائے موت قانوني طور پر بحال ركھنے والے ممالك كي تفصيل آپ يہاں ديكھ سكتے ہيں۔

یہ مختلف ممالک اور ریاستوں میں سرگرم اور متنازعہ معاملہ رہا ہے ، اور اس بارے مختلف معاشروں میں سیاسی اور تہذیبی بنیادوں پر متنوع رائے پائی جاتی ہے۔ یورپی یونین میں سزائے موت پر “بنیادی حقوق کے چارٹر“ کے مطابق پابندی عائد ہے۔

گو کہ اس وقت دنیا کے زیادہ ممالک سزائے موت کو ترک کر چکے ہیں لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ابھی بھی دنیا کی تقریباً 60 فیصد آبادی ایسے ممالک سے تعلق رکھتی ہے جہاں سزائے موت کو تاحال قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ان ممالک میں زیادہ گنجان آباد ممالک جیسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ، عوامی جمہوریہ چین، بھارت اور انڈونیشیا شامل ہیں۔

سزائے موت بارے بین الاقوامی رجحان

جنگ عظیم دوئم کے بعد سے دنیا بھر میں سزائے موت پر پابندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ 1977ء میں 16 ممالک نے سزائے موت پر پابندی لگا دی۔ 2010ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شائع ہونے والی معلومات کے مطابق، مجموعی طور پر 95 ممالک نے اب تک سزائے موت پر پابندی عائد کی ہے، 9 ممالک نے غیر معمولی حالات کے علاوہ اس سزا پر پابندی جبکہ 35 ممالک نے سزائے موت کا قانون ہونے کے باوجود پچھلے دس سال میں اسے استعمال نہیں کیا ہے، اور ان ممالک میں یہ قانون خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ 58 ممالک ایسے پائے گئے ہیں جہاں سزائے موت کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور یہاں اس سزا پر عمل درآمد بھی کیا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2009ء میں دنیا کے 18 ممالک میں تقریباً 714 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ اس کے علاوہ کئی ممالک ایسے ہیں جو سزائے موت پر عمل درآمد بارے معلومات فراہم نہیں کرتے، ان میں عوامی جمہوریہ چین سر فہرست ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ ہر سال سینکڑوں افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے۔

2010ء کی اول سہ ماہی تک دنیا بھر میں 17000 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی تھی اور سزا پر عمل درآمد ہونا باقی تھا۔

سزائے موت ديے جانے كے طريقے:

سزائے موت پانے والے مجرم کو ہلاک کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان طریقوں میں برقی کرسی، گولی مارنا، سنگسار كرنا، گھٹن، پھانسی اور مہلک زہریلے ٹیکوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

ايك طرف سزائے موت كے خاتمے كي يہ تحريك ہے دوسري طرف مغرب سے ہي يہ آوازيں أٹھنا شروع ہو گئيں ہيں كہ سزائے موت كوواپس بحال كيا جائے۔
اقتباس:
برطانوی سزائے موت کی بحالی کے خواہشمند
لندن : برطانوی عوام کی اکثریت نے سزائے موت کی بحالی کی خواہش ظاہر کر دی۔
برطانوی اخبار دی میل کی جانب سے کرائے گئے سروے میں 53 فیصد برطانوی شہریوں نے سزائے موت کی واپسی کا مطالبہ کیا جب کہ 34 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔
سروے میں 63 فیصد مردوں اور 44 فیصد خواتین نے اس مطالبے کی حمایت کی۔
ان افراد میں سے 66 فیصد نے سزائے موت کے قیدیوں کو زہر کے ٹیکے لگانے، 12 فیصد نے پھانسی اور 5 فیصد نے بجلی کی کرسی پر بٹھانے کے طریقوں کو استعمال کرنے کی سفارش کی۔
واضح رہے کہ برطانیہ میں 1969ءمیں سزائے موت ختم کر دی گئی تھی جب کہ اس ملک میں آخری بار پھانسی پر لٹکائے جانے کا واقعہ 1964ءمیں پیش آیا تھا
بحوالہ اردو ٹائمز
The News Tribe

بي بي سي
تيسري طرف اسلامي احكامات ميں حدود و قصاص ہيں جن كي رو سے مخصوص جرائم اگر عدالت ميں ثابت ہو جائيں تو ان كي سزا ميں تبديلي كا كسي كو اختيار نہيں۔۔۔ بحث طلب امر يہ ہے كہ كيا واقعي سنگين جرائم پر سزائے موت دينا ظلم كے زمرے ميں آتاہےاور اس كا خاتمہ بنيادي انساني حقوق ميں سے ہے۔۔۔سزائے موت كے خاتمے يا اس كي بقاء كا معاشرے پر كيا اثرات مرتب ہوتے ہيں۔۔۔
اگلے مراسلے كے مضامين كا مطالعہ اس حوالے سے انشاء اللہ مفيد رہے گا۔۔۔

آپ كے كمنٹس كا انتظار رہے گا۔


بحوالہ وكي پيڈيا۔۔۔ بعض تبديلوں كے ساتھ۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

 
شمشاد احمد's Avatar
شمشاد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 191
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-09-11), احمد نذیر (07-09-11), رضی (11-09-11)
پرانا 07-09-11, 01:03 AM   #2
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سزائے موت کی منسوخی........ ؟
انگریز نے یہ ملک پلیٹ میں رکھ کر ہمیں پیش نہیں کیا بلکہ ہمارے آباءواجداد نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ۔ اور خون کا دریا تھا جسے عبور کر کے پاکستان کی منزل مراد کو حاصل کیا گیا ۔ بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کو تار تار ہوتے بدنصیب آنکھوں نے دیکھا ۔ نونہالوں کو نیزوں پر لٹکتے اور نہتے جوانوں کو کرپانوں سے کٹتے دیکھا ۔ مسلمان اپنی جائیدادیں ، آباءکے مساکن اور نہ جانے کیا کیا قربان کر کے کلمہ توحید کے نام پر بننے والے ملک میں لٹے پٹے آئے ۔ انہوں نے یہ سب بھیانک مصائب اور تکالیف اس لیے برداشت کیں کہ وہ بندے ماترم گانے کی بجائے قال اللہ وقال الرسول کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے ۔ اسے شومی قسمت کہئیے یا کچھ اور ان کے یہ سب خواب چکنا چور اور امید اور آس کے بندھن اس وقت ٹوٹ گئے جب گزشتہ حکومت نے امریکی ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے حقوق نسواں کے قانون میں تبدیلی سے زنا کاروں کو تحفظ فراہم کر کے قہر الٰہی کو دعوت دی ۔ ابھی حکمرانوں کی اس شر انگیزی کی چبھن اور درد کی ٹیسوں کی تکلیف ماند نہ پڑی تھی ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسلام اور قرآن سے جنگ کا نیا محاذ کھول دیا ۔

استعماری قوتوں اور ان کی پروردہ این جی اوز کے دباؤ پر حکومت نے بے نظیر بھٹو کی سالگرہ پر اس کی جمہوریت کے لیے کی جانے والی کوششوں پر اسے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سزائے موت کے قانون کو ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ پاکستان پینل کوڈ کے تحت موت کی سزا دفعہ 302 کے تحت کسی شخص کو کسی دوسرے شخص کا ناحق قتل کرنے پر سنائی پشتیباں ہے ۔ تاہم قتل کے علاوہ آئین کو معطل کرنے ، منسوخ کرنے والے شخص کے علاوہ ملک سے غداری کرنے والے ، منشیات کی مخصوص مقدار میں تیاری ، خرید و فروخت یا سمگلنگ کرنے والے اور توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو پاکستان میں موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی آئین کی آرٹیکل 45 صدر پاکستان کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ سزائے موت یا کسی بھی قیدی کی سزا کو معاف کر سکتا ہے ۔ اسی آرٹیکل کے تحت وزیراعظم نے اعلان کیا تو ملک کی 90 جیلوں میں پھانسی کے منتظر 7 ہزار دو سو افراد اور پینتیس عورتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ ان کے عزیز و اقارب اور پشتیابانوں نے بھنگڑے ڈالے اور مقتولین کے دلوں کو گھائل کرنے کے لیے فائرنگ کرتے ہوئے مٹھائی تقسیم کی ۔ ایک معروف اخبار نے اپنے اداریہ میں اسے حکومت کا مستحسن قدم گردانتے ہوئے لکھا کہ سزائے موت کے مجرموں کو ریلیف ملے گا ۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ مقتول کے ورثاءکی اکثریت بھی معاشرتی اقدار ، سماجی ماحول اور رسم و رواج کے مطابق قاتل کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرنے اور اسے پھانسی کے پھندے پر دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس سے خاندانی عداوت کا دائرہ وسیع ہوگا ۔ یہ حقائق کو مسخ کرنے کا زہریلا پراپیگنڈہ ہے تجربات نے ہمیشہ اس انوکھے فلسفے کی تردید کی ہے ۔ معاشرے میں قتل کیوں ہوتے ہیں ؟

اس کا سب سے بڑا سبب عدالتوں اور انصاف کرنے والوں کا قاتلوں اور مجرموں کو ان کے جرم کی سزا نہ دینا ہے ۔ اکثر نسل در نسل کے قتل عام کے سلسلوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مقتول کے وارث نا امید ہو کر خود ہتھیار اٹھا کر بدلہ یا انصاف کا اختیار اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ عداوت کا دائرہ عدالت کے انصاف سے بند ہو گا اور لاقانونیت اور سزائے موت کے خاتمہ سے آگ کی طرح ہر گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ آج یہ اجرتی قاتل جنہوں نے چند ٹکوں کی خاطر پورے پورے خاندان صفحہ ہستی سے مٹا دئیے ، جنہوں نے گینگ ریپ اور حوا کی بیٹی سے شیطانی کھیل کھیل کر اسے ٹشو کی طرح مسل کر اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا ۔ جنہوں نے ڈکیتی اور قتل سے نونہالوں کے سہاروں سے سہارا چھین کر انہیں کرب کی بھٹی میں پھینک دیا ۔ جنہوں نے ہنستے مسکراتے پھولوں کو چند کوڑیوں کے تاوان کی خاطر جنسی تشدد کے بعد تڑپتی ممتا کو تعفن زدہ بوری بند لاش کا تحفہ دیا ۔ آج یہ سب معاشرے کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے تو مظلوم ، ہمدردی اور آزادی کے مستحق ہیں لیکن ان کے ہاتھوں سے ڈسے ہوئے کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ۔

جب قاتلوں اور مجرموں کو معلوم ہو گا کہ ہمارے حکمرانوں کے اور ان کے لیڈروں کے ہر سال یوم پیدائش سے اسلام اور قرآن بدلتا ہے بے بس اور بے کس معصوموں کے قاتلوں کی پھانسی کی سزائیں عمر قید میں بدل جاتی ہیںتو پھر اس سے قتل کا سلسلہ رکنے کی بجائے بڑھے گا ۔ خاندانوں ، قبیلوں اور علاقوں کے درمیان حرب مجاز چھڑ جائے گی ۔ تاریخ اسلام کو کھنگال کر دیکھ لیں کسی خلیفہ یا مسلم حکمران کو حتیٰ کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ایسا خراج عقیدت پیش نہیں ہوا ۔ خاتم الانبیاءقاضی القضاۃ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سفارشی سے کرخت رویہ کے ساتھ صاف صاف کہہ دیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے گی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیں گے ۔ اسی طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں یمن میں کچھ لوگوں نے ایک نوجوان کو ہجوم کی صورت میں مل کر قتل کیا ۔ دس آدمی جنہوں نے ہجومی قتل کیا کوئی بھی قتل کا ذمہ لینے پر تیار نہ ہوا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دس کے دس افراد کا سرقلم کرا دیا اور فرمایا اگر پورا یمن اس جرم میں ملوث ہوتا تو میں سب کو قصاص میں قتل کرا دیتا ۔ یہ ملک کتنا بدنصیب ہے کہ یہاں کا صدر اسلامی قوانین کو بدلنے میں مطلق العنان ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے ” ولکم فی القصاص حیاۃ “ بدلے میں زندگی ہے ۔ قرآن قتل کا بدلہ قتل بناتا ہے لیکن صدر پاکستان مجرم کو معافی کا اختیار رکھتا ہے ۔ حالانکہ یہ اختیار تو مقتول کے ورثاءکا ہے کہ وہ بدلہ لیں ۔ معاف کر دیں یا دیت لے لیں ۔

سزائے موت کی منسوخی سے جہاں قاتلوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں وہیں اس ملت میں مار آستین قادیانی کی ذریت اور توہین رسالت کے مرتکبین بھی اسلام اور بنی آخر الزماں پر طعن و تشنیع کے نیزوں سے حملہ آور ہونے کے لیے نئے سرے سے صف بندی کر رہے ہیں ۔ بدنام زمانہ دہشت گرد سربجیت سنگھ کو اس قانون کی منسوخی سے خصوصی ریلیف ملے گا ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ صرف اس دہشت گرد کے لیے قانون بدل دیا گیا ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا ۔

ہم امریکہ کے حضور سجدہ ریز حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ اس دنیا کے بعد بھی ایک دنیا ہے جہاں کی عدالت میں ذرہ بھر کسی سے زیادتی نہ ہو گی اس دن ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس ملک کے جاہ و اقتدار کا مالک اس لیے بنایا کہ تم بندگان خدا کو انصاف مہیا کرو ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دو ۔ اس کام کے لیے آزاد ملک کی حیثیت سے عدالتوں کو آزادی اور خود مختاری سے فیصلے کرنے کا اختیار دو ۔ جس ملک میں عدل و انصاف ہو وہ کبھی بحرانوں کا شکار نہیں ہوتا ۔ سعودی عرب کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں اسلامی سزاؤں پر پوری طرح عمل ہوتا ہے اس لئے وہاں قتل و غارت کی وارداتیں پوری دنیا سے ریکارڈ کم ہوتی ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس امریکہ ، یورپ میں قتل اور دیگر جرائم کی شرح پوری دنیا سے زیادہ ہے ۔ ( عبداللہ بخش )

بحوالہ
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (07-09-11), حیدر (07-09-11), رضی (10-09-11)
پرانا 07-09-11, 01:08 AM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سزائے موت کی لنکا کون ڈھائے گا؟
از اسد مفتي

دنیا بھر میں سزائے موت کے قوانین کو ختم کرنے کے لیے 70 سے زائد ممالک نے ایک قرار داد کے مسودے پر دستخط کیے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور کئی ممالک سزائے موت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مجرم کو سزائے موت دینے سے دنیا میں جرائم ختم نہیں کیے جاسکتے۔

امریکی میگزین فارن پالیسی نے سزائے موت اور پھانسی دینے کے حوالے سے ایک مضمون سپرد قلم کیا ہے، جس میں دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک کی ایک فہرست ترتیب دی ہے، جس میں کشور حسین شاد باد اپنے شہریوں کو پھانسی دینے والوں میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ پہلے نمبر پر پاکستان ہی کا دوست ملک چین ہے، جس میں گزشتہ برس ایک ہزار دس افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔ دوسرے نمبر پر ایران کو قرار دیا گیا ہے، جہاں 177 افراد کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا۔ چوتھے نمبر پر عراق کا نام آتا ہے، جس میں 65 افراد کو پھانسی دی گئی۔

عراق نے 2004 میں سزائے موت پر پابندی لگا دی تھی، لیکن اس کے بعد تقریباً 270 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ پانچویں نمبر پر خود امریکہ کا نام ہے، جہاں 53 افراد کو موت کی وادی میں دھکا دیا گیا۔ امریکہ میں پھانسی کی سزا مختلف ریاستوں میں صرف قاتلوں کو دی جاتی ہے، لیکن کچھ ریاستوں میں جرائم پر بھی پھانسی دی جاسکتی ہے۔ ادھر پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ پاکستان میں پھانسی کی سزا کی موجودگی میں ممکن نہیں کہ برطانیہ میں سزائے موت نہیں ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ برطانیہ سے پاکستان کے حوالے کیے جانے والے لوگوں کو سزائے موت دی جائے۔

پاکستان میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ متعدد بین الاقوامی ادارے سزائے موت کو ختم کرنے کے سلسلے میں کوششوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ دنیا کے 90 ملکوں میں موت کی سزا کو ختم کردیا گیا ہے، جب کہ تقریباً اتنے ہی ملکوں میں ابھی تک مجرموں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں ان قیدیوں کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے، جنہیں گزشتہ بارہ برس کے دوران موت کی سزا دی گئی ہے، جب کہ صرف پنجاب میں ایسے قیدیوں کی تعداد 8 ہزار کے قریب ہے۔

سب سے زیادہ پھانسیاں صوبہ پنجاب میں دی گئیں۔ اس وقت مملکت خداداد کی جیلوں میں قید پھانسی کے منتظر قیدیوں میں 42 عورتیں اور تین بچے بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور ایران کے بعد پاکستان سب سے زیادہ موت کی سزائیں دینے والا ملک بن گیا ہے۔ پاکستان میں 2004 میں 41 افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور 15 کو پھانسی دی گئی، جب کہ 2005 میں 481 لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور 52 قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ 2006 میں 448 افراد موت کی سزا کے حق دار ٹھہرے جب کہ 82 کو پھانسی دے دی گئی۔ 2007 میں پہلے 9ماہ کے دوران کم از کم 109 افراد کو پھانسی کے پھندے میں جکڑا گیا، جب کہ پورے ایک سال میں 133 افراد پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔ 2006 میں صدر پاکستان نے 257 رحم کی اپیلوں کو نمٹایا اور صرف ایک شخص کی رحم کی اپیل منظور ہوئی اور وہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر محمود تھا۔ پاکستان بھر میں 184 خواتین کو موت کی سزا سنائی جاچکی ہے، جن میں 2007 تک 9 خواتین کی سزا پر عمل درآمد بھی ہوچکا ہے۔

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ایک قیدی بنام ذوالفقار علی کی سزائے موت پر عمل درآمد 8 اکتوبر کے دن عین وقت پر صدر زرداری کے حکم پر روک دیا گیا، اس بات سے عندیہ ملتا ہے کہ موجودہ حکومت سزائے موت کے قانون کو عمرقید میں تبدیل کرنے کی اپنی کوششوں میں سنجیدہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سابق صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایسے جرائم میں اضافہ ہوا تھا، جن کی سزا موت ہے اور مشرف کے عہد میں ہی زیادہ تر پھانسی کے قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد ہوا۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 21 جون 2009 کو قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں سزائے موت کے قانون کو عمرقید میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان قابل تعریف اور حوصلہ افزا تھا، لیکن شاید مذہبی شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور ہنوز قانون کی تسلیم شدہ اور تحریری شکل میں موجود بنیادی خامیوں کے ہوتے ہوئے بھی سزائے موت کے فیصلے سنائے جارہے ہیں اور اس امر کا قوی امکان ہے کہ مقدمات میں منصفانہ نتائج حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکے گی اور وسیع پیمانے پر سزائے موت کے اطلاق نے قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے کی بجائے اسے کافی حد تک کمزور کیا ہے، لیکن ایک خبر جسے ہم امید کی کرن قرار دے سکتے ہیں، وہ سنیٹ میں دیے جانے والے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کا ایک بیان ہے جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت سزائے موت کے قیدیوں کی سزا عمرقید میں تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

میں وزیرداخلہ کو یہ بھی بتانا چاہتاہوں کہ اس ’’زیر غور‘‘ معاملہ کو جلد از جلد قانونی شکل دے دیجیے کہ بعض کال کوٹھریوں میں سزائے موت کے دس سے بارہ قیدیوں کو مبینہ طور پر ایک چار میٹر ضرب تین میٹر کی کوٹھری میں بند کیا گیا ہے، جو صرف ایک قیدی کے لیے بنائی گئی تھی۔ سزائے موت پر عمل درآمد کے انتظار میں بہت سے قیدی پچیس، تیس سال سے اپنی موت کے منتظر ہیں جن میں سے بعض تو سو برس کی عمر کو چھونے والے ہیں۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ جس ملک میں پانچ ہزار روپے کے عوض قرآن اٹھا کر جھوٹی گواہی دینے والے آسانی سے مل جاتے ہوں اور روایتی قبائلی دشمنی کی بنیاد پر مخالفین کو قتل کے جرم میں بے گناہ پھنسا دیا جاتا ہو، وہاں سزائے موت انسانیت کا قتل نہیں تو کیا ہے؟
میں بھی سوچتا ہوں، آپ بھی سوچی

بحوالہ

Last edited by شمشاد احمد; 07-09-11 at 01:11 AM.
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-09-11, 01:16 AM   #4
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سزائے موت کی تبدیلی کااعلان!

الحمدللہ وسلام علی عبادہ ا لذین اصطفی!
پی پی پی کو بڑے دنوں بعد لیلائے اقتدار سے ہم آغوش ہونے کی سعادت اور خوشی نصیب ہوئی ہے۔ خدا کرے اسے وصلِ محبوب کی خوشیاں راس آئیں اور وہ اس موقع پر شادی مرگ کا شکار نہ ہو، مگر ان کے بڑوں کے انداز و اطوار سے اس بات کاشدید احساس ہونے لگا ہے کہ وہ بدترین بدحواسی کا شکار ہیں۔ اس لئے اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ کہیں ان کو سوئے ہضم کا عارضہ نہ لگ جائے، اور وہ اپنی ساکھ بنانے یا اپنا مورال بلند کرنے کے شوق میں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی نہ مار بیٹھیں۔ چنانچہ گزشتہ کچھ دنوں سے ان کے کئی ایک اقدامات اس اندیشے کو تقویت پہنچارہے ہیں، مثلاً: وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی ”مظلوم“ لیڈر اور پی پی پی کی شریک چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر عوام کو سالگرہ کا تحفہ دیتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ:

اقتباس:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ/اے پی پی) شہید بینظیر بھٹو کی ۵۵ ویں سالگرہ کے سلسلے میں ملک بھر میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا، پارٹی کارکنان و دیگر افراد نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی اپیل پر خون کے عطیات دیئے، شہید قائد کو قومی اسمبلی میں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی، قائم علی شاہ، نثار کھوڑو و دیگر نے گڑھی خدا بخش میں مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی و قرآن خوانی بھی کی، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سمری صدر کو بھجوادی جائے گی، انہوں نے کہا کہ یہ بینظیر شہید کی سالگرہ کا بہترین تحفہ ہے ، اس موقع پر انہوں نے فاٹا میں شہید ہونے والوں کے بچوں کے لئے بینظیر ٹرسٹ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا ۵۵ واں یوم پیدائش روایتی جوش و خروش اور عقیدت و احترام سے منایا گیا.... انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل ہمارا دوسرا گھر ہے، آج اس دن کی مناسبت سے اعلان کرتا ہوں کہ تمام قیدیوں کو سزا میں تین ماہ کی رعایت دی جائے۔ سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو یہ رعایت نہیں ملے گی، اس کے علاوہ وزارت داخلہ کو ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ صدر مملکت کو سمری روانہ کریں کہ تمام سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزا عمر قید میں بدل دی جائے․․․․․۔ “ (روزنامہ جنگ کراچی ،۲۲/ جون ۲۰۰۸ء)
اگرچہ انہوں نے اپنے اس اعلان اور ”تحفہ“ میں اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ: ”سزائے موت کی عمر قید میں تبدیلی“ کے اس اعلان کا فائدہ سنگین جرم کے مرتکب افراد و اشخاص کو نہیں ہوگا ...تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ ان کے ہاں سنگین جرائم کا معیارکیا ہے؟ اور وہ کن کن جرائم کو سنگین جرائم سمجھتے ہیں؟ اور کون کون سے مجرم اس دائرہ میں آتے ہیں اور کون کون سے اس دائرہ میں نہیں آتے؟ اگر وہ اس کی بھی وضاحت کردیتے تو بہتر ہوتا، تاہم اس ابہام و اجمال سے جہاں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، وہاں قرآن و سنت کی رو سے بھی ان کا یہ اعلان محل نظر ہے۔

الف :․․․سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے جن جرائم میں سزائے موت مقرر کی ہے، وہ حدود و قصاص کے دائرے میں آتے ہیں اور حدود و قصاص میں کسی فرد ،افراد اور بڑے سے بڑے انسان حتی کہ کسی حکمران اور بادشاہ کو اس میں کسی قسم کی کمی زیادتی کی اجازت و اختیار نہیں ہے، یہاں تک کہ حدود و قصاص کے معاملات میں سفارش کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے برداشت اور گوارا نہیں فرمایا، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے:

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کے قبیلہ بنو مخزوم کی ایک خاتون نے چوری کی، اس کا کیس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد سرقہ ...ہاتھ کاٹنے...کا فیصلہ فرمایا، قریش کو اس سے بہت پریشانی ہوئی، انہوں نے چاہا کہ اس سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کرکے اس سزا میں کوئی تخفیف کرادے ،تاکہ یہ خاتون اس سزا سے اور ہم بدنامی سے بچ جائیں، سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ کام حضرت اسامہ بن زید ہی کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات کو رد نہیں کریں گے، چنانچہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم حدود اللہ میں سے ایک حد کی تبدیلی کے بارہ میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے ،خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! تم سے پہلے والے اس لئے گمراہ ہوئے کہ جب ان میں کا کوئی معزز چوری کرتا تووہ اس کو چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمتر چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے تھے، اللہ کی قسم! اگر اس مخزومی خاتون کی جگہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا۔“ (صحیح بخاری، ص:۱۰۰۳، ج:۲)

دیکھئے! نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم جو صاحبِ شریعت نبی ہیں اور ان کا ہر قول و فعل شریعت ہے، اگر انہیں چوری کی سزا کے معاملہ میں تبدیلی اور ترمیم و تنسیخ گوارا نہیں یا دوسرے الفاظ میں ان کو اس کا اختیار نہیں تو دنیا کے کسی نام نہاد بڑے کو کیونکر اس کا اختیار ہوگا؟

ب:… اسلام نے جن جرائم میں سزائے موت تجویز فرمائی ہے، ان میں سے قتلِ عمد، ارتداد، شادی شدہ مرد و عورت کا زنا کرنا، محاربہ یعنی سر عام مال لوٹنا اور قتل کرنا یا پھر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی بھی مقدس نبی کی توہین و تنقیص کا ارتکاب کرنا، ان تمام جرائم میں سے صرف قتل عمد ہی ایسا جرم ہے جس میں شریعت نے مقتول کے ورثاء کو معاف کرنے کا حق دیا ہے، باقی کسی بھی جرم میں کسی انسان کو ان سزاؤں کو بدلنے، تخفیف کرنے یا ان کو ختم کرنے کا قطعاً کوئی حق نہیں دیاگیا۔ لہٰذا جناب وزیر اعظم صاحب کا یہ ا علان کہ بی بی کی سالگرہ کے موقع پر پاکستانی جیلوں میں قید سزائے موت کے مجرموں کی سزا عمر قید میں تبدیل کی جاتی ہے، کسی مسلمان، دین دار اور اللہ و رسول اور قرآن و سنت کے ماننے والے مسلمان کے لئے ناقابل فہم ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی گہری سازش کا پیش خیمہ ہے اور پی پی پی حکومت کو ناکام و بدنام کرنے کا حربہ ہے، ورنہ کیا کوئی مسلمان یہ گوارا کرسکتا ہے ،یا سوچ سکتا ہے کہ وہ اللہ، رسول، قرآن، سنت اور دین و شریعت کی آہنی دیوار سے ٹکراکر اپنی د نیا وآخرت برباد کرے؟ اسی طرح کیا کوئی عقل مند اس کو برداشت کرسکتا ہے کہ وہ دین و شریعت کے واضح احکام اور قطعی نصوص میں تحریف و تبدیلی کا ارتکاب کرکے امت مسلمہ کی مخالفت کرے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اس حماقت و جہالت کا کیا معنی؟ ہمارے خیال میں عزت مآب وزیر اعظم جناب گیلانی صاحب جو ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے خود قصداً ایسا نہیں کیا ،بلکہ غیر مرئی اور اسلام دشمن قوتوں نے ان سے یہ اقدام کرایا ہے، اور اس اقدام یا اعلان کے پیچھے یہ غلیظ اور گھناؤنی سازش کارفرما ہے کہ جن بدبختوں نے آزادیٴ اظہار، آزادیٴ ضمیر کے نام نہاد فلسفہ کی آڑ، اسلام دشمنوں کے مقاصد کی تکمیل، معمولی دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے مقدس انبیاء اور شخصیات کی شان میں بے ادبی، گستاخی، توہین و تنقیص کا ارتکاب کیا ہے اور پاکستان کے غیور و دین دار مسلمانوں نے انہیں عدالتوں میں گھسیٹا ہے اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے قانون توہین رسالت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کے اس شرمناک جرم کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی ہے،

اس اعلان و اقدام سے ان کو فائدہ پہنچایا جائے اور ان کو سزائے موت سے بچایا جائے۔ جناب گیلانی صاحب! آپ خود ہی فیصلہ فرمایئے ،کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں کہ آپ کے اس اعلان سے آپ کے نانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو فائدہ پہنچے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو فوراً اس اعلان و اقدام کا ازالہ کیجئے اور وضاحت فرمائیے کہ اس اعلان سے ان بدبختوں کو قطعاً کوئی فائدہ اور ریلیز نہیں ملے گا جنہوں نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے۔ اگر آپ نے یہ وضاحت نہ کی تو اندیشہ ہے کہ کہیں کل قیامت کے دن آپ کا شمار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں اور توہین رسالت کے مرتکبین میں نہ ہو۔

جناب گیلانی صاحب! شفقت و رحمت اور وسعت ظرفی ضرور کیجئے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کے بجائے عام مجرمین کے ساتھ۔ ایک طرف تو آپ اپنی قائد اور پارٹی راہنما کے قاتلوں کے سلسلہ میں ذرہ بھر نرمی دکھانے کو تیار نہیں اور پوری کوشش فرماتے ہیں کہ اس کے قاتل کیفر کردار کو پہنچیں، حتی کہ اس سلسلہ میں آپ بین الاقوامی انصاف کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں، اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ذریعہ تحقیقات پر مصر ہیں اور دوسری طرف اتنی بے حسی کہ جو مردود و بدبخت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی ہیں اور ان کو سزائے موت ہوچکی ہے ،آپ ان کو ریلیف دینے کے لئے ہلکان ہیں۔ اگر آپ کو انسانیت کے ساتھ خیر خواہی ہے تو اپنے حقوق معاف کیجئے اور اپنے مقدمات و خصومات میں عفو و درگزر کیجئے ،مگر جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کے ساتھ نرمی اور عفوومعافی کا تعلق ہے، تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی کو معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ خدا کرے !ہماری یہ صدا آپ کے کانوں تک پہنچ جائے اور آپ کو اس پر غوروفکر کا موقع مل جائے، ورنہ آپ کی د نیاو آخرت تباہ ہونے کا شدید اندیشہ ہے۔ نامناسب نہ ہوگا اگریہاں تمام مسالک کے راہنماؤں اور ذمہ داروں کا وہ بیان بھی درج کردیا جائے، جس میں انہوں نے متفقہ طور پر اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ سزائے موت معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے، ملاحظہ ہو:

اقتباس:
”جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے نکتہ اعتراض پروزیر اعظم کی طرف سے سزائے موت معاف کرنے کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ: سزائے موت معاف کرنے کا اختیار حکومت کو نہیں، یہ قرآن مجید کا واضح حکم ہے، وزیر اعظم اپنی مرضی سے ایسے اعلانات نہ کریں جو قرآن و سنت کے منافی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سزائے موت معاف کرنے کے لئے ناقص تفتیشی نظام کو جواز بنانا غلط ہے۔ آئین میں گزشتہ ۶۰ سالوں کے دوران اسلامی تعلیمات کے مطابق چند ایک نامکمل تبدیلیاں کی گئیں ہیں، انہیں مکمل کرنے کی بجائے مسئلہ کو متنازعہ بناکر پنڈورا بکس نہ کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کو بھی سزا معاف کرنے کا اختیار نہیں، حکومت کی ان بنیادوں کو نہ ہلایا جائے جن پر یہ مخلوط حکومت قائم ہے، حکومت پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔ “ (رونامہ اسلام کراچی ،۲۵/جون ۲۰۰۸ء)


اقتباس:
لاہور (آن لائن) تمام مسالک نے سزائے موت معاف کرنے کی مخالفت کردی اور کہا ہے کہ قرآن و سنت میں جن جرائم کی سزا ،موت رکھی گئی ہے، اسے ختم کرنے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے۔ وزیر اعظم، صدر یا کوئی پارلیمنٹ ایسا کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ قاتل کو معاف کرنے کا حق صرف ورثاء کو حاصل ہے، سزائے موت کے خاتمے کی آڑ میں توہین رسالت کے قانون کو جس کی سزا آئین کی دفعہ ۲۹۵-سی کے تحت موت ہے، ختم کرنے کا منصوبہ ہے ، جو مغرب کی دیرینہ خواہش اور مطالبہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد، صدر اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان مولانا سلیم اللہ خان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان مفتی منیب الرحمن، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان قاری محمد حنیف جالندھری، ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ لاہور ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، سیکریٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان مولانا نعیم الرحمن، علامہ نیاز حسین نقوی وفاق المدارس الشیعہ پاکستان، شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان، مولانا عبدالرؤف ملک صدر متحدہ علماء کونسل ، علامہ عنایت اللہ گجراتی، نائب صدر جمعیت اتحاد العلماء پاکستان، مولانا عبدالحق بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، ڈاکٹر عطاء الرحمن ناظم اعلیٰ رابطة المدارس الاسلامیہ پاکستان، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، امیر انٹرنیشنل ختم نبوت پاکستان، مولانا مخدوم منظور احمد، مولانا عبدالجلیل نقشبندی، صدر جمعیت اتحاد العلمأ پنجاب، مولانا عبدالروف صدر جمعیت اتحاد العلماء کراچی اور اسد اللہ بھٹو امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں قتل عمدکی سزا موت رکھی ہے اور اس کی معافی کا اختیار حاکم اور عدالت کو نہیں ،بلکہ مقتول کے ورثاء کو دیا ہے۔ ڈاکے کی سزا موت ہے، شادی شدہ زانی اور توہین رسالت کے مرتکب مرتد کی سزا بھی موت ہے، ان سزاؤں کو کوئی بھی معاف نہیں کرسکتا۔ وزیر اعظم فوری طور پر سزائے موت کے خاتمے کی صدر کو بھیجی گئی ایڈوائس واپس لیں، انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک طرف کفار بے گناہ مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں، باجوڑ، وزیرستان، فاٹا، لال مسجد، افغانستان، کشمیر، فلسطین اور عراق میں خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں، ان کے خلاف حکمرانوں کو زبان کھولنے کی سکت نہیں ہے، دوسری طرف مغرب کی ہمنوائی میں ظالموں، قاتلوں، ڈاکوؤں، انسانوں کی عزت کو پامال کرنے والوں سے اتنی ہمدردی ہے کہ ایسے ظالموں کی شرعی سزاؤں کو ختم کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا، وزیر اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے اس بات کا اعلان کرکے واضح کردیا ہے کہ وہ نظریہ پاکستان پر یقین نہیں رکھتے، وہ پاکستان کو اسلامی ر یاست بنانے کے بجائے یورپ کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں، قیام پاکستان کے لئے مسلمانوں نے جو قربانیاں دی تھیں، ان پر پانی پھیرنا چاہتے ہیں، انہوں نے پاکستانی قوم کے جذبات کو مجروح اور مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے اور خدا کے غضب کو دعوت دی ہے، اگر انہوں نے عالمی دباؤ میں ایسا اعلان کردیا ہے تو فوراً اس غیر شرعی اعلان کو واپس لیں، توبہ کریں اور مسلمانان عالم سے معافی مانگیں۔“ (روزنامہ امت کراچی، ۲۶/جون ۲۰۰۸ء)
اس کے ساتھ ساتھ عالمی مجلس تحفط ختم نبوت کے امیرخواجہ خواجگان حضرت مولاناخواجہ خان محمد، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے رئیس اور عالمی مجلس تحفط ختم نبوت کے نائب امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، جامعہ کے نائب رئیس مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے اساتذہ کرام ،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نا ظم اعلیٰ مولانا عزیزالرحمن جالندھری،ناظم تبلیغ مولانا اللہ وسایا،ناظم نشرواشاعت مولانامحمداکرم طوفانی نے بھی سزائے موت کی تبدیلی کو قرآن و سنت اور دین و شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مخالفت کی ہے اور قرار دیا کہ وزیر اعظم صاحب فوراً اس سے رجوع اور توبہ کریں اور مسلمانوں کو اس تکلیف دہ صورتِ حال سے نجات دلائیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی دلی وابستگی کا ثبوت دیں۔
واللہ یقول الحق وہبو یہدی السبیل
وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمدوآلہ وصحبہ اجمعین

بحوالہ
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-09-11, 01:19 AM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سزائے موت کا قانون
June 23rd, 2008
مصنف ميرا پاکستان ذمرہ پاکستان

وزیراعظم نے بینظیر بھٹو کی ۵۵ ویں سالگرہ پر تمام قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی سمری صدر مشرف کو بھیج دی ہے۔ وزیراعظم کے اس عمل سے یہی لگتا ہے کہ پاکستان میں سزائے موت ختم کر دی جائے گی۔ سزائے موت کے بارے میں دنیا میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق سزائے موت جرائم میں کمی کیلیے ضروری ہے اور دوسری رائے کے مطابق سزائے موت سے جرائم میں کمی نہیں ہوتی۔ یورپ کے بہت سارے ممالک میں سزائے موت نہیں دی جاتی۔ اس کےمقابلے میں پاکستان سمیت مسلم ممالک میں سزائے موت برقرار ہے اور اس کا جواز اسلامی قوانین کو پیش کیا جاتا ہے۔ اسلامی قانون تو آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح اسلام میں زناہ کا جرم بھی ثابت ہونے پر سنگساری کی سزا دی جا سکتی ہے یہ الگ بات ہے کہ اکثر مسلم ممالک میں کئی دھائیوں سے اس سزا پر عمل معطل ہے۔

جو لوگ سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں وہ سعودی عرب کی مثال دیتے ہیں کہ دیکھو وہاں پر قتل کے مجرم کو سرعام موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے اس لیے وہاں پر جرائم کی تعداد بہت کم ہے۔ مگر یہ دلیل دینے والے دوسرے ممالک کو بھول جاتے ہیں جہاں سزائے موت دی جاتی ہے مگر جرائم کم نہیں ہوتے۔ اسی طرح امریکہ میں سزائے موت کا اختیار ریاستوں کو حاصل ہے یعنی کچھ ریاستوں میں سزائے موت دی جاتی ہے اور کچھ میں اس پر پابندی ہے۔

دنیا کی انسانی حقوق کی تنظيمیں بھی سزائے موت کے خلاف ہیں اور وہ ہر اس ملک کو سزائے موت ختم کرنے کیلیے کہتی رہتی ہیں جہاں سزائے موت دی جاتی ہے۔ اسی طرح اب امریکہ سمیت یورپ کے تمام عیسائی ممالک اسلامی قوانین کی کھل نہ صرف مخالفت کرتے ہیں بلکہ مسلمان ملکوں پر ان قوانین کو معطل کرنے کیلیے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔

دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو سزائے موت کو چھوڑ کر امریکہ اور یورپ میں دوسرے جرائم پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ زناہ کی سزا زیادہ سے زیادہ عمر قید ہے۔ یہاں تک کہ جھوٹ بولنے پر بھی کئی سال جیل کاٹنی پڑ سکتی ہے۔ اسی طرح قتل کی سزا عمر قید ہے اور جج مجرم سے سزا مکمکل ہونے سے پہلے پیرول پر رہائی کا حق بھی چھین سکتا ہے۔

سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس کو قتل کیا گیا کیا اس کا خاندان مجرم کو سزائے موت کی بجائے عمرقید کی سزا کے حق میں ہے۔ کیا کبھی سزا سنانے سے پہلے مقتول کے لواحقین سے رائے لی گئ کہ وہ مجرم کو سزائے موت دینا چاہتے ہیں یا پھر عمرقید۔ اسی سال وکلاء تحریک کے دوران کراچی میں جلائے جانے والوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ مرنے والوں کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ ان میں سے کئی اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے بعد اب لواحقین زندگی کی جن تلخیوں سے گزریں گے کیا وہ مقتولین کو سزا ئے موت دینے کیلیے کافی نہیں ہیں۔ کیا مقتول اور اس کے لواحقین کے ساتھ زیادتی نہیں ہے کہ قاتل کو اس سلوک سے مبرا قرار دے دیا جائے جو اس نے قاتل کیساتھ کیا۔

یورپ اور امریکہ سزائے موت کے مخالف ہیں کیونکہ وہ سزائے موت کی سزا کو ظلم سمجھتے ہیں۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ وہ جو سلوک مبینہ دہشت گردوں کیساتھ کر رہے ہیں کیا وہ ظلم نہیں ہے۔ وہ جو تفتیش کے طریقے استعمال کر رہے ہیں کیا وہ ظلم نہیں ہے۔ اگر سزائے موت ظلم ہے تو پھر عمر قید کیا ہے۔ ایک آدمی کو ساری عمر قید کی کوٹھڑی میں بند کر دینا کیا ان کے نزدیک تفریح ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اگر دنیا میں قوانین نہ ہوتے اور ان پر عمل نہ ہو رہا ہوتا تو یہ دنیا مظالم کا اکھاڑہ ہوتی۔ اس دنیا میں اگر تھوڑا سا سکون ہے تو وہ سزا کے قانون کی وجہ سے ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ اگر انہوں نے زناہ کیا تو وہ ساری عمر جیل میں سڑتے رہیں گے اس لیے وہ زناہ نہیں کرتے۔ اسی طرح دھوکہ، فراڈ، قتل، چوری، ڈاکے ان ممالک میں نہ ہونے کے برابر ہیں جہاں قانون کی عمل داری ہے۔ دوسری طرف ان ممالک میں جرائم پر قابو نہیں پایا جا رہا جہاں قوانین تو سخت بنائے گئے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کیا جارہا۔

اسلام کا مطالعہ اگر کیا جائے تو اسلامی سزاؤں کی بنیادی وجہ بھی معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا ہے۔ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ جس جرم کی سزا سخت ہو گی وہ جرم لوگ کرم کریں گے۔ اس لیے اسلام نے اگر جرائم کی کڑی سزائیں رکھی ہیں تو ان کا مطلب یہ نہیں کہ مجرم پرظلم کیا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کو سخت سزا دے کر اسے باقی لوگوں کیلیے عبرت بنا دیا جائے تا کہ وہ جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچیں۔

ہم سزائے موت کے حق میں ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مجرم نے جو کچھ دوسرے کیساتھ کیا وہی کچھ اس کیساتھ ہونا چاہیے۔ اگر اس نے قتل کیا تو پھر اسے بھی سزائے موت ہونی چاہیے۔ ہاں اگر مقتول کے لواحقین مجرم کو معاف کرنا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔ لواحقین سے مراد مقتول کے انتہائی قریبی عزیز یعنی اس کے ماں باپ، بہن بھائی اور بیوی بچے جو اس کی موت کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں


بحوالہ
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-09-11, 01:21 AM   #6
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان میں سزائے موت کے مقدمات کی کارروائی پر تنقید


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی عدالتوں میں چلائے جانے والے مقدمات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ عدالتی عمل بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اُترتی ہے۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی علم بردار اس غیر سرکاری تنظیم نے پیر کو جاری کی گئی اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں تشدد کے ذریعے ملزمان کو اقبال جرم کرنے پر مجبور کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس وقت پاکستان میں آٹھ ہزار ایسے مجرمان ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے تاہم اس پر عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ اب تک ان سزاؤں پر عمل درآمد نا ہونے کی بظاہر بنیادی وجہ صدر آصف علی زرداری کا گذشتہ سال اگست میں جاری ہونے والا وہ حکم نامہ تھا جس کے ذریعے ما سوائے دہشت گردی اور ریاست کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے دوسرے مجرمان کی پھانسی کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

پاکستان میں بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں سزائے موت کے قانون کے خلاف احتجاج اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتی آئی ہیں۔
لیکن حکمران پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رکن جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالنسا کھوکھر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں جہاں غیر منصفانہ عدالتی عمل کے الزام کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا ہے وہیں اُنھوں نے سزائے موت ختم کرنے کے مطالبے کو بھی رد کیا ہے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی موجودہ صورت حال اور آئے دن دہشت گردی کے واقعات کی موجودگی میں کوئی حکومت سزائے موت ختم کرنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتی۔

”میری ذاتی رائی یہ ہے کہ جس طرح قانون کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں اور لوگوں کو مارا جا رہا ہے ، لوگوں کی زندگی اور آزادی (کے تحفظ) کے لیے اس قانون میں کوئی رعایت نہیں رکھنی چاہیئے۔“

مزید برآں فخرالنسا کھوکھرنے کہا کہ پاکستان میں خصوصاً قتل کے مقدمات کا بنیادی انحصار پوسٹ مارٹم رپورٹ، ٹھوس شواہد اور گواہوں کے بیانات پر ہوتا ہے۔

”اگر گواہ استغاثہ سے تعاون ہی نہیں کرنا چاہتے تو آپ کیا کر سکتے ہیں، ملزمان نے تو پھر بری ہونا ہے۔ میرے اپنے خیال کے مطابق غیر منصفانہ عمل تحقیقات میں تو ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ مقدمے کی عدالتی کارروائی میں نہیں ہوتا۔“

ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کے تحت نومبر 2010ء میں سزائے موت پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کا بھی ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اُس کیخلاف عدالتی کارروائی غیر منصفانہ تھی

بحوالہ
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (07-09-11)
پرانا 07-09-11, 01:21 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,353
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سزاؤں کے مخالفین کے دلائل کیا ہیں۔ وہ تو پتا چلے۔ اب اس قسم کے دلائل پر تو مُسکرایا ہی جا سکتا ہے
اقتباس:
ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تحفظ ناموس رسالت ایکٹ کے تحت نومبر 2010ء میں سزائے موت پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کا بھی ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اُس کیخلاف عدالتی کارروائی غیر منصفانہ تھی
عدالتی کاروائی درست نہ ہونے کا مطلب سزاوں میں ترمیم تو ہو نہیں سکتا۔ نظام کو کیوں ٹھیک نہ کیا جائے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
رضی (10-09-11), شمشاد احمد (07-09-11)
جواب

Tags
color, com, death, گئی, یا, وقت, موت, مطابق, world, آبادی, اللہ, اردو, ترک, جرم, خواتین, دی, دنیا, سال, شخص, شروع, عوامی, عائد, عدالتی, عظیم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
موت پر رقص ڈھول باجے كے ساتھ۔۔۔ جہالت كي يہ انتہاء بھي ہمارے ملك ميں ہے شمشاد احمد خبریں 8 22-08-11 10:28 PM
اخلاق ہيں اسلام كا ايك جزو مسلم بڑھ جائے گر بات تو پھر احد و بدر ہے شمشاد احمد خبریں 0 22-08-11 01:57 AM
مشركوں كي عيدوں اور تہواروں ميں شركت اورانہيں مباركباد دينا چیتا چالباز مذہبی مسائل اور ان کا حل 2 25-01-11 11:52 AM
تحريك پاكستان ميں علماء حق كا فيصلہ كن كردار sahj تاریخ کا آئینہ 27 23-06-10 09:38 PM
ايك گدھا كسي گھر كي ديوار سے The Great قہقہے ہی قہقے 2 12-10-09 11:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger